1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سند ِ کتاب اور منہجِ محدثین

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏جنوری 03، 2017۔

  1. ‏جنوری 04، 2017 #21
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ۱۳۔ سؤالات أبي داود للإمام أحمد:
    امام ابوداود نے امام احمد سے جوسوالات کیے اور امام احمد نے ان کے جو جو ابات دیے، نیز امام ابوداود نے جرح و تعدیل کے بارے میں امام احمد سے جو سنا، اُنھوں نے اس کتاب میں ذکر کر دیا ہے۔ اس مطبوع کتاب میں پانچ صد ستر (۵۷۰) فقرے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس کتاب کو کسی نے امام ابوداود یا امام احمد کی تصنیفات میں ذکر نہیں کیا، سوائے فواد سزگین، شیخ البانی اور یاسین محمد السواس کے، اُنھوں نے ذکر کیاہے کہ مکتبہ ظاہر یہ(دمشق) میں اس کا مخطوط موجود ہے۔ جس کی تفصیل محققِ کتاب شیخ زیاد محمد منصور نے مقدمۂ تحقیق میں ذکر کی ہے۔ (سؤالات ،ص: ۱۰۱)
    اس کے قلمی نسخے کی سند بھی موجودنہیں، سوائے سند کے کچھ حصے کے۔
    ڈاکٹر زیاد رقم طراز ہیں:
    (۱) ’’مولف تک نسبت ِ کتاب کی تحقیق: اس کتاب کو اصحابِ مصادر نے امام احمد یا امام ابوداود کی تصنیفات میں ذکر نہیں کیا ،سوائے اس چھوٹے پیمانے کے جس کا ذکر ابھی ہوا کہ مکتبہ ظاہریہ (دمشق، شام ) کی فہرستوں کے ذریعے سے۔‘‘ (مقدمۂ تحقیق،ص: ۱۰۳)
    (۲) ’’جو قیمتی نسخہ میرے سامنے ہے، میں اس کی سند پر مطلع نہیں ہوا، سوائے کچھ حصے کے جو کتاب کے بعض ابواب کے شروع میں ہے۔ اس میں ہے: أخبرنا أوحدثنا الحسین حدثنا سلیمان قال: سمعت أحمد وتارۃ: قلت لأحمد۔‘‘(مقدمۂ تحقیق،ص: ۱۲۳)
    گویا یہ کتاب بھی شیخ کے اُصول کے مطابق غیر معتبر ہے۔ مگر اس کے باوجود اُنھوں نے اس کتاب کے متعدد حوالے دیے ہیں،مثلاً:
    1…مقالات:۴/۴۵۶۔
    2…مقالات :۶/۱۳۷-۱۳۹۔
    3…فتاویٰ علمیہ :۲/۳۵۳،۳۵۴۔
    مولانا موصوف نے اس کتاب کو امام ابوداود کی تالیفات میں ذکر کیا ہے۔ (تحقیقی مقالات :۶/۱۱۹)
    ۱۴۔ الرسالۃ إلی أہل مکۃ:
    امام ابوداود (صاحب السنن) نے سنن ابی داود کے تعارف کے لیے باشندگانِ مکہ کی طرف ایک خط ارسال کیا جو ’’رسالۃ الإمام أبي داود السجستاني إلی أہل مکۃ في وصف سننہ‘‘ کے نام سے مطبوع ہے۔
    مولانا زبیر نے اپنی کتاب ’’اہل حدیث؛ ایک صفاتی نام اور اجماع ‘‘ کے تحت چھٹا حوالہ امام ابوداود کا ذکر کیا ہے۔ امام صاحب کا قول نقل کرنے کے بعد یوں حوالہ دیا ہے :
    ’’رسالۃ أبي داود إلی أہل مکۃ في وصف سننہ، ص:۳۰ و مخطوط،ص:۱۔‘‘
    (اہل حدیث ایک صفاتی نام،ص: ۳۰)
    نیز امام ابوداود کے حالات ِ زندگی میں ان کی علمی خدمات میں ’’رسالۃ في وصف تألیفہ لکتاب السنن‘‘ کا ذکر کیا ہے۔( تحقیقی مقالات: ۶/۱۱۹)
    حالانکہ اس کتاب کو امام ابوداود سے روایت کرنے والے ابو بکر محمد بن عبدالعزیز الہاشمی ہیں۔ (رسالۃ الإمام أبي داود إلی أہل مکۃ في وصف سننہ،ص: ۳۰۔تحقیق: عبدالفتاح أبوغدۃ)
    اس راوی کی توثیق موجود نہیں، البتہ امام ابن جُمیع الصیداوي (وفات: ۴۰۲ھ) نے انھیں اپنے اساتذہ میں ذکر کیا ہے۔ (معجم الشیوخ للصیداوي، ص: ۱۲۶، ترجمۃ: ۷۸) اور متذکرہ بالا رسالے کا بھی ذکر کیا ہے۔
    شیخِ مکرم کی قائم کردہ کسوٹی پر یہ رسالہ بھی پورا نہیں اترتا، لہٰذا اِسے امام ابوداود کی طرف منسوب کرنا چہ معنی دارد؟
    ہمارے نزدیک یہ رسالہ ثابت ہے، چنانچہ امام ابودادرقم طراز ہیں:
    ’’اس سنن میں کتب کی تعداد اٹھارہ اجزاء پر مشتمل ہے جن میں مراسیل بھی شامل ہیں۔ (ان اٹھارہ) میں سے ایک جز مراسیل پر مبنی ہے۔ ‘‘ (الرسالۃ ،ص: ۵۱)
    غور طلب بات یہ ہے کہ سنن ابی داود میں علیحدہ طور پر مراسیل موجود نہیں۔جس کا تقاضا ہے کہ ایک مستقل کتاب موجود ہونی چاہیے۔ اوریہ کتاب ’’کتاب المراسیل ‘‘ کے نام سے مطبوع ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ امام ابوداود نے اسے السنن کے آخر میں درج کیاتھا، ازاں بعد علیحدہ چھپتی رہی۔ جس طرح امام ترمذی نے سنن ترمذی کے آخر میں علل الترمذي الصغیر کو ملحق کیا ہے جواب بھی سنن کے ساتھ مطبوع ہوتی ہے۔
    گویا امام ابوداود نے اپنے خط میں جہاں سنن ابی داود کا تعارف کروایا وہاں ’’المراسیل ‘‘ کا بھی ذکر کر دیا۔ اور یہ بات معروف ہے کہ اہلِ علم اپنی ایک کتاب میں دوسری کتب کا اِحالہ کرتے ہیں۔
    محدثین کی ایک معتدبہ جماعت نے مصطلح الحدیث اور تخریج الحدیث کی کتب میں اس رسالے کا ذکر کیا ہے یا اس سے امام ابوداود کے اقوال نقل کیے ہیں۔ بلکہ مولانا زبیر کے نقل کردہ دو اقوال ابھی مذکور ہوئے ہیں۔ جو اس بات کی دلیل ہیں کہ مولانا موصوف بھی اسے امام ابوداود ہی کا خط سمجھتے تھے۔
    مولانا مرحوم اس خط کو امام ابوداود کا خط قرار دے کر لکھتے ہیں:
    ’’تنبیہ: سؤالات الآجري کے نام سے جو کتاب مطبوع و مخطوط ہے وہ ابو عبید الآجری (مجہول) کی وجہ سے امام ابوداود سے ثابت ہی نہیں۔ ‘‘ (تحقیقی مقالات: ۶/۱۱۹)
    حالانکہ رسالۃ أبي داود کو امام صاحب سے بیان کرنے والے راوی کی توثیق بھی مطلوب ہے! ان کے اُصول کے مطابق اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ سؤالات الآجري کی امام ابوداود کی طرف نسبت کی نفی اور رسالۃ أبي داود کی صحت ِ نسبت کا اثبات، چہ معنی دارد؟
    ۱۵۔ تسمیۃ الإخوۃ لأبي داود:
    ’’تسمیۃ الإخوۃ الذین روي عنہم الحدیث ‘‘ کا شمار بھی امام ابوداود کی تصانیف میں ہوتا ہے۔ آٹھ اوراق پر مشتمل یہ کتابچہ دارالکتب الظاہر یۃ(دمشق) کی زینت تھا جسے ڈاکٹر باسم فیصل الجوابرۃ نے تحقیق کے بعد شائع کیا۔
    یہ رسالہ (۹۲۴) فقروں پر مشتمل ہے۔ اس کے راوی بھی ابوعبید آجری ہیں۔ امام ابوداود نے یہ کتاب امام علی بن المدینی کی کتاب ’’تسمیۃ من روي عنہ من أولاد العشرۃ وغیرہم من أصحاب رسول اللّٰہ رحمہ اللہ ‘‘ کو پیشِ نظر رکھ کرمرتب کی ہے جس کی اُنھوں نے وضاحت بھی کی ہے۔
    (تسمیۃ الإخوۃ لأبي داود،ص: ۱۶۲)
    امام ابوداود کا یہ رسالہ ’’الرواۃ من الإخوۃ والأخوات‘‘ کے ضمن میں مطبوع ہے۔ جسے دارالرایۃ (الریاض) نے ۱۹۸۸ء میں شائع کیا ہے۔ اس مجموعے میں پہلی کتاب امام علی بن مدینی کی، دوسری امام ابوداود کی اور تیسری کتاب خود محقق کی ہے جو ان دونوں کتب پر استدراک ہے۔
    امام ابوداود کے رسالے میں ابو عبید آجری کی جہالت کے علاوہ محمد بن علي بن عدي بن زحر المنقريبھی ہے جس پر تبصرہ ’’سؤالات الآجري‘‘ کے تحت گزر چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کسی نے اس کتاب کو امام ابوداود کی طرف منسوب کرنے میں شک کا اظہار نہیں کیا!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 04، 2017 #22
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ۱۶۔ الإقناع لابن المنذر:
    شیخِ مکرم لکھتے ہیں:
    ’’ام سلمہ رضی اللہ عنہاکی یہ حدیث پیش کرکے امام ابن المنذر نے لکھا ہے: پس اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے قربانی واجب وفرض نہیں۔ کیوں کہ اگر یہ فرض ہوتی تو اسے قربانی کرنے والے کے ارادے پر موقوف نہ کیا جاتا۔ (الإقناع لابن المنذر: ۱/۳۷۶)۔‘‘
    (تحقیقی مقالات: ۶/۲۸۵)
    اس کتاب کو امام ابن منذر سے ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابراہیم البلخي روایت کرتے ہیں۔ (الإقناع لابن المنذر: ۱/۴۳)ان کی بھی توثیق موجود نہیں۔ ان کا مختصر ترجمہ تاریخ الإسلام للذہبي(ص:۵۴۷۔حوادث ووفیات: ۳۵۱ھ-۳۸۰ھ) اور غایۃ النہایۃ لابن الأثیر(۲/۵۱، ترجمہ: ۲۷۰۳۔الشاملۃ) میں موجودہے۔ اور قدرِ مفصل ذکر الأنساب للسمعاني (۱/۳۸۹، البلخي) اور تاریخ دمشق (۱۴/۳۲۵) وغیرہ میں ہے۔
    تنبیہ: الإقناع لابن المنذر کے محقق ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الجبرین نے ابو عبداللہ البلخي کے شاگرد ابو عبداللہ محمد بن یمن المرادي کے بارے میں لکھا ہے کہ مجھے اس کا ترجمہ نہیں ملا۔
    (الإقناع: ۱/۴۳)
    حالانکہ ان کا ترجمہ کتاب الصلۃ لابن بشکوال (۲/۱۳۹، ترجمہ: ۱۰۲۳) میں ہے۔ اور لکھا ہے:
    ’’وکان رجلا فاضلا خطیبا …وأثنوا علیہ۔‘‘
    ’’ وہ فاضل اور خطیب آدمی تھے… انھوں (علماء) نے ان کی تعریف کی ہے۔ ‘‘
    شیخِ مکرم کے اُصول کے مطابق یہ بھی صراحتاً توثیق نہیں، لہٰذا کتاب الإقناع کی سند مزید مشکوک ہو گئی۔
    ۱۷۔ معرفۃ الرجال لابن محرز:
    معرفۃ الرجال للإمام أبي زکریا یحي بن معین روایۃ أبي العباس ابن محرز البغدادي مطبوع اور متداول ہے۔ امام ابن معین سے ان سوالات کے راوی ابو العباس احمد بن محمد بن القاسم بن محرز البغدادي ہیں جن کی توثیق موجود نہیں، البتہ ان کا دوسطری ترجمہ تاریخ بغداد(۵/۸۳) میں موجود ہے۔ لہٰذا یہ بھی مجہول راوی ہیں۔
    دوسری علت:ابن محرز کا شاگرد ابو الفضل بن درستویہ بن المرزبان الفسوي الفارسيہے۔ (معرفۃ الرجال:ص،۷۳) اس کا ترجمہ الإکمال لابن ماکولا (۳/۳۲۲) میں ہے۔ صاحبِ کتاب نے اس کے تین استاد اور ایک شاگرد کا ذکر کیا ہے۔ اس کا نہایت مختصر ترجمہ المشتبہ للذہبي (۱/۲۸۵)، توضیح المشتبہ لابن ناصر الدین الدمشقي(۳/۹۲)، تبصیر المنتبہ لابن حجر العسقلاني(۲/۵۵۹)میں ہے۔ مؤخر الذکر دونوں محدثین کا مرجع حافظ ذہبی کی کتاب ہے اور ان کا مرجع الإکمال لابن ماکولاہے۔
    عبداللہ بن جعفر بن درستویہ ابو محمد کے ترجمے میں خطیب بغدادی لکھتے ہیں:
    ’’جعفر بن درستویہ من کبار المحدثین وفہمائہم۔‘‘ (تاریخ بغداد: ۹/۴۲۹)
    ’’جعفر بن درستویہ کا شمار کبار اور سمجھ دار محدثین میں ہوتاہے۔‘‘
    یہ تعریفی کلمات ہیں، تو ثیقی نہیں۔ ان دونوں راویوں کے علاوہ سند ِ کتاب کے باقی راوی ثقہ ہیں۔
    اسی ضعیف سند سے خطیب بغدادی نے باسٹھ (۶۲) اقوال نقل کیے ہیں۔ (موارد الخطیب للدکتور أکرم ضیاء العمري، ص: ۵۷۶)
    حافظ ابن عساکر نے بھی اسی سند سے متعدد اقوال نقل کیے ہیں جو بعینہٖ معرفۃ الرجال لابن محرز میں موجود ہیں:
    (۱) ’’قال ابن معین: لابأس بہ۔‘‘ (تاریخ دمشق:۳۴/۱۸۔دیکھیے معرفۃ الرجال،فقرۃ: ۳۵۶،۱۵۳۷)
    (۲) ’’قال ابن معین: لابأس بہ۔‘‘ (تاریخ دمشق: ۶۰/۳۰۸۔دیکھیے معرفۃ الرجال، فقرۃ: ۳۵۵،۱۵۳۷)
    (۳) تاریخ دمشق: ۶۵/۱۰۵،۱۰۶۔ دیکھییمعرفۃ الرجال، ص: ۵۹۹۔
    کسی خارجی قرینے سے اس کتاب کاغلط ہونا معلوم نہیں ہوتا، لہٰذا یہ کتاب بھی فنِ جرح و تعدیل میں امام ابن معین کی امامت پر دلالت کرتی ہے۔
    اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ امام ابن معین نے ابراہیم بن ابی اللیث کے بارے میں لکھاہے:
    ’’اگر اسی (۸۰) افراد بھی اس کے پاس آمد و رفت رکھیں، سبھی منصور بن معتمر کی طرح ہوں تو وہ پھر بھی جھوٹا ہوگا۔‘‘ (معرفۃ الرجال لابن محرز،ص: ۱۳۸،۱۳۹، فقرۃ: ۳۶۶)
    اور علامہ معلمی نے اس قول کے ناقل ابن محرز پر کیوں اعتراض کیا اور اس کی جہالت کی طرف کیوں اشارہ کیا؟
    (التنکیل للمعلمي: ۱/۹۰، ترجمہ: ۷)
    ہمارے نزدیک ایسا نقد محلِ نظر ہے کیوں کہ ابن محرز محض خطیب بغدادی کی ذکر کردہ جرح ہی کا راوی نہیں بلکہ اس نے اما م ابن معین اور امام ابن المدینی سے جرح و تعدیل کی بابت ایک معتدبہ حصہ محفوظ کیا ہے جو اُس کے اہلِ علم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس جرح کو نقل کرنے میں ابن محرز منفرد نہیں بلکہ دیگر رواۃ بھی ابن ابی اللیث پر امام ابن معین کی شدید جرح نقل کرتے ہیں۔
    اولاً: امام ابن معین نے اس کی توثیق کی تھی، بعدازاں جب اس کی حقیقت عیاں ہو گئی تو نہایت شدید جرح کی، جیسا کہ خطیب بغدادی نے بھی صراحت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو، تاریخ بغداد: ۶/۱۹۱-۱۹۶)
    ثانیاً: معرفۃ الرجال کے مطبوعہ نسخے پر علمائے کرام کے سماعات بھی ہیں۔ (ملاحظہ ہو معرفۃ الرجال(سماعِ اول)،ص: ۲۴۶ ، ص: ۲۴۷ سماعِ دوم،ص: ۲۴۸، سماعِ سوم ،ص: ۴۴۰)
    تنبیہ: التنکیل (۱۰/۱۵۹ طبع جدید) میں ابن محرز کے شاگرد کا نام ’’عبد اللّٰہ بن جعفر بن درستویہ بن المرزبان الفارسي ‘‘ مذکور ہے۔ درست جعفر بن درستویہ ہے، عبد اللہ بن جعفر درستویہ نہیں۔ علامہ معلمی نے بھی صحیح لکھا تھا، جیسا کہ التنکیل (۱/۹۰ طبع قدیم) میں موجود ہے۔ اور اس سلسلے میں چند حوالے آپ پہلے بھی ملاحظہ فرما چکے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 04، 2017 #23
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ۱۸۔ أخبار القضاۃ لوکیع:
    مولانا زبیر مرحوم مقاتلیۃ اور جہمیۃ کی مذمت کے بارے میں قاضی ابویوسف حنفی کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ’’أخبار القضاۃ المنسوب إلی محمد بن خلف بن حیان :۳/۲۵۸۔ وسندہ صحیح۔‘‘
    (تحقیقی مقالات: ۱/۵۴۷)
    سوال صرف اتنا ہے کہ منسوب (غیر ثابت!) شدہ کتاب میں مذکور قاضی ابو یوسف کا قول اگر ثابت ہو سکتا ہے تو العلل الکبیر منسوب شدہ کتاب (بہ قولِ شیخ !) سے امام بخاری کا قول ’’ما أقل تدلیسہ‘‘ کیوں ثابت نہیں ہو سکتا!
    ابھی آپ پڑھیں گے کہ موصوف نے العلل الکبیر کی متعدد سندوں پر درستی کا حکم لگایا ہے۔ گویا ان کے نزدیک کتاب کی نسبت اور اس میں مواد کی صحت دونوں علیحدہ چیزیں ہیں۔ اور یہی منہجِ محدثین ہے۔
    ۱۹۔ العلل الکبیر حسن لذاتہ بھی ہے:
    امام اسماعیل بن اسحاق قاضی (وفات: ۲۸۲ھ) کا جزئِ حدیث ’’فضل الصلاۃ علی النبي رحمہ اللہ ‘‘مطبوع اور متداول ہے۔ اس کا قلمی نسخہ محدث البانی نے مکتبہ ظاہریہ( دمشق، شام) سے لے کر تحقیق کے بعد شائع کیا۔ اس کا سنِ طباعت ۱۹۶۳ء ہے۔ یہ جزء (۱۰۶) احادیث پر مشتمل ہے۔
    مولانا حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی ترجمہ و تحقیق کرکے اسے شائع کیا ہے۔ اس کتاب کے ایک راوی علی بن ہبۃ اللہ بن عبدالصمد الکاملي المصري کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:
    ’’مرشدبن یحییٰ کے شاگرد ابو الحسن علی بن ہبۃ اللہ بن عبدالصمد الکاملي المصري تھے جن سے جلیل القدر شاگردوں کی ایک تعداد نے روایتیں بیان کی ہیں، مثلاً: حافظ عبدالغنی، حافظ عبدالقادر، ابن رواحہ اور محمد بن الملثم وغیرہم۔ (دیکھیے تاریخ الإسلام للذہبی: ۴۰/۳۳۳۔وفیات: ۵۷۱ھ-۵۸۰ھ) آپ کا مقام ’’محلہ الصدق‘‘ ہے۔ کئی مقامات پر دوسرے راویوں نے آپ کی متابعت کی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صدوق تھے۔ یاد رہے کہ آپ پر کسی قسم کی کوئی جرح نہیں ہے اور امام عبدالغنی المقدسی کا کسی جرح کے بغیر آپ کو ’’الشیخ‘‘ کہنا بھی آپ کی توثیق کی طرف اشارہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ سند حسن ہے۔روایات کی تخریج سے معلوم ہوتا ہے کہ علی بن ہبۃ اللہ صدوق تھے، کیوں کہ یہی روایات دوسری کتابوں میں بھی کثرت کے ساتھ موجود ہیں، لہٰذا یہ سند صحیح لغیرہ ہے، والحمد للہ۔ ‘‘
    (فضائلِ درود و سلام،ص: ۳۵،۳۶)
    ان کے اس کلام پر تبصرہ آئندہ آرہا ہے، إن شاء اللّٰہ۔ سرِدست یہ دیکھیے کہ موصوف نے علی بن ہبۃ اللہ کو صدوق قرار دیتے ہوئے سند ِ کتاب کو حسن قرار دیا، پھر اس کی سند کو صحیح لغیرہ کہہ دیا۔ کیوں کہ ’’یہی روایات دوسری کتابوں میں بھی کثرت کے ساتھ موجود ہیں۔‘‘
    اس جملے میں دو احتمال ہیں، اول: فضل الصلاۃ علی النبی رحمہ اللہ کی روایات دوسری کتب میں بہ کثرت موجود ہیں۔ دوم: سندِ کتاب صحیح لغیرہ ہے کیوں کہ دوسری کتابوں میں نہایت کثرت سے موجود ہے۔
    ان دونوں میں سے پہلے احتمال کی تائید دلیل کرتی ہے۔ دوسرا احتمال نہایت کمزور ہے۔ شیخ کے ’’صحیح لغیرہ‘‘ کے اُصول سے ہم نے یہ کشید کیا کہ جس کتاب کی روایات دوسری کتب میں موجود ہوں تو وہ حسن لذاتہ کی حیثیت اختیار کر جائے گی۔ اب اس اصول کو العلل الکبیر پر منطبق کریں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بھی حسن لذاتہہے کیوں کہ اس کی بھی بہت سی نصوص دوسری کتابوں میں موجود ہیں۔ اگر اس کا راوی بھی صدوق ہوتا تو یہ بھی صحیح لغیرہ کے رتبے تک پہنچ جاتی۔
    راویِ کتاب صدوق نہیں:
    مولانا مرحوم نے علی بن ہبۃ اللہ کی توثیق کے بارے میں دو الفاظ ذکر کیے ہیں: (۱) محلہ الصدق، (۲) صدوق۔
    ’’محلہ الصدق‘‘ کی دلیل اُنھوں نے یہ بیان کی کہ ان سے جلیل القدر شاگرد بیان کرتے ہیں۔ صدوق قرار دینے کے ان کے دلائل درج ذیل ہیں:
    ۱: کئی مقامات پر دوسرے راویوں نے آپ کی متابعت کی ہے۔
    ۲: آپ پر کسی قسم کی کوئی جرح نہیں۔
    ۳: امام مقدسی نے بغیر جرح کے آپ کو سند ِ کتاب میں ’’الشیخ‘‘ سے موصوف کیا ہے۔
    پہلی دلیل کے حوالے سے عرض ہے کہ کن کن راویوں نے آپ کی متابعت کی ہے ؟ کاش! مولانا اس کی صراحت فرما دیتے۔
    محدث البانی نے بھی صرف ابو القاسم ہبۃ اللہ بن علی بن مسعود بن ثابت البوصیري کی متابعت ذکر کی ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ شیخ نجم الدین عمر بن محمد (وفات: ۸۸۵ھ) جو ابن فہد کی نسبت سے معروف ہیں، نے اپنی کتاب ’’الفتح الرباني لجمیع مرویات الشیخ أبي الفتح العثماني‘‘میں ذکرکیا ہے کہ ابو الفتح العثماني کے مسموعات میں فضل الصلاۃ علی النبي رحمہ اللہ شامل ہے۔
    ازاں بعد تذکرۃ الحفاظ کے حوالے سے بھی ابو القاسم البوصیري موصوف کی سند ذکر کی ہے۔ (ملاحظہ ہو مقدمۂ تحقیق فضل الصلاۃ علی النبي رحمہ اللہ ، ص: ز)
    ابو الفتح العثماني سے مراد محمد بن أبي بکر بن حسین بن عمر القرشي العثماني المراغي ہیں جو ۷۷۵ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور ۸۵۹ھ میں انتقال ہوا۔ (الضوء اللامع: ۷/۱۶۲-۱۶۵، ترجمہ:۴۰۱۔ البدرالطالع: ۲/۱۴۶،۱۴۷،ترجمہ: ۴۲۵۔ الأعلام للزرکلي: ۶/۵۸)
    ان کی معجم کا ذکر علامہ عبدالحی عبدالکبیر الکتانی نے بھی کیا ہے، بلکہ امام ابن فہد تک اپنی سند بھی ذکر کی ہے۔
    (فہرس الفہارس: ۲/۶۱۷، کتاب: ۲۳۶)
    اس کے قلمی نسخے سے شیخ البانی نے نقل کیا ہے۔ اور فہرس مخطوطات دارالکتب الظاہریۃ (ص:۱۳۱، رقم الکتاب: ۳۵۹) میں اس کا مختصر تعارف بھی کروایا ہے۔
    شیخ زبیر رحمہ اللہ نے اپنی تحقیق میں طبقات الشافعیۃ الکبری اور سیر أعلام النبلاء کا حوالہ دیا ہے۔( فضائلِ درود وسلام،ص: ۵۶،۱۴۸،۱۴۹) مگر ان دونوں محولہ کتابوں میں اس ابو القاسم البوصیري اکیلے کی متابعت ہے، بلکہ علامہ سبکي نے دیگر مقامات پر بھی یہی سند ذکر کی ہے۔
    (طبقات الشافعیۃ الکبری: ۱/۴۳،۱۵۸)
    مزید مراجعت سے معلوم ہوا کہ دیگر مراجع میں بھی یہی سند ہے۔ (ملاحظہ ہو نتائج الأفکار لابن حجر: ۳/۳۰۱،المجلس: ۲۹۱ الشاملۃ۔ الثاني من کتاب شعار الأبرار في الأدعیۃ والأذکار من حدیث الشیخ الإمام أبي الفرج عبدالرحمان بن الشیخۃ:۲/۳۳۵، رقم: ۲۱۸۶، (تخریج: أبي الصفاخلیل بن محمد) ضمن: الفوائد لابن مندہ۔) بلکہ مطبوع فضل الصلاۃ کی سند سے زیادہ مشہور یہ سند ہے۔
    لہٰذا اُن کا یہ دعویٰ کہ ’’کئی مقامات پر دوسرے راویوں نے آپ کی متابعت کی ہے ‘‘ نہایت غیر محتاط طرزِ عمل ہے۔
    ان کی دوسری دلیل کہ ’’اس راوی پر کوئی جرح نہیں‘‘، اس حد تک تو درست ہے مگر عدمِ جرح سے صدوق ہونے پر ان کا استدلال درست نہیں۔
    تیسری دلیل کہ’’ امام مقدسی نے بغیر جرح کے ’’الشیخ‘‘ کہا ہے ، لہٰذا یہ توثیق کی طرف اشارہ ہے‘‘ بھی محلِ نظر ہے۔ کیوں کہ محدثین میں سے کسی نے اس لفظ کے پیشِ نظر اور دیگر قرائن کے باوجود انھیں ثقہ یا صدوق نہیں کہااور نہ ’’اس کی توثیق کی طرف اشارہ ‘‘ کا استدلال کیا ہے ، سوائے موصوف کے !
    علی بن ہبۃ اللہ کے بارے میں علامہ البانی کی رائے:
    محدث البانی سند ِ کتاب کے راویوں کا ترجمہ ذکر کرتے ہوئے علي بن ہبۃ اللّٰہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
    ’’علي بن ہبۃ اللّٰہ بن عبدالصمد أبو الحسن الکاملي: میں نے ان کے شایانِ شان ترجمہ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے مگر مجھے اپنی منشا کے مطابق نہیں ملا۔ حافظ ذہبی نے انھیں ’’المشتبہ‘‘ میں ذکر کیا ہے اور ان کا نسب نامہ اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح اسی کتاب ’’فضل الصلاۃ علی النبي رحمہ اللہ ‘‘ کی سند میں مذکور ہے، بجز اس کے کہ اُنھوں نے ’’الصوري‘‘ کی نسبت اضافی ذکر کی ہے اور کہا ہے کہ ابو صادق المدینی سے اس نے سماع کیا ہے۔ بس اتنا ہی کہا اور مزید کچھ نہیں لکھا۔ حافظ ابن ناصر الدین (الدمشقي) توضیح المشتبہ (۲/۲۲۹/۲) میں انھی کے پیچھے چلے ہیں اور خلافِ معمول اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔ اسی طرح حافظ ابن حجر نے تبصیر المنتبہ بتحریر المشتبہ میں کیاہے۔
    حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے انھیں تاریخ دمشق میں ذکر نہیں کیا باوجود اس کے کہ وہ صوري ہیں، جیسا کہ حافظ ذہبی کے حوالے سے گزر چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حافظ ابن عساکر کا حق بنتا تھا کہ وہ انھیں اپنی کتاب میں ذکر کرتے لیکن اُنھوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس میں نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دادا عبدالصمد کی نسبت صوری ہے، رہے علي بن ہبۃ اللّٰہ تووہ مصري ہیں، جیسا کہ حافظ ابن ناصر الدین (الدمشقي) نے مخصوص طریقے سے ذکر کیا ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے کہ موصوف عبدالصمد اصلاً اصفہان کے باشندے تھے، وہ صور آئے اور اسے مستقل مسکن بنا لیا۔ یہاں کے رہائشیوں نے ان کا رشتہ کا ملي خاندان سے کردیا۔ ہبۃ اللہ کے جو بیٹے پیدا ہوئے ان کا نام علی تھا، پھر ہبۃ اللہ مصر منتقل ہو گئے۔ یہاں ان سے حافظ سِلَفِي نے لکھا۔ اور وہیں فوت ہوئے۔
    معلوم ہوا کہ موصوف علی بن ہبۃ اللہ، مصری ہیں، لیکن اس کے باوجود حافظ سیوطی نے انھیں حسن المحاضرۃ میں ذکر نہیں کیا۔ بہر حال شیخ کا جو بھی حال ہو، وہ ابو صادق مدینی سے کتاب روایت کرنے میں منفرد نہیں ہے …(ازاں بعد ابو القاسم ہبۃ اللہ بن علی بن مسعود بن ثابت البوصیری کی متابعت ذکر کی اور لکھا:)یہ علی بن ہبۃ اللہ المصري (ابو الحسن ) کے لیے ان کے ہم شہر ہبۃ اللہ بن علی البوصیری ابو القاسم کی مضبوط متابعت ہے۔ وہ معروف شیخ تھے۔ اواخر عمر میں محدث دیارِ مصر تھے۔ اُنھوں نے قاہرہ اور اسکندریہ میں درسِ حدیث کی مجلس سجائی۔ ۵۹۸ھ میں ان کا انتقال ہوا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 04، 2017 #24
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    (سند ِ کتاب کے بارے میں شیخ البانی کا منہج)
    اس کے باوجود علماء کے ہاں کتاب کی شہرت، ان کا اس سے استفادہ اور اعتماد کرنا اس کی استنادی حیثیت سے بحث کرنے میں کفایت کرجاتا ہے۔ اگر سند صحیح ہو تو اس کی صحت ِ نسبت دو چند ہو جاتی ہے، بہ صورت دیگر اسے نقصان نہیں۔ بنابریں جس نے بھی اس موضوع (الصلاۃ علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم ) پر لکھا، اس نے اسے مصادرِاُولیٰ میں ذکر کیا ہے، اگرچہ اسے سب سے مقدم نہیں کیا، جیسا کہ علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب ’’جلاء الأفہام‘‘ ،حافظ سخاوی نے القول البدیع اور ان کے علاوہ دیگر مولفین نے بھی ذکر کیاہے۔‘‘(مقدمۂ تحقیق فضل الصلاۃ علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم للألباني، ص: و،ز،ح)
    علی بن ہبۃ اللہ کے بارے میں درج ذیل کتابیں دیکھیے:
    (تاریخ الإسلام للذہبي،ص:۳۳۳: (حوادث: ۵۷۱ تا ۵۸۰ ھ )، المشتبہ في الرجال للذہبي: ۲/۵۴۰، توضیح المشتبہ لابن ناصر الدین: ۷/۲۶۹، تبصیر المنتبہ لابن حجر: ۳/۱۲۰۳، تاج العروس للزبیدي: ۸/۱۰۴، مادہ: کمل)
    اس لیے حدیثی قواعد کے مطابق علی بن ہبۃ اللہ صدوق نہیں ہے۔
    یہاں سوال یہ ہے کہ فضل الصلاۃ کی دوسری سند سے اگر کتاب ثابت ہو سکتی ہے تو العلل الکبیرکیوں نہیں ہو سکتی! حالانکہ اس کی بھی دوسری سند موجود ہے۔ بہ اُصولِ مولانا مرحوم، ابو حامد التاجر کی غیر صریح توثیق بھی ثابت ہو چکی ہے ۔ اور العلل الکبیر بھی حسن لذاتہ کے درجے میں پہنچ چکی ہے !
    یہاں یہ اعتراض بھی وارد ہو سکتا ہے کہ کتاب کی صحتِ سند کی بابت شیخ البانی کا مذکورہ بالا موقف نہایت قدیم ہے جو اُنھوں نے ۱۹۶۳ء میں اختیار کیا۔ ۲۰۰۲ء میں اُنھوں نے ضعفِ سند کی بنا پر کتاب الجہاد لعبد اللہ بن المبارک کا انکار کیا ہے ۔
    (الصحیحۃ: ۷/۲، رقم : ۱۰۳۴)
    اس کا جواب یہ ہے کہ علامہ البانی نے فضل الصلاۃ کے مقدمے میں جو موقف اپنایا ہے آخری وقت تک وہ اسی پر کاربند رہے ، جیسا کہ ان کا اسلوب اس کی تائید کرتا ہے ۔
    ثانیاً: ضعف کی دو صورتیں ہیں: (۱) راوی یا رواۃ کا ترجمہ نہ ملنا۔(۲)راوی یا راویان کا مجروح ہونا۔
    صورتِ اول میں ضعف قابلِ برداشت ہے۔ صورتِ دوم میں تفصیل ہے: اگر ضعف شدید ہے ، مثلاً: راوی کذاب یا وضاع ہے تو ظاہر بات ہے کہ اس کی نقل کردہ کتاب غیرمعتبر ہوگی ۔اگر ضعیف ہے مگر روایت ِ کتاب کے بارے میں علمائے کرام نے اس کے اہتمام کی گواہی دی ہے تو یقینا اس کی کتاب معتبر ہوگی۔ اس حوالے سے مزید گفتگو آئندہ ’’کتاب الجہاد لعبد اللّٰہ بن المبارک‘‘ کے زیرِ عنوان آرہی ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 04، 2017 #25
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اعتراضات کا جائزہ

    العلل الکبیرکے انکار کا سبب:
    راقم الحروف نے متقدمین محدثین سے قلت اور کثرتِ تدلیس کے اثبات کے لیے مولانا زبیر علی زئی مرحوم کے سامنے امام بخاری کا قول پیش کیا، جس میں اُنھوں نے امام سفیان ثوری کو قلیل التدلیس بلکہ نہایت کم ترین تدلیس کرنے والا قرار دیا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں :
    ’’ما أقل تدلیسہ!‘‘ (ان کی تدلیس کتنی کم ہے !)
    اس قول کابنیادی مرجع امام ترمذی کی کتاب العلل الکبیر تھی۔ مولانا نے دو مقاصد کی تکمیل کے لیے اس کتاب کا انکار کرنے ہی میں بہتری سمجھی؛ پہلا مقصد یہ تھا کہ امام بخاری سے صراحتاً قلّت اور کثرتِ تدلیس کا ثبوت مہیا نہ ہو سکے۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ امام ثوری کو بالصراحت قلیل التدلیس مدلس ثابت نہ کیا جائے ۔
    حالانکہ انھیں چاہیے تھا کہ وہ اپنے استقرا کو امام بخاری کے استقرائے تام سے مستحکم قرار دیتے ہوئے إمام العلل کی تغلیط کر دیتے، جیسا کہ اُنھوں نے صاحب ِ استقرائے تام حافظ ذہبی کا امام زہری کے بارے میں قول: ’’زہری نہایت کم تدلیس کرتے تھے ‘‘ کی تغلیط کرتے ہوئے کہا:
    ’’وہ انوکھے اقوال میں سے ہے جس پر متقدمین کی کوئی راہنمائی نہیں ہے۔ ‘‘ (الفتح المبین، ص: ۱۲۱طبع جدید)
    اس پر تبصرہ کسی اور مقام پر آئے گا ۔ مگر کتاب کا انکار اس کی بہت سی نصوص کو سبوتاژ کرنے کی سعیِ نامشکور اور منہجِ محدثین سے انحراف ہے ۔
    مولانا مرحوم اس کتاب کی صحت نسبت میں خاصے مضطرب رہے۔ اُنھوں نے اس کتاب کا بالصراحت انکار فروری ۲۰۱۳ء میں کیا۔ (ماہ نامہ اشاعۃ الحدیث،شمارہ : ۱۰۲، ص: ۲۸) پھر نومبر ۲۰۱۳ء میں اسی کو دہرایا۔ (تحقیقی مقالات : ۶/۵۸۸۔ سن طبع: ۲۰۱۳ء)
    جولائی ۲۰۰۷ء میں ان پر راویِ کتاب کی جہالت واضح ہو چکی تھی جس کا اظہار اُنھوں نے اپنے موقر جریدے میں کیا ہے۔ (ماہ نامہ الحدیث، شمارہ: ۳۸، ص: ۳۱۔جولائی ۲۰۰۷ء،نیز ملاحظہ ہو مقالات: ۱/۴۰۴،۴۰۵)بنا بریں اُنھوں نے لکھا کہ یہ کتاب امام ترمذی کی طرف منسوب ہے۔ (فتاویٰ علمیہ : ۲/۱۷۷)
    اس کے باوجود اس دورانیے (جولائی ۲۰۰۷ء تا نومبر ۲۰۱۳،تقریباً سوا چھ سال) میں وہ اس کتاب کی بعض اسانید و اقوال کو صحیح کہتے رہے۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے :
    ٭…’’وإسنادہ صحیح۔‘‘ (مقالات : ۱/۲۷۵)
    ٭…’’وسندہ صحیح۔‘‘ (تحقیقی مقالات : ۱/۲۷۶)
    ٭…’’وسندہ صحیح۔‘‘ (مقالات : ۱/۲۸۷)
    حالانکہ آپ ابھی پڑھ آئے ہیں کہ اُنھوں نے اسی کتاب (تحقیقی مقالات ،ص: ۴۰۴،۴۰۵) میں العلل الکبیرکو ترمذی کی طرف منسوب کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کتاب ہی ثابت نہیں، اس میں موجود اقوال کیسے ثابت ہو گئے! خشت ِ اول ہی جب موجود نہیں تو اس پر بنیاد رکھنے کا تصور کیسا ہے!
    عجب تو یہ کہ اُنھوں نے المکتبۃ الشاملۃ سے مطبوع کتاب کے حوالے کے ساتھ ساتھ مخطوط کا حوالہ یوں ذکرکیا:
    ’’ترتیب علل الترمذي: ۱/۸،ورقۃ:۵۔‘‘
    (تحقیقی مقالات : ۳/۲۰۶)
    غیر ثابت شدہ کتاب کے مخطوط کا ذکر ، چہ معنی دارد!
    نیز درج ذیل مقامات پر العلل الکبیر کا حوالہ دینے کے بعد ’’سندہ صحیح‘‘ لکھنے کا کیا جواز!
    ٭…(تحقیقی مقالات : ۳/۲۲۷، ۳۱۰، ۵۶۳)
    ٭…’’وسندہ صحیح۔‘‘ (فتاویٰ علمیہ:۱/۳۲۸۔ سن طباعت: اکتوبر ۲۰۰۹ء)
    ٭…’’وسندہ صحیح۔‘‘ (فتاویٰ علمیہ: ۲/۳۲۳۔ سن طباعت: مارچ ۲۰۱۰ء)
    حالانکہ اسی کتاب کے صفحہ: ۱۷۷ پر اسے امام ترمذی کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں !
    ٭…’’وسندہ صحیح۔‘‘ (نور العینین، ص: ۳۸۱۔ سن طباعت: اکتوبر ۲۰۱۲ء)
    متعدد مقامات پر اُنھوں نے محض کتاب کا حوالہ دینے پر اکتفا کیا ہے جو درج ذیل ہیں :
    تحقیقی مقالات : ۱/۲۶۵، ۲۸۶۔
    تحقیقی مقالات : ۳/۸۵۔
    فتاویٰ علمیہ : ۲/۴۱۷،۴۱۸، قول نمبر : ۴۱۲،۵۱۴۔
    صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ (ضمن صحیح بخاری کا دفاع)،ص: ۳۳۷۔
    نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ،ص: ۱۰۔
    ’’بخاری۔ (سنن الترمذی: ۳۱۹۵، ۲۷۳۱وعلل الترمذی الکبیر: ۱/۵۱۲)۔ ‘‘(أضواء المصابیح : ۱/۶۵)
    یعنی امام بخاری کی ذکر کردہ راوی کی عدالت کو امام ترمذی نے اپنی دو کتابوں میں بیان کیا ہے ۔
    قارئین کرام ! آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ مولانا مرحوم راویِ کتاب کی جہالت واضح ہونے کے بعد بھی خاصے پریشان رہے، حالانکہ ابو حامد التاجر کی جہالت پر وہ ۲۰۰۷ء میں مطلع ہو چکے تھے مگر اس کے باوجود وہ منہجِ محدثین پر چلتے رہے ۔ اور ۲۰۱۳ء میں اہلِ فن کی شاہراہ کو چھوڑ کر شذوذ کی پگڈنڈی پر گامزن ہوگئے! رحمہ اللّٰہ تعالی۔
    مولانا رقم طراز ہیں :
    ’’کتاب سے روایت جائز ہے، الا یہ کہ اصل کتاب میں طعن ثابت ہو تو پھر جائز نہیں ۔ ‘‘(نور العینین، ص: ۴۸۵)
    سوال ہے کہ جب ان کے نزدیک کتاب میں طعن ثابت ہے تو پھر اس کی احادیث کو صحیح قرار دینے کا جواز کہاں سے نکل آیا؟
    پھر یہ بھی دیکھیے کہ راقم الحروف امام بخاری کا قول نقل کرنے یا اس سے استدلال کرنے میں تنہا نہیں بلکہ تیئس (۲۳) علماء اور محدثین کو اپنی تائید میں پیش کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو ہفت روزہ الاعتصام ، لاہور:جلد : ۶۷، شمارہ : ۲۵، ص: ۲۲۔ جون ۲۰۱۵ء)
    ملحوظ رہے کہ شیخ کی اُصولی و منہجی غلطیوں کے علاوہ جزوی اغلاط بھی موجود ہیں بلکہ وہ تناقض کا بھی شکار ہو جاتے ہیں!
     
    Last edited: ‏جنوری 05، 2017
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 05، 2017 #26
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    عجیب تناقض:
    العلل الکبیر میں مذکور امام بخاری کے قول کا مقصد یہ ہے کہ سفیان ثوری تین نام زَد اور دیگر بہت سے شیوخ سے تدلیس نہیں کرتے، یعنی ان سے امام ثوری کی معنعن روایت قابلِ احتجاج ہے۔ وہ تین شیوخ حسب ذیل ہیں :
    (۱)۔ حبیب بن ابی ثابت، (۲)۔ سلمہ بن کہیل،(۳) منصور۔
    مولانا مرحوم امام بخاری کے اس قول کے انطباق میں خاصے متذبذب ہیں، چنانچہ وہ ثوری عن سلمۃ کے بارے میں لکھتے ہیں:
    1…’’وحدیث سفیان الثوري عن سلمۃ صحیح۔‘‘(أنوار الصحیفۃ في الأحادیث الضعیفۃ من السنن الأربعۃ ،ص: ۱۹۶۔ ضعیف سنن الترمذي، حدیث: ۲۴۸۔ نیچے سے اوپر دوسری سطر)
    ’’سفیان ثوری کی سلمہ سے (معنعن ) حدیث صحیح ہے ۔‘‘
    2…’’ امام سفیان ثوری کی سلمہ بن کہیل سے روایت قوی ہوتی ہے ، لہٰذا یہ سند حسن لذاتہ ہے ۔‘‘
    (تحقیقی مقالات :۵/۵۵۴)
    3… ’’یعنی سفیان ثوری ، سلمہ بن کہیل سے تدلیس نہیں کرتے تھے ۔ ‘‘ (فتاویٰ علمیہ : ۱/۳۳۶)
    4… ’’سفیان کی سلمہ بن کہیل سے روایت سماع پر محمول ہوتی ہے۔ (دیکھیے نور العینین ،ص: ۱۲۸ ، طبع قدیم ،ص: ۱۰۳، العلل الکبیر للترمذي: ۲/۹۶۶، التمہید: ۱/۳۴)۔‘‘(نصر الباري في تحقیق جزء القراء ۃ للبخاري،ص: ۲۵۶)
    5… ’’ امام بخاری نے تصریح کی ہے کہ آپ سلمہ بن کہیل سے تدلیس نہیں کرتے تھے ۔ ‘‘ (القول المتین في الجہر بالتأمین،ص:۲۴۔ سن طباعت:جنوری ۲۰۰۴ء)
    ان پانچ حوالوں سے ثابت ہوا سفیان ثوری کی سلمہ بن کہیل سے معنعن روایت مولانا مرحوم کے نزدیک سماع پر محمول ہوتی ہے۔ بنابریں اُنھوں نے ایک حدیث کو حسن لذاتہ بھی کہا ہے۔ مگر یہ دیکھیے کہ أنوار الصحیفۃ کے صفحہ: ۱۹۶ پر تو روایت ’’سألت أبي بن کعب عن النبیذ‘‘ کے بارے میں یوں حکم لگاتے ہیں:
    ’’إسنادہ ضعیف۔ سفیان الثوري عنعن۔‘‘
    (أنوار الصحیفۃ،ص: ۳۶۹، ضعیف سنن النسائي، رقم: ۵۷۵۷)
    اسی کتاب میں دوسرے مقام پر روایت ’’إذا رمي الجمرۃ…إلخ۔‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:
    ’’إسنادہ ضعیف۔ الحسن العرني ثقۃ، أرسل عن ابن عباس فالسند منقطع والثوري عنعن۔‘‘ (أنوار الصحیفۃ،ص: ۳۴۴، ضعیف سنن النسائي،رقم: ۳۰۸۶)
    ’’اس کی سند ضعیف ہے ۔ حسن عرنی ثقہ ہیں اور وہ ابن عباس سے مرسل (منقطع) بیان کرتے ہیں، لہٰذا سند منقطع ہے۔ ثوری بھی معنعن بیان کر رہے ہیں۔‘‘
    گویا اس سند میں دو علتیں ہیں: انقطاع اور ثوری کا عنعنہ۔
    اب سنن نسائی اُٹھائیے اور دیکھیے، محولا بالا دونوں مقامات پر ثوری، سلمہ بن کہیل سے بیان کرتے ہیں۔ مولانا کے اپنے اُصول کے مطابق پہلی روایت صحیح قرار پاتی ہے ، لہٰذا اِس کی بابت ’’ إسنادہ ضعیف‘‘ کہنا تناقض ہے ۔
    دوسری روایت میں بھی ان کے اُصول کے مطابق ایک وجۂ ضعف ہے اور وہ انقطاع ہے۔ یہ بات عام طالبِ علم کو بھی معلوم ہے کہ دو اسبابِ ضعف والی حدیث ایک سبب ِ ضعف والی حدیث سے زیادہ کمزورہوتی ہے، گویا شیخ نے اسے شدید ضعف میں دھکیل دیاہے!
    أنوار الصحیفۃ کے تین مقامات (ص: ۱۹۶، ۳۴۴،۳۶۹) قارئین کے سامنے پیش کیے گئے ہیں، پہلی جگہ مولانا مرحوم ثوری کے عنعنہ کا دفاع کر رہے ہیں اور دوسرے دو مقامات پر تضعیف کر رہے ہیں! مولانا کاکون سا موقف آخر درست ہے ؟
    تناقض کی دوسری مثال:
    مولانا زبیر علی زئی رحمہ اللہ امام بخاری کے قول کے تناظر میں لکھتے ہیں :
    ’’سفیان ثوری درج ذیل شیوخ سے تدلیس نہیں کرتے تھے: حبیب بن ابی ثابت ، سلمہ بن کہیل اور منصور(وغیرہم) ۔ (العلل الکبیر للترمذي:۲/۹۶۶، التمہید لابن عبدالبر:۱/۳۴ شرح علل الترمذي:۲/۷۵۱)۔‘‘
    (نور العینین ، ص: ۱۳۸۔ طبع جدید: اکتوبر ۲۰۱۲ء)
    اس کے برعکس اُنھوں نے تین روایات میں ایک وجۂ ضعف سفیان عن حبیب بن أبي ثابت کو بھی قرار دیا ہے ، چنانچہ لکھتے ہیں :
    1…’’الثوري و حبیب عنعنا۔‘‘ (أنوار الصحیفۃ، ص: ۱۲۶، ضعیف سنن أبي داود، رقم: ۳۵۵۷)
    2…’’ سفیان الثوري و حبیب عنعنا۔‘‘ (أنوار الصحیفۃ،ص: ۱۴۰، ضعیف سنن أبي داود،رقم: ۳۹۱۹)
    3…’’حبیب و تلمیذہ سفیان الثوري مدلسان وعنعنا، و السند منقطع۔ وأشارمسلم في مقدمۃ صحیحہ إلی ضعفہ۔‘‘ (أنوار الصحیفۃ، ص: ۱۶۸، ضعیف سنن أبي داود، رقم: ۴۸۴۲)
    ’’حبیب اور ان کے شاگرد سفیان ثوری دونوں مدلس ہیں اور اُنھوں نے روایت معنعن بیان کی ہے ۔ سند منقطع ہے ۔ امام مسلم نے صحیح مسلم کے مقدمے میں اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ ‘‘
    نور العینین میں ذکر کردہ مولانا مرحوم کے موقف کے مطابق مذکورہ بالا ان تینوں حدیثوں میں ایک سبب ِ ضعف ہے ۔ سوال ہے کہ ان کا نور العینین والا مووقف درست ہے یا أنوار الصحیفۃ والا؟ اور یہ کہ ایسا اندازِ تحقیق کیا تاثر دے رہا ہے، اس کا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں۔
    ممکن ہے کوئی وکیلِ صفائی یہ جواب دے کہ مولانا مرحوم امام بخاری کے قول تو کیا، جس کتاب میں وہ مذکور ہے اسی کا انکار کر چکے ہیں، لہٰذا اب انھیں الزام دینے کا کیا فائدہ، تحقیقات تو بدلتی رہتی ہیں!
    عرض ہے کہ یہ تناقض اس وقت کا ہے جب شیخ العلل الکبیر کو معتبر اور امام بخاری کے قول کو مستند مانتے تھے۔ آپ پڑھ آئے ہیں کہ فروری ۲۰۱۳ء میں اُنھوں نے سب سے پہلے بالصراحت اس کا انکار کیا ۔ اور نور العینین اکتوبر ۲۰۱۲ء میں جب کہ أنوار الصحیفۃ ۱۴۳۳ھ مطابق ۲۰۱۰ء میں شائع ہوئی ۔
     
  7. ‏جنوری 05، 2017 #27
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    امام البانی کی ناقص ترجمانی :
    راقم الحروف کو امام سفیان ثوری کی وہ روایات دیکھنے کا موقع ملا جنھیں شیخِ مکرم نے ثوری کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف قراردیا۔ تو نظروں سے درج ذیل روایت بھی گزری:
    ’’إن اللّٰہ ملائکتہ یصلون علی میامن الصفوف۔‘‘
    ’’اللہ اور اس کے فرشتے صفوں کی داہنی جانب پر درود بھیجتے ہیں ۔‘‘
    مولانا نے اس پر یوں حکم لگایا:
    ’’إسنادہ ضعیف، سفیان الثوري عنعن۔‘‘
    (أنوار الصحیفۃ، ص: ۳۷، ضعیف سنن أبي داود، رقم: ۶۷۶)
    اس کے شروع میں گول دائرہ ’’O‘‘بہ طورِ علامت ذکر کیاہے جس کا مطلب ہے کہ شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور میرے (مولانا زبیر مرحوم) کے نزدیک اس کا ضعف راجح ہے۔ جیسا کہ اُنھوں نے مقدمۂ کتاب میں صراحت کی ہے۔ (أنوار الصحیفۃ،ص: ۹)
    ان کے ذکر کردہ اس رمز سے قارئین کو یہ تصور ملتا ہے کہ ’’علی میامن الصفوف‘‘ کے الفاظ کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ وہ بھی مولانا مرحوم کی طرح ’’الذین یصلون الصفوف‘‘ (جو صفیں درست کرتے ہیں) کے الفاظ کو صحیح کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک ’’میامن‘‘ کے الفاظ غیر محفوظ، خطا، ضعیف اور معاویہ بن ہشام کا تفرد ہیں ۔ (ملاحظہ ہو الصحیحۃ: ۵/۳۷۴، تحت حدیث: ۲۲۳۴، الضعیفۃ: ۱۲/۱/۴۲۸، تحت، حدیث: ۵۶۸۶، صحیح سنن أبي داود: ۳/۲۵۵، حدیث: ۶۸۰، ضعیف أبي داود: ۹/۲۳۲، حدیث: ۱۰۴، مشکاۃ المصابیح: ۱/۳۴۲، حدیث: ۱۰۹۶، ضعیف الجامع الصغیر: ۲/۱۰۶، حدیث: ۱۶۶۸، تمام المنۃ،ص: ۲۸۸، ضعیف ابن ماجہ بإہتمام الشاویش، ص: ۲۰۹، حدیث: ۱۰۰۵، ضعیف سنن أبي داود بإہتمامہ، ص: ۶۳،حدیث: ۶۷۶)
    ملحوظ رہے کہ شیخ زہیر شاویش کے اہتمام سے شائع شدہ ضعیف سنن اربعہ سے شیخ البانی اظہارِ براء ت کر چکے ہیں۔ (ملاحظہ ہو الصحیحۃ: ۷/۱/۴۱،۶۱۷، الضعیفۃ: ۱۳/۱/۶۲)
    تحدیث ِ نعمت کے طور پر یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ مولانا زبیر نور اللہ مرقدہ ہمارے ادارے میں تشریف لائے، ضعیف سنن اربعہ پر گفتگو چھڑ گئی۔ اُنھوں نے فرمایا: میں نے شیخ البانی کی تحقیقات کو سامنے رکھ کر سنن اربعہ پر ان سے اختلافی نوٹ لکھا ہے۔ راقم نے سوال کیا کہ شیخ البانی کی ان کتب کو ملحوظ رکھا ہے جو شیخ زہیر شاویش کی تحقیق و اِشراف سے شائع ہوئی ہیں؟ اُنھوں نے اثبات میں جواب دیا۔ کیوں کہ اس وقت یہی نسخے متداول تھے۔ شیخ ابوعبیدہ مشہور بن حسن آل سلمان کے اہتمام سے شیخ البانی کا کام بہت بعد منظرِعام پر آیا۔ میں نے عرض کیا کہ شیخ البانی شیخ زہیر شاویش کی طباعت سے براء ت کا اعلان کر چکے ہیں۔ پوچھنے لگے: وہ کیسے ؟ تو راقم الحروف نے الصحیحۃاور الضعیفۃ کے متذکرہ بالا حوالے نکال کر دکھائے تو وہ استعجاب میں ڈوب گئے۔
    یہاں بھی شیخ ِ مکرم کو صراحت کرنی چاہیے تھی کہ شیخ البانی نے ’’علی میامن الصفوف‘‘کے الفاظ کو قطعاً صحیح نہیں کہا۔
     
  8. ‏جنوری 05، 2017 #28
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    صحت ِ نسبت کے لیے محض سند کسوٹی نہیں:
    مولانا ندیم ظہیر رقم طراز ہیں:
    ’’جب بھی علماء نے کسی کتاب کو غیر ثابت قرار دیا، ہمیشہ سندہی کی بنیاد پر دیا ہے۔ یہ کون سا اُصول ہے کہ جب کتاب کو غیر ثابت کہنا مقصود ہو تو سند پر بحث کر دی جائے اورجب اسے قبول کرنا ہو تو سند کو درخورِ اعتنا ہی نہ سمجھا جائے۔‘‘ (ماہ نامہ اشاعۃ الحدیث: شمارہ: ۱۲۹۔ ۱۳۲، ص: ۱۳۲۔ مئی تا اگست ۲۰۱۵ء)
    بلاشبہ نسبت ِ کتاب کے لیے صحت ِ سند ضروری ہے۔ اگر سند مفقود ہو یا اس میں کوئی راوی ضعیف ہو تو پھر تعاملِ محدثین کو ملحوظ رکھاجائے گا۔ اگر محدثین اسے قبول کریں اور خارجی قرائن سے اس کی تردید نہ ہو تو ایسی کتاب قابلِ اعتبار ہوگی۔ گویا کتاب پر کھنے کی یہ دوسری کسوٹی ہے۔ جس کتاب کی سند صحیح ہو اور محدثین بھی اس سے نقل کریں بلکہ علمائے کرام کے مسموعات بھی اس پر موجود ہوں تو وہ یقینا صحت کے اعتبار سے اعلیٰ ترین درجے میں ہوگی۔ اگر سند ضعیف ہو تو اس کا رتبہ نسبتاً کم ہو جائے گا۔ یہ نہیں کہ وہ کتاب ہی درجۂ صحت سے نکل کر غیر معتبر کے دائرے میں آجائے گی، جیسا کہ موصوف باور کرار ہے ہیں۔
    باقی رہا ان کا یہ کہنا کہ ’’یہ کون سا اُصول ہے کہ جب کتاب کو …الخ‘‘ تو اس حوالے سے چند سوالات کھٹک رہے ہیں:
    (۱)مولانا زبیر نے عدمِ سند کے باوجود غنیۃ الطالبین کو شیخ عبدالقادر جیلانی کی تصنیف کیوں قرار دیا ؟
    جو ’’اُصول‘‘ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں، اس کی خلاف ورزی آپ کے شیخ و استاد نے کیوں کی ہے ؟
    (۲) الضعفاء الصغیر للبخاري کی تحقیق مولانا مرحوم نے ’’تحفۃ الاقویاء‘‘ کے نام سے کی ہے۔ اس کتاب کے ایک راوی کا ترجمہ انھیں نہیں ملا۔ اس کے باوجود اُنھوں نے اسے امام بخاری کی طرف کیوں منسوب کیا ؟ضعیف کتاب کی تحقیق کیوں کی ؟
    (۳) جزء الحمیري حدیث کا چھوٹا سا جز ہے، اس کی تحقیق بھی شیخ کے قلم سے منصہ شہود پر آچکی ہے۔ اس کے ناسخ کا ثقہ وصدوق ہونا وہ بھی ثابت نہ کر سکے بلکہ اس کے بدعتی، رافضی اور معتزلی ہونے کو تسلیم کرنے کے باوجود اس جزء کو امام حمیری کی طرف کیوں منسوب کیا؟
    (۴) اُصولِ دین از ابن ابی حاتم ترجمہ و تحقیق کے ساتھ مولانا مرحوم نے پیش کی۔ اس کے ایک راوی کی عدمِ توثیق کے باوجود اس رسالے کو امام ابن ابی حاتم کی طرف کیوں منسوب کیا؟(یہ عربی رسالہ ’’ أصل السنۃ و اعتقاد الدین‘‘ کے نام سے علامہ الشیخ عُزیر شمس حفظہ اللہ نے روائع التراث کے مجموعے میں شاملِ اشاعت کیاہے)
    جواب واضح ہے کہ انھیں قبول کرنا مقصود تھا، تبھی سند کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا اور جب رد کرنے کی نوبت آئی تو العلل الکبیر میں راوی کی جہالت ڈھونڈھ لی۔ تلک إذا قسمۃ ضیزی!
    نیز مولانا مرحوم نے جن جن کتابوں سے استفادہ کیا ہے، اُنھوں نے ان سب کی اسانید کا جائزہ لیا ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو تاریخ الغرباء لابن یونس المصري، الأدب المفرد للبخاري، السنۃ لعبداللّٰہ بن الإمام أحمد، علل الدارقطني، سؤالات أبي داود للإمام أحمد بن حنبل، الرسالۃ إلی أہل مکۃ لأبي داود السجستاني، الإقناع لابن المنذر کی استنادی حیثیت ان پر کیوں مخفی رہ گئی ؟
    اگر جواب نفی میں ہو تو اس کا مطلب ہے کہ مولانا مرحوم محدثین کے ہاں قابلِ اعتبار کتب کو قابلِ قبول سمجھتے تھے، اگرچہ ان کی اسانید میں کمزوری ہو یا سرے سے موجود نہ ہو ں۔
    شیخِ مکرم کی خدمات کا یہ ناچیز قدردان ہے۔ سنن اربعہ کی تحقیق ان کا عظیم شاہکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ سنن ابی داود، جامع ترمذی، سنن نسائی اور سنن ان ماجہ کی تحقیق میں جو نسخے ان کے پیش ِ نظر تھے، کیا وہ ناسخین سے لے کر مصنفین تک بہ سند ِ صحیح تھے ؟ یا ان پر سند ہی موجود نہیں تھی؟ مولانا عموماً دارالسلام (الریاض) کے مطبوعہ نسخوں کے حوالے دیتے تھے۔ جنھیں اربابِ ادارہ نے متداول نسخوں کو بنیاد بنا کر شائع کیا ہے، چنانچہ آپ ان کتب کے شروع میں ’’کلمۃ الناشر‘‘ کے عنوان کے تحت دیکھ سکتے ہیں۔ صحتِ سند اور متصل سندِ کتاب کا قانون کہاں گیا؟ یا ان کتب کی شہرت ہی تقاضۂ سند سے کفایت کرتی ہے؟
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 05، 2017 #29
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    العلل الکبیر کا مسندِزید سے تقابل!
    ندیم صاحب لکھتے ہیں:
    ’’مولانا ارشاد الحق اثری مسند امام زید کی سند پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت زید سے اس سند کا راوی تنہا عمرو بن خالد الواسطی ہے اور وہی محدثین کرام کے نزدیک بالاتفاق کذاب اور وضاع ہے۔ کوئی قابلِ اعتبار قول اس کی توثیق میں منقول نہیں۔ (مقالات، جلد دوم، ص: ۷۵)۔‘‘
    (ماہ نامہ اشاعۃ الحدیث، شمارہ: ۱۲۹ -۱۳۲، ص: ۱۳۲،۱۳۳)
    ندیم صاحب نے یہاں اپنا روایتی ہتھیار استعمال کیا اور تاثر یہ دیا ہے کہ مولانا اثری نے محض سند کو بنیاد بنا کر مسندِ زید کو غلط منسوب قرار دیاہے۔ حالانکہ یہ دعویٰ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔
    مولانا زبیر مرحوم نے بھی زیادۃ الثقہ کے مسئلے میں راقم الحروف کے خلاف یہ دلیل پیش کی کہ ’’اثری صاحب کے نزدیک قولِ راجح میں متنِ حدیث میں ثقہ راوی کی زیادت مقبول ہے ‘‘ جس کی قلعی بحمد اللہ ہم نے کھول دی۔ (ملاحظہ ہو مقالات اثریہ ،ص: ۴۶۵) یہاں بھی اسی روایت کا تسلسل ہے اورباور کرایا جا رہا ہے کہ مولانا اثری نے کتاب کو پرکھنے کے لیے صرف سند کو کسوٹی قرار دیا ہے۔ اس کی حقیقت بھی ملاحظہ کر لیجیے:
    مولانا اثری کا سند کے ساتھ دیگر قرائن کا اعتبار کرنا:
    ندیم صاحب نے سند سے متعلق مولانا ارشاد الحق اثری کا تبصرہ ذکر کر دیا اور دیگر قرائن جو اُنھوں نے ذکر کیے ہیں انھیں نظر انداز کردیا، حالانکہ مولانا اثری لکھتے ہیں:
    ’’مسند امام زید، جس کا نام المجموع العلمي اور ’’المجموع الکبیر في الفقہ‘‘ بھی کہا گیا ہے، کا انتساب امام زیدکی طرف محلِ نظر ہے۔ استاد محمد عجاج الخطیب اپنی معرکہ آراء کتاب السنۃ قبل التدوین میں لکھتے ہیں: ’’ ہمارے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس المجموع کو اسی جمع وترتیب کے ساتھ قطعی طور پر امام زید کی تصنیف قرار دیں۔ ‘‘
    (۲) اسی طرح ماضی قریب کے نام وَر مصری محدث استاد احمد محمد شاکر نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ مسندِ زید یا المجموع الفقہي نامی کتاب مجموعۂ اکاذیب ہے۔ ہمارے بعض ازہری شیوخ کی تقریظات و توقیعات کی اس کے بارے میں کوئی حیثیت نہیں۔ صحیح و ضعیف کو وہ جانتے ہی نہیں۔(ملاحظہ ہو التعلیق علی المحلی: ۲/۷۵ )
    (۳) اس کتاب کی بعض روایات ایسی ہیں جنھیں امامیہ اپنے امام باقر سے بہ واسطہ عن أبیہ عن جدہ حضرت علی سے اس کے برعکس نقل کرتے ہیں، چنانچہ شیخ احمد امین مصری لکھتے ہیں:
    ’’بعض ماروي في ہذا الکتاب عن زید عن أبیہ عن جدہ عن علي یخالف ما یرویہ الإمامیۃ عن الإمام الباقر عن أبیہ عن جدہ عن علي۔‘‘ (ضحی الإسلام :۲/۲۷۶)
    بنا بریں خود زیدیہ اور امامیہ کے مابین اس کی بعض روایات کے بارے میں اختلاف ہے۔ زیدیہ اپنے امام کی مرویات کو ترجیح دیتے ہیں اور امامیہ اپنے امام کی مرویات کو۔
    (۴) حضرت زید سے اس سند کا راوی تنہا عمرو بن خالد الواسطی ہے اور وہی محدثین کرام کے نزدیک بالاتفاق کذاب اور وضاع ہے۔ کوئی قابل ِاعتبار قول اس کی توثیق میں منقول نہیں …
    (۵) خالد کے علاوہ عبدالعزیز بن اسحاق بن بقال، جسے اس کتاب کا جامع قرار دیا گیا ہے، وہ غالی شیعہ اور ضعیف ہے …اس کے خبثِ باطن کا نتیجہ ہے کہ اس نے کوئی روایت حضرت علی کے علاوہ کسی اور صحابی سے نقل نہیں کی…
    خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس مسند کا مرکزی راوی کذاب، وضاع اور حضرت زید سے عن أبیہ عن جدہ کے واسطے سے جھوٹی روایتیں گھڑنے والا ہے۔
    (۲) اس کا جامع بھی ضعیف اور شیعہ۔
    (۳) اس کی روایات شیعہ فکر کی آئینہ دار ہیں۔
    (۴) دیگر روایات سے بھی اس کا بطلان ثابت ہے۔
    (۵) اور اہل علم نے اسے غیر مستند قرار دیا ہے۔ ‘‘
    (مقالات از مولانا ارشاد الحق اثری:۲/۷۴،۷۵،۷۷)
    یعنی اُنھوں نے اس مسند کے غیر معتبر ہونے کے پانچ دلائل ذکر کیے ہیں۔ محض سند کی وجہ سے اسے غیر معتبر قرار نہیں دیا۔ جیسا کہ ہمارے مہربان ایسا باورکرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    سوال ہے کہ
    (۱) العلل الکبیر کو کس نے گھڑ کر امام ترمذی کی طرف منسوب کیا؟
    (۲) اس کا کون سا راوی شیعہ ہے؟ نیز جزء الحمیري کے ناسخ کے بدعتی، رافضی اور معتزلی ہونے کے باوجود وہ کتاب امام الحمیری کی طرف کیسے منسوب کی جا سکتی ہے ؟
    (۳) کیا دیگر روایات سے العلل الکبیر کا بطلان ثابت ہو سکتاہے؟
    (۴)کون سے اہلِ علم ہیں جنھوں نے العلل الکبیر کا انکار کیا ہے؟ آخر وہ کیوں خاموش رہے ؟
    (۵) مخطوط پر’’علل الترمذی الکبیر ‘‘ کا مرقوم ہونا غلط ہے؟
    مسندِ زید کا انکار تنہا مولانا اثری نے نہیں کیا بلکہ دیگر علماء نے بھی اسے غلط قرار دیا ہے، مثلاً:
    (۱)حافظ ابن حزم ۔ (المحلی: ۲/۷۵)
    (۲) محدث ِ مصر شیخ احمد شاکر ۔(التعلیق علی المحلی: ۲/۷۵، مقدمۃ مفتاح کنوز السنۃ ،ص: غ)
    (۳) شیخ ابو عبیدہ مشہور بن حسن آل سلمان۔ (کتب حذر منھا العلماء: ۲/۲۷۲- ۲۷۴)
    کیا موصوف العلل الکبیر کا انکار کرنے والے بھی دکھا سکتے ہیں؟
    اس لیے العلل الکبیر کو مسندِ زید پر قیاس کرتے ہوئے غلط منسوب قرار دینا درست نہیں۔
     
  10. ‏جنوری 05، 2017 #30
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مسند الربیع کی کہانی شیخ زبیر کی زبانی:
    مولانا ندیم لکھتے ہیں:
    ’’مسند الربیع بن حبیب بہ سند صحیح ثابت نہ ہونے کی بنا پر متروک قرار پائی ہے۔ ‘‘ (ماہ نامہ اشاعۃ الحدیث، شمارہ: ۱۲۹-۱۳۲، ص: ۱۳۳۔ مئی تا اگست ۲۰۱۵ء )
    اس مسند میں اور کیا کیا قباحتیں ہیں، مولانا زبیر مرحوم کے رشحات ِ قلم ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں کہ العلل الکبیر میں اور اس مسند میں کتنا فرق ہے، چنانچہ موصوف رقم طراز ہیں:
    ’’مسند الربیع بن حبیب نامی کتاب ہر گز ثابت نہیں:
    الجامع الصحیح مسند الإمام الربیع بن حبیب کے نام سے خارجیوں (اباضیوں) کی کتاب ہر گز ثابت نہیں، لہٰذا اس کی کسی ایک روایت سے بھی استدلال مردود ہے۔
    (۱)اس کا بنیادی راوی ربیع بن حبیب بن عمر الأزدي البصري مجہول ہے۔ (دیکھیے: کتب حذرمنہا العلماء لأبي عبیدۃ مشہور بن حسن: ۲/۲۹۵)
    (۲) ربیع بن حبیب سے نیچے والی سند کا راوی ابو یعقوب یوسف بن ابراہیم بن صیاد الاباضی، یعنی خارجی (گمراہ؛ ضال مضل) اور مجہول العدالت ہے۔
    (۳) یوسف بن ابراہیم سے ربیع بن حبیب تک سند نامعلوم ہے۔
    (۴) یوسف بن ابراہیم تک سند بھی نامعلوم ہے۔
    (۵) ربیع بن حبیب کا مذکور استاد ابو عبیدہ مسلم بن ابی کریمہ التمیمي بھی مجہول ہے۔
    (۶) خیر القرون اور زمانۂ تدوینِ حدیث کے ثقہ محدثین میں سے کسی نے بھی اس کتاب، یعنی مسند الربیع بن حبیب کا کوئی تذکرہ نہیںکیا۔
    (۷) اس کتاب میں بشر بن غیاث المریسی وغیرہ کذاب اور دجال راویوں سے بھی روایات موجود ہیں، لہٰذا اِس مجہول کتاب کو ’’الجامع الصحیح‘‘ قرار دینا بہت بڑا جھوٹ ہے۔
    (۸) اس جعلی مسند میں موزوں پر مسح کرنے کے خلاف اور اسی طرح کی دوسری جھوٹی روایات بھی موجود ہیں۔
    (۹) اس جعلی مسند میں فاتحہ خلف الامام کی وہ روایت بھی موجود ہے جس میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدیوں سے فرمایا: سورۂ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھو کیوں کہ سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ جو لوگ اس کتاب کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اسے بھی تسلیم کریں!
    (۱۰) اس مسند کی کئی روایات صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہما کی صحیح احادیث کے خلاف ہیں ۔‘‘ (ماہ نامہ اشاعۃ الحدیث، شمارہ: ۱۰۶، آخری اندرونی صفحہ: ۴۹۔ جون ۲۰۱۳ء )
    مزید لکھتے ہیں:
    ’’ بعض لوگ شیعوں کی کتاب ’’مسندِ زید ‘‘ اور خارجیوں کی کتاب ’’مسند الربیع بن حبیب‘‘ کے حوالے پیش کرتے ہیں حالانکہ یہ دونوں غیر ثابت اور باطل کتابیں ہیں۔ ‘‘
    (نور العینین، ص: ۴۰۹)
    مسند الربیع پر شیخ البانی کا نقد:
    محدث البانی نے بھی مسند الربیع بن حبیب کی خوب خبر لی ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
    1… ’’ اسے ربیع بن حبیب ازدی بصری نامی شخص نے اپنی طرف منسوب کتاب، جو ’’الجامع الصحیح‘‘ کے نام کے تحت اباضیہ کی کتب میں موجود ہے، میں ذکر کیا ہے … موصوف ربیع اجنبی شخص تھا۔ سیرت نگاری پر مشتمل ہمارے علماء کی کتب میں اس راوی کا کوئی اتا پتا موجود نہیں، چنانچہ حتی کہ اباضیہ بھی اس کے معمولی حالات ہمارے سامنے پیش نہیں کر سکے، سوائے اس کے کہ اُنھوں نے خاصے تکلف سے اس کے اساتذہ اور تلامذہ کا ذکر کیا ہے۔ جس کی بنیاد ان کے اپنے مخصوص اور ربیع موصوف کے زمانے سے نہایت متاخر مصادر پر ہے۔ اُنھوں نے اس کے حالات ِ زندگی کے لیے معروف کتبِ تراجم اور مشہور کتبِ تاریخ میں سے کسی کتاب کا ذکرنہیں کیا۔ ‘‘
    (الضعیفۃ: ۱۲/۲/۹۲۱اور دیکھیے: ۱۳/۲/۷۲۸، ۷۲۹)
    2… ’’اس کا نام المسند تھا۔ اُنھوں نے اپنی طرف سے الصحیح کا اضافہ کر دیا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں اور تاکہ وہ اباضیوں کو اہل سنت کی کتاب المسند الصحیح للبخاري (صحیح بخاری)کی طرح کتاب دے سکیں۔ ان دونوں (مسند الربیع اور صحیح بخاری کے مقام) میں بہت زیادہ بُعد ہے … الخ ۔‘‘(الضعیفۃ: ۱۲/۲/۹۲۶)
    3…ازاں بعد ابو بکر ہذلی، بشر المریسی، حسن بن دینار عن خصیب بن جحدر اور کلبی جیسے معروف ترین جھوٹوں کی روایات کی نشان دہی کی۔ ضعفاء اور مجاہیل کی روایات اس پر مستزاد ہیں۔ (ملاحظہ ہو الضعیفۃ: ۱۲/۲/۹۲۶،۹۲۷)
    4… ’’اُنھوں (اباضیوں) نے اسے مسند الربیع بن حبیب میں ذکر کیا ہے جس کا نام اُنھوں نے المسند الصحیح رکھا ہے۔ اس کا صحیح حدیث سے کوئی تعلق نہیں، سوائے اس کے جو اہلِ سنت کی کتاوں سے چرایا گیا ہے۔ ‘‘
    (الضعیفۃ: ۱۲/۲/۹۳۱)
    5…’’مسند الربیع بن حبیب، جسے اباضیہ الجامع الصحیح سے موسوم کرتے ہیں، وہ منکر اور باطل احادیث سے بھری پڑی ہے جنھیں بیان کرنے میں یہ مسند تنہا ہے۔ دسیوں، سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں (احادیث پر مشتمل ) کتب ِ حدیثیہ جو مطبوع اور مخطوط ہیں، میں بھی اس کی متابعت موجود نہیں۔ جن کے مولفین عدالت، ثقاہت اور حافظے میں مشہور ہیں۔ برعکس اس ربیع کے۔ اباضیہ کی چند کتب، جو اس کی وفات کے مدتوں بعد لکھی گئیں، میں اس کا کچھ تذکرہ موجود ہے۔ اس کے باوجود ان کتب میں موجود اس کے ترجمے میں مشہور محدثین، جو اس کے ہم عصر ہوں یا قریب زمانہ سے تعلق رکھنے والے ہوں، سے اس کے بارے میں کچھ منقول نہیں۔ ‘‘ (الضعیفۃ: ۱۳/۱/۱۰۵،۱۰۶)
    6… ’’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس نے اسے مسند الربیع میں داخل کیا ہے، اس نے بعض سندوں سے اس حدیث کے متن کو چرایا ہے، پھر اسے جابر بن زید (تابعی) کی طرف منسوب کیا ہے اور وہ اس سے اسی طرح بری الذمہ ہیں جس طرح بھیڑیا ابن یعقوب (حضرت یوسف علیہ السلام ) کے خون سے بری ہے۔ ‘‘ (الضعیفۃ: ۱۳/۱/۶۵۹)
    7… ’’جعلی حدیث ہے۔ اس پر بناوٹی، پھسپھسے پن اور علمِ کلام کے آثار بالکل واضح ہیں۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اسے کسی بھی اہلِ سنت محدث نے روایت نہیں کیا۔ اسے بیان کرنے میں مسند الربیع بن حبیب منفرد ہے۔ جس کا مولف ثقاہت اور ضبط کے اعتبار سے معروف نہیں، حتی کہ اس کے متعبین اباضیہ کے ہاں بھی وہ معروف نہیں۔ ‘‘(الضعیفۃ: ۱۳/۲/۷۲۸،۷۲۹)
    علامہ البانی نے اس کی متعدد روایات کو موضوع اور باطل قرار دیاہے۔ (ملاحظہ ہو الضعیفۃ، احادیث: ۵۹۶۲، ۵۹۶۳، ۵۹۶۴)
    ملحوظ رہے کہ علامہ البانی العلل الکبیر کو امام ترمذی کی کتاب سمجھتے تھے۔ جس کے متعدد حوالے ہم گزشتہ مضمون (مطبوعہ ہفت روزہ الاعتصام، لاہور:جلد:۶۷، شمارہ: ۲۵۔۲۰۱۵ء) میں ذکر کر چکے ہیں۔
    شیخ ابو عبیدہ مشہوربن حسن آل سلمان لکھتے ہیں:
    ’’اس کا مولف اجنبی، مجہول اور غیر مشہور ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ مسند غلط منسوب ہوئی ہے۔ اس کا مولف مجہول ہے۔‘‘
    (کتب حذر منہا العلماء: ۲/۲۹۵،۲۹۷)
    اس لیے اس مسند کا تقابل العلل الکبیر سے کرنا غلط ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں