1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قراء اتِ قرآنیہ اور مستشرقین

'استشراق' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اکتوبر 04، 2011۔

  1. ‏اکتوبر 04، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    قراء اتِ قرآنیہ اور مستشرقین

    ترجمہ: حافظ محمد زبیر
    اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے جو صحیح، قطعی اور متواترہ احادیث سے ثابت ہے۔ قراء نے قرآن کی قراء ات اس کے حروف کی روایات اور اس کے مختلف لہجات کو اپنے اساتذہ سے براہ راست سماع کے ذریعے حاصل کیا۔ یہاں تک کہ ان کی اسناد درجہ بدرجہ اللہ کے رسول ا تک جا پہنچتی ہیں۔
    یہ بات مسلمانوں کے علم میں ہے کہ اللہ کے رسول ا نے اس قرآن کومعروف قراء ات کے ساتھ لوگوں کو پڑھ کر سنایا اور انہیں ان قراء ات کے ساتھ قرآن کی تعلیم بھی دی۔ یہ قراء ات صحیح اور متواتر اسانید سے ثابت ہیں۔(۱) اور یہ بات اتنی معروف ہے کہ جو شخص علومِ قرآن اور قراء ات سے ذرا بھی شغف رکھتا ہے وہ اسے بخوبی جانتاہے۔
     
  2. ‏اکتوبر 04، 2011 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    قرآن مجید اور ان کی قراء ات کے بارے میں مستشرقین کا نقطۂ نظر
    مستشرقین کا خیال ہے کہ تمام علمائے اسلام اور قراء جھوٹے اور افترا پرداز ہیں، جنہوں نے رسم عثمانی سے ہر وہ قراء ات نکال لی، جس کا اس کے رسم سے نکلنے کا احتمال تھا۔
    یہ بات عام و خاص سب پر عیاں ہے کہ قرآن ہم تک قطعی الثبوت تواتر کے ذریعے نقل کیا گیاہے، جو مصاحف میں بھی لکھا ہوا ہے۔(۳) اسی طرح قرآن کی متواتر قراء ات بھی اس رسم کے مطابق ہم تک قطعی الثبوت تواتر کے ذریعے منقول ہیں یا بعض قراء ات ایسی بھی ہیں کہ جو اگرچہ متواتر تو نہیں ہیں، لیکن صحیح سند کے ساتھ ثقہ راویوں سے منقول ہیں اور قراء کے مابین معروف و مشہور ہیں۔ ایسی قراء ات بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں کہ جن میں تواتر کی شرط پوری نہ ہورہی ہو، یہ قراء ات بھی براہ راست سماعت سے ہم تک پہنچی ہیں اور ان کی ادائیگی کے مختلف طریقے اور تلفظ کی وضاحت بھی براہ راست سماعت سے منقول ہے۔(۴)
     
  3. ‏اکتوبر 04، 2011 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اُمت مسلمہ اور مستشرقین کے درمیان اصل اختلاف
    مستشرقین کا کہنا یہ ہے کہ رسم پہلے ہے اور اس رسم میں بہت سی قراء ات کا احتمال تھا۔ مسلمان قراء نے اپنی خواہش اور استطاعت کے مطابق اس رسم سے قراء ات نکال لیں جبکہ اُمت مسلمہ کے نزدیک قراء ات اصل ہیں پھر ان قراء ات کی ادائیگی کے لئے رسم بنایا گیا تاکہ تمام قراء ات اس رسم میں سما جائیں اور کوئی بھی قراء ت باقی نہ رہے۔ مستشرقین کا گمان یہ ہے کہ جس قران کو حضرت جبرئیل ؑ آپﷺ پر لے کرنازل ہوتے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک ہی حرکت اور ایک ہی لفظ کی صورت میں ہو۔
    مستشرقین کی اس رائے سے صرف ایک ہی مطلب نکلتا ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں یعنی صحابہ، تابعین اور ان کے بعدکے زمانے کے لوگوں نے یہ قراء ات گھڑ لی ہیں اور رسم میں جن قراء ات کا احتمال تھا مسلمانوں نے انہیں قرآن کا نام دے کر اپنے رسول ا کی طرف منسوب کردیا اور تمام کے تمام مسلمان اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں کہ یہ قراء ات آپؐ سے ثابت ہیں اور اس میں کہ انہوں نے یہ قراء ات درجہ بدرجہ نسل در نسل آپؐ سے حاصل کی ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کے نزدیک یہ قراء ات اصل ہیں اور رسم عثمانی اس کے تابع ہے اور وہ ان قراء ات کے لئے بنایا گیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بات قطعی الثبوت ہے کہ آپؐ نے صحابہ کرام ؓ کو مختلف قراء ات کے ساتھ قرآن کی ادائیگی اور اس کے تلفظ کی تعلیم دی اور پڑھ کر بھی سنایا۔ مزید یہ کہ تمام قراء ات حق ہیں اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ اور یہ کہ تمام قراء ات لغت ِعرب اور قبائلی لہجات کے مطابق ہیں۔
    پس مستشرقین کا یہ کہنا کہ رسم پہلے ہے اور قراء ات اس کے تابع ہیں؛ اک گمانِ باطل ہے، جس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں، جبکہ مسلمانوں کے نزدیک قراء ات پہلے اور رسم ان قراء ات کے تابع ہے، یہ اصول تاریخی حقائق سے زیادہ حقیقی اور یقینی طو رپر ثابت ہے۔
    مسلمانوں کا آپؐ کے زمانے سے لے کر آج تک وہی قول رہا ہے کہ رسم قراء ات کے تابع ہے کیونکہ اس کے ماسوا کوئی قول عقلاً بھی درست نہیں ہے اور نقلی دلائل بھی اس بات کے متقاضی ہیں کہ اسی قول کو درست قرار دیا جائے۔ مسلمان اہل ِ علم، مستشرقین کی نسبت اللہ کے رسول ا صحابہؓ اور دیگر علماء و ائمہ قراء ات کے متعلق زیادہ واقفیت رکھتے ہیں کہ جنہوں نے ان تک علم دین اور قرآن کو نقل کیا ہے۔ لہٰذا وہ ان کے بارے میں جھوٹ اور افتراء پردازی کا بُرا گمان نہیں کرسکتے۔
    پس مستشرقین یا ان سے متعلقین کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ ان واضح اور روشن حقائق کے بعد بھی وہ قراء اتِ قرآنیہ کے بارے میں شکوک و شبہات کے سائے میں رہیں اور اگر ان حقائق کے بعد بھی کوئی شکوک و شبہات کا شکار رہا تو وہ جاہل اور منہ کے بل اوندھا چلنے والا ہے۔
    اگر مستشرقین کے چیلوں کو جو اس چیز سے اعراض کرتے ہیں جس کو وہ جانتے تک نہیں ہیں اور اس چیز میں فضول بحث کرتے ہیں جو ان کی سمجھ سے بالاتر ہے، عقل آجائے تو یہ جان لیں گے کہ مستشرقین کی اس رائے کا کوئی نتیجہ یا مقصد نہیں ہے۔ عقل و منطق تو اس بات کی متقاضی ہے کہ قرآن جس طرح آپؐ پر نازل ہوا، اسی طرح یہ مسلمانوں سے قراء ات کی مختلف وجوہات کے ساتھ آگے منتقل ہوا۔
    اللہ کی پناہ کہ معاملہ ایسا ہی ہو جیساکہ مستشرقین کا کہنا ہے۔ ہم اللہ کے بارے میں ایسی بات نہیںکہتے کیونکہ وہ اس سے پاک ہے اور یہ اس پربہت بڑا بہتان ہے۔
     
  4. ‏اکتوبر 04، 2011 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مصحف امام :
    یہ وہ مصحف ہے جسے سیدنا عثمانؓ نے اپنے پاس رکھا ہوا تھا اوراسے ابوعبید قاسم بن سلام نے نقل کیا ہے۔
     
  5. ‏اکتوبر 04، 2011 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مصحف مدنی :
    یہ وہ مصحف ہے جسے حضرت عثمانؓ نے اہل مدینہ کے لئے تیار کردیا تھا اور اس کو حضرت نافع نقل کرتے ہیں۔
     
  6. ‏اکتوبر 04، 2011 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مصحف مکی:
    یہ مصحف حضرت عثمانؓ نے اہل مکہ کے لئے تیار کروایا تھا۔ اس مصحف اور پہلے دو مصاحف کو مصاحف دجازیہ یا حرمیہ بھی کہتے ہیں۔
     
  7. ‏اکتوبر 04، 2011 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مصحف شامی:
    اسے حضرت عثمانؓ نے اہل شام کے لئے تیار کروایاتھا۔
     
  8. ‏اکتوبر 04، 2011 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مصحف کوفی:
    اسے حضرت عثمانؓ نے اہل کوفہ کے لئے تیار کروایا تھا۔
     
  9. ‏اکتوبر 04، 2011 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مصحف بصری:
    اسے حضرت عثمانؓ نے اہل بصرہ کے لئے تیار کروایا تھا۔
     
  10. ‏اکتوبر 04، 2011 #10
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مصاحف میں قرآن کی کتابت کا سبب یہ تھا کہ حضرت عثمانؓ کو یہ بات پہنچی کہ اہل حمص، اہل دمشق، اہل کوفہ اور اہل بصرہ میں سے ہر ایک اپنی قراء ت کو دوسرے کی قراء ت سے بہتر قرار دیتے تھے تو حضرت عثمانؓ نے۱۲ صحابہ کو جمع کیا۔ حضرت عثمانؓ نے جب انہیں خبر دی تو انہوں نے اسے بہت بڑا فتنہ سمجھا اور حضرت عثمانؓ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے تو حضرت عثمانؓ نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ لوگوں کوایک مصحف پر جمع کردوں تاکہ تفرقہ باقی نہ رہے تو صحابہ ؓ نے کہا : کیا ہی خوب رائے ہے۔
    حضرت عثمانؓ نے ان تمام مصاحف کے ساتھ ایک ایک قاری بھی بھیجا، جو اس شہر والوں کو اس مصحف کے رسم کے مطابق صحیح اور متواتر قراء ات کی تعلیم دے۔ حضرت زید بن ثابتؓ کو حکم دیاگیا کہ وہ اہل مدینہ کو مدنی مصحف کے مطابق قرآن پڑھائیں۔ عبداللہ بن السائب کو اس کام کے لئے مکہ بھیجا گیا۔ مغیرہ بن ابی شہاب کو شام، ابوعبدالرحمن السلمی کو کوفہ اور حضرت عامر کوبصرہ روانہ کیا گیا۔
    ان شہروں میں اس وقت تابعین میں سے حفاظِ قرآن کریم کا ایک جم غفیر تھا۔ ہر شہر کے لوگوں نے اپنے شہر کے تیار کردہ مصحف کے مطابق مذکورہ بالا قراء سے قرآن پڑھا اور اپنے شہر کے مصحف کی تمام قراء ات کو صحابہ سے نقل کیا، وہ قراء ات جو صحابہ نے آپؐ سے لیں تھیں۔
    یہ بات اہم ہے کہ حضرت عثمانؓ نے مصاحف کے لکھنے اور ان کو مختلف اسلامی شہروں کی طرف بھیجنے کی جو مہم چلائی تھی اس کا مقصد قرآن کی ایک نص پر لوگوں کواکٹھا کرنا نہیں تھا بلکہ اس سے مطلوب صرف یہ تھا کہ اللہ کے رسول ا سے ثابت متواتر قراء ات کو جمع کر دیا جائے اور جو قراء ات شروع میں امت کی آسانی کے لئے نازل کی گئی تھیں بعد میں عرضہ اخیرہ میں منسوخ ہوگئی تھیں اور اکثر لوگ جن کو ان کے نسخ کا علم نہ تھا، کا سد ِ باب کیا جائے، جو ان کو برابر پڑھتے چلے آرہے تھے۔ مصاحف عثمانیہ کو حرکات اور نقاط سے خالی اس لئے رکھا گیا، کیونکہ مصاحف کا حرکات اور نقاط سے خالی ہوناحضرت عثمانؓ کے ہاں اس لحاظ سے مفید تھا کہ وہ ان لوگوں کو منسوخ اور شاذہ کی بجائے متواتر قرا ء ات پر جمع کرسکیں۔
    حافظ ابوعمروالدانی فرماتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ اور صحابہ کی جماعت نے کچھ حروف اور باطل قراء ات جو غیر معروف اورغیر ثابت تھیں کو الگ کر دیا۔یہ قراء ات نبی مکرمؐ سے نقل ِاحادیث کے طریقے سے روایت کی گئیں تھیں، جبکہ اس طرح نقل شدہ قرا ء ات سے قرآن ثابت نہیں ہوتا۔
    حافظ ابوعمروالدانی ؒ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی طرح دو تختیوں میں قرآن جمع کرنے کا ارادہ نہ کیا، بلکہ انہوں نے تو صحابہ کو آپؐ سے ثابت معروف قراء ات پر جمع کیا تھا اور ان کے علاوہ دیگر قراء ات کو الگ کر دیا، لیکن آپ سے مروی اور ثابت کوئی بھی صحیح قراء ات ان سے ضائع نہ ہوئی۔ جو کچھ اوپر ہم نے بیان کیا ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خلیفہ عثمانؓ نے جن مصاحف کی کتابت کا حکم دیا تھا وہ ان میں بہت سے مقامات پر رسم کا اختلاف تھا، تاکہ ان مقامات پر قراء ات کا اختلاف معلوم ہوسکے۔ جیسا کہ قراء ات اور رسم القرآن کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔( بلکہ رسم کا یہ اختلاف مختلف مصاحف میں بہت کم مقامات پر تھا۔)
    اگر حضرت عثمان نے قرآن کی ایک نص پر لوگوں کو جمع کرنے کا ارادہ کیا ہوتا، تو تمام مصاحف کو ایک ہی صورت میں لکھا جاتا اور ان میں کسی قسم کا بھی اختلاف نہ ہوتا، لیکن مصاحف عثمانیہ کی مختلف صورتوں اور متعدد کیفیات میںکتابت اس با ت کی واضح دلیل ہے کہ حضرت عثمانؓ نے ایک نص کے حصول کا ارادہ نہ کیا تھا بلکہ ان کا اصل مقصود لوگوںکو غیر متواتر قراء ات کے بالمقابل متواتر قراء ات پر جمع کرنا تھا۔
    ان لوگوں کا یہ قول سلف و خلف میں سے کسی ایک کا بھی نہیں ہے اور اس قول کے قائلین کے پاس دلیل تو کجا اس سے مشابہ عقل و نقل کی بھی کوئی چیز ایسی نہیں ہے، جس کو وہ اس قول کی بنیاد بنا سکیں، بلکہ یہ من گھڑت باتوں کی طرح ایک بات ہے اور ایسے لوگوں کا قول ہے، جو قرآن، علوم قرآن اور قراء ات قرآنیہ سے بالکل جاہل اور ناواقف لوگ ہیں۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں