- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
26- بَاب لا يَجْنِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ
۲۶- باب: دوسرے کے جرم اور گناہ میں کسی اور کے نہ پکڑا جائے گا ۱؎
وضاحت۱؎: مجرم خود اپنے جرائم کا ذمہ دار ہو گا، اس کے جرم کا دوسرے سے مواخذہ نہ ہو گا، یہی شرع کا حکم ہے اور یہی عدالت کا قانون ہے، یعنی یہ نہ ہو گا کہ باپ کے جرم میں بیٹا پکڑا جائے یا بیٹے کے جرم میں باپ جیسے ظالم لوگ کیا کرتے ہیں، زمانہء جاہلیت کے عربوں میں یہ دستور تھا کہ جب ایک شخص نے کسی کو مار ڈالا تو مقتول کے قبیلے والے اس کے بدلے میں قاتل کے قبیلے میں سے ایک شخص کو مار ڈالتے خواہ وہ قاتل ہو یا نہ ہو، یہ کھلی بے انصافی اور ظلم ہے۔۲۶- باب: دوسرے کے جرم اور گناہ میں کسی اور کے نہ پکڑا جائے گا ۱؎
2669- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ،عَنْ أَبِيهِ ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " أَلا لا يَجْنِي جَانٍ إِلا عَلَى نَفْسِهِ ۱؎ ، لا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ، وَلا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۹۴)، وقد أخرجہ: ت/الفتن ۲ (۲۱۵۹) (صحیح)
۲۶۶۹- عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، (یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ''۔
وضاحت۱؎: اس حدیث کی شرح میں ابن الأثیر فرماتے ہیں: جنایہ: گناہ اور جرم انسان کے اس کا م کا نام ہے جس پر دنیا یا آخرت میں وہ عذاب یا قصاص کا مستحق ہوتا ہے، یعنی کسی رشتہ دار یا دوسرے آدمی کو غیر کے گناہ اور جرم پر نہیں پکڑا جائے گا، تو جب کوئی جرم کرے گا تو اس پر دوسرے کو سزا نہ دی جائے گی، جیسا کہ ارشاد ہے: {لاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [سورة الأنعام: ۱۶۴] (کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا) یعنی اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا پورا اہتمام فرمائے گا، اور جس نے اچھا یا برا جو کچھ کیا ہوگا، اس کے مطابق جزا و سزا دے گا، نیکی کا اچھا بدلہ اور برے کاموں پر سزا دے گا، اور ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالے گا۔
2670- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ؛ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، يَقُولُ: " أَلا لا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ، أَلا لا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۹۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۱)، وقد أخرجہ: ن/القسامۃ ۳۵ (۴۸۳۷) (صحیح)
۲۶۷۰- طارق محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ ﷺ فرما رہے تھے خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی، خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی''۔
2671- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ، عَنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ؛ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَمَعِيَ ابْنِي، فَقَالَ: " لا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلا يَجْنِي عَلَيْكَ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۳۴، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۴۵،۵/۸۱) (صحیح)
۲۶۷۱- خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تیری اس کے جرم پر اور اس کی تیرے جرم پر گرفت نہیں ہو گی''۔
2672- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأ شراف: ۱۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۳) (حسن صحیح)
۲۶۷۲- اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کوئی شخص کسی دوسرے شخْص کے جرم کا ذمہ دار نہ ہو گا''۔