• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : لاَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلاَّ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ
قیامت صرف شریر لوگوں پر قائم ہو گی


(2022) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ إِلاَّ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہو گی۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : لاَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ دَجَّالُوْنَ كَذَّابُوْنَ
قیامت قائم نہ ہو گی ،یہاں تک کہ دجال اور کذاب لوگ نکلیں گے


(2023) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلاَثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال پیدا ہوں گے (دجال کے معنی مکار فریبی ہیں) اور ہر ایک یہ کہے گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
(2024) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ جَابِرٌ فَاحْذَرُوهُمْ

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے :’’قیامت سے پہلے جھوٹے پیدا ہوں گے۔‘‘
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا :’’ پس ان سے ڈرو۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِيْ قِتَالِ الْمُسْلِمِيْنَ الْيَهُوْدَ
یہود سے مسلمانوں کی لڑائی کے متعلق


(2025) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَائِ الْحَجَرِ وَ الشَّجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ يَا مُسْلِمُ! يَا عَبْدَ اللَّهِ ! هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ إِلاَّ الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت قائم نہ ہو گی ،یہاں تک کہ مسلمان یہود سے لڑیں گے، پھر مسلمان ان کو قتل کریں گے حتی کہ یہودی کسی پتھر یا درخت کی آڑ میں چھپے گا تو وہ پتھر یا درخت بولے گا کہ اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ میرے پیچھے یہودی ہے، ادھر آؤ اور اس کو قتل کرو، مگر غرقد کا درخت نہیں بولے گا (وہ ایک کانٹے دار درخت ہے جو بیت المقدس کی طرف بہت زیادہ ہوتا ہے) وہ یہود کا درخت ہے۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : تَقُوْمُ السَّاعَةُ وَ الرُّوْمُ أَكْثَرُ النَّاسِ
(جب) قیامت قائم ہو گی (قیامت قریب ہو گی) تو تمام لوگوں سے زیادہ رومی (عیسائی) ہوں گے


(2026) عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ تَقُومُ السَّاعَةُ وَ الرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو أَبْصِرْ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالاً أَرْبَعًا إِنَّهُمْ لأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَ أَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ وَ أَوْشَكُهُمْ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ وَ خَيْرُهُمْ لِمِسْكِينٍ وَ يَتِيمٍ وَ ضَعِيفٍ وَ خَامِسَةٌ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ وَ أَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ

موسیٰ بن علی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ مستورد قرشی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے سامنے کہاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے :’’ قیامت اس وقت قائم ہو گی جب عیسائی سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے (یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں سے)۔‘‘ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دیکھ تو کیا کہتا ہے؟ مستورد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو کہتا ہے (تو سچ ہے)تو یہ اس لیے ہے کہ عیسائیوں میں چار خصلتیں ہیں ، وہ مصیبت کے وقت نہایت حوصلہ والے ہیں ،مصیبت کے بعد سب سے جلدی ہوشیار ہوتے ہیں، بھاگنے کے بعد سب سے پہلے پھر حملہ کرتے ہیں اور سب لوگوں میں مسکین ،یتیم اور ضعیف کے لیے بہتر ہیں اور ایک پانچویں خصلت بھی ہے جو نہایت عمدہ ہے کہ وہ بادشاہوں کے ظلم کو زیادہ روکنے والے ہیں۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِيْ قِتَالِ الرُّوْمِ، وَ كَثْرَةِ الْقَتْلِ عِنْدَ خُرُوْجِ الدَّجَّالِ
روم کی جنگ اور دجال کے نکلنے سے پہلے قتل بہت زیادہ ہونے کے متعلق


(2027) عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَائُ بِالْكُوفَةِ فَجَائَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلاَّ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ! جَائَتِ السَّاعَةُ قَالَ فَقَعَدَ وَ كَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لاَ تَقُومُ حَتَّى لاَ يُقْسَمَ مِيرَاثٌ وَ لاَ يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَ نَحَّاهَا نَحْوَ الشَّامِ فَقَالَ عَدُوٌّ يَجْمَعُونَ لْأَهْلِ الْإِسْلاَمِ وَ يَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلاَمِ قُلْتُ الرُّومَ تَعْنِي ؟ قَالَ نَعَمْ وَ تَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمُ الْقِتَالِ رَدَّةٌ شَدِيدَةٌ فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِيئُ هَؤُلَآئِ وَ هَؤُلَآئِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَ تَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِيئُ هَؤُلَآئِ وَ هَؤُلَآئِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَ تَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا فَيَفِيئُ هَؤُلَآئِ وَ هَؤُلَآئِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَ تَفْنَى الشُّرْطَةُ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلاَمِ فَيَجْعَلُ اللَّهُ الدَّبَرَةَ عَلَيْهِمْ فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً إِمَّا قَالَ لاَ يُرَى مِثْلُهَا وَ إِمَّا قَالَ لَمْ يُرَ مِثْلُهَا حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيْتًا فَيَتَعَادُّ بَنُو الأَبِ كَانُوا مِائَةً فَلاَ يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلاَّ الرَّجُلُ الْوَاحِدُ فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ ؟ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ فَجَائَهُمُ الصَّرِيخُ إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَ يُقْبِلُونَ فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَائَهُمْ وَ أَسْمَائَ آبَائِهِمْ وَ أَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ

سیدنا یسیر بن جابر سے روایت ہے کہ ایک بار کوفہ میں سرخ آندھی آگئی تو ایک شخص آیا ،جس کا تکیہ کلام ہی یہ تھا کہ اے عبداللہ بن مسعود! قیامت آئی۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور پہلے وہ تکیہ لگائے ہوئے تھے اورکہا کہ قیامت قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ تقسیم نہیں ہوگا اور غنیمت کے مال سے خوشی نہیں ہو گی (کیونکہ جب کوئی وارث ہی نہیں رہے گا تو ترکہ کون بانٹے گا اور جب کوئی لڑائی سے زندہ نہیں بچے گا تو غنیمت کے مال کی کیا خوشی ہو گی) پھر اپنے ہاتھ سے شام کے ملک کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ دشمن (نصاریٰ) مسلمانوں سے لڑنے کے لیے جمع ہوں گے اور مسلمان بھی ان سے لڑنے کے لیے جمع ہوں گے۔ میں نے کہا کہ دشمن سے تمہاری مراد نصاریٰ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! اور اس وقت سخت لڑائی شروع ہو گی۔ مسلمان ایک لشکر کو آگے بھیجیں گے جو مرنے کے لیے آگے بڑھے گا اور بغیر غلبہ کے نہ لوٹے گا (یعنی اس قصد سے جائے گا کہ یا لڑ کر مر جائیں گے یا فتح یاب ہو کر آئیں گے) پھر دونوں فریق لڑیں گے یہاں تک کہ (لڑائی میں )رات حائل ہو جائے گی تو دونوں طرف کی فوجیں لوٹ جائیں گی اور کسی کو غلبہ نہ ہو گا اور لڑائی کے لیے بڑھنے والا لشکر بالکل فنا ہو جائے گا (یعنی اس کے سب لوگ شہید ہو جائیں گے)۔ دوسرے دن پھر مسلمان ایک لشکر آگے بڑھائیں گے جو مرنے کے لیے یا غالب ہونے کے لیے جائے گا اور لڑائی جاری رہے گی، یہاں تک کہ رات حائل ہو جائے گی، پھر دونوں طرف کی فوجیں لوٹ جائیں گی اور کسی کو غلبہ نہ ہو گا اور آگے بڑھنے والا لشکربالکل فنا ہو جائے گا۔ پھر تیسرے دن مسلمان ایک لشکر کو مرنے یا غالب ہونے کی نیت سے آگے بڑھائیں گے اور شام تک لڑائی جاری رہے گی، پھر دونوں طرف کی فوجیں لوٹ جائیں گی ،کسی کو غلبہ نہ ہو گا اور وہ لشکر فنا ہو جائے گا۔ جب چوتھا دن ہو گا تو جتنے مسلمان باقی رہ گئے ہوں گے، وہ سب آگے بڑھیں گے او ر اس دن اللہ تعالیٰ کافروں کو شکست دے گا اور ایسی لڑائی ہو گی کہ ویسی کوئی نہیں دیکھے گا یا ویسی لڑائی کسی نے نہیں دیکھی ہو گی، یہاں تک کہ پرندہ ان کے اوپر اڑے گا، پھر آگے نہیں بڑھے گا کہ وہ مر کر گر جائے گا۔وہ شمار کریں گے کہ ایک ہی باپ کے سو بیٹوں میں سے ایک ہی زندہ بچا ہوگا۔ (یعنی ننانوے فیصد آدمی مارے جائیں گے اور ایک باقی رہ جائے گا) ایسی حالت میں مال غنیمت کی کونسی خوشی حاصل ہو گی اور کونسا ترکہ تقسیم کیا جائے گا؟ پھر مسلمان اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے۔ ایک پکار ان کو آئے گی کہ ان کے پیچھے ان کے بال بچوں میں (کانا)دجال آچکا ہے۔یہ سنتے ہی جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہو گا اس کو چھوڑ کر روانہ ہوں گے اور دس سواروں کو جاسوسی کے طور پر روانہ کریں گے (دجال کی خبر لانے کے لیے )۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں ان سواروں اور ان کے باپوں کے نام تک جانتا ہوں اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتا ہوں اور وہ اس دن ساری زمین کے بہتر سوار ہوں گے یا اس دن بہتر سواروں میں سے ہوں گے۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَا يَكُوْنُ مِنْ فُتُوحَاتِ الْمُسْلِمِيْنَ قَبْلَ الدَّجَّالِ
دجال سے پہلے جو مسلمانوں کو فتوحات ملیں گی


(2028) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي غَزْوَةٍ قَالَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ فَوَافَقُوهُ عِنْدَ أَكَمَةٍ فَإِنَّهُمْ لَقِيَامٌ وَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَاعِدٌ قَالَ فَقَالَتْ لِي نَفْسِي ائْتِهِمْ فَقُمْ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَهُ لاَ يَغْتَالُونَهُ قَالَ ثُمَّ قُلْتُ لَعَلَّهُ نَجِيٌّ مَعَهُمْ فَأَتَيْتُهُمْ فَقُمْتُ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَهُ قَالَ فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ فِي يَدِي قَالَ تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ قَالَ فَقَالَ نَافِعٌ يَا جَابِرُ ! لاَ نَرَى الدَّجَّالَ يَخْرُجُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُ

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ،سیدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہم ایک جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے جو اون کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ٹیلے کے پاس آکرملے ، وہ لوگ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے دل نے کہا کہ تو چل اور ان لوگوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں جا کرکھڑا ہو، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ فریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالیں، پھر میرے دل نے کہا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپکے سے کچھ باتیں ان سے کرتے ہوں (اور میرا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرے)۔ پھر میں گیا او ران لوگوں کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں کھڑا ہو گیا۔ میں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں یاد کیں، جن کو میں اپنے ہاتھ پر گنتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم پہلے تو عرب کے جزیرہ میں (کافروں سے) جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اس کو فتح کر دے گا ،پھر فارس سے جہاد کرو گے، اللہ تعالیٰ اس کو بھی فتح کر دے گا، پھر نصاریٰ سے لڑو گے روم والوں سے، اللہ تعالیٰ روم کو بھی فتح کر دے گا۔ پھر دجال سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ اس کو بھی فتح کر دے گا۔‘‘ (یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا معجزہ ہے) نافع نے کہا کہ اے جابر بن سمرہ! ہم سمجھتے ہیں کہ دجال روم فتح ہونے کے بعد ہی نکلے گا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِيْ فَتْحِ قُسْطَنْطِيْنِيَّةِ
قسطنطینیہ کی فتح کے متعلق


(2029) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتِ الرُّومُ خَلُّوا بَيْنَنَا وَ بَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ لاَ وَ اللَّهِ لاَ نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَ إِخْوَانِنَا فَيُقَاتِلُونَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لاَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا وَ يُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَائِ عِنْدَ اللَّهِ وَ يَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لاَ يُفْتَنُونَ أَبَدًا فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطَنْطِينِيَّةَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمُ الشَّيْطَانُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْلِيكُمْ فَيَخْرُجُونَ وَ ذَلِكَ بَاطِلٌ فَإِذَا جَائُوا الشَّامَ خَرَجَ فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذْ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَمَّهُمْ فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ فَلَوْ تَرَكَهُ لَانْذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ وَ لَكِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ


سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ روم کے نصاریٰ کا لشکر اعماق میں یا د ابق میں اترے گا (یہ دونوں مقام شام میں ہیں ،حلب کے قریب) ۔پھر مدینہ سے ایک لشکر ان کی طرف نکلے گا،جو ان دنوں تمام زمین والوں میں بہتر ہو گا۔ جب دونوں لشکر صف باندھیں گے تو نصاریٰ کہیں گے کہ تم ان لوگوں (یعنی مسلمانوں) سے الگ ہو جاؤ جنہوں نے ہماری بیویاں اور لڑکے پکڑے اور لونڈی غلام بنائے، ہم ان سے لڑیں گے۔ مسلمان کہیں گے کہ نہیں اللہ کی قسم! ہم کبھی اپنے بھائیوں سے الگ نہیں ہوں گے۔پھر لڑائی ہو گی تو مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر بھاگ نکلے گا، ان کی توبہ اللہ تعالیٰ کبھی قبول نہیں کرے گا اور تہائی لشکر شہید ہو جائے گا ،وہ اللہ کے پاس سب شہیدوں میں افضل ہوں گے اور تہائی لشکر کی فتح ہو گی، وہ عمر بھر کبھی فتنے اور بلا میں مبتلا نہیں ہو گے۔ پھر وہ قسطنطنیہ (استنبول) کو فتح کریں گے (جو نصاریٰ کے قبضہ میں آگیا ہو گا، اب تک یہ شہر مسلمانوں کے قبضہ میں ہے) وہ اپنی تلواریں زیتون کے درختوں سے لٹکا کر مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ شیطان یہ پکار لگائے گا کہ تمہارے پیچھے تمہارے گھروں میں دجال کا ظہور ہو چکا ہے۔ تو مسلمان وہاں سے نکلیں گے حالانکہ یہ خبر جھوٹ ہو گی۔ جب شام کے ملک میں پہنچیں گے تو تب دجال نکلے گا ۔پس جس وقت مسلمان لڑائی کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے اور اپنی صفیں سیدھی کر رہے ہوں گے کہ نماز کا وقت ہو جائے گا، اسی وقت سیدنا عیسیٰ ابن مریم [اتریں گے اور انھیں نماز پڑھائیں گے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا دشمن دجال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو ڈر سے اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور جو عیسیٰ علیہ السلام اس کو یونہی چھوڑ دیں تب بھی وہ خود بخود گھل کر ہلاک ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں سے قتل کروائے گا اور لوگوں کو اس کا خون عیسیٰ علیہ السلام کی برچھی میں دکھلائے گا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِيْ الْخَسْفِ بِالْجَيْشِ الَّذِيْ يَؤُمُّ الْبَيْتَ
بیت اﷲ کا قصد کرکے آنے والے لشکر کے زمین میں دھنس جانے کے متعلق


(2030) عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ قَالَ دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَ أَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلاَهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ ؟ وَ كَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَائَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا ؟ قَالَ يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ وَ لَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ وَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ هِيَ بَيْدَائُ الْمَدِينَةِ

عبیداللہ بن قبطیہ سے روایت ہے کہ حارث بن ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان دونوں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جو دھنس جائے گا اور یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما مکہ کے حاکم تھے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک پناہ لینے والا خانہ کعبہ کی پناہ لے گا (مراد امام مہدی علیہ السلام ہیں) تو اس کی طرف لشکر بھیجا جائے گا۔ وہ جب ایک میدان میں پہنچ جائیں گے تو دھنس جائیں گے۔‘‘ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! جو شخص زبردستی اس لشکر کے ساتھ ہو (دل میں برا جان کر)؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ بھی ان کے ساتھ دھنس جائے گا لیکن قیامت کے دن اپنی نیت پر اٹھے گا۔‘‘ ابوجعفر نے کہا کہ مراد مدینہ کا میدان ہے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِيْ سُكْنَى الْمَدِيْنَةِ وَ عِمَارَتِهَا قَبْلَ السَّاعَةِ
قیامت سے پہلے مدینہ کے گھر اور آبادی کے متعلق


(2031) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تَبْلُغُ الْمَسَاكِنُ إِهَابَ أَوْ يَهَابَ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِسُهَيْلٍ وَكَمْ ذَلِكَ مِنَ الْمَدِينَةِ؟ قَالَ كَذَا وَ كَذَا مِيلاً


سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(قیامت کے قریب مدینہ کے گھر )اہاب یا یہاب تک پہنچ جائیں گے۔‘‘ زہیر نے کہا کہ میں نے سہیل سے کہا کہ اہاب مدینہ سے کتنے فاصلے پر ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ اتنے میل پر (یعنی کافی میل دور ہے)۔
 
Top