- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
2- بَاب مَا جَاءَ فِي طَلَبِ الإِمَارَةِ
۲-باب: حکومت و اقتدار کو طلب کرنا کیسا ہے؟
2929- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ: < يَا عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ! لاتَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ فِيهَا إِلَى نَفْسِكَ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا >۔
* تخريج: خ/الأیمان والنذور ۱ (۶۶۲۲)، وکفارات الأیمان ۱۰ (۶۷۲۲)، والأحکام ۵ (۷۱۴۶)، م/الأیمان ۳ (۱۶۵۲)، ت/النذور ۵ (۱۵۲۹)، ن/آداب القضاۃ ۵ (۵۳۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۶۱، ۶۲، ۶۳)، دي/النذور والأیمان ۹ (۲۳۹۱)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (۳۲۷۷، ۳۲۷۸) (صحیح)
۲۹۲۹- عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ''اے عبدالرحمن بن سمرہ ! امارت واقتدار کی طلب مت کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپرد کر دیے جاؤگے ۱؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال ہوگی'' ۲؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ ؎ : یعنی اللہ تعالی معاملا ت کو سلجھانے و نمٹانے میں تمہاری مدد نہیں کرے گا۔
وضاحت ۲ ؎ : یعنی تم معاملا ت کو بہتر طو ر پر انجام دے سکو گے۔
2930- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ بِشْرِ ابْنِ قُرَّةَ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ رَجُلَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَتَشَهَّدَ أَحَدُهُمَا، ثُمَّ قَالَ: جِئْنَا لِتَسْتَعِينَ بِنَا عَلَى عَمَلِكَ، وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَ قَوْلِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ: < إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَهُ > فَاعْتَذَرَ أَبُو مُوسَى إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَقَالَ: لَمْ أَعْلَمْ لِمَا جَائَا لَهُ، فَلَمْ يَسْتَعِنْ بِهِمَا عَلَى شَيْئٍ حَتَّى مَاتَ۔
* تخريج: ن/آداب القضاۃ ۴ (۵۳۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۹۳، ۴۱۱) (منکر)
۲۹۳۰- ابو مو سیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے (اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی) گواہی دی پھر کہا کہ ہم آپ کے پاس اس غرض سے آئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنی حکومت کے کام میں مدد لیجئے ۱؎ دوسرے نے بھی اپنے ساتھی ہی جیسی بات کہی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہمارے نزدیک تم میں وہ شخص سب سے بڑا خائن ہے جو حکومت طلب کرے ''۔
ابو مو سیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے معذرت پیش کی، اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں آدمی اس غرض سے آئے ہیں پھرانہوں نے ان سے زندگی بھر کسی کام میں مدد نہیں لی۔
وضاحت ۱ ؎ : یعنی ہمیں عامل بنا دیجئے یا حکومت کی کوئی ذمہ داری ہمارے سپرد کر دیجئے۔