1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محدثین کا حدیث کو صحیح یا ضعیف کہنا اجتہاد تھا ؟ اور ان کی تصحیح یا تضعیف کو ماننا ان کی تقلید ہے ؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از Rashid Yaqoob Salafi, ‏جون 25، 2012۔

  1. ‏اپریل 24، 2014 #31
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    یہ تو ٹھیک ہے بھائی۔
    لیکن جرح کا جو حکم لگاتے ہیں محدثین اس پر اکثر کوئی دلیل نہیں دیتے۔ مثال کے طور پر انہی جابر جعفی کے بارے میں امام ترمذی نے ابو حنیفہؒ سے نقل کیا ہے کہ جابر جعفی کذاب ہے۔
    ابو حنیفہ نے یہ کیوں کہا؟ کوئی لڑائی یا حسد تو نہیں تھا؟ کوئی اور وجہ تو نہیں تھی؟ ممکن ہے ابو حنیفہ کا کوئی اور غلط مقصد رہا ہو۔
    یہ سب عقلی امکانات ہیں۔ لیکن کیا ہم ان امکانات کو ایک طرف رکھ کر صرف جارح کے تقوی اور علم کو دیکھ کر اس کی بات نہیں مان لیتے؟
     
  2. ‏اپریل 24، 2014 #32
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    یہ لکھا ہے گڈ مسلم نے ”تقلید سے دور بھاگو کیونکہ یہ گمراہی ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ مقلد ہلاکت کی راہ پر گامزن ہے۔“

    اور یہ لکھا ہے عبدہ نے ” Dua بہنا نے بھی شاید وضآحت پوچھی تھی کہ پھر کس کی تحقیق پر عمل کریں تو جیسے شروع میں بتایا گیا ہے کہ ہم اپنی سمجھ کے مکلف ہوتے ہیں جتنا سمجھ آتا ہے اسکی تحقیق کر لیں باقی میں ہم دوسرے کی بات پر اعتبار کر لیں یعنی کہیں اہل حدیث کو بھی تقلید کرنی پڑتی ہے واللہ اعلم“
     
  3. ‏اپریل 25، 2014 #33
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    369
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    إن جاءكم فاسق
     
  4. ‏اپریل 25، 2014 #34
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جزاک اللہ بہنا جلدی میں غلط لکھ گیا تھا تدوین کر دی ہے
     
  5. ‏اپریل 25، 2014 #35
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جزاک اللہ محترم بھائی آپ کی باتیں بالکل درست ہیں میں نے یہ کہیں نہیں کہا کہ یہ عقلی امکانات نہیں ہیں
    محترم بھائی مجھے لگ رہا ہے کہ آپ شاید کسی کی بات پر اسکے علم اور تقوی کی بنیاد پر اعتماد کرنے کو عقلی توجیہات میں سے خارج سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے یعنی تقلید بھی ایک قسم کی عقلی توجیہ ہی ہے اب ہمیں کس کو مقدم رکھنا ہو گا اور کس حد تک مقدم رکھنا ہو گا اس پر ڈاکٹر ذاکر نائیک حفظہ اللہ کا بھی ایک موقف سنا تھا اس پر ان شاءاللہ فرصت سے بحث کروں گا آج جمعہ ہے اسکی تیاری کرنی ہے
     
  6. ‏اپریل 25، 2014 #36
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا بھائی۔
    بس میں یہی کہہ رہا ہوں کہ اس فن میں ہمیں تقلید کرنی پڑتی ہے۔ کیوں کہ ہم اس دور میں موجود تو ہیں نہیں۔ انہی کی بات پر اعتماد کرنا پڑتا ہے۔
     
  7. ‏اگست 06، 2018 #37
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جارح کا تقوی دیکھنے کے ساتھ ساتھ حفظ و ضبط بھی دیکھا جاتا ہے۔ اور جارح کا عادل ھونا بھی شرط ھوتا ہے۔
    ان تمام شروط کے اندر اگر کوئی شخص جرح یا تعدیل کرتا ھے۔ تو اُس کی گواہی قرآن و سنت کی روو سے دلیل کا درجہ رکھے گی
     
  8. ‏اگست 06، 2018 #38
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    ہمیں کسی فن میں کسی کی تقلید کی ضرورت نہیں۔ جس کو آپ تقلید سمجھ رہے ہیں وہ آپ کا خام خیال ہے فقط۔ خالی خولی کسی کے بات پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔ بلکہ اعتماد کرنے کے دلائل موجود ہوتے ہیں۔ کہ بیان کرنے والا عادل ضابط ثقہ حجت ھے یا کہ ردی الحفظ ، کذاب منکر وغیرہ ھے؟؟؟
    جب ثابت ھوجائے کہ بیان کرنے والا عادل بھی ھے اور حافظ بھی ہے۔ تو بیان کرنے والے کی گواہی کے مقبول ھونے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں۔
    اور یہ سب باتیں دلیل کی محتاج ہیں۔ تو ثابت ہوا کہ اسماء الرجال کے ثقہ ثبت ائمہ کے جرح وتعدیل پر مبنی اقوال خود حجت ہیں۔ جو اُنکی بالمشاھدہ گواہیاں ہیں۔
    لہذا تقلید سے خارج ہیں۔
     
  9. ‏اگست 06، 2018 #39
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    بلفرض اگر آپ کی بات تسلیم کر بھی لی جائے۔ تو یہ آپ ہی کے خلاف جائے گی۔
    جس کی مثال میں اس طرح دیتی ہوں کہ۔
    "احناف نے خود ہی کچھ اصول وضع کرکے اپنے اوپر حجت کیئے ہیں۔ اور خود ہی اپنے انہی اصولوں کا رد بھی بڑے زور وشور سے کرتے ہیں۔
    یعنی احناف اپنا ایک مسئلہ سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسرا مسئلہ اُلٹا ھوجاتا ھے۔
    ۔
    مثال: جیساکہ آپ کا سارا زور اس بات پر ھے۔ کہ رجوع الی المجتھد یا رجوع الی الجارح۔ ہی تقلید ہے۔
    یعنی اصل چیز جس کو آپ تقلید باور کروانے پر بضد ھیں۔ وہ ھے رجوع کرنا کسی کی طرف۔
    ۔
    چلیں ایک سیکنڈ کے لیئے آپ کی یہ ضد بھی مان لیتے ہیں۔ لیکن آپ کا دوسرا مسئلہ الٹا ھوجائے گا۔
    ۔
    تمام حنفیہ اس بات پر متفق ہیں۔ کہ تقلید اختلافی مسائل میں ھوتی ہے۔ اور اجماع منعقد ھوا حنفیوں کے گھر کا۔ کہ بیک وقت تقلید صرف ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی ھوگی۔ اور ائمہ اربعہ کے علاوہ تقلید کی ممانعت ھے".
    ۔
    اب سوال یہ ھے کہ تقلید پر جو حنفیوں کے گھر کا اجماع ھوا۔ وہ صرف ائمہ اربعہ کی تقلید پر ھوا۔ تو غیر ائمہ اربعہ کی طرف رجوع کو تقلید کیسے قرار دے دیا حنفیوں نے؟؟؟؟؟؟
    اور اگر غیر ائمہ اربعہ کی طرف رجوع بھی تقکید ہی ہے۔ تو حنفی تو خود اپنے ہی اجماع کے منکر ھوگئے۔ اور حنفیوں کے نزدیک اجماع کا منکر تو کافر ھوتا ھے۔
    ۔
    دوسرا نقطہ:
    عام آدمی کا اپنے سے اہل علم کی طرف رجوع کرنا تو نص سے ثاب ھے۔ یعنی عام آدمی پر واجب ھے کہ وہ ہر ہر مسئلے میں اہل علم سے رجوع کرے۔ آیت فاسألوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون کے تحت۔ تو ثابت ھوا رجوع الی اھل العلم تو نص سے ثابت ھے۔ پھر یہ تقلید کیسے ھوگئی؟
    چلو ایک سیکنڈ کے لیئے مان لیا کہ یہ بھی تقلید ھے۔ تو بتائیے۔ آج کل کے حنفی کس کس مسئلے میں کہاں کہاں رجوع کر رھے ھوتے ہیں؟ اور رجوع کرنے سے کس کس کے مقلد بن رھے ھوتے ہیں؟؟؟؟؟؟

    اس میں ایک سوال کا اور بھی اضافہ آئے گا۔ کہ۔ اگر جب ایک عام آدمی کسی عالم یا مفتی سے رجوع کرتا ھے۔ تو 2018 کے حنفیوں کے حساب سے وہ تقلید کر رہا ھوتا ھے۔
    تو سوال یہ ھے۔ کہ کیا ایک عام آدمی کسی مقلد عالم کی بھی تقلید کرسکتا ھے؟ یعنی کیا تقلید کسی مقلد (عالم) کی بھی کی جاسکتی ھے؟

    یعنی ہر تینوں صورتوں میں حنفی حضرات اپنے ہی اجماع کے منکر ثابت ھونگے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 06، 2018 #40
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,506
    موصول شکریہ جات:
    393
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    کتاب انکار حدیث کا نیا روپ سے ایک اقتباس

    (رواۃ حدیث کی توثیق و تضعیف اجتہاد امر نہیں ہے)

    تمام اصحاب نظر جانتے ہیں کہ جرح و تعدیل کی اصل بنیاد امور محسوسہ یعنی مشاہدات اور مسموعات پر ہے۔ ان مشاہدات و مسموعات نیز حدیث کے متن و سند کے خوردبینی جائز ہے اور اپنے تجربات کی روشنی میں ہی جارحین اور معدلین کسی راوی کے متعلق کسی عصبیت، حقدو محابات، ورع لومتہ لائم کے خوف کے بغیر غایت درجہ ورع و امانت کے ساتھ اپنا فیصلہ اور حکم صادر کرتے ہیں۔ اتصال سند، توثیق الرواۃ، انکا ضابط القلب اور جید الحافظہ ہونا راوی اور مروی عنہ کی معاصرت اور آپس میں ان کے لقاء و سماع وغیرہ کی تحقیق محض جارحین اور معدلین کی شخصی آراء، تجویز، قیاس و اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہوسکتی نیز ان جارحین و معدلین نے رواۃ کی نسبت جو کچھ لکھا ہے ثقه، ثبت، ، ثقه ثقه، ثبت ثبت، حافظ،، ثقه حافظ، ثقه ثبت، صدوق،شيخ،ضابط، عادل، حجة، جيد الحديث، حسن الحديث، صويلح، روواعنه، يكتب عنه، يكتب حديثه، صدوق إنشاء الل، مقبول، صالح الحديث، مقارب الحديث، محله الصدق، أرجوان لابأس به،لابأس به، ليس به بأس، مأمون، خيار، وسط، متقن، له اوهام، مضطرب، مضطرب الحديث، صدوق تغير، صدوق يهم، صدوق سي الحفظ، صدوق، رمي بالتشيع، الي الصدق ماهو، واهم، مجهول الحال، مجهول العين، مستور، لايعرف، ساقط، واه، واه جدا، هالك، دجال، متروك، كذاب، يكذب، متهم بالكذب، وضاع، متهم بالوضع، يضع، لايساوي شيئا، لايساوي فلسا، ضعفوه، تركوه، متساهل، لين الحديث، ليس بشي، له مناكير، منكر الحديث، تعرف و تنكر، ركن الكذب، اكذب الناس، اليه المنتهي، في الكذب، سي الحفظ، تكلموا فيه، ذاهب الحديث، ليس بقوي، ليس بالمتين، سارق الحديث، يسرق الحديث، ليس بثقة، غير أوثق منه، لايحتج به، ليس بحجة، ليس بذاك، فيه مقال، رمي بالنصيب، فيه تشيع، فيه الارجا، شيعى جلد، زنديق، رافضى، قدرى، من الخوارج، لايكتب حديثه، لاتحل الرواية عنه، ضعيف جدا، واه بمرة، اور تالف وغیرہ الفاظ جرح و تعدیل لکھے ہیں، ان سب کی بنیاد حس، تجربات، مسموعات، مشاہدات اور ان کی روایات کے باریک بین تجزیہ پر ہے نہ کہ قیاس و اجتہاد یا ظن و تخمین پر۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں