1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غیر سرکاری روئیت ھلال کمیٹیوں کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟؟؟

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 15، 2015۔

  1. ‏جولائی 24، 2015 #41
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی یہ عبداللہ بھائی محترم عبدالمالک مجاہد حفظہ اللہ (دارالسلام والے)م کے بھتیجے ہیں انکی مسجد میں ہی میں جمعہ پڑھاتا ہوں اور وہیں اعتکاف بیٹھا تھا جہاں پر دوران اعتکاف ایک کلاس میں سوال ہوا تھا پھر اس پر درس ہوا تھا اور سوال و جواب ہوئے تھے جو محترم عبداللہ بھائی نے ریکارڈنگ سے کچھ نہ کچھ ترتیب دے کر لکھ دیا مگر کچھ باتیں چھوڑ گئے وہ بعد میں میں وضاحت کر دیتا ہوں اور آپ کے سوال کی بھی ان شا$اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 25، 2015 #42
    sabm90

    sabm90 مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 11، 2015
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    اکثریت کو مشرک قرار دینا درست ہے؟
    الہ کا معنی صرف حاجت روا اور مشکل ہوتا ہے؟
     
  3. ‏جولائی 26، 2015 #43
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی کون کس اکثریت کو مشرک قرار دے رہا ہے اسکی سمجھ نہیں آئی
    اوپر تو صرف اتنا بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھنے والے سے توحید کی گواہی لی تھی اور انکو کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ نے لوگوں کی اکثریت کو مشرک قرار دے دیا ہے
    محترم بھائی یہ کسی کو مشرک قرار دینا نہیں بلکہ نقلی دلیل یعنی صدیث رسول اور عمل رسول موجود ہے اور اگر آپ کو عقلی دلیل بھی چاہئے تو وہ بھی ہے کہ آپ کی عقل بھی اسکی اجازت نہیں دے گی البتہ ابھی لاشعوری طور پر آپ کو اسکا ادراک نہیں ہو رہا جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت وہ آیت یاد نہیں رہی تھی کہ وما محمد الا رسول
    آپ کے عقل کے مطابق بات یہ ہے کہ کوئی انسان آپ سے کسی عورت کا رشتہ لینے آئے تو اور وہ کہے کہ میں مسلمان ہوں اور اسکی ایمانداری وغیرہ کی گواہی آپ کو معاشرے سے مل جائے مگر اسکے عقیدہ یعنی بریلوی دیوبندی یا اہل حدیث ہونے کا علم آپ کو نہ ہو تو کیا خالی اسکے مسلمان کہنے سے اسکو دینے پر تیار ہو جائیں گے گر آپ نے س سے عقیدہ پوچھا تو کیا آپ نے اس علاقے میں رہنے والی کثریت کو مشرک قرار دے دیا
    محترم بھائی معذرت کے ساتھ میرے خیال میں ایسا نہیں ہو چاہئے کیونکہ اس طرح تو پھر جب ناکے پر پولیس والے ہمارے کاعغات چیک کرتے ہیں تو ہم انکو کہ سکتے ہیں کہ آپ ہمیں کار چور سمجھتے ہیں اسی طرح سکول مین داخلہ کے وقت چیزیں چیک کرنا اور ائیرپورٹ پر چیزیں چیک کرنا اور حج پر چیزیں چیک کرنا پھر کس زمرے میں آئے گا
    پس آپ بھی اپنی زندگی میں یہ اصول کبھی نہیں بنائیں گے مگر ابھی تک شاید لاشعوری طور پر بات ہوئی تھی جس طرح عمر رضی اللہ عنہ سے بات ہو گئی تھی واللہ اعلم

    محترم بھائی یہاں بھی آپ کو لاشعوری غلطی لگی ہے ورنہ جس طرح کا ماحول ہوتا ہے اسی طرح کا الہ کا معنی کر کے سوال پوچھا جا سکتا ہے مثلا آپ نے کسی مرزائی کو مسلمان کرنا ہے تو اس وقت آپ خالی اس سے کلمہ نہیں پڑوائیں گے کیونکہ وہ تو پڑھ لے گا مگر محمد رسول اللہ کے معنی کا اس سے اقرار کروائیں گے اور محمد رسول للہ کے معنی میں بھی کافی تفصیل ہے آپ صرف اس معنی کا اقرار کروائیں گے کہ انکے بعد کوئی اور نبی نہیں کیونکہ باقی معاملات پر اسکا اختلاف نہیں
    اسی طرح الہ کے معنی تو بہت سے ہیں جن میں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا بھی ہے مگر چونکہ اکثریت کی بیماری اسی مشکل کشا میں ہے تو ان سے اقرار اسی چیز کا کروایا جائے گا یہی کچھ ہم کرتے ہیں اور آپ بھی اسی کو مانتے ہیں مثلا اوپر والی مثال میں رشتہ دینے پر جب آپ پوچھیں گے تو وہاں وہ لا الہ الا اللہ پڑھ دے تو کیا آپ اسکا موحد ہونا مان لیں گے یا پھر اس سے پوچھیں گے کہ اللہ کے علاوہ کسی کو حاجت روا یا مشکل کشا تو نہیں سمجھتے آپ سب سے پہلے یہی پوچھیں گے اور اسی طرح علماء اہل حدیث بھی تقاریر میں اللہ کے مشکل کشا اور حاجت روا کی ہی بات کرتے نظر آتے ہیں واللہ اعلم
     
  4. ‏جولائی 26، 2015 #44
    sabm90

    sabm90 مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 11، 2015
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    مین کمیٹی کے ممبران کے بارے میں سوال کررہا تھا۔

    دوسری بات واضح ہو گئ.جزاکاللہ
     
  5. ‏اگست 19، 2015 #45
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    اصل یہ ہے کہ اختلاف مطالع معتبر نہیں.لیکن یہ مسئلہ اجتماعی نوعیت کا ہے اس لیے جمہور علما کی پیروی کرنی چاہیے.باقی جہاں تک شرک کا مسئلہ ہے تو انھیں تاویل یا جہالت کا عذر دیا جائے گا.پس کلمہ گو کی رویت حجت ہے الا یہ کہ اس کی معین تکفیر کی جا چکی ہو.واللہ اعلم
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 22، 2015 #46
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی جب اختلاف مطالع میں جمہور کی پیروی کرنی ہے تو جہالت کا عذر دینے میں بھی جمہور کی پیروی کرنی چاہئے
    اور میرے لحاظ سے جمہور اہل حدیث کے ہاں شیعہ کے لئے جہالت اور تاویل کا عذر بالکل نہیں بلکہ دیکھا جائے تو بریلوی کے لئے بھی جمہور اہل حدیث علماء جہالت و تاویل کا عذر نہیں دیتے اور عرب علماء کا بھی یہی فتوی ہے کہ جہاں انکو دعوت دینے والے موجود ہوں چاہے چند ہی اہل حدیث ہوں مگر وہ قبول نہ کرتے ہوں یا اعراض کرتے ہوں تو انکے لئے جہالت کا عذر اور تاویل کا عذر ختم ہو جاتا ہے ورنہ پھر یہ عذر تو ہندو کو بھی دیا جا سکتا ہے
    اب اگر آپ یہ کہیں کہ جمہور اہل حدیث علماء کیسے جہالت اور تاویل کا عذر نہیں دیتے تو محترم بھائی یہاں ظاہری باتوں کو دیکھنے کی بجائے پردہ اٹھا کر اندر کی صورتحال دیکھی جائے گی کہ جمہور اہل حدیث علماء سے اگر کسی شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنے یا انکی مسجد میں جا کر جمعہ پڑھنے کا فتوی لیا جائے یا بریلوی کے پیچھے جمعہ پڑھنے کا فتوی لیا جائے یا نماز کو چھوڑ کر انکو اپنی بیٹی کا رشتہ دینے کا فتوی لیا جائے جبکہ وہ شیعہ یا بریلوی باقی لحاظ سے ایماندار اور نیک سیرت ہو تو پھر بھی کوئی اہل حدیث عالم اسکو اپنی بیٹی کا رشتہ دینے کا فتوی نہیں دے گا یہی اتنی واضح اور نہ جھٹلائی جا سکنے والی گواہی ہے کہ جمہور اہل حدیث علماء شیعہ یا بریلوی کو جہالت و تاویل کا عذر نہیں دیتے واللہ اعلم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں