1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غلط العام اور غلط العوام الفاظ

'بلاغت' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏دسمبر 28، 2011۔

  1. ‏دسمبر 29، 2011 #11
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    ممنون: مَنَّ يَمُنُّ(احسان کرنا) سے اسم مفعول ہے۔
     
  2. ‏دسمبر 29، 2011 #12
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    جزاک اللہ ۔ لیکن یہ تو عربی قواعد کی رو سے ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اردو میں بھی ’’ممنون‘‘ اسم مفعول کے طور پر مستعمل ہے۔ گو کہ اردو میں بہت سے الفاظ عربی ، فارسی وغیرہ سے لئے گئے ہیں لیکن بہت سے الفاظ ’’مشرف بہ اردو ‘‘ ہونے کے بعد اس کے قواعد اور معنی تک اصل زبان سے تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے، جو ضروری نہیں کہ مستند بھی ہو، کیوں کہ میں اردو لسانیات کا محض ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، استاد نہیں۔
     
  3. ‏دسمبر 29، 2011 #13
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    کون سی بحث کس زمرے میں شروع کر دی۔ بحث تو بہت علمی ہے ، اگر اسے ادب کے زمرے میں منتقل کردیں تو مناسب ہو گا۔ پہلے تو اس امید پر کچھ نہیں لکھا کہ ان شاءاللہ بحث طوالت اختیار نہ کرے گی۔ ویسے یہ گفتگو ہے تو بہت سود مند کہ انسان الفاظ کے استعمال میں اپنی غلطیوں کی اصلاح کر سکے، اسے جاری بھی رہنا چاہئے مگر بہتر یہ ہی ہو گا کہ ادب کے زمرے میں منتقل ہو جائے!! یہ میرا نکتہ نظر ہے ! غلط بھی ہو سکتا ہے!!
    جزاک اللہ!
    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔
     
  4. ‏جنوری 02، 2012 #14
    مفتی عبداللہ

    مفتی عبداللہ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 21، 2011
    پیغامات:
    518
    موصول شکریہ جات:
    2,176
    تمغے کے پوائنٹ:
    171

    قاعدہ یھی ھے کہ منقول اور منقول عنہ کی درمیان مناسبت ضروری ھوتاھے یعنی جو لفظ جس زبان سے نقل کی گیی ھو ان ان کو اسی طرح پڑھنا ضروری ھے مثلا لوگ کھتے ھیں میں نے فلان کی ساتھ مناظرہ کیا ظاء کی زیر کی ساتھ یہ لفظ غلط ھے صحیح لفظ ھے ظاء کی زبر کی ساتھ کیونکہ یہ عربی کا لفظ ھے اور مصدر ھے باب مفاعلہ سے اور باب مفاعلہ پر کی عین پر زبر آتاھے زیر نھی یھاں بھی ممنون لفظ عربی سے منقول ھے اور عربی میں اسم مفعول ھے تو اسم مفعول ھی استعمال ھوگا اردو میں بھی
     
  5. ‏جنوری 02، 2012 #15
    مفتی عبداللہ

    مفتی عبداللہ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 21، 2011
    پیغامات:
    518
    موصول شکریہ جات:
    2,176
    تمغے کے پوائنٹ:
    171

    جمعہ کی خطبہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کی شان میں ایک لفظ آتا ھے انہ تعالی جواد کریم یھاں لفظ جواد واوپر صرف زبرھے تشدید نھی اس کا معنی ھے سخی لیکن کم علمی کی وجہ سے بھت سارے خطیب حضرات اس کو پڑھتے ھیں واو کی اوپر زبر شد کی ساتھ یہ بالکل غلط ھے کیونکہ شد کی ساتھ اس کا معنی بنتاھے مظبوط گھوڑا نعوذ باللہ یہ تو اللہ تعالی کو گالیاں دینے ھے اسلیے ناطرین تصحیح کرواے
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 02، 2012 #16
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    سب سے پہلے تو منتظمین کا شکریہ ادا کروں گا ( فی الحال ’’مشکور‘‘ یا ’’ممنون‘‘ نہیں ہوتا۔ ہا۔ ہا۔ ہا) کہ انہوں نے اس لسانی بحث کو ایک الگ دھاگے میں منتقل کیا، اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ یقینا" اس بحث سے ہم بہت کچھ سیکھیں گے۔

    برادرم عبد اللہ! آپ کہتے ہیں کہ ممنون چونکہ عربی میں اسم مفعول ہے لہٰذااردو میں بھی اسے مفعول ہی ہونا چائے۔، گویا اگر میں یہ کہنا چاہوں کہ اس اطلاع پرمیں آپ کا شکر گذارہوں تو اس مفہوم میں، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ’’میں آپ کا مشکور ہوں‘‘ اور نہ ہی یہ کہہ سکتا ہوں کہ ’’میں آپ کا ممنون ہوں‘‘۔ کہ عربی میں یہ دونوں الفاظ اسم مفعول ہیں۔ حالانکہ اردو زبان و ادب میں اسی مفہوم میں یہ دونوں فقرے زبان زد خاص و عام ہیں۔ تاہم ماہرین اردو زبان کا کہنا ہے کہ:

    ’’میں آپ کا مشکور ہوں‘‘ = ’’غلط العوام‘‘ ہے، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
    ’’میں آپ کا ممنون ہوں‘‘ = ’’غلط العام‘‘ ہے، جسے اب اردو زبان میں قبول کرلیا گیا ہے

    غلط العام کی مثالیں:
    قلفی، آئس کریم ایک قسم ہے۔ اس کا اصل نام ’’قفلی‘‘ تھا کیوں کہ اس کی تیاری میں ’’قفل‘‘ (بہ معنی تالا) سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ پہلے یہ بہ طورغلط العوام ’’قلفی‘‘ بنا اور بعد ازاں یہ ’’غلط العام‘‘ کا درجہ اختیار کرگیا۔ اب تمام اردو لغت میں یہ لفظ قلفی ہی ملتا ہے اور اساتذہ بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔

    باقی زبانوں کا تو مجھے اتنا علم نہیں۔ لیکن اردوکے بارے میں مجھے معلوم ہے کہ اس میں بہت سی زبانوں کے الفاظ کو یا تو بعینہ قبول کرلیا گیا ہے، یا پھر اسے توڑ مروڑ کر ’’مشرف بہ اردو‘‘ کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہوا ہے کہ عربی، فارسی، ہندی، انگریزی وغیرہ کے بہت سے الفاظ تو پورے کے پورے شامل اردو کئے گئے ہیں، لیکن ان کے معنی، اردو میں تبدیل ہو گئے ہیں یا تبدیل کردئیے گئے ہیں۔ اور اب یہ تبدیل شدہ معنی کے ساتھ ہی اردو میں مستعمل ہیں۔ ان شاء اللہ فرصت ملنے پر ایسے الفاظ کو یہاں پر پیش کرنے کی کوشش کروں گا

    امید ہے کہ یہ دھاگہ اہل علم کے لئے دلچسپی کا باعث بنے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 02، 2012 #17
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    يوسف ثاني بھائی مفید معلومات کیلیے آپ ہمارے مشکور ہیں ۔۔
    عربی زیان میں جب اس طرح کے مسائل کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ساتھ ساتھ اہل علم کے حوالے بھی ذکر کیے جاتے ہیں ۔۔ کہ فلأں لغوی کی یہ رائے ہے اور اس کی دلیل یہ ہے ۔۔۔ یا فلاں کتاب میں یہ لکھا ہے ۔۔۔وغیرہ ۔۔۔۔
    تو کیا اردو زبان میں اس طرح کے مسائل میں دلیل یا حوالہ کی ضرورت ہے ؟ یا پھر اس کو بھی اردو او رعربی میں پائے جانے والے فروق میں سے سمجھا جائے ۔۔۔ ؟
    باقی اس طرح کی مفید معلومات کیلیے ہم آپ کا مکرر شکریہ ادا کرتےہیں ۔۔۔ اور آپ کی یہ کاوش بہت پسند آئی ہے ۔۔۔
     
  8. ‏جنوری 02، 2012 #18
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    یہ بھی کہا گیا کہ "مشکور" صحیح لفظ نہیں ؛ اس کے بجائے "متشکر" یا "شاکر" کہنا چاہیے۔ مولفین قاموس نے لکھا ہے کہ مشکور بہ معنی ممنون نہیں۔ اور اس پر اظہار تعجب کیا ہے کہ مولانا شبلی نے ایک شعر میں یوں کیسے لکھ دیا۔

    آپ کے لطف و کرم سے مجھے انکار نہیں
    حلقہ در گوش ہوں ممنون ہوں مشکور ہوں میں​

    مولفین آصفیہ و نور بھی اس لفظ سے کچھ خوش نہیں:
    اگر ممنون و مشکور کے بجا ئے ، ممنون و شاکر کہیں تو بجا ہے۔ (آصفیہ)

    اہل علم اس معنی میں استعمال نہیں کرتے۔ مشکور، صفت اس شخص کی ہوگی جس نے احسان کیا ہے، نہ اس شخص کی جس پر احسان کیا گیا ہے۔ (نور)

    عربی قواعد کے لحاظ سے لغت نویسوں کا فیصلہ بالکل صحیح ہے ، لیکن ایک دوسری زبان ان قواعد کی پا بند کیوں ہو! مشکور، بہ معنی شکرگزار، آج بھی برابر استعمال ہوتا ہے اور پہلے بھی بے تکلف استعمال کیا گیا ہے۔ مولف نور نے لکھا ہے کہ تاہم اہل علم اس معنی میں استعمال نہیں کرتے؛

    مولانا سید سلیمان ندوی (نقوش سلیمانی، ص98) پنڈت وتاتریہ کیفی نے لکھا ہے:
    جب "مشکور" مدتوں سے "احسان مند" کے معنی میں استعمال ہورہے ہیں اور متکلم اور سامع دونوں کا ذہن انھی معنی کی طرف جاتا ہے، تو اب قاموس اور صراح سے فتویٰ لے کر ، ان الفاظ کو اردو سے خارج کرنے میں کیا مصلحت ہے؟ (منثورات، ص 164)

    چند مزید مثالیں:
    جو کچھ ہو سکے وہ لکھا کرو اور ممنون و مشکور کیا کرو۔
    امیر مینائی(مکاتیب امیر مینائی، مرتبہ احسن اللہ خاں ثاقب، طبع دوم، ص 170)

    ان کے سبب سے میں آپ کا نہایت ممنون و مشکور ہوں۔
    سرسید (مکاتیب سرسید، مرتبہ مشتاق حسین ، ص 274)

    آپ کا خط پہنچا، میں ممنون و مشکور ہوں۔
    سید حسن بلگرامی (تاریخ نثر اردو، ص 598)

    خادم آپ کی عنایت بے غایت کا حد درجہ ممنون و مشکور ہوا۔
    ابوالکلام آزاد (مرقع ادب، ص 45)

    گو لفظ ’’ممنون‘‘ تو اردو زبان میں متفقہ طور پر ’’شکر گذار‘‘ یعنی اسم فاعل کے طور پر ہی استعمال ہورہا ہے۔ (دیکھئے مختلف اردو لغات) لیکن ’’مشکور‘‘ کو بھی بہت سے علمائے ادب نے بطور اسم فاعل استعمال کیا ہے۔ تاہم اس بارے میں ایک دوسری رائے بھی موجود ہے۔ اور میں ذاتی طور پراُس مکتبہ فکر کا حامی ہوں جو ’’مشکور‘‘ کو بطور اسم فاعل استعمال کرنے کے مخالف ہیں۔
     
  9. ‏جنوری 02، 2012 #19
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    تصحیح: آخری جملہ یوں ہے:
    اور میں ذاتی طور پراُس مکتبہ فکر کا حامی ہوں جو ’’مشکور‘‘ کو بطور اسم فاعل استعمال کرنے کے مخالف ہیں۔

    برائے منتظمین: نہ جانے کیوں کئی دنوں سے (١) میرا جواب فورا" پوسٹ نہیں ہوتا، بلکہ کافی دیر بعد نظر آتا ہے۔ (٢) پیغام کی تدوین نہیں ہوتی، اسی لئے یہاں وضاحت کر رہا ہوں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏جنوری 02، 2012 #20
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    یہاں اور یہاں دیکھئے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں