1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لفظ "انشاءاللہ اور ان شاءاللہ" میں فرق

'عربی زبان وادب' میں موضوعات آغاز کردہ از طلحہ غازی, ‏نومبر 02، 2015۔

  1. ‏نومبر 02، 2015 #11
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,311
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم
    محترم بھائی !
    جو عربی عبارت آپ نے پوسٹ کی ہے ایک تو اس کی کتابت میں غلطیاں ہیں ؛ دوسرے ابن ھشام کی شذور الذہب سے بعینہ یہ الفاظ نہ مل سکے ،
    بہرحال آپ کی مقصود صحیح عبارت درج ذیل ہے ترجمہ کے ساتھ :
    فقد جاء في كتاب شذور الذهب لابن هشام ..أنّ إنشاء من الفعل أنشأ - يُنشئ؛ أي إيجاد ..
    عربی لغت کے مشہور امام ابن ھشام کی کتاب (شذور الذهب) میں ہے کہ :لفظ (إنشاء )عربی زبان کے فعل ( أنشأَ - يُنْشِئ ، )سے ہے ، جس کے معنی ’’ ایجاد کیا ‘‘ کے ہیں ۔
    فمن هذا .. لو كتبنا [ إنشاء الله ].. يعني كأننا نقول أننا أوجدنا الله - تعالى الله علوا كبيرا - وهذا غير صحيح ..
    تو اس معنی کے لحاظ سے اگر ہم [ إنشاء الله ]. لکھیں گے تو اس کا معنی ہوگا ،ہم نے اللہ کو پیدا کیا ،جبکہ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے ۔اس لئے ایسے لکھنا صحیح نہیں،
    أما الصحيح هو أن نكتب [ إن شاء الله ].. فبهذا اللفظ نحقق هنا إرادة الله عز وجل؛ فقد جاء في معجم لسان العرب أن معنى الفعل شاء هو أراد ، فالمشيئة هنا هي الإرادة ..
    فعندما نكتب [ إن شاء الله ] كأننا نقول ..إن أراد الله نفعل كذا ..

    صحیح یہ ہے کہ ہم اس طرح لکھیں ۔[ إن شاء الله ] اس طرح ہم اللہ کے ارادے کا تحقق یعنی اس کو ثابت کر رہے ہونگے ،جیسا کہ ’’ معجم لسان العرب ‘‘ میں ہے کہ :
    کہ عربی فعل ’’ شاء ‘‘ کا معنی ہے ۔۔اس نے ارادہ کیا ۔۔تو مطلب یہ کہ یہاں ’’مشیت ‘‘ سے مراد ارادہ ہے ،تو جب ہم [ إن شاء الله ] لکھیں گے تو ہمارا مطلب ہوگا
    کہ ۔۔اگر اللہ کا ارادہ ہوا تو ہم ایسا کریں گے ۔۔
    فهناك فرق بين الفعلين ( أنشأ أي أوجد ) والفعل ( شاء أي أراد ) ..
    اور دونوں فعلوں میں فرق ہے یعنی ( أنشأَ ) کا معنی ہے پیدا کرنا ۔۔اور ’’ شاء ‘‘ کا معنی ہے ارادہ کرنا ۔
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 03، 2015 #12
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,311
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    قَالَ : أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالُوا : كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْسِمُ لَنَا مِنْ هَذَا التَّمْرِ ، فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ نَقْسِمُ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ شَطْرًا ، وَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ ، فَقُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا ، قَالَ : وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ عَنِّي مَعَاشِرَ الأَنْصَارِ خَيْرًا ، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ، أَمَا إِنَّكُمِ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي.
    جناب اسید بن حضیر ؓ فرماتے ہیں :میری قوم کے دو گھروں کے لوگ میرے آئے ،اور مجھے کہا کہ :ہمارے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت عرض کیجئے کہ بیت المال میں آنے والی کھجوریں ہم میں تقسیم فرمائیں ، تو میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور ان کی عرضی پیش کی ،
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :ہاں ٹھیک ہے ،ہم اپنے پاس آنے والی کھجوریں ان میں برابر آدھی ،آدھی تقسیم کردیتے ہیں، اور اگر مزید کھجوریں آگئیں تو ہم انہیں مزید دیں گے ،تو میں کہا : اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے ،اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اور تمہیں بھی اے انصار ۔۔اللہ جزائے خیر عطا فرمائے ،
    میں نے تم انصار کو خود دار و عفیف ،اور صابر ہی پایا ہے (کہ اگر تمہیں کچھ نہ بھی ملے تو بھی سوال اور اعتراض نہیں کرتے ) میرے بعدتم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی ،تو تم صبر کرنا ،حتی کہ مجھ سے آن ملو ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 03، 2015 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,311
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم بھائی ۔۔"فجزاکم اللہ خیرا" بھی کفایت کرے گا۔ان شاء اللہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور صرف "وإياك" بھی مقصد پورا کرے گا ؛
    علامہ احسان الہی ظہیر ؒ کے استاذ محترم ۔اور شیخ ابن باز ؒ کے نامور شاگرد ’’ عبد المحسن بن حمد العباد ‘‘ کا یہی فتوی ہے :

    السؤال: ما حكم قول القائل: "وإياك"، لمن قال له: "جزاك الله خيراً"؟

    الإجابة:
    هذا لا بأس به، فقوله: "وإياك"، معناه: وأنت جزاك الله خيراً. فهو كلام صحيح لا بأس به.
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 03، 2015 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 03، 2015 #15
    حسیب

    حسیب رکن
    جگہ:
    سیالکوٹ
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2012
    پیغامات:
    116
    موصول شکریہ جات:
    85
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    وعلیکم السلام
    جزاک اللہ خیر
    شیخ یہ بات گرائمر کی رو سے درست ہے؟؟
     
  6. ‏نومبر 03، 2015 #16
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,311
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    أَنشأَ:( فعل )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیدا کیا ، فعل ماضی۔۔۔پہلے ہمزہ پر زبر،نون ساکن ،شین کے بعد ہمزہ اور اس پر زبر۔
    إنشاءً ــپیدا کرنا،یعنی مصدر ۔۔۔پہلے ہمزے کے نیچے زیر ،نون ساکن ،شین کے بعد الف اور اس کے بعد ہمزہ
    أنشأَ يُنْشِئ ، إنشاءً ، فهو مُنْشِئ ، والمفعول مُنشَأ ۔۔
    أَنشأَ: اس نے بنایا (ماضی ) ۔۔۔يُنْشِئ ، وہ پیدا کرتا ہے (مضارع )۔۔۔مُنْشِئ بنانے والا (فاعل )
    أَنْشَأَ يفعل كذا : شَرَع أَو جعل ۔۔أَنْشَأَ ۔۔شروع کیا ،
    أَنْشَأَ الشيءَ : أَحدثَه وأَوجده ۔۔۔کسی شئے کو ایجاد کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏نومبر 04، 2015
  7. ‏جنوری 28، 2016 #17
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    کیا ماشاءاللہ کے بارے میں بھی کچھ ھے؟
    کس طرح لکھیں الگ یا ملا کر؟
     
  8. ‏جنوری 28، 2016 #18
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,341
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    بہائی الف میں ش کسی طرح نہیں مل پائے گا ، خصوصا اس طرح جسطرح نون ، شین سے مل جاتا ہے دوسرے آپ معنی پر توجہ دیں حروف کی ترکیب سے ۔ مثلا ان شاء اور انشاء ۔
     
  9. ‏جنوری 28، 2016 #19
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم جناب!
    جب رومن میں لکھتے ھیں تو مسئلہ ھو جاتا ھے.
    Masha allah لکھیں Mashaallah
     
  10. ‏جنوری 28، 2016 #20
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,341
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    A few ideas if u like;
    In-sha-Allah
    Ma-sha-Allah
    ,
    In Sha Allah
    Like wise.
    There an English word, cooperation, to avoid reader's confusion dome they wite co-operation too.
    Allah try the starting A always capital, to make the word distinguished among normal text.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں