1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سند ِ کتاب اور منہجِ محدثین

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏جنوری 03، 2017۔

  1. ‏جنوری 05، 2017 #41
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    خلاصہ:
    ہماری سابقہ بحث کا لبِ لباب یہ ہے کہ جس کتاب کا مولف خود ثقہ یا کم از کم قابل اعتماد ہو، اس کتاب کی سند صحیح یا حسن ہو، محدثین کے ہاں وہ معتبر ہو، مخطوط کی صحت سے متعلق دیگر شرائط کا لحاظ رکھا گیا ہو، کسی خارجی قرینے سے اس کی صحت مشکوک نہ ہو تو یہ اعلیٰ ترین درجے کی صحیح کتاب ہو گی، یعنی نسبت کے لحاظ سے سو فیصد صحیح کتاب ہو گی۔
    اور جس کتاب کی سند موجود ہو یا اس میں کوئی راوی ضعیف ہو، اس کے باوجود محدثین کے ہاں معتبر ہو، وہ اس کتاب کی نسبت پر جرح نہ کرتے ہوں، اس سے استدلال کرتے ہوں، کسی خارجی قرینے سے اس کا غلط ہونا بھی ثابت نہ ہو، اس میں کسی چیز کے زبردستی داخل کیے جانے کی دلیل بھی نہ ہو تو ایسی کتاب یا نسخہ قابلِ قبول ہو گا۔ اس میں جس قدر ضعف ہو گا، اسی تناسب سے اس کی صحت اور ثقاہت میں کمی واقع ہوتی جائے گی۔
     
  2. ‏جنوری 05، 2017 #42
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    اس پوری تحریر میں مقالہ نگار نے متعدد مقامات پر یہ لکھاہے کہ جس کتاب کو محدثین صحیح تسلیم کریں، کتاب کی صحت کیلئے محدثین خاص نہیں ہیں، اہل علم کے درمیان وہ کتاب مشہور ہونی چاہئے، بطورخاص جس فن کی کتاب ہے اس فن کے ماہرین کےد رمیان وہ کتاب مقبول ہو۔
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 23، 2018 #43
    ذاکر ملک

    ذاکر ملک رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2014
    پیغامات:
    19
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    54


    بھائی آج کل اکثر لوگ ایک سوال کرتے ہیں کے جب کتب حدیث موجود نہیں تھیں تو لوگ اس وقت حدیث پر عمل کیسے کرتے تھے ۔۔۔۔۔ اکثر بریلوی اور دیوبندی حضرات چیہ سوال کرتے ہیں ۔۔۔ برائے مہربانی اس کا جواب دیں اگر اس کی تصدیق قرآن و حدیث سے ہو جاے تو الحمدوللہ اکثر منکروں کی زبان کو تالہ لگا جائے گا ان شاءاللہ
     
  4. ‏اپریل 25، 2018 #44
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    قرآن کریم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نازل ہوتا تھا، لیکن ایک ’ کتاب‘ یعنی ’ مصحف‘ کی شکل میں نہیں تھا، لوگ براہ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کرلیتے ، یا اسے اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرلیتے۔
    بعد میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مکمل قرآن کریم ایک ’ کتاب‘ کی شکل میں تیار کروا دیا۔
    حضرت عثمان بن عفان کے عہد سے پہلے بھی قرآن کریم پر عمل ہوتا تھا، اور بعد میں بھی۔ کوئی معترض یہ نہیں کہے گا کہ قرآن تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے بعد جمع ہواہے، پہلے لوگ کس پر عمل کرتے تھے؟
    کیونکہ قرآن کریم بہر صورت سینوں میں محفوظ اور اجزاء و صحائف اور قطعات کی شکل میں موجود تھا۔
    اسی طرح احادیث بھی باقاعدہ کتابوں کی شکل میں مدون و مرتب ہونے سے پہلے موجود تھیں، لوگوں کو زبانی یاد تھیں، یا انہوں نے اپنے طور پر الگ الگ لکھی ہوئی تھیں۔
    اعتراض کرنے والے کتب احادیث پڑھ کر تو دیکھیں، مثال کے طور پر بخاری شریف دیکھ لیں، امام صاحب نے جتنی بھی احادیث اس میں نقل کی ہیں، سب کے شروع یا آخر میں یہ وضاحت درج ہے کہ یہ احادیث انہوں نے کہاں سے لی ہیں، پورا سلسلہ سند موجود ہے، جو حدیث کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثبوت کی واضح دلیل ہے۔
     
  5. ‏اپریل 25، 2018 #45
    ذاکر ملک

    ذاکر ملک رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2014
    پیغامات:
    19
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    بہت شکریا بھائی ۔۔۔۔۔ جزاک اللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں