1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غوثِ اعظم کون ہے ؟

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 31، 2015۔

  1. ‏اگست 05، 2015 #41
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (المؤمن: ٦٠)

    تمہارا رب کہتا ہے ''مجھے پکارو میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل وخوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

    اِس آیت کی تفسیر رسول اللہﷺ اپنی زبان مبارک سے یوں فرماتے ہیں:

    عن النعمان بن بشیر قال: سمعت النبیﷺ یقول: الدُّعَاءُ ھُوَ الۡعِبَادَۃُ ثم
    قرأ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ


    (الترمذی، مسند احمد، ابن ماجة، وصححه الألبانی)

    نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’دُعا ہی تو اصل عبادت ہے‘‘ اور تب آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی

    وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ

    ’’تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو۔ میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خودسر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل وخوار ہو کرجہنم میں داخل ہوں گے‘'


    دُعاء جب عبادت ہے اور عبادت کی جان ہے تو پھر اس کو غیر اللہ کے لیے روا رکھنا غیر اللہ کی عبادت ہوئی اور غیراللہ کی عبادت کرنا شرکِ اکبر۔

    وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَوَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاء وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ(الاحقاف: ۵،۶)

    آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی دُعا قبول نہ کرسکیں بلکہ اس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے، اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادت سے صاف انکار کر جائیں گے''۔

    آیت کے الفاظ ] أَعْدَاء وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ[ سے واضح ہوا کہ اللہ کے سوا ’’پکاری جانے‘‘ والی ہستیاں قیامت کے روز اپنے ’’پوجے جانے‘‘ کے اس فعل سے براءت کریں گی۔ چنانچہ (سورہ مومن کی گزشتہ آیت کی موافقت میں سورۃ الاحقاف کی اِس آیت کے اندر) ان ہستیوں کے ’’پکارا جانے‘‘ کو ’’انکی عبادت‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

    بنا بریں عیسائیوں کا 'یسوع' کو پکارنا شرک ہے۔ ('یسوع' سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو کہ اللہ کے ایک رسول ہیں)۔ عیسیٰ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارنا شرک اکبر ہے توعلی رضی اللہ عنہ کو مدد کے لیے پکارنا شرک اکبر کیوں نہ ہوگا؟ مالک الملک کو چھوڑ کر کسی بھی ’غوث‘، کسی بھی 'پنجتن پاک'، کسی بھی ’غریب نواز‘ یا کسی بھی ’دست گیر‘ کو مشکل کشائی اور حاجت روائی کے لیے پکارنا عین یہی حکم رکھتا ہے۔ کوئی کسی مخلوق'داتا' یا ’لجپال‘ یا کسی بھی قبر والے کو پکارے اور اس سے صحت، رزق یا اولاد کا سوالی ہو، شرکِ اکبر کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایسے واقعات کے خلاف اُمت کا وہی ردعمل ہونا چاہیے جو کہ کاٹھ یا پتھر کے بتوں کو پوجنے کے خلاف۔ کیونکہ وہ بھی شرکِ اکبر ہے اور یہ بھی۔

    امام محمد التمیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

    ہمارے اِس دور کے بعض مشرک رسول اللہ ﷺ کے دور کے مشرکوں سے بھی بدتر ہیں اور وہ اس طرح کہ قرآن میں اُن کی بابت ذکر ہوا ہے کہ وہ عام حالات میں تو ضرور مخلوق ہستیوں کو پکارتے لیکن جب منجدھار میں کشتی ڈولنے لگتی تو وہ ایک خدا کو ہی خالصتاً مدد کے لیے پکارتے، جیساکہ اِس فصل کی شروع آیت میں بھی یہ مذکور ہے۔ البتہ آج کے مشرک کڑے سے کڑے وقت میں بھی پکاریں گے تو اپنی ان خاص ہستیوں کو ہی۔ دعاء بمعنیٰ عبادت
     
  2. ‏اگست 05، 2015 #42
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جی بالکل، بلکہ فورم کے علماء کو خاص کر اس طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ یہ عقائد کا معاملہ ہے اور عقائد کے معاملے میں اہل شرک و بدعت نے کافی سارے مغالطے پیدا کر دئیے ہیں، میں خود سوچ رہا ہوں کہ شیخ کفایت اللہ سنابلی صاحب سے گزارش کروں کہ وہ ایک مدلل کتاب "عقیدہ توحید" پر بھی لکھیں، جس طرح انہوں نے تفصیلی کتاب یزید کے موضوع پر لکھی ہے، یزید کا معاملہ تو پھر بھی اہل علم کے مطابق سکوت کا ہے جبکہ عقیدہ توحید کا معاملہ دین کی اساس ہے، اُس کتاب میں وہ اہل شرک و بدعت کی طرف سے بیان کردہ مغالطات کا رد اور ضعیف و موضوع روایات کی جانچ پرکھ کا تفصیلی کام کر لیں، ایسا کرنے سے ہمارے لئے دعوت کا کام آسان ہو جائے گا۔ ان شاءاللہ

    @ابن داؤد بھائی
    @اسحاق سلفی بھائی
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 05، 2015 #43
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مزید فیس بک پر کئی لوگوں کو یہ پوائنٹ سینڈ کر دیا ہے کہ وہ علماء سے اس کا محققانہ جواب پوچھیں، اور خود بھی علماء کو بھیج دیا ہے، جو بھی جواب آئے گا پھر وہ ادھر پیش کر دیں گے ان شاءاللہ

    کیونکہ بہتر یہی ہے کہ بجائے اپنی طرف سے کچھ بولنے کے، جس مسئلے پر علم کی کمی ہو پہلے اس مسئلے پر تحقیق کر لینی ضروری ہے۔ الحمدللہ
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 05، 2015 #44
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    میرے بھائی سادہ سا سوال پوچھا ہاں یہ نا میں جواب دے دیں بات کو مت گمھائیں -

    کیا آپ ان چاروں کو جنتی مانتے ہیں ؟؟؟
     
  5. ‏اگست 05، 2015 #45
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اس پوسٹ پر میں نے یہی اعتراض اٹھایا ہے

    بریلویوں کا شکوہ اہلحدیثوں سے - آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہیں

    http://forum.mohaddis.com/threads/ب...یثوں-سے-آپ-کا-اس-بارے-میں-کیا-کہنا-ہیں.21537/
     
  6. ‏اگست 05، 2015 #46
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069


    وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَومِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَوَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاء وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ(الاحقاف: ۵،۶)

    آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی دُعا قبول نہ کرسکیں بلکہ اس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے، اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادت سے صاف انکار کر جائیں گے''۔

    آیت کے الفاظ ] أَعْدَاء وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ[ سے واضح ہوا کہ اللہ کے سوا ’’پکاری جانے‘‘ والی ہستیاں قیامت کے روز اپنے ’’پوجے جانے‘‘ کے اس فعل سے براءت کریں گی۔ چنانچہ (سورہ مومن کی گزشتہ آیت کی موافقت میں سورۃ الاحقاف کی اِس آیت کے اندر) ان ہستیوں کے ’’پکارا جانے‘‘ کو ’’انکی عبادت‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

    [​IMG]
     
  7. ‏اگست 05، 2015 #47
    arshadahmad.pk

    arshadahmad.pk مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 14، 2015
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    uploadfromtaptalk1438779304258.jpg
     
  8. ‏اگست 05، 2015 #48
    arshadahmad.pk

    arshadahmad.pk مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 14، 2015
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    uploadfromtaptalk1438779352286.jpg
     
  9. ‏اگست 05، 2015 #49
    arshadahmad.pk

    arshadahmad.pk مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 14، 2015
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    uploadfromtaptalk1438779482687.jpeg
     
  10. ‏اگست 05، 2015 #50
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    پہلے آپ اتنا بتادیں کہ تاکہ فیصلہ ہو جائے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا اپنے درباریوں سے تخت لانے کے لئے مدد مانگنا مافوق الاسباب تھا یا ماتحت الاسباب
    1۔جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار سجا تھا وہاں سے ملکہ بلقیس کا تخت کتنے فاصلے پر تھا یعنی کتنے دن کی مسافت پر تھا ؟
    2۔اس تخت کا وزن کتنا تھا ؟
    3۔ اس تخت کا حجم کتنا تھا ؟

    وہاں بھی میں یہ عرض کیا تھا کہ سوال یہ نہیں کہ تخت کون لایا سوال یہ تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا اپنے درباریوں سے تخت لانے کے مدد مانگنا ماتحت الاسباب تھا یا ما فوق الاسباب ؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں