• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب لُحُومِ الْخَيْلِ
۱۲- باب: گھوڑوں کے گوشت کا حکم​

3190- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ؛ قَالَتْ: نَحَرْنَا فَرَسًا،فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: خ/الصید ۲۴ (۵۵۱۰ و ۵۵۱۱)، ۲۷ (۵۵۱۹)، م/الصید ۶ (۱۹۴۲)، ن/الضحایا ۲۲ (۴۴۱۱)، ۳۲ (۴۴۲۵، ۴۴۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۴۵، ۳۴۶، ۳۵۳)، دي/الأضاحي ۲۲ (۲۰۳۵) (صحیح)

۳۱۹۰- اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا، اور اس کا گوشت کھایا۔

3191- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ،أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُوالزُّبَيْرِ؛ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ يَقُولُ: أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ۔
* تخريج: م/الصید ۶ (۱۹۴۱)، ن/الذبائح ۲۹ (۴۳۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۱۰)، وقد أخرجہ: خ/المغازي ۳۸ (۴۲۱۹)، الصید ۲۷ (۵۵۲۰)، ۲۸ (۵۵۲۴)، د/الأطعمۃ ۲۶ (۳۷۸۸)، ۳۴ (۳۸۰۸)، ت/الأطعمۃ ۵ (۱۷۹۳)، حم (۳/۳۲۲، ۳۵۶، ۳۶۱، ۳۶۲، ۳۸۵)، دي/الأضاحي ۲۲ (۲۰۳۶) (صحیح)

۳۱۹۱- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے زمانہ میں گھوڑے اور نیل گائے کا گوشت کھایا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب لُحُومِ الْحُمُرِ الْوَحْشِيَّةِ
۱۳- باب: نیل گائے کے گوشت کا حکم۱؎
وضاحت۱؎: باب میں حمار وحشی (جنگلی گدھا) کا ذکر ہے جس کو نیل گائے کہتے ہیں اور جس کا کھانا جائز اور حلال ہے، اور باب کی احادیث میں اس حمار کا ذکر ہے جس کو (حمار انسی) کہا جاتا ہے، اور جس کو آدمی پالتا پوستا اور اپنے استعمال میں لاتا ہے اور یہ متفقہ طور پر حرام ہے۔

3192- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ،عَنْ أَبِي إِسْحاقَ الشَّيْبَانِيِّ؛ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ: أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ، يَوْمَ خَيْبَرَ، وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ، وَقَدْ أَصَابَ الْقَوْمُ حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَنَحَرْنَاهَا وَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي، إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ ﷺ أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلا تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا، فَأَكْفَأْنَاهَا، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى: حَرَّمَهَا تَحْرِيمًا؟ قَالَ: تَحَدَّثْنَا أَنَّمَا حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْبَتَّةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ۔
* تخريج:خ/المغازي ۳۸ (۴۲۲۰)، الصید ۲۸ (۱۹۳۷)، م/الصید ۵ (۴۳۷)، ن/الصید ۳۱ (۴۳۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۵، ۳۵۶، ۳۵۷، ۳۸۱) (صحیح)

۳۱۹۲- ابو اسحاق شیبانی (سلیمان بن فیروز) کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم خیبر کے دن بھوک سے دوچار ہوئے، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو شہر کے باہر سے کچھ گدھے ملے تو ہم نے انہیں ذبح کیا، ہماری ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: ''لوگو! ہانڈیاں الٹ دو، اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ''، تو ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔
ابو اسحاق (سلیمانی بن فیروز الشیبانی الکوفی) کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھا واقعی حرام قرار دے دیا ہے؟ تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بالکل ہی حرام قرار دے دیا ہے کیوں کہ وہ گندگی کھاتا ہے۱؎۔

وضاحت۱؎: جمہور علماء اور اہلحدیث کا یہ قول ہے کہ پالتو گدھا حرام ہے، اور اس کی حرمت میں براء بن عازب، اور ابن عمر اور ابو ثعلبہ خشنی کی احادیث صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں ہیں، البتہ جنگلی گدھا یعنی نیل گائے بالاتفاق حلال ہے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ دیا گیا اور آپ نے اس میں سے کھایا (الروضۃ الندیۃ)۔
امام مالک اور علماء کی ایک جماعت کے نزدیک پالتو گدھا حلال ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ممانعت اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے غنیمت کا مال تقسیم ہونے سے پہلے کھانا چاہا، اور وہ منع ہے جیسے اوپر گذرا اور ان کی دلیل ابو داود میں موجود غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ اپنے گھر والوں کو موٹے گدھوں میں سے کھلاؤ، میں نے ان کو نجاست کھانے کی وجہ سے حرام کیا تھا، لیکن یہ روایت ضعیف اور مضطرب الاسناد ہے، یہ حلت کی دلیل نہیں بن سکتی خصوصاً جب کہ صریح احادیث میں ممانعت آئی ہے۔

3193- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ،عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَرَّمَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ الْحُمُرَ الإِنْسِيَّةَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۵۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۹، ۱۳۲) (صحیح)

۳۱۹۳- مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، حتی کہ انہوں نے (ان حرام چیزوں میں) پالتو گدھے کا بھی ذکر کیا۔

3194- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَاصِمٍ،عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ؛ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نُلْقِيَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ نِيئَةً وَنَضِيجَةً، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِهِ بَعْدُ۔
* تخريج: خ/المغازي ۳۸ (۴۲۲۶)، الصید ۲۸ (۵۵۲۵، ۵۵۲۶)، م/الصید ۵ (۱۹۳۸)، ن/الصید والذبائح ۳۱ (۴۳۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۹۷) (صحیح)

۳۱۹۴- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پالتو گدھے کا گوشت پھینک دینے کا حکم دیا، خواہ وہ کچا ہو یا پکا ہوا ہو، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم ہمیں نہیں دیا۔

3195- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ؛ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ غَزْوَةَ خَيْبَرَ، فَأَمْسَى النَّاسُ قَدْ أَوْقَدُوا النِّيرَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " عَلامَ تُوقِدُونَ؟ " قَالُوا: عَلَى لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ، فَقَالَ: " أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَاكْسِرُوهَا " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَوْ نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " أَوْ ذَاكَ "۔
* تخريج: خ/المظالم ۳۲ (۲۴۷۷)، م/الجہاد ۴۳ (۱۸۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۸،۵۰) (صحیح)

۳۱۹۵- سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی لڑی، پھر شام ہو گئی اور لوگوں نے آگ جلائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کیا پکا رہے ہو''؟ لوگوں نے کہا: پالتو گدھے کا گوشت (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو کچھ ہانڈی میں ہے اسے بہا دو، اور ہانڈیاں توڑ دو'' تو لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ایسا نہ کریں کہ جو ہانڈی میں ہے اسے بہا دیں اور ہانڈی کو دھو ڈالیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ایسا ہی کر لو''۔

3196- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مُنَادِيَ النَّبِيِّ ﷺ نَادَى: إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ،فَإِنَّهَا رِجْسٌ۔
* تخريج: خ/الجہاد ۱۳۰ (۲۹۹۱)، المغازي ۳۸ (۴۱۹۸)، الذبائح ۲۸ (۵۵۲۸)، ن/الطہارۃ ۵۵ (۶۹)، الصیدوالذبائح ۳۱ (۴۳۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۷)، وقد أخرجہ: م/الصید ۶ (۱۹۴۱)، حم (۳/۱۱۱، ۱۲۱، ۱۶۴)، دي/الأضاحي ۲۱ (۲۰۳۴) (صحیح)

۳۱۹۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب لُحُومِ الْبِغَالِ
۱۴- باب: خچر کے گوشت کی حرمت کا بیان​

3197- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ،(ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ وَمَعْمَرٌ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِالْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ ؛ قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ،قُلْتُ: فَالْبِغَالُ ؟ قَالَ: لا۔
* تخريج: ن/الصید ۲۹ (۴۳۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۳۰) (صحیح الإسناد)

۳۱۹۷- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے، میں نے کہا: اور خچروں کا؟ کہا: نہیں۔

3198- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ،عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ؛ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ لُحُومِ الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ۔
* تخريج: د/الأطعمۃ ۲۶ (۳۷۹۰)، ن/الذبائح ۳۰ (۴۳۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۹،۹۰) (ضعیف)
(بقیہ اور صالح بن یحییٰ اور یحییٰ بن المقدام سب ضعیف ہیں)۔
۳۱۹۸- خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۱؎۔
وضاحت۱؎: سنن ترمذی میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھے اور خچر کے گوشت سے منع فرمایا، معلوم ہوا کہ خچر کا گوشت حرام ہے، (ملاحظہ ہو: تحفۃ الاحوذی: ج۲ص ۳۴۶) ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب ذَكَاةِ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ
۱۵- باب: ماں کو ذبح کرنا اس کے پیٹ کے بچے کو ذبح کرنا ہے​

3199- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،وَأَبُو خَالِدٍالأَحْمَرُ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ؛ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْجَنِينِ، فَقَالَ: " كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ " قَالَ أَبو عَبْداللَّهِ سَمِعْتُ الْكَوْسَجَ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ فِي قَوْلِهِمْ: فِي الذَّكَاةِ لا يُقْضَى بِهَا مَذِمَّةٌ قَالَ: مَذِمَّةٌ بِكَسْرِ الذَّالِ مِنَ الذِّمَامِ وَبِفَتْحِ الذَّالِ مِنَ الذَّمِّ۔
* تخريج: د/الأضاحي ۱۸ (۲۸۲۷)، ت/الأطعمۃ ۲ (۱۴۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۱، ۳۹، ۵۳) (صحیح)

۳۱۹۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین (ماں کے پیٹ کے بچے) کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم اگر چاہو تو کھاؤ، کیونکہ اس کی ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی ذبح ہو جاتا ہے''۱؎۔
ابو عبد اللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے کو سج اسحاق بن منصور کو لوگوں کے قول ''الذَّكَاةِ لا يُقْضَى بِهَا مَذِمَّةٌ'' کے سلسلے میں کہتے سنا: مذمۃ ذال کے کسرے سے ہو تو ذمام سے مشتق ہے اور ذال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو ذمّ سے مشتق ہے۔

وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ جنین جب ماں کے ذبح کئے جانے کے بعد مردہ برآمد ہوا ہو تو ایسے جنین کا کھانا حلال ہے، اسے دوبارہ ذبح کرنے کی ضرورت نہیں یہی مذہب اہل حدیث اور جمہور علماء کا ہے، لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسے دوبارہ ذبح کیا جائے گا مگر یہ حدیث ان کے مذہب کے خلاف ہے۔
* * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{28- كِتَاب الصَّيْدِ}
۲۸- کتاب: شکار کے احکام و مسائل


1-بَاب قَتْلِ الْكِلابِ إِلا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ
۱- باب: شکاری یا کھیت کی رکھوالی کرنے والے کتوں کے علاوہ دوسرے کتوں کو قتل کرنے کا حکم​

3200- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ،عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلابِ، ثُمَّ قَالَ: مَالَهُمْ وَلِلْكِلابِ ؟ " ثُمَّ رَخَّصَ لَهُمْ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۲۷ (۲۸۰)، د/الطہارۃ ۳۷ (۷۴)، ن/الطہارۃ ۵۳ (۶۷)، المیاہ ۷ (۳۳۷، ۳۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۶، ۵/۵۶)، دي/الصید ۲ (۲۰۴۹) (صحیح)

۳۲۰۰- عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا، پھر آپ نے فرمایا: ''اِنہیں کتوں سے کیا مطلب''؟ پھر آپ نے انہیں شکاری کتے رکھنے کی اجازت دے دی۱؎۔
وضاحت ۱؎: کتوں سے کیا مطلب یعنی کتا پالنا بے فائدہ ہے بلکہ وہ نجس جانور ہے، اندیشہ ہے کہ برتن یا کپڑے کو گندہ کر دے، لیکن کتوں کا قتل صحیح مسلم کی حدیث سے منسوخ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل سے منع کیا، اس کے بعد اور فرمایا: ''کالے کتے کو مار ڈالو وہ شیطان ہے'' (انجاح)۔

3201- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ،(ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلابِ،ثُمَّ قَالَ: " مَالَهُمْ وَلِلْكِلابِ ؟ " ثُمَّ رَخَّصَ لَهُمْ فِي كَلْبِ الزَّرْعِ وَكَلْبِ الْعِينِ ۱؎ ، قَالَ بُنْدَارٌ: الْعِينُ حِيطَانُ الْمَدِينَةِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ (صحیح)

۳۲۰۱- عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتو ں کے قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا:'' لوگوں کو کتوں سے کیا مطلب ہے؟'' پھر آپ نے کھیت اور با غ کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دے دی ۲؎ ۔
بندار کہتے ہیں: عین سے مراد مدینہ کے باغات ہیں۔

وضاحت۱؎: مسلم اور نسائی کی روایت میں ہے: ''ثم رخص في كلب الصيد والغنم'' اس لئے ابن ماجہ کا لفظ تصحیف ہے، صواب ''الغنم'' ہے۔ (ملاحظہ ہو: حیاۃ الحیوان للدمیری)
وضاحت۲؎: یعنی جو کتے کھیت اور باغ کی حفاظت کے لئے پالے جاتے ہیں ان کا پالنا جائز ہے، دوسری روایت میں ریوڑ یعنی جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی پالنا آیا ہے، شریعت سے صرف تین ہی کتوں کا جواز ثابت ہے، ایک شکاری کتا، دوسرے باغ یا کھیت کی حفاظت کا، تیسرے ریوڑ کا، اور اس پر قیاس کرکے دوسری ضرورتوں کے لیے کتوں کو بھی پالا جا سکتا ہے، جیسے جنگل میں چور سے حفاظت کے لئے، اور آج کل جاسوسی کے لیے، امید ہے کہ یہ بھی جائز ہو، لیکن بلا ضرورت کتا پالنا ہماری شریعت میں جائز نہیں، بلکہ اس سے اجر اور ثواب میں نقصان پڑتا ہے، جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ فرشتے اس مکان میں نہیں جاتے جہاں مورت ہو، یا کتا یعنی رحمت کے فرشتے۔

3202- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِقَتْلِ الْكِلابِ۔
* تخريج: خ/بدء الخلق ۱۷ (۳۳۲۳)، م/المساقاۃ ۱۰ (۱۵۷۰)، ن/الصید والذبائح ۹ (۴۲۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۴۹)، وقد أخرجہ: ت/الصید ۱۷ (۱۴۸۷)، ط/لإستئذان ۵ (۱۴)، حم (۲/۲۲،۲۳، ۱۱۳، ۱۳۲، ۱۴۶)، دي/الصید ۳ (۲۰۵۰) (صحیح)

۳۲۰۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کر دینے کا حکم دیا ہے۔

3203- حَدَّثَنَا أَبُوطَاهِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، رَافِعًا صَوْتَهُ، يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلابِ، وَكَانَتِ الْكِلابُ تُقْتَلُ إِلا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ۔
* تخريج: ن/الصید ۹ (۴۲۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۰۲) (صحیح)

۳۲۰۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے کتوں کے قتل کا حکم فرماتے ہوئے سنا: اور کتے قتل کیے جاتے تھے بجز شکاری اور ریوڑ کے کتوں کے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب النَّهْيِ عَنِ اقْتِنَاءِ الْكَلْبِ إلا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ
۲ - باب: کھیت یا ریوڑ کی رکھوالی کرنے والے اور شکاری کتوں کے علاوہ دوسرے کتے پالنا منع ہے​

3204- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ،حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ،إِلا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ ".
* تخريج: م/المساقاۃ ۱۰ (۱۵۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۹۰)، وقد أخرجہ: خ/الحرث ۳ (۲۳۲۳)، بدء الخلق ۱۷ (۳۳۲۴)، د/الصید ۱ (۲۸۴۴)، ت/الصید ۱۷ (۱۴۹۰)، ن/الصید ۱۴ (۴۲۹۴)، حم (۲/۲۶۷،۳۴۵) (صحیح)

۳۲۰۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص کتا پالے گا اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا، سوائے کھیت یا ریوڑ کے کتے کے''۔
وضاحت۱؎: دوسری روایت میں روزانہ دو قیراط کی کمی کا ذکر ہے، تطبیق کی صورت یہ ہے شاید کتوں کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم وہ ہے جس میں ایک قیراط کی کمی ہوتی ہے، اور دوسری وہ ہے جس میں دو قیراط کی کمی ہوتی ہے، بعض لوگوں نے اختلاف مقامات کا اعتبار کیا ہے، اور کہا کہ اگر بے ضرورت مکہ یا مدینہ میں کتا پالے تو دو قیراط کی کمی ہو گی اور اس کے علاوہ دیگر شہروں میں ایک قیراط کی کمی ہو گی کیونکہ مکہ اور مدینہ کا افضل اور اعلی مقام ہے، وہاں کتا پالنا زیادہ غیر مناسب ہے۔

3205- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ عَنْ أَبِي شِهَابٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَوْلا أَنَّ الْكِلابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ، وَمَا مِنْ قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا إِلا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ، إِلا نَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ، كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ "۔
* تخريج: د/الصید ا (۲۸۴۵مختصراً)، ت/الأحکام ۳ (۱۴۸۶مختصراً) ن/الصید ۱۰ (۴۳۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۵، ۸۶، ۵/۵۴، ۵۶، ۵۷، دي/الصید ۲ (۲۰۴۹) (صحیح)

۳۲۰۵- عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اگر کتے اللہ تعالی کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق نہ ہوتے، تو میں یقینا ان کے قتل کا حکم دیتا، پھر بھی خالص کالے کتے کو قتل کر ڈالو، اور جن لوگوں نے جانوروں کی حفاظت یا شکاری یا کھیتی کے علاوہ دوسرے کتے پال رکھے ہیں، ان کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہو جاتے ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: امام نووی فرماتے ہیں کہ کاٹنے والے کتوں کو قتل کر دینے پر اجماع ہے، امام الحرمین کہتے ہیں کہ پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کتوں کے مارنے کا حکم دیا، پھر یہ منسوخ ہو گیا، اور کالا سیاہ اسی حکم پر باقی رہا، بعد اس کے یہ ٹھہرا کہ جب تک وہ نقصان نہ پہنچائے کسی قسم کا کتا نہ مارا جائے یہاں تک کالا بھجنگ بھی، اور ثواب کم ہونے کا سبب یہ ہو گا کہ فرشتے اس کے گھر میں نہیں جا سکتے جس کے پاس کتا ہوتا ہے، اور بعضوں نے کہا کہ اس وجہ سے کہ لوگوں کو اس کے بھونکنے اور حملہ کرنے سے ایذا ہوتی ہے اور یہ جو فرمایا: اگر مخلوق نہ ہوتی مخلوقات میں سے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کتا بھی کائنات کی مخلوقات میں سے ایک ایسی مخلوق ہے جسے ختم کرنا ممکن نہیں، اس لئے قتل کا حکم دینا بے کار ہے، کتنے ہی قتل کرو لیکن جب تک دنیا باقی ہے، دنیا میں کتے ضرور باقی رہیں گے، آپ دیکھئے کہ سانپ، بچھو، شیراور بھیڑئیے، لوگ سیکڑوں اور ہزاروں سال سے جہاں پاتے ہیں مار ڈالتے ہیں، مگر کیا یہ حیوانات دنیا سے مٹ گئے؟ ہرگز نہیں۔

3206- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ، فَقِيلَ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ ؟" قَالَ: إِيْ، وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ!۔
* تخريج: خ/الحرث ۳ (۲۳۲۳)، بدء الخلق ۱۷ (۳۳۲۵)، م/المساقاۃ ۱۰ (۱۵۷۶)، ن/الصید ۱۲ (۴۲۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۷۶)، وقد أخرجہ: ط/الإستئذان ۵ (۱۲)، حم (۵/۲۱۹،۲۲۰)، دي/الصید ۲ (۲۰۴۸) (صحیح)

۳۲۰۶- سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ''جو شخص کتا پالے اور وہ اس کے کھیت یا ریوڑ کے کام نہ آتا ہو تو اس کے عمل (ثواب) سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے''، لوگوں نے سفیان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے خود اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں قسم ہے اس مسجد کے رب کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب صَيْدِ الْكَلْبِ
۳ - باب: کتوں کے کیے ہوئے شکار کا حکم​

3207- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَاالضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ؛ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ، نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ،وَبِأَرْضِ صَيْدٍ،أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ،قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ فِي أَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلا تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ، إِلا أَنْ لا تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا،وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ الصَّيْدِ، فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ،وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ،وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ "۔
* تخريج: خ/الصید ۴ (۵۴۷۸)، ۱۰ (۵۴۸۸)، ۱۴ (۵۴۹۶)، م/الصید ۱ (۱۹۳۰)، د/الصید ۲ (۲۸۵۵)، ت/والسیر ۱۱ (۱۵۶۰)، ن/الصید ۴ (۴۲۷۱)، (تحفۃ الأشرف: ۱۱۸۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۹۳، ۱۹۴، ۱۹۵)، دي /السیر ۵۶ (۲۵۴۱) (صحیح)

۳۲۰۷- ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب (یہود و نصاری) کے ملک میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہے، میں اپنی کمان اور سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، اور ان کتوں سے بھی جو سدھائے ہوئے نہیں ہوتے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''رہی یہ بات جو تم نے ذکر کی کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، اِلا یہ کہ کوئی چارہ نہ ہو، اگر اس کے علاوہ تم کوئی چارہ نہ پاؤ تو پھر انہیں دھو ڈالو، اور ان میں کھاؤ، رہا شکار کا معاملہ جو تم نے ذکر کیا تو جو شکار تم اپنے کمان سے کرو اس پر اللہ کا نام لے کر شکار کرو اور کھاؤ، اور جو شکار سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو کتا چھوڑتے وقت اللہ کا نام لو اور کھاؤ، اور جو شکار ایسے کتے کے ذریعہ کیا گیا ہو جو سدھایا ہوا نہ ہو تو اگر تم اسے ذبح کر سکو تو کھاؤ'' (ورنہ نہیں)۱؎۔
وضاحت۱؎: اہل حدیث کے نزدیک جو جانور ہتھیار سے شکار کیا جائے (جیسے تیر، تلوار، برچھا، بھالا، بندوق وغیرہ سے) یا ان جانوروں کے ذریعہ سے جو زخمی کرتے ہیں (جیسے کتا، چیتا، باز، ہجری، عقاب وغیرہ) تو حلال ہے، اگرچہ شکار کا جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جائے، بشرطیکہ مسلمان شکار کرے، اور جانور یا ہتھیار کو شکار پر چلاتے وقت بسم اللہ کہے، یہی جمہور علماء اور فقہا کی رائے ہے۔

3208- حَدَّثَنَاعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ؛ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلابِ، قَالَ: " إِذَاأَرْسَلْتَ كِلابَكَ الْمُعَلَّمَةَ،وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا، فَكُلْ مَاأَمْسَكْنَ عَلَيْكَ إِنْ قَتَلْنَ،إِلاأَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنْ أَكَلَ الْكَلْبُ فَلا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلابٌ أُخَرُ، فَلا تَأْكُلْ ".
قَالَ ابْن مَاجَه: سَمِعْتُهُ يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ الْمُنْذِرِ يَقُولُ: حَجَجْتُ ثَمَانِيَةً وَخَمْسِينَ حِجَّةً أَكْثَرُهَا رَاجِلٌ۔
* تخريج: خ/الوضو ۳۳ (۱۷۵)، البیوع ۳ (۲۰۵۴)، الصید ۱ (۵۴۷۵)، ۲ (۵۴۷۶)، ۳ (۵۴۷۷)، ۷ (۵۴۸۳)، ۹ (۵۴۸۴)، ۱۰ (۵۴۸۵)، م/الصید ۱ (۱۹۲۹)، د/الصید ۲ (۲۸۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۵۵)، وقد أخرجہ: ت/الصید ۱ (۱۴۵۶)، ن/الصید ۲ (۴۲۶۹)، حم (۴/۲۵۶، ۲۵۷، ۲۵۸، ۳۷۷، ۳۷۹، ۳۸۰)، دي/الصید ۱ (۲۰۴۵) (صحیح)

۳۲۰۸- عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم ایک ایسی قوم ہیں جو کتوں سے شکار کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب تم سدھائے ہوئے کتوں کو ''بِسْمِ اللَّهِ کہہ کر چھوڑو، تو ان کے اس شکارکو کھاؤ جو وہ تمہارے لئے روکے رکھیں، چاہے انہیں قتل کر دیا ہو، سوائے اس کے کہ کتّے نے اس میں سے کھا لیا ہو، اگر کتے نے کھا لیا تو مت کھاؤ، اس لئے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کتے نے اسے اپنے لئے پکڑا ہو، اور اگر اس سدھائے ہوئے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے بھی شریک ہو گئے ہوں تو بھی مت کھاؤ''۱؎۔
ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن منذر کو کہتے سنا کہ میں نے اٹھاون حج کیے ہیں اور ان میں سے اکثر پیدل چل کر۔

وضاحت۱؎: اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے: (۱) سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے، (۲) کتا مُعَلَّم ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو، (۳) اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے بھیجا گیا ہو پس اگر وہ خود سے بغیر بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں ہے، یہی جمہور علماء کا قول ہے، (۴) کتے کو شکار پر بھیجتے وقت ''بسم الله'' کہا گیا ہو، (۵) معلّم کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو، اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہو گا، اور یہ شکار حلال نہ ہو گا، (۶) کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لیے محفوظ رکھے، تب یہ شکار حلال ہو گا ورنہ نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ وَالْكَلْبِ الأَسْوَدِ الْبَهِيمِ
۴- باب: مجوسی کے کتے اور خالص کالے کتے کے شکار کا حکم​

3209- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: نُهِينَا عَنْ صَيْدِكَلْبِهِمْ وَطَائِرِهِمْ،يَعْنِي الْمَجُوسَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۷۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۰۳)، وقد أخرجہ: ت/الصید ۲ (۱۴۶۶) (ضعیف الإسناد)
(سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ترمذی میں، ''وطائرہم'' کا لفظ نہیں ہے نیز ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے)
۳۲۰۹- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے یعنی مجوسیوں کے کتے، یا ان کے پرندوں کے شکار (کھانے) سے منع کر دیا گیا ہے۔

3210- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ؛ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ الْبَهِيمِ، فَقَالَ: " شَيْطَانٌ "۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۵۰ (۵۱۰)، د/الصلاۃ ۱۱۱ (۷۰۲)، ت/الصلاۃ ۱۳۷ (۳۳۸)، ن/القبلۃ ۷ (۷۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۴۹،۱۵۱، ۱۵۵، ۱۵۸، ۱۶۰، ۱۶۱)، دي/الصلاۃ ۱۲۸ (۱۴۵۴) (صحیح)

۳۲۱۰- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''وہ شیطان ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب صَيْدِ الْقَوْسِ
۵- باب: تیر کمان سے شکار کاحکم​

3211- حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۶۷) (صحیح)

۳۲۱۱- ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اس چیز کو کھاؤ جو تمہاری کمان شکار کرے''۔

3212- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَامُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ؛ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي قَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ وَخَزَقْتَ فَكُلْ مَاخَزَقْتَ "۔
* تخريج: تفرد ابن ماجۃ بھذاالسیاق (تحفۃ الأشراف: ۹۸۶۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۰۴)، قد أخرجہ: خ/البیوع ۳ (۲۰۵۴)، الذبائح ۳ (۵۴۷۷)، م/الصید ۱ (۱۹۲۹)، د/الصید ۲ (۲۸۴۷)، ت/الصید ۱ (۱۴۶۵)، ۳ (۱۴۶۷)، ن/الصید ۳ (۴۲۷۰)، حم (۴، ۲۵۶، ۲۵۸، ۳۸۰)، دي/الصید ۱ (۲۰۴۶) (صحیح)
(سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے حدیث صحیح ہے)
۳۲۱۲- عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عر ض کیا: اللہ کے رسول! ہم تیر انداز لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب تیر مارو اور وہ (شکار کے جسم میں) گھس جائے، تو جس کے اندر تیر پیوست ہو جائے اسے کھاؤ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب الصَّيْدِ يَغِيبُ لَيْلَةً
۶- باب: اگر زخمی شکار رات بھر غائب رہ کر مل جائے تو اس کے حکم کا بیان​

3213- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ؛ قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنِّي لَيْلَةً؟ قَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ شَيْئًا غَيْرَهُ، فَكُلْهُ "۔
* تخريج: خ/ الذبائح ۸ (۵۴۸۴)، م/الصید ۱(۱۹۲۹)، د/الصید ۲ (۲۸۴۹، ۲۸۵۰)، ت/الصید ۳ (۱۴۶۹)، ن/الصید ۱ (۴۲۶۸)، ۶ (۴۲۷۳)، ۸ (۴۲۷۹)، ۱۸ (۴۳۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۶۲) (صحیح)

۳۲۱۳- عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں شکار کرتا ہوں اور شکار مجھ سے پوری رات غائب رہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب تم اس شکار میں اپنے تیر کے علاوہ کسی اور کا تیر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ''۔
 
Top