1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علم الفواصل … توقیفی یا اجتہادی؟

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏اپریل 03، 2012۔

  1. ‏اپریل 03، 2012 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    علم الفواصل … توقیفی یا اجتہادی؟

    محسن علی​

     
  2. ‏اپریل 03، 2012 #2
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    جس طرح حق تعالیٰ نے قرآن مجید کے سمجھنے، سمجھانے اور یاد کرنے میں آسانی عطا فرمانے کی غرض سے اپنی اس کتاب کو تھوڑا تھوڑا کرکے اور سبع احرف پر نازل کیا۔ اسی آسانی کے لیے اس کو ۱۱۴ سورتوں پر تقسیم فرمایا۔ جن میں کچھ بڑی ہیں، کچھ درمیانی اور کچھ انتہائی چھوٹی حتیٰ کہ تین آیات کی۔ پھر ان سورتوں کو آیتوں پر تقسیم فرمایا اور ان کے چھوٹے چھوٹے حصے بنا دیے۔ اسی طرح رسول اللہﷺنے اور زیادہ آسانی پیدا کرنے کے لیے صحابہ﷢کے رُوبرو قرآن مجید کی آیتیں بھی شمار کیں۔ اس کو سیکھنے، سکھانے اور یاد کرنے میں مزید آسانی پیدا کرنے کی غرض سے پانچ پانچ اور دس دس آیتوں کے شمار کی تعلیم فرمائی۔اس بارے میں صحیح احادیث اور آثار بھی وارد ہوئے ہیں۔ جیسا کہ عطاء بن سائب ابی عبدالرحمن اسلمی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ہم قرآن کی دس آیات پڑھنے کے بعد اس وقت تک آپﷺسے اگلی دس آیات نہیں پڑھتے تھے جب تک کہ اس کے حلال و حرام اور اَمر و نہی سے آگاہی حاصل نہ کرلیتے۔ (مسند احمد:۲۲۳۸۴)
    اسی طرح کی ایک اور روایت حضرت اُبی بن کعب﷜، حضرت عثمان بن عفان﷜ اور حضرت عبداللہ بن مسعود﷜ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺہم کو دس دس آیتیں پڑھاتے تھے پھر جب تک ہمیں ان دس آیتوں کے احکام نہیں سکھا دیتے تھے اس وقت تک دوسری دہائی شروع نہیں کرتے تھے۔ اسی لیے ان کا کہنا ہے ک:
    ’’تعلمنا القرآن والعمل جمیعاً‘‘ (البیان فی عدآی القرآن:۳۳)
    ’یعنی ہم نے قرآن کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کے احکامات کی تعلیم بھی حاصل کی ہے۔
     
  3. ‏اپریل 03، 2012 #3
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ان سب وسعتوں کے مہیا کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ اولاً صحابہ﷢ کو اور پھر ان کے ذریعے پوری اُمت کو قرآن کی تلاوت کرنے اور اس کے ذریعہ قرب الٰہی حاصل کرنے میں آسانی نصیب ہوجائے۔ پھر صحابہy نے اس کو تابعین﷭ تک اسی طرح پہنچایا جس طرح نبی کریمﷺسے سنا تھا۔ جس طرح صحابہ﷢ عمر بھر کلام الٰہی کے الفاظ اور اس کے حروف کے نقل کرنے میں مشغول رہے، اسی طرح اس کی آیات کے شمار کی بھی حفاظت کرتے رہے۔پھر تابعین﷭نے صحابہ﷢ سے اَلفاظ اور آیات کے شمارکی تعلیم حاصل کی۔ ان سے آگے یہ تعلیم آئمہ شمار کے ذریعے پھر ہم تک پہنچ گئی۔ ذیل میں آیات کے شمار سے متعلق اَحادیث اور اَقوال صحابہ﷢ نقل کیے جاتے ہیں جن سے ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ صحابہ﷢ کو قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کا کس قدر شوق تھا۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ آپﷺسے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے آپﷺ سے آیات کی تعیین کی بھی تعلیم حاصل کی۔
     
  4. ‏اپریل 03، 2012 #4
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    شمار کے بارے میں اَحادیث ِنبویہﷺ
    حضرت ابی برزہ﷜ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ فجر کی نماز میں ساٹھ آیتوں سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔ یعنی کم از کم ساٹھ اور زیادہ سے سو آیات کی تلاوت آپﷺ فجر کی نماز میں فاتحہ کے بعد تلاوت فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری، :۵۴۱)
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیﷺنے اِرشاد فرمایا:
    ’’جس نے ایک رات میں بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں اسے وہ دونوں کافی ہوجائیں گی۔‘‘ (صحیح بخاری، ۵۰۰۹)
    حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ نبیﷺاس سورت یعنی فاتحہ کی تلاوت فرما رہے تھے سو آپﷺ ’بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ العٰلمین۔ الرحیم۔ یوم الدین۔ نستعین۔‘ پانچوں میں سے ہر ایک پر ایک ایک انگلی بند کرتے رہے اور نستعین پر پہنچ کر پانچ انگلیاں بند کرلیں۔ پھر المستقیم پر ایک انگلی کھڑی کی جس میں اِشارہ تھا کہ یہاں چھ آیتیں ہوگئیں، پھر سورت کے آخر پر ایک انگلی اور اٹھا لی جس کے معنی یہ تھے کہ سات آیتیں ہوگئیں۔(البیان فی عدآی القرآن:۶۳)
    حضرت ابودرداء﷜سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:
    ’’ جس نے سورۂ کہف کی شروع کی دس آیتیں حفظ کرلیں پھر اس کو دجال نے گھیر لیا تو وہ اُسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اس کو دجال کے فتنے سے بچالیا جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم:۱۸۸۳)
    یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ دجال کے دجالی فتنے سے اس کو بچائیں گے اور اس کی حفاظت فرمائیں گے۔
     
  5. ‏اپریل 03، 2012 #5
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    حضرت ابوہریرہ﷜سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا:
    ’’تیس (۳۰) آیتوں نے اللہ کی جناب میں ایک شخص کی سفارش کی یہاں تک کہ اس کو جنت میں پہنچا دیا اور وہ سورۃ ’’تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ‘‘ (الملک:۱) ہے۔‘‘ (جامع الترمذی: ۲۸۹۱)
    حضرت ابن عباس﷜ سے مروی ہے :
    ’’ جس نے کتاب اللہ کی ایک آیت سماعت فرمائی قیامت کے روز وہ آیت اس کے لیے نور ہوگی۔‘‘ (البیان فی عدآی القرآن:۲۳)
    حضرت اسماء بنت یزید﷜ کا کہنا ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
    اسم اعظم (یعنی اللہ کا بڑا نام) ان دو آیات میں ہے۔ ’’ وَ إِلٰھُکُمْ إِلٰہٌ وّٰحِدٌ لَآ إِلٰہَ إِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ‘‘ (البقرہ:۲؍۱۶۳) اور ’’ الٓمَّٓ٭ اللّٰہُ لَآ إِلٰہَ إِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ‘‘ (آل عمران:۳؍۱،۲،البیان فی عدآی القرآن:۲۶)
    حضرت ابودرداء﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
    ’’جس نے ایک رات میں پانچ سو سے لے کر ایک ہزار آیات تک تلاوت کیں تو اس کے لیے دو قنطار اجر ہے۔ قنطار کے قیراط کی مثال بڑے پہاڑ کی سی ہے۔‘‘ (ایضاً:۲۸)
    حضرت ابوعبدالرحمن کا کہنا ہے کہ جن حضرات نے ہمیں قرآن مجید پڑھایا وہ عثمان بن عفان﷜، عبداللہ بن مسعود﷜اور اُبی بن کعب﷜ ہیں۔ ان معلّمین نے ہمیں یہ بات بھی بتلائی کہ نبیﷺان کو دس دس آیتیں پڑھاتے تھے پھر جب تک ہمیں ان دس آیتوں کے احکام نہیں سکھا دیتے تھے اُس وقت تک دوسری دہائی شروع نہیں کراتے تھے۔ اسی لیے یہ تینوں حضرات فرماتے ہیں ’’تعلمنا القرآن و العمل جمیعاً‘‘ یعنی ہم نے قرآن کے الفاظ اور اس کے احکام دونوں چیزیں سیکھی ہیں۔ (البیان فی عدآی القرآن:۳۳)
     
  6. ‏اپریل 03، 2012 #6
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اس روایت سے آپﷺ کا صحابہ﷢ کو آیات کی تلاوت کے ساتھ ساتھ احکام کی تعلیم فرمانا اور آیات کے شمار کا پتہ چلتا ہے کہ آپﷺ صحابہ﷢کے سامنے ایک وقت میں د س آیات کی تلاوت فرماتے اور پھر اگلی دس آیات کی تلاوت اس وقت تک نہ فرماتے جب تک کہ صحابہ﷢ پہلی دس آیات کے احکام کو سیکھ نہ لیتے۔
    حضرت ابوہریرہ﷜ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
    ’’ تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ جب گھر لوٹ کر آئے تو تین حاملہ اونٹنیاں پائے جو نہایت فربہ ہوں بڑی بڑی۔ ہم نے کہا بے شک۔ آپﷺنے فرمایا پس تین آیتیں کہ ان کو آدمی نماز میں پڑھتا ہے بہتر ہیں اس کے لیے تین اونٹنیوں سے جو بڑی اور موٹی ہوں۔‘‘ ( صحیح مسلم:۱۸۷۲)
    شمار آیات کے بارے میں اس کے علاوہ اور بھی بہت سے آثار و اَحادیث آئی ہیں۔ اس میں ذرہ بھی شک نہیں کہ نبیﷺکا فاتحہ کی آیات کا، سورۃُ الملک کی آیات کا شمار بتانا اور سورت کے اوّل یا آخر میں سے کسی خاص مقام کی آیتوں کے مخصوص شمار پر ثواب کی تعیین فرمانا لغو اور بے فائدہ نہیں تھا بلکہ اس لیے تھا کہ لوگوں کو آیات کا شمار معلوم کرنے کی طرف متوجہ فرمائیں تاکہ ان کو مخصوص آیات کی تلاوت کا ثواب میسر آئے۔ ان سب اَحادیث سے فواصل کی تعلیم اور اس کے حفظ کی طرف توجہ کرنا معلوم ہوتا ہے، نیز یہ کہ فواصل کا شمار آپﷺ سے مروی ہونا پتہ چلتا ہے جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فواصل کی تعیین توقیفی ہے نہ کہ قیاسی۔
     
  7. ‏اپریل 03، 2012 #7
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    شمار آیات سے متعلق اَقوال صحابہ﷢
    صحابہ﷢ نے جس طرح نبی کریمﷺسے دیگر علوم قرآنیہ حاصل کیے اسی طرح آیات کا شمار بھی انہوں نے آپﷺسے حاصل کیا جیسا کہ اُوپر گزر چکا ہے۔ حضرت عثمان بن عفان﷜، حضرت عبداللہ بن مسعود﷜ اور حضرت اُبی بن کعب﷢سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ ہمیں دس آیات کی قراء ت کے ساتھ ساتھ اس کے احکامات بھی سکھاتے اور پھرجب تک ہم ان دس آیات کو سیکھ نہ لیتے آپﷺ اگلی دس آیات کی قراء ت نہ فرماتے۔(مسند احمد:۲۲۳۸۴)
    نبی کریمﷺسے شمار کی تعلیم تو سب صحابہ﷢ نے کی لیکن شما ر آیات میں مشہور ابن عمر﷜، ابن عباس﷜، انس بن مالک﷜ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہوئے۔ یہ تمام صحابہ﷢ اپنی نفلی نمازوں میں بھی اپنی انگلیوں کے پوروں پر آیات کا شمار کیا کرتے تھے تاکہ ان کے ذریعے اجر موعود کو پاسکیں۔
     
  8. ‏اپریل 03، 2012 #8
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما
    امام نافع﷫ سے رو ایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نفلی نماز میں قرآن کی آیات کا شمار کیا کرتےتھے۔(البیان فی عدآی القران:۴۱)
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
    ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس﷜ نماز میں آیات کا شمار کیا کرتے تھے۔ (محولہ بالا)
     
  9. ‏اپریل 03، 2012 #9
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما
    حضرت ثابت﷜ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت انس بن مالک﷜ نماز میں آیات کا شمار کیا کرتے تھے۔ (ایضاً:۴۲)
    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
    حضرت قاسم﷫ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نماز میں آیات کا شمار کیا کرتی تھیں۔ (البیان فی عدآی القرآن:۴۲)
    مندرجہ بالا تمام روایات جو حضرت عبداللہ بن عمر﷜، ابن عباس﷜، انس بن مالک﷜ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نماز میں آیات کے شمار سے متعلق آئی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپﷺ کا صحابہ﷢ کو نماز میں آیات کے شمار پر ابھارنا تھا۔ جب صحابہ﷢ آیات کے شمار کا نماز میں اس قدر اہتمام فرماتے تھے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ نماز کے باہر اس کی تعلیم و تلقین کا اہتمام نہ فرماتے ہوں۔ نماز کے علاوہ بھی صحابہ﷢ کا آیات کو شمار کرنا ذیل کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود﷜سے مروی ہے کہ جس نے قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کی آیات کا شمار بھی کیا تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ ایک تلاوت کا اور دوسرا شمار کرنے کا۔ (شرح المخللاتی:۹۵)
    صحابہ﷢نے نبی کریمﷺسے آیات کا شمار دیکھ کر اپنے بعد آنے والوں یعنی تابعین﷭کو اس کی تعلیم دی اور اس کو شمار کرنے پر ابھارا۔
     
  10. ‏اپریل 03، 2012 #10
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اَقوال تابعین﷭
    تابعین میں سے چوبیس لوگوں کے نام تقریباً ہمارے سامنے آتے ہیں جو آیات کے شمار میں مشہور ہیں ان اَئمہ کی نسبت مدینہ، کوفہ، مکہ، بصرہ اور شام کی طرف کی جاتی ہے۔
    اہل مدینہ میں
    عروہ بن زبیر، عمر بن عبدالعزیز، نافع بن جبیر بن مطعم اور یزید بن رومان﷭۔ (البیان فی عدآی القرآن:۴۳)
    اہل کوفہ میں
    ابوعبدالرحمن السلمی، زر بن حبیش، سعید بن جبیر، شعبی، یسیر بن عمرو، ابراہیم النخعی، یحییٰ بن وثاب، خثیمہ بن عبدالرحمن اور عاصم بن ابی النجود﷭۔(البیان فی عدآی القرآن:۴۳)
    اہل مکہ میں
    عطاء بن ابی رباح، طاؤس، ابن ابی ملیکۃ اور مغیرہ بن حکیم یمانی﷭۔ (ایضاً)
    اہل بصرہ میں
    حسن، ابن سیرین، مالک بن دینار، ثابت البنانی، ابومجلز اور حبیب بن الشہید﷭۔(ایضاً)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں