1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

سونے کے دیناروں کی واپسی

'معاشی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏ستمبر 03، 2015۔

  1. ‏ستمبر 03، 2015 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,866
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

  2. ‏ستمبر 03، 2015 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,866
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    عامر یونس بھائی میں آپ کے ساتھ افسوس کرتا ہوں کہ آپ کے بقول "خوارج" نے مسلمانوں کا بھلا چاہتے ہوئے سونے کے سکے جاری کر دئیے، لیکن آپ کے علماء اور امیر جمہوریت کے ذریعے اسلام لاتے رہ گئے۔
     
  3. ‏ستمبر 03، 2015 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,866
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    فیض صاحب! دیکھیں یہ کیسے "امریکی" اور "اسرائیلی" ایجنٹ ہیں جنہوں نے ہمارا بھلا چاہتے ہوئے سونے کے سکے جاری کر دئیے، پھر تو ہمیں کہنا چاہئے کہ کیا بات ہے "امریکی" اور "اسرائیلی" ایجنٹوں کی۔ ایسے ہی نہ؟

    فیض صاحب! موحد اور شرعی حکومت، چار ارب بیرل تیل والے نیز نیوکلئیر والے کب سونے کے سکے جاری کر رہے ہیں؟
     
  4. ‏ستمبر 03، 2015 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,668
    موصول شکریہ جات:
    6,462
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    [​IMG]


    داعش عزائم کیا؟؟؟؟؟

    داعش کی خلافت کو خلافت علی منہاج النبوہ سمجھنے والے نادانوں کے لیے ایک شعر کا مصرعہ ہی کافی ہے

    آنکھیں اگر ہوں بند تو دن بھی رات ہے

    داعش کی حالیہ کاروائیاں دیکھ کے فہم و دانش رکھنے والوں پہ عیاں ہوگیا ہے کہ یہ خوارج کی وہی اسلام دشمن پالیسی ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کو دنیا میں برباد کرنے پہ تلے ہیں. اس کی مثالیں یہ ہیں.

    ۱. افغانستان میں خودکش حملہ وجہ افغان طالبان کے خلاف محاذ کھولا جائے اور برادد امریکہ کو سکون دیا جائے.

    ۲. فلسطینی کیمپ پہ حملہ کیا جانا اور اسرائیل برادر کو سکون کی پھکی دینا. کہ آپ بے فکر رہیں ہم ہیِ ناں.

    ۳. لیبیا میں مسیحیوں کا قتل کرنا .

    ۴. بوکو حرام جو داعش ہی کی شاخ بن چکی یے اس کا کینا میں یونیورسٹی پہ حملہ اور نہتے لوگوں کو مارنا............

    یہ جرائم حالیہ دنوں میں یکے بعد دیگرے عمل میں آئے ہیں. اس میں داعش کی کارکردگی کے مختلف پہلو ہمیں پتہ چلیں گے شام میں جہاد کا ستیاناس کرنا اور بشار کی مضبوطی. وہاں کامیابی کے بعد افغانستان میں طالبان کو کمزور کرنا اور امریکہ بہادر کو مضبوط کرنا. اقلیتوں کا قتل عام کرکے پوری دنیا کو جہاد کے خلاف اکٹھا کرنا. اور داعش ان سب مقاصد میں کامیاب ہو چکی ہے. اللہ سے دعا ہے

    اللہ ہمیں اس نام نہاد خلافت کے شر سے بچائے - آمین یا رب العالمین
     
  5. ‏ستمبر 03، 2015 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,668
    موصول شکریہ جات:
    6,462
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    داعش کی درندگی، چار عراقیوں کو زندہ جلا دیا گیا
    کیٹیگری عراق
    منگل, 01 ستمبر 2015


    [​IMG]

    عراق اور شام میں برسرپیکار دہشتگرد گروپ داعش نے اپنے مخالف جنگجوؤں اور یرغمالیوں کو بیدردی سے قتل کرنے حتی کہ زندہ جلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انکی سفاکیت کا مظہر ایک نئی ویڈیو انٹرنیٹ کے ذریعے منظرعام پر آئی ہے۔ جس میں انھوں نے زنجیروں میں جھکڑے ہوئے چار عراقی شیعہ جنگجوؤں کو زندہ جلا دیا ہے۔


    ان چاروں افراد کو پشت پر ہتھکڑی لگائی گئی ہیں اور ان کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں۔ ویڈیو میں عربی ترانے کے ساتھ ایک نقاب پوش جنگجو کو دیکھا جاسکتا ہے۔ جو یرغمالیوں کے نیچے سے کچھ حد تک تیل چھڑک کر اس کو آگ لگادیتا ہے۔

    اس ویڈیو پر کوئی تاریخ ہے اور نہ کسی خاص مقام کا ذکر ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ کب اور کہاں فلمائی گئی تھی۔ البتہ اس کے ساتھ ایک ٹیگ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عراق کے مغربی صوبے الانبار میں داعش کے میڈیا یونٹ نے تیار کی ہے۔


    واضح رہے کہ داعش کے جنگجو ان مبینہ ملزموں یا اپنے مخالفین کو بھیانک انداز میں سزائیں دینے کی ویڈیوز گاہے بگاہے جاری کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے مختلف اوقات میں یرغمال مغربی صحافیوں، امدادی کارکنوں یا شامی اور عراقی فوجیوں کو ذبح کرنے، انھیں قطاروں میں کھڑا کرکے اکٹھے گولیاں مارنے اور عورتوں کو سنگسار کرنے کی ویڈیوز جاری کی ہیں۔


    شام میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ داعش نے اپنے کنٹرول والے علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ داعش کے زیرنگیں علاقوں میں لوگوں پر دہشت کے ذریعے حکمرانی کی جارہی ہے، ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے، سرقلم کیے جارہے ہیں، عورتوں کو باندیاں بنایا جارہا ہے اور انھیں جبری حاملہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ جہادی بچے جنیں۔


    رپورٹ کے مطابق داعش کے کمانڈر ان جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے ارتکاب کے ذاتی طور پر ذمے دار ہیں۔ پینل نے جرائم میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

    http://urdu.shiitenews.org/index.php/component/k2/item/36918-2015-09-01-09-04-42
     
  6. ‏ستمبر 03، 2015 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,866
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آپ کی ڈھٹائی اور بے شرمی پر آپ کو سلام پیش کرتا ہوں عامر صاحب۔۔۔ آپ سے آئندہ کبھی بحث نہیں کروں گا ان شاءاللہ
     
  7. ‏ستمبر 03، 2015 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,668
    موصول شکریہ جات:
    6,462
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    داعش کی درندگی ، عراق میں 80 سالہ خاتون کوزندہ جلا دیا

    [​IMG]
    شدت پسند تنظیم کے جنگجوؤں نے یزدی فرقے کی 42 عورتیں شام میں فروخت کر دیں

    بغداد(خبرایجنسیاں)عراق اورشام میں سرگرم عمل شدت پسند تنظیم داعش نے عراق میں ایک اسی سالہ عورت کو زندہ جلا دیا ۔ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق داعش کے جنگجووں نے عراق کے شمالی صوبے نینوا کے شہر موصل کے جنوب میں ایک اسی سالہ عیسائی عورت کو اس وجہ سے زندہ جلا دیا کہ اس نے داعش کے افکار کی مخالفت کی تھی ۔ داعش کے دہشت گردوں نے عراق کے کچھ علاقوں پر گزشتہ سال سے قبضہ کر رکھا ہے ۔ ادھر شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ عراق و شام داعش نے عراق کے یزدی فرقے سے لونڈیاں بنائی گئی 42 خواتین کو مشرقی شام کی دیر الزور گورنری کے المیادین شہر میں ایک نیلامی میں فروخت کر دیا ہے ۔ آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ داعشی جنگجوؤں نے یزدی فرقے کی یرغمال بنائی گئی خواتین کو المیادین کے ایک مقامی ہیڈ کوارٹر میں فروخت کیا۔ گزشتہ روز مجموعی طور پر 42 خواتین کو بیچا گیا اور ان کے بدلے میں 500 سے 2000 ڈالر تک فی کس رقم وصول کی گئی۔

    http://www.dunya.com.pk/index.php/dunya-meray-aagay/2015-06-27/588049
     
  8. ‏ستمبر 03، 2015 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,668
    موصول شکریہ جات:
    6,462
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

  9. ‏ستمبر 03، 2015 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,668
    موصول شکریہ جات:
    6,462
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    وعلیکم السلام

    میرے بھائی کیا اسلام میں یہ سب جائز ہیں ؟؟

    کیا آپ اس کو جہاد کا نام دیتے ہیں ؟؟؟

    کیا ھم اتنے بڑے عالم اور فاضل ہوگئے ہیں کہ اب ھمیں علماوں کی رہبری کی ضرورت نہیں ؟؟

    میرے بھائی تمام سلفی اور تمام اہل حدیث علماء داعش کو اسلام کے خلاف ایک فتنہ کہتے کیا وہ سب غلط ہے ؟؟؟؟

    میرے بھائی ایک سوال اور بغدادی کے شیوخ کون اور اس نے کہاں سے علم حاصل کیا ؟؟؟
     
  10. ‏ستمبر 03، 2015 #10
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,668
    موصول شکریہ جات:
    6,462
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    میرے بھائی کیا یہ سلفی اور اہل حدیث علماء آپ کے علماء نہیں ہے ؟؟؟

    یہاں پر میں آپ کو اور اپنے آپ کو نصیحت کروں گا

    حجت،اہمیت و فضائل علماء (مختصراً) ۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک طالب علم اپنا علم ایک شیخ سے حاصل کرے گا جو اسے صحیح راستہ بتائے گا- بے شک علماء رہنمائی کے مینار ہیں جو لوگوں کو الله کی کتاب اور سنت رسول صلی الله علیہ وسلم کی سمجھنے میں مدد کرتے ہیں-

    سلف نے تو اس حد تک خود کتابوں سے علم حاصل کرنے سے روکا ہے کہ ان میں سے ایک نے کہا:

    " جو کوئی کتاب کو اپنا استاد بنا لیتا ہے اسکی غلطیاں اسکے راستبازی سے زیادہ ہوں گی-


    ابن برجس:

    اے طالب علم! اگر تم علم کی بنیادوں کو کو جاننا اور حاصل کرنا چاہتے ہو تو عظیم علماء کی صحبت اختیار کرو: وہ علماء جنکی داڑھیاں سفید اور جسم کمزور ہیں اور جو علم کے حصول میں اپنا طاقت کھو بھیٹے ہیں- انکی صحبت اختیار کرو اس سے پہلے کہ وہ چل بسے، اور انکے علم کے خزانوں سے مستفید ہو اس سے پہلے کہ وو آپنے ساتھ یہ خزانے لے چلے-

    [الاوائق ، صفحہ ٢٦]

    علم الحدیث کو کس نے شروع کیا ور اسے کس نے پروان چڑھایا ؟

    ایک ایسا علم اور مطالعہ جو صرف اسلام کی خاصیت ہے- دنیا کے کسی اور مذہب میں اس جیسا کوئی طریقہ کار نہیں جو روایت کو جانچ سکے اور اور اسکی حفاظت کر سکے- اگر اصول الحدیث کو دنیا کے کسی بھی مذہب پر لاگو کیا جائے تو وہ فوراّ فنا ہو جاینگے-

    ابو العالیہ (المتوفی:قبل ١٠٠ ہ):
    عن أبي العالية (متوفى قبل المائة): «كنا نسمع الرواية بالبصرة عن أصحابرسول الله – صلى الله عليه وسلم – فلا نرضى حتى نركب إلى المدينة فنسمعها
    من أفواههم

    " ہم بصرہ میں صحابہ رسول صلی الله وسلم سے منسوب روایات سنتے تھے، لیکن ہم انھیں نہیں لیتے تب تک جب ہم مدینہ آ کر انسے خود نہ سن لیتے-"


    نوٹ:

    آج کے زمانے میں ہم تھوڑا سفر طے کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ ہم تھک گئے، لیکن آپ تصور کریں انکا کو ہزار سال پہلے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے احادیث کے لئے ہزارروں میل راستہ طے کرتے- یہ انہی لوگوں کی کاوشیں تھیں کہ آج یہ علم کا ایک بڑا ذخیرہ ہمارے ہاتھوں میں ہے- سبحان الله، الله ان سب (علماء اور طالب علموں) سے راضی ہو-

    اہل سنت میں سب سے پہلے "اسماء الرجال" پر کام امیر المومنین “شعبة بنالحجاج (المتوفی ١٦٠ ھ)” نے عراق میں شروع کیا تھا-

    علم الحدیث اتنی اہمیت کا حامل تھا اور سلف نے اس علم کی ترویج کی کہ عبداللہ ابن مبارک (المتوفی ١٨١ ھ) نے فرمایا:

    " اسناد دین کا حصہ ہیں، اسکے بغیر جو کوئی چاہے کچھ بھی کہہ دے-"

    اور 200 سال کے اندھر ہی مسلمانوں نے اسناد کے علم کو اسکے عروج تک پہنچایا-

    یہ ایک نقطہ نظر ہے- اصول الفقه کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ کہ لوگوں کہ رہمنائی انکے حالت کے مطابق کرو- چھوٹے بدعت سے لے کر بڑے بدعت کے خلاف جنگ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کفر اور دوسری گمراہیوں کی تردید کے بارے میں کیا خیال ہے؟ علم کو ہزاروں سال سے آج تک پہنچانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ان اصولوں کے تحفظ کے بارے میں کیا خیال ہے جسکا متن ہمارے پاس نہیں لیکن ان پر علماء کا اجماع موجود ہے؟ قرآن کی کی تلاوت اور تجوید کے تحفظ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اور اسی طرح یہ لسٹ کافی لمبی ہے –

    کیا ہم محض ان علماء کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے ہیں جس طرح انکا حق ہے؟ نہیں بلکہ ہم تو انھیں ہر وقت نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان سے زیادہ با علم تو ہم ہیں- الله ہم پر رحم کرے-
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں