1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قسطوں میں خرید و فروخت ۔

'خریدوفروخت' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏دسمبر 17، 2013۔

  1. ‏مئی 16، 2017 #21
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,332
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ماشاء اللہ عمدہ معلومات ہیں. جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏جون 06، 2017 #22
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    upload_2017-6-6_4-51-43.png
    اس حدیث کو بعض محققین نے حسن قرار دیا ہے،جیسا کہ حافظ زبیر علی زئی نے اسے حسن کہا ہے،سنن ابوداود حدیث٣٣٥٧،طبع دار السلام لاہور
     
  3. ‏جون 06، 2017 #23
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    اس طرح علامہ البانی نے بھی اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے،چناں چہ وہ لکھتے ہیں
    الطريق الأخرى : عن ابن جريج أن عمرو بن شعيب . أخبره عن أبيه عن عبد الله بن عمرو بن العاص : " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمره أن يجهز جيشا ، قال عبد الله بن عمرو : وليس عندنا ظهر ، قال : فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يبتاع ظهرا إلى خروج المصدق ، فابتاع عبد الله بن عمرو البعير بالبعيرين ، وبأبعرة ، إلى خروج المصدق بأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم " . أخرجه البيهقي والدارقطني وعنه ( 5 / 287 - 288 ) ثاهدا للطريق الأولى وذكر أنه " شاهد صحيج " . وأقره ابن التركماني في " الجوهر النقي " بل تأوله ، ولم يتعقبه بشئ . كما هي عادته ! وأقره الحافظ في " التلخيص " وصرح في " الدراية " ( ص 288 ) بأن إسناده قوي . قلت : وهو حسن الإسناد ، للخلاف المعروف في رواية عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده . ( تنبيهان ) : الأول : لم يورد الزيلعي في كتابه هذه الطريق ، فأوهم أن الحديث ضعيف لم يأت إلا من الطريق الأولى الضعيفة ! الثاني : ذكر المصنف رحمه الله أن الدارقطني صححه ، ولم أر ذلك في سننه ولا ذكره أحد غيره فيما علمت ، وإنما صححه البيهقي كما تقدم ، فلعله سقط من الناسخ قوله : " والبيهقي " . قبل قوله : " صححه " . والله أعلم

    ارواء الغلیل؛حدیث؛
    1358


    اس کے ساتھ ساتھ جناب شعیب الارناؤط نے بھی اس حدیث کو حسن کہا ہے،دیکھیے مسند احمد؛حدیث؛٦٥٩٣
     
    Last edited: ‏جون 06، 2017
  4. ‏جون 06، 2017 #24
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ (بَابُ بَيْعِ العَبِيدِ وَالحَيَوَانِ بِالحَيَوَانِ نَسِيئَةً)
    صحیح بخاری: کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان (باب : غلام کو غلام کے بدلے اورکسی جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنا)

    ترجمة الباب: وَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ، يُوفِيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ «قَدْ يَكُونُ البَعِيرُ خَيْرًا مِنَ البَعِيرَيْنِ» وَاشْتَرَى رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ بَعِيرًا بِبَعِيرَيْنِ فَأَعْطَاهُ أَحَدَهُمَا، وَقَالَ: «آتِيكَ بِالْآخَرِ غَدًا رَهْوًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ» وَقَالَ ابْنُ المُسَيِّبِ: لاَ رِبَا فِي الحَيَوَانِ: البَعِيرُ بِالْبَعِيرَيْنِ، وَالشَّاةُ بِالشَّاتَيْنِ إِلَى أَجَلٍ وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: «لاَ بَأْسَ بَعِيرٌ بِبَعِيرَيْنِ نَسِيئَةً»
    ترجمۃ الباب : اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اونٹ چار اونٹوں کے بدلے میں خریدا تھا۔ جن کے متعلق یہ طے ہوا تھا کہ مقام ربذہ میں وہ انہیں اسے دے دیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ کبھی ایک اونٹ، دو اونٹوں کے مقابلے میں بہتر ہوتا ہے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے میں خریدا تھا۔ ایک تو اسے دے دیا تھا، اور دوسرے کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ کل ان شاءاللہ کسی تاخیر کے بغیر تمہارے حوالے کر دوں گا۔ سعید بن مسیب نے کہا کہ جانوروں میں سود نہیں چلتا۔ ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے، اور ایک بکری دو بکریوں کے بدلے ادھار بیچی جاسکتی ہے ابن سیرین نے کہا کہ ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے ادھار بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔
     
  5. ‏جون 06، 2017 #25
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    امام احمد کے نزدیک یہ روایت ہی معلول ہے اور امام ابو داود کے نزدیک احادیث میں اختلاف کی صورت میں صحابہ کے آثار کی طرف رجوع کیا جائے گا؛
    وأما أحاديث النهي عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة ، كالحديث الذي رواه الترمذي في جامعه (1237) عن سمرة رضي الله عنه : " أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة " - فقد أعلها الإمام أحمد رحمه الله ، وقال : ليس فيها حديث يعتمد عليه ، وقال أبو داود : إذا اختلفت الأحاديث عن النبي صلى الله عليه وسلم : نظرنا إلى ما عمل به أصحابه من بعده .
    وقد تواتر عن الصحابة رضي الله عنهم ومن بعدهم جوازه متفاضلا ونسيئة ، وأمر به صلى الله عليه وسلم كما سبق ، فدل ذلك على أنه الثابت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلا تقوى أحاديث النهي عن ذلك على المعارضة
     
  6. ‏جون 06، 2017 #26
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم حافظ عمران بھائی آپ نے شیخ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ کے مضمون پہ کچھ اشکال اٹھائے ہیں لیکن بات ابھی مبہم ہے
    آپ ایسا کریں کہ پہلے اپنا موقف لکھیں پھر اس موقف پہ اپنی کوئی ٹھوس دلیل لکھیں اسکے بعد اگر شیخ رحمہ اللہ کے موقف کے خلاف آپ کا موقف ہو تو پھر پہلے شیخ رحمہ اللہ کے موقف کی دلیل لکھیں اور پھر اس دلیل کا رد لکھیں
    اسکے بعد یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کے موقف کے خلاف شیخ رحمہ اللہ کی صرف ایک دلیل کا رد مطلوب نہیں گا بلکہ انکی تمام دلیلوں کا رد اگر ہو سکے تو ایک ایک کر کے لکھ دیں پھر اس پہ نمبر وار بات کر لیتے ہیں جزاکم اللہ خیرا
     
  7. ‏جون 06، 2017 #27
    حافظ محمد یونس اثری

    حافظ محمد یونس اثری رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 07، 2014
    پیغامات:
    155
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    اس موضوع پر ناچیز کا بھی ایک مضمون ہے جو کہ المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی سے شائع ہونے والے سہہ ماہی رسالے کی خاص اشاعت معیشت نمبر میں شائع ہوا ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ اس کی اسکین تصاویر یہاں پیسٹ کردوں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 06، 2017 #28
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,657
    موصول شکریہ جات:
    8,296
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ اسے یونیکوڈ میں یہاں لگائیں ، تاکہ پڑھنا بھی آسان ہو ، اور اگر کوئی تبصرہ وغیرہ کرنا چاہیے تو اقتباس لینا بھی ممکن ہو ۔ ویسے بھی تصویر گوگل سرچ وغیرہ میں نہیں آتی ۔
     
  9. ‏جون 07، 2017 #29
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    میرے پاس تفصیل کا وقت نہیں ہے،صرف اتنی گزارش کروں گا کہ قسطوں کے کاروبار میں سود کا عمل دخل نہیں ہے اور جہاں تک ایک چیز کی دو قیمتوں کا تعلق ہے تو اس سے تو بہت سارے کاروبار اس کی زد میں آجاتے ہیں،مثلا کسی بھی پلاٹ کا تین طرح سودا ہوتا ہے،ڈون پیمنٹ،بیعانہ اور اقساط کی صورت میں اور ان تین طرح کے سودوں میں پلاٹ کی قیمت مختلف ہوتی ہے ڈون پیمنٹ کی صورت میں پلاٹ کی قيمت کم ہوتی ہے کیوں یہ نقد ہوتا ہے اور بیعانہ میں کچھ رقم ادا کردی جاتی ہے اور باقی رقم کے لیے تین مہینے کا ٹائم دے دیا جاتا ہے،اس صورت میں پلاٹ مہنگا سیل ہوتا ہے اور قسطوں کی صورت میں پلاٹ بہت مہنگا ہوتا ہے،یعنی ایک چیز ہے لیکن مول تین ہیں،اس میں اہم بات یہ ہے کہ پہلی دو صورتوں کو کوئی بھی ناجائز نہیں کہتا۔
    اسی طرح پانچ کلو چینی لو تو ریٹ اور ہے اگر پورا چینی کا توڑا لو تو قیمت اور ہے کیا یہ ایک چیز کے دو مول نہیں ہیں؟ کیا یہ بھی ناجائز ہے؟
     
  10. ‏جون 07، 2017 #30
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    حافظ ارشد صاحب بیان کی گئی دو دلیلیں ہی اس موضوع میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں،ادھار کی صورت میں زیادہ قیمت وصول کرنا رسول اللہ اور سلف صالحین سے ثابت ہے،جیسا کہ درج ذیل حدیث اور آثار میں بیان کیا گیا ہے؛
    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سےمروی ہے :أَنَّ النَّبِیَّؐ أَمَرَہ، أَنْ یُّجَھِّزَ جَیْشاً فَنَفِدَتِ الْاِبِلُ ، فَأَمَرَہ، أَنْ یَأْخُذَ عَلٰی قَلَائِصِ الصَّدَقَۃِ ، فَکَانَ یَأْخُذُ الْبَعِیْرَ بِالْبَعِیْرَیْنِ إِلٰی إِبِلِ الصَّدَقَۃِ.(مشکٰوۃ المصابیح بتحقیق الألبانی٢/٨٥٨).
    عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کر تے ہیں کہ نبی ؐ نے انہیں ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا ،اونٹ کم پڑ گئے تو آپؐ نے انہیں فرمایا : صدقے کی اونٹنیاْں آنے تک ادھار لے لو ،چنانچہ وہ صدقے کے اونٹ آنے تک دو اونٹوں کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے (یعنی جس سے ادھار اونٹ لیتے اسے کہتے کہ جب صدقے کے اونٹ آئیں گے توہم تمہیں ایک کی بجائے دو اونٹ دیں گے )

    حافظ زبیر علی زئی البانی اور شعیب الارناؤط نے اسے حسن کہا ہے،
    سنن ابوداود حدیث٣٣٥٧،طبع دار السلام لاہور

    ارواء الغلیل؛حدیث؛1358،
    مسند احمد؛حدیث؛٦٥٩٣
    ‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ (بَابُ بَيْعِ العَبِيدِ وَالحَيَوَانِ بِالحَيَوَانِ نَسِيئَةً)
    صحیح بخاری: کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان (باب : غلام کو غلام کے بدلے اورکسی جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنا)
    ترجمة الباب: وَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ، يُوفِيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ «قَدْ يَكُونُ البَعِيرُ خَيْرًا مِنَ البَعِيرَيْنِ» وَاشْتَرَى رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ بَعِيرًا بِبَعِيرَيْنِ فَأَعْطَاهُ أَحَدَهُمَا، وَقَالَ: «آتِيكَ بِالْآخَرِ غَدًا رَهْوًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ» وَقَالَ ابْنُ المُسَيِّبِ: لاَ رِبَا فِي الحَيَوَانِ: البَعِيرُ بِالْبَعِيرَيْنِ، وَالشَّاةُ بِالشَّاتَيْنِ إِلَى أَجَلٍ وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: «لاَ بَأْسَ بَعِيرٌ بِبَعِيرَيْنِ نَسِيئَةً»
    ترجمۃ الباب : اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اونٹ چار اونٹوں کے بدلے میں خریدا تھا۔ جن کے متعلق یہ طے ہوا تھا کہ مقام ربذہ میں وہ انہیں اسے دے دیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ کبھی ایک اونٹ، دو اونٹوں کے مقابلے میں بہتر ہوتا ہے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے میں خریدا تھا۔ ایک تو اسے دے دیا تھا، اور دوسرے کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ کل ان شاءاللہ کسی تاخیر کے بغیر تمہارے حوالے کر دوں گا۔ سعید بن مسیب نے کہا کہ جانوروں میں سود نہیں چلتا۔ ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے، اور ایک بکری دو بکریوں کے بدلے ادھار بیچی جاسکتی ہے ابن سیرین نے کہا کہ ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے ادھار بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔
    حافظ صاحب کیا ادھار کی صورت میں زیادہ قیمت وصول کرنے کے لیے یہ دلائل نا کافی ہیں؟ اگر کوئی اعتراض یا ابہام ہے تو سامنے لائیں،ورنہ بات یہیں ختم ہوتی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں