1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

جناب قادری رانا جی نے دعوی کیا ہےکہ " اعلی حضرت کے عقیدے پر انگلی رکھو نہ ثابت کروں تو کہنا۔"

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از علی معاویہ بھائی بھائی, ‏فروری 16، 2016۔

  1. ‏دسمبر 24، 2016 #51
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    1,883
    موصول شکریہ جات:
    603
    تمغے کے پوائنٹ:
    188

    انتہائی معذرت سے اور بہت ادب سے بحثیت قاری صرف اتنا بتانے کی زحمت کریں کہ ملاقات کی معنی شب باشی کس طرح لی گئی ، یہ سلیقہ کس زبان کا هے ؟
     
  2. ‏دسمبر 24، 2016 #52
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,595
    موصول شکریہ جات:
    2,429
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    نفس مسئلہ انبیاءکا اپنی قبروں میں حقیقی ، حسی اور دنیاوی حیات کا ہونا ہے!
     
  3. ‏دسمبر 25، 2016 #53
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    666
    موصول شکریہ جات:
    53
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    ہ ہ
    حقیقی اور دنیاوی کا مطلب پہلے ہہی بیان ہو چکا کہ اس سے مراد دنیا والا جسم زندہ ہے اگر اعلی حضرت نے اس کی کہیں مخالفت کی ہے تو دیکھائیں۔اور جیسے حضرت موسیٰ قبر میں نماز پڑھ رہے تھے تو حضور نے دیکھا۔تو یہی حسی حقیقی اور دنیاوی ہے کہ جسم اقدس حرکت کر سکتا ہے جسے دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔
    چلیں اگر آپ کو میری بیان کردہ معنی سے اختلاف ہے تو بسم اللہ کریں آپ بیان کر دیں۔پھر اس پر بھی بات کر لیں گے
     
  4. ‏دسمبر 25، 2016 #54
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,595
    موصول شکریہ جات:
    2,429
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    نہ آپ کے سرخ والے کلام سے اتفاق ہے اور نہ ہی آپ کے نیلے والے کلام سے اتفاق ہے!
    بالفاظ دیگر آپ کے بیان کردہ نفس مسئلہ سے اتفاق نہیں!
     
  5. ‏دسمبر 25، 2016 #55
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    666
    موصول شکریہ جات:
    53
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    جب اتفاق نہیں تو اس پہ بحث ہو گی نہ کہ تنقیحات پر
     
  6. ‏دسمبر 25، 2016 #56
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,595
    موصول شکریہ جات:
    2,429
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    تنقیحات ہوتی ہی اس وقت ہیں جب اتفاق نہ ہو!
     
  7. ‏دسمبر 26، 2016 #57
    علی معاویہ بھائی بھائی

    علی معاویہ بھائی بھائی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 05، 2014
    پیغامات:
    178
    موصول شکریہ جات:
    39
    تمغے کے پوائنٹ:
    67

    رانا صاحب تنقیحات سے فرار کا راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں ؟
    بندہ ناچیز تقریبا 8 ماہ نیٹ سے وابستہ نہیں رہا اس لئے لمبی غیر حاضری رہی ۔ آپ تنقیحات کی طرف آئیں ۔
     
  8. ‏دسمبر 26، 2016 #58
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    666
    موصول شکریہ جات:
    53
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    جناب تنقیح تب کی جاتی ہے جب نفس مسئلہ کو دو حضرات مانتے ہوں اور تفصیل میں اختلاف ہو۔پھر اعلی حضرت نے جو عبارت لکھی ہے میں نے اس کا جواب دینے کی بات کی تھی اور اسی کا پابند ہوں۔اگلی بات ان سرای تنقیحات کا تعلق نفس مسئلہ سے ہے اور نفس مسئلہ احاٍٍدیث سے ثابت ہے۔جب ایک کلی ثابت ہو جائے تو اس کے جز خود بخود ثابت ہو جاتے ہیں۔
     
  9. ‏دسمبر 26، 2016 #59
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,595
    موصول شکریہ جات:
    2,429
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    یہ کس حکیم کا قول ہے؟
    جناب اسی کو تنقیح کہتے ہیں کہ عبارت کو بیان کیا جائے! اور عبارت کے معنی و مفہوم کو متعین کیا جائے! اس پر عبارت پر سوال کے جواب آپ کو دینا لازم ہیں!
    نفس مسئلہ احادیث سے کہیں ثابت نہیں!
    اسی لئے تو تنقیح کی جاتی ہیں کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا والا معاملہ نہ کیا جائے!
    اول تو پہلے کل ثابت کرنا ہوگا، اور پھر امور کو اس کل کا جز!
    اب @علی معاویہ بھائی بھائی کی تنقیحات کا جواب تحریر فرمائیں!
     
  10. ‏دسمبر 26، 2016 #60
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    666
    موصول شکریہ جات:
    53
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    تو میں بھی کہہ رہا ہوں جب کلی ثابت ہوجائے تو اس کلی کے جز خود بخود ثابت ہو جاتے ہیں۔جب یہ نفس مسئلہ ہی احادیث سے ثابت ہو جائے گا تو اس کے اجزا خود بخود ثابت ہو جائے گئے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں