1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمہوریت کی تعریف

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالحسن علوی, ‏ستمبر 18، 2014۔

  1. ‏ستمبر 21، 2014 #21
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    طاہر بھائی اچھی پوسٹش شیئر کی ہیں لیکن میرا سوال تا حال باقی ہے۔ میرے پاس بہت سے ریسرچ آرٹیکل پڑے ہیں، میں بھی جمہوریت، ڈیموکریسی پر بہت سے حوالے دے سکتا ہوں کہ کس نے کیا کہا ہے، جمہوریت کا لفظ سب سے پہلے ترکوں نے استعمال کیا، پھر وہاں سے اقبال نے ضرب کلیم میں بیان کیا وغیرہ، اقبال کے وقت پاکستان ہی نہ تھا تو پاکستانی جمہوریت کا سوال؟ جمہوریت کے لفظ کا ارتقائ وغیرہ لیکن یہ سب اس وقت مقصود نہیں ہے کیونکہ یہ چیزیں فائدہ مند تو ہیں یعنی ان کی افادیت سے انکار نہیں لیکن یہ اس وقت کا موضوع نہیں ہیں۔

    میں نے مقدمہ یہ قائم کیا کہ ڈیموکریسی کا معنی عوام کا اقتدار اعلی ہے لہذا وہ نظام ڈیموکریسی کہنے کے لائق نہیں ہے کہ جس میں اقتدار اعلی کا سرچشمہ عوام کے علاوہ خدا کو مان لیا گیا ہو۔ کوئی صاحب اس پر بات کریں کہ کیا میرا یہ نتیجہ درست ہے تا کہ مجھے معلوم ہو کہ میں نے ڈیموکریسی کا صحیح معنی سمجھا ہے۔ پھر سوال دہرا دیتا ہوں کہ کیا ایسے نظام کو ڈیموکریسی کہا جا سکتا ہے کہ جس میں اقتدار اعلی یا فائنل اتھارٹی یا سپریم پاور اللہ کی ذات ہو؟


    اب رہی جمہوریت کی بات تو اس پر میں نے کہا کہ یہ غلط ترجمہ ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ غلط سہی لیکن اب رواج پا گیا ہے لہذا جمہوریت ڈیموکریسی کے معنی میں استعمال ہو رہی ہے۔ مجھے اس بات سے تا حال اتفاق نہیں ہے لیکن یہ میرا بنیادی مبحث نہیں ہے لہذا میں اسے چھوڑ رہا ہوں اور فریق مخالف سے کہتا ہوں کہ میں نے مان لیا کہ جمہوریت، ڈیموکریسی کا ترجمہ ہے۔ اور اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا نظام جمہوریت کہلائے گا کہ جس میں عوام کی بجائے خدا کو اقتدار اعلی سونپ دیا گیا ہو؟


    ان دو سوالوں کے جواب محض ہاں یا ناں میں دیں یا ان کو دلائل سے مزین کر کے دیں لیکن جواب متعین ہوں تا کہ اصل بات آگے بڑھ سکے۔
     
  2. ‏ستمبر 21، 2014 #22
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    میرا نکتہ صرف اتنا تھا کہ جمہوریت ڈیمو کریسی کا ترجمہ ہے اور پوری طرح رائج ہے؛اب آپ نے پاکستانی جمہوریت کا لفظ استعمال کیا تو میرا کہنا یہ ہے کہ جو لوگ اقتدار اعلیٰ اللہ کے لیے مانتے ہیں اور اس کے باوجود اپنے نظام کو اسلامک ڈیموکریسی یا اسلامی جمہوریت کہتے ہیں تو وہ غلطی کا شکار ہیں کیوں کہ وہ ڈیمو کریسی کی حقیقت ہی سے بے خبر ہیں۔
    آپ کے سوال کا متعین جوب یہ ہے کہ جہاں اقتدار کا سرچشمہ عوام کے بجاے خدا کو مانا جا ئے اسے حقیقی اعتبار سے تو ڈیمو کریسی یا جمہوریت نہیں کہا جا سکتا البتہ عرف کا لحاظ کرتے ہوئے ناقص جمہوریت یا ڈیمو کریسی ضرور کہا جا سکتا ہے اور یہی رائج بھی ہے چناں چہ مغرب جو جمہوریت کا اصل وارث ہے وہ بھی پاکستانی جمہوریت کو بہ ہر حال جمہوریت(ڈیمو کریسی) ہی کہتا ہے اگرچہ اسے ناقص اور غیر معیاری قرار دیتا ہے جیسا کہ خود آپ نے بھی کہیں لکھا ہے کہ اس نے پاکستان کو ان ممالک میں شمار کیا ہے جہاں حقیق جمہوریت کا تناسب ٪50 سے بھی کم پایا جاتا ہے۔
    میرا اور ابوالحسن علوی صاحب کا اختلاف لفظ کے استعمال کے حوالے سے ہے مفاہیم میں اختلاف شاید آخری تجزیے میں کم ہی ہو؛مثلاً پاکستان میں رائج نظام کو وہ ڈیمو کریسی نہیں مانتے جب کہ میرے نزدیک عرف کا اعتبار کرتے ہوئے اسے اسلامک ڈیمو کریسی یا اسلامی جمہوریت کہا جا سکتا ہے اور تمام لوگ یہی کہتے ہیں؛لیکن کیا یہ نظام سراسر کفر ہے جیسا کہ مغرب کی ڈیمو کریسی کفر ہے؟تو میرا موقف یہ ہے کہ اسے کفر نہیں کہا جائے گا اور یہی بات علوی صاحب بھی کہتے ہیں ؛تو اصل نکتۂ اختلاف یہ ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 21، 2014 #23
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    طاھر بھائی اور ابوالحسن بھائی
    کیا جو موجودہ نظام ہے اس میں حقیقتا اقتدار اعلی اللہ کیلئے مانا گیا ہے ؟؟؟
    کیا یہ ایسا ہی نہیں کہ کوئی کہے میں مسلمان ہوں لیکن اسلام کے ارکان ادا نہ کرے
    کیونکہ اس شق کے باوجود پاکستان میں قوانین شریعت کے صریح خلاف بنتے پاس ہوتے ہیں
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 21، 2014 #24
    ابن حلبی

    ابن حلبی مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2013
    پیغامات:
    38
    موصول شکریہ جات:
    21
    تمغے کے پوائنٹ:
    19

    بلکہ بہتر مثال یہ ہو گی کہ اگر کوئی کہے کہ میں مسلمان ہوں مگر اپنی عبادات و معاملات کسی کفریہ ماخذ سے اخذ کرے
    کیونکہ دستور میں یہ تو لکھا گیا ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا(اگرچہ مجھے اس شق کے موجودہ الفاظ سے بھی اختلاف ہے) مگر دستور کی شقیں طے کرتے وقت مغربی سیاسی افکار اور مغربی قانونی فکر کو بنیاد بنایا گیا ہے، گویا ان شقوں کے ماخذ اسلام نہیں بلکہ کفریہ تصورات ہیں
     
  5. ‏ستمبر 21، 2014 #25
    ابن حلبی

    ابن حلبی مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2013
    پیغامات:
    38
    موصول شکریہ جات:
    21
    تمغے کے پوائنٹ:
    19

    جہاں تک جمہوریت کے لفظ کی بات ہے تو یہ ڈیموکریسی کی عملی صورت کا موزوں ترین ترجمہ ہے
    کیونکہ جب ڈیموکریسی میں طاقت و قوت کا منبع عوام ہیں تو تھیوریٹکل طور پر تمام کے تمام عوام ایک میدان میں جمع ہوں اور قوانین بنائیں اور حکمرانی کے فیصلے کریں۔ لیکن یہ عملی طو پر ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ عوام کے نمائندے یہ کام عوام کے بی ہاف پر سرانجام دیں گے اور فیصلے اکثریتی بنیاد پر طے پائیں کے کیونکہ تمام لوگوں کا ہر معاملے میں ایک رائے پر متفق ہونا محال ہے۔ چنانچہ عملی طور پر ڈیموکریسی عوام کی اکثریت کی حکمرانی ہے چنانچہ اس کا ترجمہ جمہوریت ہی کیا جائے گا۔
    قانون سازی کا عوام کے ہاتھ میں ہونا تو الگ موضوع ہے
    اسلام میں اکثریت کی حکمرانی یا اجتماعی حکمرانی کا بھی کوئی تصور نہیں
    جب قرآن نے رسول اللہ ؤ کو قرآن میں لوگوں سے مشورے کا حکم دیا و شارھم فی الامر تو اس کے بعد فیصلے کے متعلق کہا: فاذا عزمت فتوکل علی اللہ۔ یہاں فاذا عزمتم نہیں کہا گیا۔ یعنی فیصلہ کرنا حکمران کا اختیار ہے نہ کہ تمام لوگوں کا اجتماعی اختیار۔ یہاں یہ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ صرف رسول اللہ ؤ کے لیے تھا، کیونکہ کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں جو اس حکم کو رسول اللہ ؤ کے ساتھ خاص کرتا ہو۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 21، 2014 #26
    ابن حلبی

    ابن حلبی مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2013
    پیغامات:
    38
    موصول شکریہ جات:
    21
    تمغے کے پوائنٹ:
    19

    اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام میں حکمران مطلق العنان ہے بلکہ شریعت نے یہ طے کیا ہے کہ شوریٰ کےتفصیلی احکام کیا ہیں اور کن معاملات میں عوام سے مشورہ حکمران پر بائنڈنگ ہے اور کن معاملات میں نہیں۔ اس کی تفصیل میری نظر میں کچھ یوں ہے:

    ایسے فکری امور جن میں گہری چھان بین اورغور و فکر درکار ہوجیسے حقائق کی تفتیش یا جنگ کا اعلان۔ یہ ایسے معاملات ہوتے ہیںجن میں مہارت،علم اورجانچ پڑتال درکار ہوتی ہے،مثلاً جنگی منصوبے تیار کرنا،فنی یا عملی معاملات۔ یہ ایسے معاملات ہیں جن میں مخصوص مہارت وتجربہ کاروں کی رائے ضروری ہوتی ہے نہ کہ اکثریت کا مشورہ۔ اسی طرح مالیاتی امور، عسکری معاملات اور خارجہ پالیسی سے متعلق امور بھی اسی ضمن میں آتے ہیں ،جن کی دیکھ بھال خلیفہ احکام شریعت کے مطابق اپنی رائے اور اجتہاد سے کرتا ہے نہ کہ عوام کی رائے سے(جس کی عملی صورت مجلسِ امت ہے کہ جس میں عوام کے نمائندے موجود ہوتے ہیں)۔ خلیفہ کو بہرحال یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ عوا م( مجلسِ اُمت) سے اِن معاملات میں مشاورت کرے لیکن پھر اپنی ہی رائے پر قائم رہے۔ نیز مجلس بھی اپنی رائے پیش کرسکتی ہے لیکن اِن معاملات میںمجلس کی رائے کا اختیار کرلیا جانا لازمی نہیں ہوتا۔
    جیسا کہ رسول اللہ ؤنے معرکہ ٔ بدرکے وقت مناسب جگہ منتخب کرنے کیلئے حباب بن منذر﷽ کی رائے لی تھی،سیرت ابنِ ہشام میں مروی ہے: جب قافلہ بدرکے مقام پر پانی کے نشیبی حصے پر پہنچا اور وہاں رکنے لگا تو حباب بن منذر کو یہ جگہ پسند نہ آئی اور انھوںنے رسول اللہاسے کہا کہ اے اللہ کے رسول ا ،اس جگہ پرجو قیام کیا گیا ہے ،کیایہ حکم الٰہی سے ہے کہ ہم اسے چھوڑ کر دوسری جگہ قیام نہیں کرسکتے یا یہ قیام جنگی مصلحت کی بنا ء پر ہے۔ رسول اللہ ؤنے فرمایا ،ہاں یہ جنگی مصلحت کے خیال سے ہی ہے۔ حباب صنے کہا کہ یہ مقام جنگی مصلحت کے اعتبار سے درست نہیں ہے، آپ ا لشکر کو حکم دیں کہ اس پانی کے پاس جاکر قیام کریں جو کفار سے نزدیک ہے تا کہ ہم وہاں حوض تیار کرکے پانی بھر لیں اور پانی پر ہمارا تصرف ہو نہ کہ دشمن کا۔ رسول اللہانے فرمایا تمہاری رائے درست ہے اور پھر لشکر کو اُدھر لے آئے جو پانی سے قریب تھی اور وہاں ایک بڑا حوض بنا کر پانی سے بھر لیا اور پانی کے برتن اُس میں ڈالنے لگے۔
    چنانچہ رسول اللہ نے حباب﷽ کی رائے سنی اور اُسے اختیار فرمایا۔

    اس واقعہ میں جنگ اور منصوبہ بندی کے متعلق رائے کے لیے لوگوں کی رائے کو کوئی حیثیت نہیں دی گئی بلکہ اس میں ایک تجربہ کار کی رائے لی گئی۔ اسی طرح فنی امور اور وہ اختصاصی معاملات ،جن میں فکر اور غور و خوص درکار ہوتا ہے ، میں ماہرین اور تجربہ کاروںکی طرف رجوع کیا جاتا ہے نہ کہ تمام لوگوں کی رائے کی طرف،کیونکہ ان امورمیں اکثریت کی رائے کا کوئی دخل نہیں،بلکہ معلومات،تجربہ اور مہارت کو ہی وقعت حاصل ہوتی ہے۔


    یہی معاملہ مالیاتی امور کا بھی ہے،کیونکہ شریعت نے اموال کے محصول نیز ان کے خرچ کئے جانے کی مدیں متعین کی ہیں۔ شریعت نے یہ بھی متعین کر دیا ہے کہ ٹیکس کب وصول کئے جائیں اور اس میں افراد کی رائے کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے ،نہ مال کی وصولی کے بارے میں اور نہ ہی اُن کے خرچ کئے جانے کے لحاظ سے ۔ عسکری امور بھی اسی کے مثل ہیں،شریعت نے اِن امور کی تدبیرکی ذمہ داری خلیفہ کو سونپی ہے۔ نیز احکام ِ جہاد بھی متعین ہیں اور شریعت کے فیصلے کے بعد افراد کی رائے کی کچھ حیثیت نہیں رہتی۔ ریاست ِ اسلامی کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات بھی اسی ذیل میں داخل ہیں کیونکہ یہ وہ معاملات ہیں جن میں تدبر اور غور و فکر درکار ہے اور یہ معاملہ جہاد سے منسلک ہے اور مزید یہ کہ یہ جنگ،رائے اورمنصوبہ بندی میں سے ہے لہٰذا اس میں لوگوں کی رائے یا ان کی اکثریت یا اقلیت کا کچھ اعتبار نہیں۔ البتہ یہ خلیفہ کا اختیار ہے کہ وہ مشورے کیلئے اسے مجلس ِامت کے سامنے پیش کرے،کیونکہ اس میں رائے حاصل کرنا ایک مباح معاملہ ہے۔ بہرحال مجلس امت کی رائے جیسا کہ ہم جنگ بدرکے واقعہ میں دیکھ چکے ہیں لازم نہیں ہوگی،بلکہ فیصلہ کا مجاز صاحب ِ اختیار ہی ہوگا۔

    عملی امور میں،اور ان معاملات میں جو داخلی پالیسی کے امور کو نبٹانے سے متعلق ہوں، جن میں تحقیق و تفتیش اور گہری فکر کی ضرورت نہ ہو اور حکومت کے تعلیم،صحت، اقتصاد و تجارت،صنعت،زراعت وغیرہ سے متعلقہ امور جوعوام کی پر سکون زندگی کیلئے لازمی خدمات بہم پہنچانے سے متعلق ہوںیا اُن کی بستیوں میں حفظ و امان بہم پہنچانے یا دشمن کے خطرے کے ازالہ سے متعلق ہوں؛ توخلیفہ ایسے معاملات میں مجلسِ امت (عوام)کی پیش کردہ رائے کا پابند ہوتا ہے اور اکثریت کی رائے ہی قابل ِ نفاذ ہوتی ہے۔

    اس کی دلیل رسول اللہ
    ۖکا فعل ہے کہ جنگِ اُحد کے موقع پر آپ ا اور کبار ِ صحابہ کی رائے مدینہ کے اندر رہ کر مقابلہ کرنے کی تھی،لیکن آپ ا نے اکثریت کی رائے کو قبول فرمایا اور شہر سے باہر جا کر مقابلہ کیا۔ نیز رسول اللہ ؤ نے ابوبکر اور عمر سے فرمایا: لو اجتمعتا فی مشورة ما خالفتکما
    ''اگر تم لوگ مشورہ میں ایک رائے پر متفق ہوتے ،تو میں اُس کے خلاف نہ کرتا''

    لہٰذا وہ عملی امور جو رعایا کو اُن کی بہتر اور پر سکون زندگی کیلئے سہولیات فراہم کرنے سے متعلق ہوںیاحفظ وامان اور عوام کی بستیوں کو خطرات سے محفوظ رکھنے سے متعلق ہوں،اِن میں مجلس (عوام)کی اکثریت کی رائے ہی قابل ِ نفاذ ہوگی اور خلیفہ باوجوداپنی ناپسند کے اس رائے کا پابند ہوگا جیسا کہ رسول اللہانے اپنی رائے مختلف ہونے کے باوجودمدینہ سے باہر نکل کر اُحدکے میدان میں جنگ کی ،کیونکہ یہ اکثریت کی رائے تھی۔

    مثلاً کوئی گائوں یا قریہ جو ندی یا نہر کے پار ہونے کے سبب آمد و رفت کے لحاظ سے باقی علاقوں سے کٹا ہوا ہو اور اُس ندی پر پُل بنایا جانا ہو۔ تواِس معاملہ میں خلیفہ مجلسِ اُمت(عوام) کی اکثریت کی رائے کا پابند ہوگا ۔ لیکن ایسے امور جو فنی نوعیت کے ہوں جیسے پُل بنانے کیلئے موزوں مقام یایہ کہ پُل آیا معلق ہو یا اُس کے ستون زیر ِ آب ہوں یا اُس کا نقشہ وتفاصیل کیا ہوں وغیرہ، یہ تمام امور ایسے ہیں جن میں خلیفہ مخصوص مہارت رکھنے والے ماہرین کی طرف رجوع کرے گا نہ کہ مجلس کی اکثریت کی طرف۔

    اسی طرح کسی ایسے گائوں میں سکول قائم کرنے کا معاملہ ہے، جہاں کے طلباء کو شہر کے سکولوں تک پہنچنے میں دشواری پیش آتی ہو۔ یہاں بھی خلیفہ مجلسِ امت(عوام) کی اکثریت کا پابند ہوگا،تاہم سکول کیلئے ایسے موزوں مقام کا انتخاب کہ جس کی مٹی پر مدرسہ قائم کیا جا سکتا ہے اور عمارت کا بنایا جانا یا بنی ہوئی عمارت کا خرید نا یا پھر کرایہ پر لیا جانا وغیرہ ،وہ امور ہیں جن میں خلیفہ ماہرین کی طرف رجوع کرے گا نہ کہ مجلس کی اکثریت کی طرف ،گو کہ وہ اُن سے مشورہ طلب کر سکتا ہے لیکن بہرحال مجلس کی رائے لازم نہیں ہوگی۔

    ایسا ہی معاملہ کسی ایسی بستی کا ہوگا جو دشمن کی سرحد کے نزدیک ہو،اس بستی کو دشمن کے خطرے سے محفوظ رکھنے اور اسے دشمن کیلئے تر نوالہ نہ بنانے کیلئے اس کے اطراف حصار کے قیام کے معاملے میں خلیفہ اکثریت کی رائے کا پابند ہوگا۔ لیکن اس حصار بندی کی کیا کیفیت ہو اوردشمن کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کیا وسائل اختیار کئے جائیں اِن میں خلیفہ ماہرین اور اصحاب اختصاص(specialists) کی طرف رجوع کرے گا نہ کہ مجلس کی اکثریت کی طرف؛ وغیرہ۔

    قانون سازی میں عوام (مجلسِ امت) کی رائے نہیں لی جاتی،قانون سازی یا تشریع کیلئے کتاب اللہ اورسنتِ نبوی ہی مرجع ومآخذہوتے ہیں،اور صحیح اجتہاد کے ذریعے اِن ہی سے استدلال کیا جاتا ہے۔ خلیفہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ اُن احکام و قوانین کو مجلس ِامت کے روبرو پیش کرے جنہیں وہ تبنی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور مجلس کے مسلمان اراکین اُن پر غور کریں کہ آیا اِن میں کیا صواب اور خطا ہے۔اور اگر اس معاملے میں عوام اور حکمران میں کوئی تنازعہ ہو تو اسے عدالت کی طرف بھیجا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا: فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ و الرسول
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 23، 2014 #27
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    ۔پاکستان کے آئین میں اللہ تعالیٰ کو حاکم اعلیٰ (Soverign) مانا گیا ہے۔

    اصل دیکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ کیا اس بات نے خالق کے سامنے مخلوق کے سب اختیارات ختم کر دیے ہیں۔۔۔۔ یا مخلوق کا اختیار بہ مقابلہ فرمانِ خالق ابھی باقی ہے؟

    جائزہ یہ لیا جانا ہے کہ کیا اس بات نے جمہوریت کا یہ عالمی اور آفاقی اصول کالعدم کردیا ہے کہ جملہ انسانی معاملات میں کسی مسئلے کا تعین __خالصتاً یہ دیکھنے کی بجائے کہ اس معاملے میں حق کیا ہے اور باطل کیا __اکثریت کے ووٹوں سے کیا جائے گا؟

    کیا اس بات نے نمائندگانِ جمہور کے اختیارات کو پروردگارِ جمہور کے ’نازل کردہ‘ کا واقعتا پابند کردیا ہے اور کیا ’حاکمِ اعلیٰ‘ کے لفظ سے مراد انکے ہاں یہ لی جاتی ہے کہ خدا کے فرمائے ہوئے کے سامنے اب کسی کو دم مارنے کی کوئی مجال نہیں! یا پھر یہ ایک ’برائے نام‘ تبدیلی ہے اور جمہوریت کا عالمی کفر اس میں ابھی باقی ہے؟


    ’حاکم اعلیٰ‘ سے مراد کیا ہے۔۔۔۔؟

    اصل بات یہ ہے کہ قانون کی ایک اپنی زبان ہے۔ دستور کسی کو کیا ’عہدہ‘ دیتا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے اور دستور کسی کو عملاً کیا ’اختیار‘ دیتا ہے، بالکل ایک الگ بحث۔ ’عہدہ‘ اور ’اختیار‘ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان میں سے ایک ہو تو وہ دوسرے کو ہر حال میں مستلزم نہیں۔ مثلاً ’صدر‘ ایک عہدہ ہے۔ ’وزیر اعظم‘ ایک عہدہ ہے۔ اپنے ملک میں یہ دونوں ہی مستقل عہدے ہیں البتہ ان کے اختیارات میں ہم جانتے ہیں آئے روز اَدل بدل ہوتا ہے اور آئے روز ہی کسی نہ کسی کے ’اختیارات‘ میں نقب لگتا ہے۔ یہاں صدر ہمیشہ صدر ہی کہلاتا ہے اور وزیر اعظم وزیر اعظم ہی رہتا ہے مگر ’اختیارات‘ ہیں جو گردش کرتے رہتے ہیں۔ کسی وقت صدر یہاں حد درجہ با اختیار بلکہ سیاہ وسفید کا مالک دیکھا گیا ہے تو کسی وقت محض ایک اعزازی منصب۔ صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن لائے جانے کی کوششیں ہمارے سامنے یہاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔

    چنانچہ مسئلہ اس نظام کے اندر یہ نہیں کہ کسی کو یہاں کیا عہدہ یا کیا لقب حاصل ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کسی کو یہاں کیا اختیار حاصل ہے؟ ۔

    اب جب اصل مسئلہ عہدہ واعزاز کا نہیں بلکہ ’اختیارات‘ کا ہے اور اصل واردات ’اختیارات‘ کے مسئلہ پر ہی ہاتھ صاف کرکے ڈالی جاتی ہے تو ’حاکم اعلی‘ کے موضوع پر بھی ہمیں عہدہ والقاب کو نہیں بلکہ ان اختیارات کو دیکھنا ہے جو اس نظام کی رو سے ’حاکم اعلی‘ کو بالفعل حاصل ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 23، 2014 #28
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    یہ نظام پہلے بھی شرک تھا اب بھی شرک ہے
    اسلامی جمہوریت میں خدا کی حاکمیت::


    ابھی ہم اَحکَمُ الحَاکِمِین کے ’اختیارات‘ کی بابت دو باتیں دین اسلام میں دیکھ آئے ہیں۔ یعنی اس کا اتار ہوا خودبخود __اور کسی اضافی شرط کے بغیر __ قانون ہو اور اس سے متصادم ہر کسی کی بات خودبخود کالعدم۔ ان دونوں باتوں کیلئے کوئی شرط ہو سکتی ہے تو صرف ایک اور وہ یہ کہ کسی بات کی نسبت اس سے یا اس کے نبی سے بہرحال پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہو اور اس کی دلالت متعین ہو۔


    آپکی اس جمہوریت میں اللہ وحدہ لاشریک کیا عین اسی معنی میں ’حاکم اعلیٰ‘ ہے جوکہ اُسکے احکم الحاکمین ہونیکا شرعی مفہوم ہے۔۔ یا انکے نظام میں یہ _معاذ اللہ _ محض ایک اعزازی منصب ہے؟



    آپ کی جمہوریت اِس سوال کا جواب کیا دیتی ہے؟ ”خدا کا فرمایا ہوا“ یہاں مذہبی تقدس تو آپ سے آپ رکھتا ہے مگر قانونی حیثیت آپ سے آپ نہیں رکھتا۔ ”قانونی حیثیت“ پانے کیلئے ”خدا کے فرمائے ہوئے“ کو بہرحال ”اکثریت“ کے ہاں سے پاس ہونا ہوتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، اکثریت اگر ”خدا کے فرمائے ہوئے“ کو پاس نہیں کرتی تو ”خدا کا فرمایا ہوا“ صرف ”مذہبی تقدس“ رکھے گا نہ کہ کوئی ”قانونی حیثیت“!!!

    وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا


    انکا شرک یہی ہے۔ جب تک کوئی چیز اللہ اور اسکے رسول کی نسبت سے پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی یا جب تک کسی بات کی شرعی دلالت متعین نہیں ہوتی تب تک اسلام میں اس کو ”مذہبی تقدس“ بھی حاصل نہیں۔ مگر جب اس کا ثبوت اور دلالت شرعی ضابطوں کی رو سے متعین ہو جائے ۔۔۔۔ یعنی جب ایک بار اس کو ’مذہبی تقدس‘ حاصل ہو گیا تو ’قانونی حیثیت‘ خودبخود حاصل ہو گئی۔ ان دو باتوں کو الگ الگ کرنا ہی ان کا وہ شرک ہے جو عالمی طور پر ”سیکولرزم“ کے نام سے معروف ہے۔ سیکولرزم جمہوریت کا ایک جزولاینفک ہے اور وہ ’اپنی‘ اس جمہوریت میں بھی پوری طرح ساتھ آیا ہے۔



    ہاں پارلیمنٹ کو __بلکہ ہر مخلوق کو __ یہ پورا حق ہے کہ وہ یہ سوال کرے کہ خدا نے فلاں بات کہی ہے یا نہیں کہی اور آیا اس کی یہ دلالت بنتی ہے یا نہیں؟ حتی کہ ان دونوں میں سے کسی ایک بنیاد پر کسی بات کے رد کرنے کا بھی اس مخلوق کو پورا پورا حق ہے کیونکہ ہمارا دین پوپ کا دین بہرحال نہیں اور نہ ہی ہم تھیو کریسی پر ایمان رکھتے ہیں __ بشرطیکہ اس کو رد کرنے والی وہ مخلوق شریعت کی کسی بات کے ثبوت یا دلالت کا تعین کرنے کی فقہی صلاحیت رکھتی ہو __
    مگر یہ کہ ایک بات کی نسبت اور دلالت کا اللہ و رسول سے ثبوت تو واضح ہو لیکن پھر بھی اس کو صرف ’مذہبی تقدس‘ ملے اور ’قانونی حیثیت‘ پانے کیلئے وہ ہنوز کسی مخلوق کی منظوری (Approval) کی محتاج ہو اور اسکی یہ ”احتیاج“ پوری ہوئے بغیر وہ قانونی حیثیت سے محروم ہی رہے تو اسکا کفر ہونا اظہر من الشمس ہے۔

    خدا کے ہاں سے جب کوئی چیز اترتی ہے تو وہ ’مذہبی تقدس‘ اور ’قانونی حیثیت‘ ہر دو کے ساتھ بیک وقت نازل ہوتی ہے اور رسول کے حکم کو بھی بیک وقت یہ دونوں حیثیتیں حاصل ہوتی ہیں۔ رسول صرف ’مذہبی‘ معنی میں پیروی کرانے کیلئے مبعوث نہیں کیا جاتا بلکہ مطلق اطاعت کیلئے مبعوث ہوتا ہے۔

    وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا (النساء: 65 ۔ 64)

    ”ہم نے جو بھی رسول بھیجا ہے وہ اس لئے تو بھیجا ہے کہ خدا کے حکم سے اس کی اطاعت وفرمانبرداری کی جائے۔ اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کیلئے معافی کی درخواست کرتا، تو یقینا اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔ نہیں اے محمد۔ تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ سربسر تسلیم کرلیں“۔


    http://www.eeqaz.com/ebooks/013angrezinizam/013angrezinizam04.htm
    یہ وہی انگریزی نظام ہے از شیخ حامد کمال الدین

    اور مجھے تعجب ہو رہا ہے کہ کیسے کیسے اصحاب اس جمہوریت کی بابت اب بھی متردد ہیں !
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 22، 2017 #29
    طارق اقبال

    طارق اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 28، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    79
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    جواب یہاں ملاحظہ فرمائیے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں