• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب لا يَجْنِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ
۲۶- باب: دوسرے کے جرم اور گناہ میں کسی اور کے نہ پکڑا جائے گا ۱؎
وضاحت۱؎: مجرم خود اپنے جرائم کا ذمہ دار ہو گا، اس کے جرم کا دوسرے سے مواخذہ نہ ہو گا، یہی شرع کا حکم ہے اور یہی عدالت کا قانون ہے، یعنی یہ نہ ہو گا کہ باپ کے جرم میں بیٹا پکڑا جائے یا بیٹے کے جرم میں باپ جیسے ظالم لوگ کیا کرتے ہیں، زمانہء جاہلیت کے عربوں میں یہ دستور تھا کہ جب ایک شخص نے کسی کو مار ڈالا تو مقتول کے قبیلے والے اس کے بدلے میں قاتل کے قبیلے میں سے ایک شخص کو مار ڈالتے خواہ وہ قاتل ہو یا نہ ہو، یہ کھلی بے انصافی اور ظلم ہے۔

2669- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ،عَنْ أَبِيهِ ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " أَلا لا يَجْنِي جَانٍ إِلا عَلَى نَفْسِهِ ۱؎ ، لا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ، وَلا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۹۴)، وقد أخرجہ: ت/الفتن ۲ (۲۱۵۹) (صحیح)

۲۶۶۹- عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، (یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ''۔
وضاحت۱؎: اس حدیث کی شرح میں ابن الأثیر فرماتے ہیں: جنایہ: گناہ اور جرم انسان کے اس کا م کا نام ہے جس پر دنیا یا آخرت میں وہ عذاب یا قصاص کا مستحق ہوتا ہے، یعنی کسی رشتہ دار یا دوسرے آدمی کو غیر کے گناہ اور جرم پر نہیں پکڑا جائے گا، تو جب کوئی جرم کرے گا تو اس پر دوسرے کو سزا نہ دی جائے گی، جیسا کہ ارشاد ہے: {لاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [سورة الأنعام: ۱۶۴] (کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا) یعنی اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا پورا اہتمام فرمائے گا، اور جس نے اچھا یا برا جو کچھ کیا ہوگا، اس کے مطابق جزا و سزا دے گا، نیکی کا اچھا بدلہ اور برے کاموں پر سزا دے گا، اور ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالے گا۔

2670- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ؛ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، يَقُولُ: " أَلا لا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ، أَلا لا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۹۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۱)، وقد أخرجہ: ن/القسامۃ ۳۵ (۴۸۳۷) (صحیح)

۲۶۷۰- طارق محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ ﷺ فرما رہے تھے خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی، خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی''۔

2671- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ، عَنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ؛ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَمَعِيَ ابْنِي، فَقَالَ: " لا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلا يَجْنِي عَلَيْكَ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۳۴، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۴۵،۵/۸۱) (صحیح)

۲۶۷۱- خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تیری اس کے جرم پر اور اس کی تیرے جرم پر گرفت نہیں ہو گی''۔

2672- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأ شراف: ۱۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۳) (حسن صحیح)

۲۶۷۲- اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کوئی شخص کسی دوسرے شخْص کے جرم کا ذمہ دار نہ ہو گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب الْجُبَارِ
۲۷- باب: جن چیزوں میں نہ دیت ہے نہ قصاص ان کا بیان​

2673- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ "۔
* تخريج : خ/الزکاۃ ۶۶ (۱۴۹۹)، المساقاۃ ۳ (۲۳۵۵)، الدیات ۲۸ (۶۹۱۲)، ۲۹ (۶۹۱۳)، م/الحدود ۱۱ (۱۷۱۰)، د/الخراج ۴۰ (۳۰۸۵)، ت/الأحکام ۳۷ (۱۳۷۷)، ن/الزکاۃ ۲۸ (۲۴۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۴۷۱۳۱۲۸)، وقد أخرجہ: ط/العقول ۱۸ (۱۲)، حم (۲/۲۲۸، ۹ ۲۲، ۲۵۴، ۲۷۴، ۲۸۵، ۳۱۹، ۳۸۲، ۳۸۶، ۴۰۶ ،۴۱۱، ۴۱۴، ۴۵۴، ۴۵۶، ۴۶۷، ۴۷۵، ۴۸۲، ۴۹۲، ۴۹۵، ۴۹۹، ۵۰۱، ۵۰۷)، دي/الزکاۃ ۳۰ (۱۷۱۰) (صحیح)

۲۶۷۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''بے زبان (جانور) کا زخم بے قیمت اور بے کار ہے، کان اور کنویں میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بے کار ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی جانور، کان اور کنواں کے مالک سے دیت نہیں لی جائے گی، یہ جب ہے کہ کوئی اپنی زمین میں کنواں کھودے یا مباح زمین میں راستہ میں کنواں کھودے اور کوئی اس میں گر پڑے یا دوسرے کی زمین میں کھودے تو کھودنے والا پکڑا جائے گا۔

2674- حَدَّثَنَا أَبو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأ شراف: ۱۰۷۸۱، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۴) (صحیح)
(کثیر بن عبد اللہ ضعیف راوی ہے، لیکن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
۲۶۷۴- عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''بے زبان (جانور) کا زخم بے کار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بے کار ہے''۔

2675- حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ؛ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ، وَالْبِئْرَ جُبَارٌ، وَالْعَجْمَاءَ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْعَجْمَاءُ الْبَهِيمَةُ مِنَ الأَنْعَامِ وَغَيْرِهَا وَالْجُبَارُ هُوَ الْهَدْرُ الَّذِي لا يُغَرَّمُ۔
* تخريج : تفرد بہ ، ابن ماجہ، (تحفۃ الأ شراف: ۵۰۶۳، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۲۶، ۳۲۷) (صحیح)
(سند میں اسحاق بن یحییٰ اور عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن سابقہ شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)۔
۲۶۷۵- عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ''کان بے کار ہے اور اور کنواں بے کار و رائیگاں ہے، اور عجماء چوپائے وغیرہ حیوانات کو کہتے ہیں، اور جبار ایسے نقصان کو کہتے ہیں جس میں جرمانہ اور تاوان نہیں ہوتا، کنواں بے کار و رائیگاں ہے، اور بے زبان (جانور) کا زخم بیکار و رائیگاں ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اس میں تاوان اور جرمانہ نہیں ہے۔

2676- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " النَّارُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ "۔
* تخريج : د/الدیات ۳۱ (۴۵۹۴)، (تحفۃ الأ شراف: ۱۴۶۹۹) (صحیح)

۲۶۷۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''آگ بے کار ہے، اور کنواں بے کار ہے''۔
وضاحت۱؎: یعنی کسی نقصان کی صورت میں ان کا مالک ذمہ دار نہ ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب الْقَسَامَةِ
۲۸- باب: قسامہ کا بیان​

2677- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ بْن حُنَيْفٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ؛ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ؛ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَأُلْقِيَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ بِخَيْبَرَ، فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ، وَاللَّهِ! قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ! مَا قَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ. ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ، وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِمُحَيِّصَةَ: "كَبِّرْ كَبِّرْ" يُرِيدُ السِّنّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ " فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبُوا: إِنَّا، وَاللَّهِ ! مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِالرَّحْمَنِ: "تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟" قَالُوا: لا،قَالَ: " فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ؟ " قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِائَةَ نَاقَةٍ، حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، فَقَالَ سَهْلٌ: فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ ۔
* تخريج : خ/الصلح ۷ (۲۷۰۲)، الجزیۃ ۱۲ (۳۱۷۳)، الأدب ۸۹ (۶۱۴۳)، الدیات ۲۲ (۶۸۹۸)، الأحکام ۳۸ (۷۱۹۲)، م/القسامۃ ۱ (۱۶۶۹)، د/الدیات ۸ (۴۵۲۰)، ۹ (۴۵۲۳)، ت/الدیات ۲۳ (۱۴۴۲)، ن/القسامۃ ۳ (۴۷۱۴)، (تحفۃ الأ شراف: ۴۶۴۴)، وقد أخرجہ: ط/القسامۃ ۱ (۱)، حم (۴/۲، ۳)، دي/الدیات ۲ (۲۳۹۸) (صحیح)

۲۶۷۷- سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں محتاجی کی وجہ سے جو ان کو لاحق تھی (روزگار کی تلاش میں) اس یہودی بستی خیبر کی طرف نکلے، محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ہیں، اور انہیں خیبر کے ایک گڑھے یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، وہ یہودیوں کے پاس گئے، اور کہا: اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہی ان عبد اللہ بن سہل) کو قتل کیا ہے، وہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے ان کا قتل نہیں کیا ہے، اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس اپنی قوم کے پاس پہنچے، اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ، اور عبد الرحمن بن سہل رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور محیصہ رضی اللہ عنہ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے بڑھے تو آپ ﷺ نے محیصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ''بڑے کا لحاظ کر'' آپ ﷺ کی مراد عمر میں بڑے سے تھی چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، اور اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ نے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ''یا تو یہود تمہارے آدمی کی دیت ادا کریں ورنہ اس کو اعلان جنگ سمجھیں'' اور یہود کو یہ بات لکھ کر بھیج دی، انہوں نے بھی جواب لکھ بھیجا کہ اللہ کی قسم، ہم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے، تو آپ ﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبد الرحمن رضی اللہ عنہم سے کہا: ''تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہو سکتے ہو''، انہوں نے انکار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''پھر یہود قسم کھا کر بری ہو جائیں گے'' وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، (کیا ان کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا) آخر کار رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے عبد اللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی دیت ادا کی، اور ان کے لئے سو اونٹنیاں بھیجیں جنہیں ان کے گھر میں داخل کر دیا گیا۔
سہل رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک لال اونٹنی نے مجھے لات ماری۔

وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب قاتل کا پتہ نہ لگے تو مقتول کی دیت بیت المال سے دی جائے گی، اور مسلم نے ایک صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قسامت کی دیت کو باقی رکھا اسی طریقہ پر جیسے جاہلیت کے زمانہ میں رائج تھی، اور جاہلیت میں یہی طریقہ تھا کہ مقتول کے اولیاء مدعی علیہم میں سے لوگوں کو چنتے، پھر ان کو اختیار دیتے، چاہیں وہ قسم کھا لیں چاہیں دیت ادا کریں، جیسے اس قسامت میں ہوا جو بنی ہاشم میں ہوئی، علماء نے قسامت کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جب قاتل ایک معین جماعت میں سے ہو تو اس میں سے مقتول کا ولی قاتل کی جماعت سے لوگوں کو چن کر پچاس قسمیں کھلوائے، اگر وہ حلف اٹھا لیں تو بری ہو گئے ورنہ ان کو دیت دینی ہو گی۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیہ ۳/۳۸۸)۔

2678- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ أَنَّ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ ابْنَيْ مَسْعُودٍ وَعَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ سَهْلٍ خَرَجُوا يَمْتَارُونَ بِخَيْبَرَ؛ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقُتِلَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " تُقْسِمُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ ؟ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نُقْسِمُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذًا تَقْتُلَنَا، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ عِنْدِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأ شراف: ۸۶۷۸، ومصباح الزجاجۃ:۹۴۹)، وقد أخرجہ: ن/القسامۃ ۲ (۴۷۱۸) (صحیح)
(سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)۔ لیکن شاہد کی بنا پر صحیح ہے۔
۲۶۷۸- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبد اللہ و عبد الرحمن رضی اللہ عنہم خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبد اللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کر دیا گیا، اس کا ذکر رسول اکرم ﷺ کے سامنے کیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا: ''قسم کھاؤ اور (دیت کے) مستحق ہو جائو'' وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تو یہود (قسم کھا کر) تم سے بری ہو جائیں گے'' وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب مَنْ مَثَّلَ بِعَبْدِهِ فَهُوَ حُرٌّ
۲۹- باب: جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا (یعنی اس کا کوئی عضو کاٹ دیا) تو وہ آزاد ہو جائے گا​

2679- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ، عَنْ جَدِّهِ؛ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ وَقَدْ أَخْصَى غُلامًا لَهُ، فَأَعْتَقَهُ النَّبِيِّ ﷺ بِالْمُثْلَةِ۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأ شراف:۳۶۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۷) (حسن)
(سند میں اسحاق بن عبد اللہ ضعیف ہے، اور سلمہ بن روح مجہول، لیکن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر اور دوسرے شواہد سے حسن ہے)
۲۶۷۹- سلمہ بن روح بن زنباع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، انہو ں نے اپنے غلام کو خصی کر دیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے غلام کو مثلہ (ناک کان یا کوئی عضو کاٹ دینا) کئے جانے کی بناء پر آزاد کر دیا۔

2680- حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى السَّمَرْقَنْدِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُوحَمْزَةَ الصَّيْرَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ صَارِخًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا لَكَ ؟ " قَالَ: سَيِّدِي رَآنِي أُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ، فَجَبَّ مَذَاكِيرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ " فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ " قَالَ: عَلَى مَنْ نُصْرَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ يَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَرَقَّنِي مَوْلايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ أَوْ مُسْلِمٍ "۔
* تخريج : د/الدیات ۷ (۴۵۱۹)، (تحفۃ الأ شراف: ۸۷۱۶)، و قد أخرجہ: حم (۲/۱۸۲،۲۲۵) (حسن)

۲۶۸۰- عبد اللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ''کیا بات ہے''؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اس آدمی کو میرے پاس لاؤ'' جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا مالک مجھے پھر غلام بنا لے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ایسی صورت میں ہر مومن یا مسلمان پر تمہاری مدد لازم ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: ان دونوں حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی اپنے غلام یا لونڈی کو سخت ایذا دے مثلاً اس کا کوئی عضو کاٹے یا اس کا بدن جلائے تو حاکم اس کو آزاد کر سکتا ہے، اور اس کے مالک کو جو سزا مناسب سمجھے وہ دے سکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الإِيمَانِ
۳۰ ب اب: قاتلوں میں اہل ایمان کے سب سے بہتر ہونے کا بیان​

2681- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ ؛ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ مِنْ أَعَفِّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلَ الإِيمَانِ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۴۱)، وقد أخرجہ: د/الجہاد ۱۲۰ (۲۶۶۶)، حم (۱/۳۹۳) (ضعیف)
(ہشیم بن بشیر اور شباک دونوں مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز سند میں اضطراب ہے ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۲۳۲)
۲۶۸۱- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے زیادہ پاکیزہ اور بہتر ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس لئے کہ وہ ناحق اور بے جا قتل نہیں کرتے، اور وہ انسان ہی نہیں بلکہ جانور کو بھی بری طرح تکلیف دے کر نہیں مارتے، اور وہ تیز چھری سے اللہ تعالی کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں۔

2682- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ،عَنْ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الإِيمَانِ "۔
* تخريج : د/ الجہاد ۱۲۰ (۲۶۶۶)، (تحفۃ الأ شراف: ۹۴۷۶) (ضعیف)
(ہنی بن نویرہ مقبول عند المتابعہ ہیں، اور سند میں اضطراب ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۲۳۲)
۲۶۸۲- عبد اللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے پاکیزہ لوگ ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی وہ بیجا قتل نہیں کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ
۳۱- باب: مسلمانوں کے خون برابر ہیں​

2683- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ "الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيُرَدُّ عَلَى أَقْصَاهُمْ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأ شراف: ۶۰۲۹، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۸) وقد مضی تمامہ برقم : (۲۶۶۰) (صحیح)
(سند میں حنش (حسین بن قیس) ضعیف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۳۴۷۵)
۲۶۸۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مسلمانوں کے خون برابر ہیں، اور وہ اپنے مخالفوں کے لئے ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان میں سے ادنی شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی، اور (لشکر میں) سب سے دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً ایک لشکر لڑائی کے لئے نکلا کچھ آگے کچھ پیچھے اب آگے والوں کو کچھ مال ملا تو پیچھے والے بھی گو ان سے دور ہوں اس میں شریک ہوں گے، اس لئے کہ وہ ان کی مدد کے لئے آرہے تھے تو گویا انہی کے ساتھ تھے۔

2684- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، أَبُو حَمْرَةَ، عَنْ عَبْدِ السَّلامِ بْنِ أَبِي الْجَنُوبِ، عَنِ الْحَسَنِ،عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، وَتَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأ شراف:۱۱۴۷۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴۹) (صحیح)
(عبد السلام بن أبی الجنوب ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
۲۶۸۴- معقل بن یسا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''مسلمان اپنے علاوہ (دوسرے مذہب) والوں کے مقابلہ میں ایک ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے خون برابر ہیں''۔

2685- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَدُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَيُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَقْصَاهُمْ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأ شراف: ۸۷۳۹، ومصباح الزجاجۃ:۹۵۰)، وقد أخرجہ: د/الجہاد ۱۵۹ (۲۷۵۱)، حم (۲/۲۰۵، ۲۱۵، ۲۱۶) (حسن صحیح)
(یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، کما تقدم)
۲۶۸۵- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مسلمانوں کا ہاتھ اپنے علاوہ دوسری قوم والوں پر ہے (یعنی ان سب سے لڑیں، آپس میں نہ لڑیں) ان کے خون اور ان کے مال برابر ہیں، مسلمانوں کا ادنی شخص کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور لشکر میں دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا
۳۲- باب: ذمی کافر کو قتل کرنے والے کے گناہ کا بیان​

2686- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا "۔
* تخريج : خ/الجزیۃ ۵ (۳۱۶۶)، الدیات ۲۰ (۶۹۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۱۷)، وقد أخرجہ: ن/القسامۃ ۱۰ (۴۷۵۳)، حم (۲/۱۸۶) (صحیح)

۲۶۸۶- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے کسی ذمی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالاں کہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے''۔

2687- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَجْلانَ عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا، لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا "۔
* تخريج : ت/الدیات ۱۱ (۱۴۰۳)، (تحفۃ الأ شراف: ۱۴۱۴۰) (صحیح)
(تراجع الألبانی: رقم: ( ۴۵۱)
۲۶۸۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا: ''جس نے کسی ایسے ذمی کو قتل کر دیا جس کو اللہ تعالی اور اس کے رسول نے پناہ دے رکھی ہو، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب مَنْ أَمِنَ رَجُلاً عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ
۳۳- باب: کسی کو امان دینے کے بعد قتل کرنا کیسا ہے؟​

2688- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ ؛ قَالَ: لَوْلا كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ، لَمَشَيْتُ فِيمَا بَيْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِهِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ أَمِنَ رَجُلا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۵۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۲۳، ۲۲۴، ۴۳۶، ۴۳۷) (صحیح)

۲۶۸۸- رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا۱؎، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اُٹھائے ہوئے ہو گا''۔
وضاحت۱؎: یعنی اس کا سر بدن سے جدا کر دیتا، مختار بن عبید ثققی نے قاتلین حسین کو چن چن کر قتل کیا اور مسلمانوں کو خوش کیا لیکن آگے چل کرخود نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا اور مصعب بن زیبر رضی اللہ عنہما کے ہاتھوں قتل ہوا۔

2689- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ، عَنْ رِفَاعَةَ؛ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فِي قَصْرِهِ، فَقَالَ: قَامَ جِبْرَائِيلُ مِنْ عِنْدِيَ السَّاعَةَ، فَمَا مَنَعَنِي مِنْ ضَرْبِ عُنُقِهِ إِلا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ؛ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أَمِنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ، فَلا تَقْتُلْهُ " فَذَاكَ الَّذِي مَنَعَنِي مِنْهُ۔
* تخريج : حدیث رفاعۃ تقدم تخریجہ بمثل الحدیث السابق (۲۶۸۸)، وحدیث سلیمان بن صرد، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۴۵۷۰ (الف)، ومصباح الزجاجۃ: ۹۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۹۴) (ضعیف)
(سند میں ابو لیلیٰ اور أبوعکاشہ مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۲۰۰)
۲۶۸۹- رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا: جبریل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں۱؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا''۔
وضاحت۱؎: یعنی وہ رسالت کا دعوی کر رہا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب الْعَفْوِ عَنِ الْقَاتِلِ
۳۴- باب: قاتل کو معاف کر دینے کا بیان​

2690- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؛ قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَاللَّهِ ! مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِلْوَلِيِّ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ، دَخَلْتَ النَّارَ " قَالَ: فَخَلَّى سَبِيلَهُ قَالَ: فَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ، فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ۔
* تخريج : د/الدیات ۳ (۴۴۹۸)، ت/الدیات ۱۳ (۱۴۰۷)، ن/القسامۃ ۳ (۴۷۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۰۷) (صحیح)

۲۶۹۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قتل کر دیا تو اس کا مقدمہ آپ کے پاس لایا گیا، چنانچہ آپ ﷺ نے قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، میرا اس کو قتل کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں تھا، آپ ﷺ نے ولی سے کہا: ''اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے، اور تم نے اس کو قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے'' تو مقتول کے ولی نے اس کو چھوڑ دیا، قاتل پٹے سے بندھا ہوا تھا، وہ پٹا گھسیٹتا ہوا نکلا، اور اس کا نام ہی پٹے والا پڑ گیا۔

2691- حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ، عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِىِّ الْعَسْقَلانِيُّ قَالُوا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " اعْفُ " فَأَبَى. فَقَالَ: " خُذْ أَرْشَكَ " فَأَبَى. قَالَ: " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ " قَالَ: فَلُحِقَ بِهِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ قَالَ: " اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ " فَخَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ: فَرُئِيَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ ذَاهِبًا إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: كَأَنَّهُ قَدْ كَانَ أَوْثَقَهُ، قَالَ أَبُوعُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ ابْنُ شَوْذَبٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ: فَلَيْسَ لأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ أَنْ يَقُولُ: " اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ ".
قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا حَدِيثُ الرَّمْلِيِّينَ، لَيْسَ إِلا عِنْدَهُمْ۔
* تخريج : ن/القسامۃ ۳ (۴۷۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۱) (صحیح)

۲۶۹۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے ولی کے قاتل کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اسے معاف کر دو''، اس نے انکار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''دیت لے لو'' اس نے انکار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''جاؤ اسے قتل کر دو اور تم بھی اسی کی طرح ہو جاؤ'' ۱؎ چنانچہ اس سے مل کر کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ''جاؤ تم اس کو قتل کر دو تم بھی اس کے مثل ہو جاؤ'' تو اس نے اسے چھوڑ دیا، قاتل کو اپنے گھر والوں کی طرف اپنا پٹا گھسیٹتے ہوئے جاتے دیکھا گیا، گویا کہ مقتول کے وارث نے اسے باندھ رکھا تھا۱؎۔
ابو عمیر اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن شوذب نے عبدالرحمن بن قاسم سے یہ قول نقل کیا ہے، نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی کے لئے ''اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ'' کہنا درست نہیں۔
ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل رملہ کی حدیث ہے، ان کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت نہیں کی ہے۔

وضاحت۱؎: علماء نے حدیث کے اس ٹکڑے کی توضیح یوں کی ہے کہ قاتل قتل کی وجہ سے خیر سے محروم ہوا، تم بھی اس کو قصاصاً قتل کرکے خیر سے محروم ہو جاؤ گے، کیونکہ اس کو قتل کرنے سے مقتول زندہ نہیں ہو گا، ایسی صورت میں اس پر رحم کرنا ہی بہتر ہے، بعض علماء کہتے ہیں کہ اس نے قتل کی نیت سے اسے نہیں مارا تھا، اس لئے دیانۃََ اس پر قصاص لازم نہیں تھا، اگرچہ قضاءً لازم تھا، اور بعض کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق اس آدمی کو عمل کرنا چاہئے، گرچہ آپ کا فرمانا بطور سفارش تھا، نہ کہ بطور حکم، اگر وہ آپ کے اس ارشاد کے خلاف کرتا تو اپنے آپ کو محرومی اور بد نصیبی کا مستحق بنا لیتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب الْعَفْوِ فِي الْقِصَاصِ
۳۵- باب: قصاص معاف کر دینے کا بیان​

2692- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ (قَالَ: لا أَعْلَمُهُ إِلا عَنْ أَنَسِ بْنِ مالِكٍ ) قَالَ: مَارُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ شَيْئٌ فِيهِ الْقِصَاصُ، إِلا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ۔
* تخريج : د/الدیات ۳ (۴۴۹۷)، ن/القسامۃ ۲۳ (۴۷۸۷، ۴۷۸۸)، (تحفۃ الأ شراف: ۱۰۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۱۳،۲۵۲) (صحیح)

۲۶۹۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی رسول اکرم ﷺ کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آتا تو آپ اس کو معاف کر دینے کا حکم دیتے (یعنی سفارش کرتے)۔

2693- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحاقَ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُصَابُ بِشَيْئٍ مِنْ جَسَدِهِ، فَيَتَصَدَّقُ بِهِ إِلا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً، أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً " سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي۔
* تخريج : ت/الدیات ۵ (۱۳۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۴۸) (ضعیف)
(سند میں ابو السفر سعید بن أحمد ابو الدرداء سے سنا نہیں ہے، اس لئے یہ انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، ترمذی نے حدیث پر ''غریب'' کا حکم لگایا ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۴۸۲)
۲۶۹۳- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''کوئی بھی شخص جس کے جسم کو صدمہ پہنچے پھر وہ ثواب کی نیت سے معاف کر دے، تو اللہ تعالی اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے'' اور ایک گناہ معاف کر دیتا ہے، یہ میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا۔
 
Top