1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضور اکرم سے پہلے حضور کا وسیلہ

'وسیلہ' میں موضوعات آغاز کردہ از قادری رانا, ‏فروری 20، 2016۔

Tags:
  1. ‏مارچ 20، 2016 #81
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    وہ ٹھیک ہے کہ اکیلا یستفتحون ہے مگر آگے ہے کہ جب وہ آئے تو وہ منکر ہو گئے۔اب آپ خود بتائیے کیا اگلے فقرے کا تعلق پچھلے سے ہے کہ نہیں؟ یعنی جو شخصیت آئی ہے اس کا ان کی فتح مانگنے سے تعلق ہے۔اب تعلق کے مختلف اقوال ہیں۔جن میں ایک قول ابن عباس سے ہے کہ وہ حضور کے وسیلہ سے ذریعہ سے مانگتے تھے۔

    upload_2016-3-20_4-28-27.png
     

    منسلک کردہ فائلیں:

  2. ‏مارچ 21، 2016 #82
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,765
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جی سند تو آپ نے مکمل کر لی ، لیکن آپ کے دعوی کی دلیل تب بنے گی :
    1۔ جب اس کی صحت ثابت کردیں گے ، کیونکہ اس میں محمد بن أبی محمد راوی مجہول ہے ۔
    2۔ اور اس میں توسل بالنبی والے عقیدے کو ثابت کریں گے ، اس سند کے ساتھ جو متن ہے ، وہ یہ ہے :
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ بِرَسُولِ اللَّهِ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَبْلَ مَبْعَثِهِ فَلَمَّا بَعَثَهُ اللَّهُ مِنَ الْعَرَبِ كَفَرُوا بِهِ وَجَحَدُوا مَا كَانُوا يَقُولُونَ فِيهِ فَقَالَ لَهُمْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ، وَدَاوُدُ بْنُ سلمة: يا معشر اتقوا الله وأسلموا فقد كنتم تستفحون عَلَيْنَا بِمُحَمَّدٍ، وَنَحْنُ أَهْلُ شِرْكٍ وَتُخْبِرُونَا «1» بِأَنَّهُ مبعوث وتصفونه فَقَالَ سَلامُ بْنُ مِشْكَمٍ أَخُو بَنِي النَّضِيرِ: ما جاءنا بشيء نعرفه، وما هُوَ بِالذي كُنَّا نَذْكُرُ لَكُمْ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِمْ: وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ
    اس میں کون سے الفاظ ہیں ، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کا وسیلہ دیا کرتے تھے ؟
    میرے پیارےبھائی ! اسی لیے میں آپ کو ترکیب کا کہتا ہوں ، لیکن پھر آپ برا محسوس کرجاتے ہیں ’’ یستفتحون ‘‘ کا مطلب مان لیں کہ ’’ مدد طلب کرتے تھے ‘‘ ہے ، لیکن کس کے ذریعے سے ؟ آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کرتے تھے ، پہلی بات تو یہ ہے کہ اس فہم کی آیت کے الفاظ میں گنجائش ہے کہ نہیں ؟ دوسری بات : بعد والا جملہ خود اس فہم کے موافق نہیں کیونکہ ، ’’ فلما جاءہم ما عرفوا کفروا بہ ‘‘ میں ’’ ما موصولہ ‘‘ استعمال ہوا ہے ، نہ کہ ’’ من موصولہ ‘‘ اور یہ بات عربی زبان کے قواعد کے مطابق مشہور و معروف ہے کہ ’’ شخصیت ‘‘ کے لیے ’’ من ‘‘ استعمال ہوتا ہے نہ کہ ’’ ما ‘‘ ۔ ’’ ما ‘‘ عام طور پر غیر جاندار چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ لہذا اس پوری آیت کو ملا کر یہ مفہوم بالکل واضح ہے کہ یہودی ذات رسول سے نہیں ، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنا ، اور ان کا یہ گمان کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ہوں گے ، اور اللہ تعالی اپنے رسولوں کی مدد کرتے ہیں ۔۔۔ اس پورے واقعے کو اپنی فتح و نصرت کی دلیل بنایا کرتے تھے ۔
    لیکن جب یہ واقعہ رونما ہوا ، تو چونکہ وہ ان کی مرضی اور تصور کے مطابق نہیں تھا ، اس لیے وہ نبوت و رسالت ، کتاب اللہ اور اس کے تمام متعلقات کے منکر ہوگئے ۔ البتہ ان تمام چیزوں کا مرکز و محور کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہے ، اس لیے بعض دفعہ بغرض اختصار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کا تذکرہ کردیا جاتا ہے ۔
    اس میں وہ مروجہ وسیلہ کہاں سے آگیا ؟
    اور پھر ایک اور اہم بات : یہودیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد آپ کی نبوت و رسالت کے منکر ہو جانا بھی اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ جب آپ کے منتظر تھے ، اور دشمنوں کے خلاف آپ کا نام لیکر فخر کیا کرتے تھے ، اس وقت بھی مراد فقط آپ کی ذات نہیں تھی ، کیونکہ اگر فقط آپ کی ذات ہوتی ، اور آپ کی ذات سے وہ وسیلہ طلب کیا کرتے ، تو جب آپ ان کی توقع کے خلاف ان کی نسل سے نہ آئے ، تو پھر آپ کے منکر کیوں ہوئے ؟
    ان کا منکر ہوجانا بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کا تعلق فقط ذات سے نہ تھا ، بلکہ وہ رونما ہونے والے مکمل ایک واقعے اور تصور سے امید لگائے بیٹھے تھے ، جونہی وہ واقعہ ان کے تصور سے ذرا ہٹ کر رونما ہوا ، انہوں نے اس کا اس کی تمام جزئیات کے ساتھ انکار کردیا ۔ اگر بات صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی ہوتی تو چاہے آپ یہودیوں کی نسل سے ہوتے یا مشرکین مکہ کی ؟ آپ کی تشریف آوری ان کے لیے کافی تھی ، اور اس کے بعد انکار کی کوئی وجہ نہ تھی ـ واللہ أعلم ۔
     
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 21، 2016 #83
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    شکر ہے یار سند مکمل ہوئی اچھا بھلی محنت کروا ڈالی اور پھر کہتے ہو سند ضعیف ہے ۔راوی کے مجہول ہونے سے اشد ضعف نہیں آتا اور اس قسم کی ضعیف روایات فضائل میں معتبر ہوتی ہیں۔(کتاب اذلار از نووی)
    اس کے جواب میں اتنا عرض ہے کہ مدد اللہ ے مانگتے تھے یہ کس نے کہا کہ وہ حضور سے مدد مانگتے تھے؟دیکھیں بھائی جان میں نے اوپر بھی کہا تھا کہ
    یعنی وہ حضور کے وسیلہ سے اللہ سے مانگتے تھے۔دوسری بات اب بحث سند سے ہے۔جب وہ ثابت ہو جائے تو بات ختم۔لہذا پہلے اس پر بحث مکمل ہو جائے پھر انشا اللہ ء اگلی بات۔
    یہاں پر ایک اور اشکال پیش کرنا چاہتا ہوں جواب عطا کریں۔
    جب اعمال کا وسیلہ جائز ہے تو اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ اللہ خالق ہے تمہارا اور تمہارے اعمال کا۔یعنی اعمال مخلوق ہیں۔اور حضور اکرم بھی مخلوق جب ایک مخلوق کا وسیلہ درست تو دوسری مخلوق کا شرک کیسے؟
    اور پھر تمام مخلوق میں افضل حضور کی ذات تو جب ادنی مخلوق کا وسیلہ جاٹھیک ہے تو اعلی کا غلط کیسے؟
     
  4. ‏مارچ 21، 2016 #84
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    حضرت ان کے منکر ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ حضور کا بنو اسماعیل کی نسل سے پیدا ہونا ہے۔تو اگر حضور بنی اسراءیل میں پیدا ہوتے تو وہ مان لیتے تو بات ذات کی ہی ہے اگر اس کا تعلق ان کے قبیلے سے ہوتا کیوں کہ انکار بھی تو ذات کا ہی کیا ہے۔
     
  5. ‏مارچ 21، 2016 #85
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,765
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آپ عقیدہ سے ’’ظنی عقیدہ ‘‘ تک آئے ، اور اب اس کو صرف فضائل اعمال کے طور پر لے رہے ہیں ۔ خوب
    خیر ان دونوں باتوں کا حوالہ لکھیں ۔ 1۔ جہالت راوی سے ضعف کی نوعیت 2۔ مجہول کی روایت فضائل اعمال میں چل جاتی ہے ۔
    جو بھی آپ سمجھتے ہیں ، وہ اس آیت سے ثابت کریں ، میں پہلے گزارش کر چکا ہوں کہ :
    محترم اس کو قیاس کہتے ہیں ، شاید آپ کے ہاں یہ بھی کوئی اصول ہوگا کہ عقائد قیاس سے بھی ثابت ہوجاتے ہیں ؟
    بات اگر صرف ذات کی تھی وہ تو آپ تشریف لا چکے تھے ، نسل کے اختلاف سے انکار کیوں کیا ؟
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 28، 2016 #86
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    ملاں علی قاری نے لکھا
    فیہ راوی مجہول ،ولایضر لانہ من احادیث الفضائلمرقاۃج2 ص 171


    قیاس سے عقیدہ ثابت نہ ہو معارضہ ضرور قائم کیا جا سکتا ہے؟کہ اگر ایک مخلوق کا وسیلہ شرک ہے تو دوسری کا جائز کیسے؟
     
  7. ‏مارچ 29، 2016 #87
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    نذیرحسین دہلوی صاحب لکھتے ہیں
    حدیث ضعیف سےجو مو ضوع نہ ہو استحباب و جواز ثابت ہے (فتاوی نذیریہ ج 1 ص 564)
    یہی بات ثنا اللہ صاحب نے بھی لکھی ہے (فتاوی ثنائیہ ص 1 ص 507)
     
  8. ‏مارچ 29، 2016 #88
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,765
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آپ نے حوالہ نقل کیا ، بات قوی ہوگئی ، لیکن پھر بھی محل نظر ہے ، کیونکہ مجہول راوی میں شدید سے شدید جرح کا احتمال موجود رہتا ہے ، مثال کے طور پر ایک جھوٹے راوی کا نام لیا جائے تو روایت ناقابل قبول ، لیکن اگر یہی مجہول ذکر کردیا جائے ، تو قابل قبول ہو جائیگی ؟ !
    فضائل اعمال میں ضعیف احادیث سے استدلال میں مشہور اختلاف ہے ، میرے نزدیک ان علماء کی بات زیادہ قوی ہے ، جو فضائل اعمال بھی اس کو قابل حجت نہیں سمجھتے ۔
    لیکن یہاں ہمارا مسئلہ فضائل اعمال کا نہیں ، یہاں مسئلہ عقیدے کا ہے ۔ عقیدہ ضعیف حدیث سے ثابت نہیں ہوتا ، اس میں شاید کسی کا کوئی اختلاف نہیں ۔
    جہاں واضح نصوص ہوں ، وہاں قیاس سے معارضے قائم کرنا بذات خود بعید از قیاس ہے ۔
    خیر آپ قیاس سے معارضے قائم تو کر رہے ہیں ، لیکن آیت کے الفاظ جو کہ اس سارے مسئلہ کی بنیاد ہیں وہ ہی آپ کا ساتھ نہیں دے رہے ۔ یہ اعتراض ابھی تک قائم ہے :
     
  9. ‏مارچ 29، 2016 #89
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    مسئلہ ھذا سے قطع نظر اس میں میرا تو نہیں خیال سلف و خلف میں کوئی اختلاف ہے ۔آپ کے علم میں ہو تو بتائیں ۔
     
  10. ‏مارچ 29، 2016 #90
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    حضرت میرا کام ہو گیا۔جہاں تک یہ بات کہ ضعیف روایات سے عقیدہ ثابت نہیں ہوتا تو بے شک قطعی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا مگر جیسے میں اوپر عبارت نقل کر آیا کہ ان سے استحاب و جواز ثابت ہے۔لہذا توسل کا جواز ثابت ہے ۔اور میں اوپر بھی نقل کر چکا کہ توسل کےمنکر پرکوئی فتوی نہیں۔ہاں اب آپ کی باری ہے اسے شرک ثابت کریں۔
    میں نے اس پر معارضہ یہ قائم کیا تھا کہ آپ کے نزدیک حضور کا وسیلہ شرک ہے؟اور اعمال کا جائز ۔
    تو اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ
    اللہ خالق ہے تمہارا اور تمہارے اعمال کا
    یعنی حضور بھی مخلوق اور اعمال بھی مخلوق ۔تو ایک مخلوق کا وسیلہ شرک اور دوسری کا جائز کیسے؟
    ویسے جب آپ کے خطیب حضرات عقلی باتوں سے معارضے قائم کرتے ہیں جیسے نقوی صاحب نے انما قاسم کی حدیث پر یہ معارضہ قائم کیا کہ اگر حضور رزق دیتے ہیں تو ریال اہل حدیثوں کو کیوں ملتے ہیں۔
    تو جب آپ لوگ یہ کام کر سکتے ہیں تو ہمارے لئے یہ ناجائز کیسے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں