1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محمدیہ پاکٹ بک

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 09، 2014۔

  1. ‏جون 13، 2014 #361
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    حدیث کا صحیح مفہوم

    کسی نے حدیث مذکور میں شیطان کے معنے بچہ جنانے والی دایہ کے کئے ہیں اور کسی نے حدیث مذکور میں مس شیطان سے مرض ام الصبیان مراد لیا ہے جسے ام الشیطان بھی لغتِ طب میں کہا گیا ہے وغیر ذالک ومن التاویلات اسی طرح سید احمد نے بھی ایک تاویل کی ہے کہ عیسائیوں کے مذہب میں یہ مانا گیا ہے کہ ’’ یسوع جنگل میں چالیس دن تک شیطان سے آزمایا گیا۔‘‘(۱۳۱) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں عیسائیوں کے اس خیال کی تردید کی ہے۔ یعنی تاویلات دل خوش کن تو بیشک ہیں لیکن الفاظِ حدیث ان میں سے کسی ایک تاویل کو قبول نہیں کرتے۔ پس حدیث مذکور کا صحیح مطلب میرے ناقص خیال میں صرف اسی قدر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کے عند الولادۃ رونے کو مس شیطان سے تعبیر فرمایا ہے اور اِلاَّ مَرْیَمَ وَابنھا کا استثناء حدیث مذکور میں یستھل صارخا سے فرمایا ہے۔ یعنی ایک واقعہ کا بیان مقصود ہے جو وقوع پذیر ہوچکا ہے کہ سارے بچے تو پیدا ہونے کے بعد روتے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام و مریمعلیہا السلامپیدا ہونے کے بعد مطلق نہیں روئے تھے۔ اس سے نہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام و مریم علیہا السلام کی کوئی فضیلت بیان کرنی مقصود ہے۔ نہ دوسرے انبیاء کی توہین، بلکہ صرف ایک واقعہ کی حکایت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشتر ہوچکا ہے۔
    الزامی جواب :
    مرزائیوں کی ضیافتِ طبع کے لیے مرزا صاحب کے قلم کا لکھا ہوا جواب بھی درج ذیل کیا جاتا ہے تاکہ مرزائی حضرات کا منہ بند ہو جائے اور اہل علم مسلمان مرزا صاحب قادیانی کے ’’علم و نظر‘‘ کی داد دیں:
    ’’ اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عیسیٰ اور اس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں، اس کے معنے نادان لوگ نہیں سمجھتے۔ اصل بات یہ ہے کہ پلید یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں پر سخت ناپاک الزام لگائے تھے اور دونوں کی نسبت شیطانی کامونکی تہمت لگاتے تھے، سو اس افترا کا رد ضروری تھا۔ پس اس حدیث کے اس سے زیادہ کوئی معنی نہیں کہ یہ پلید الزام جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں پر لگائے ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے بلکہ ان معنوں کرکے وہ مس شیطان سے پاک ہیں اور اس قسم کے پاک ہونے کا واقعہ کسی اور نبی کو کبھی پیش نہیں آیا۔‘‘(۱۳۲) (وافع البلاء صفحہ آخری)
    اُمْصُصُ بظراللات کی تحقیق
    مرزائی اعتراض:
    حضرت مرزا صاحب نے گالیاں دی ہیں تو کیا ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی تو کفار مکہ کو کہا تھا اُمْصُصْ بظر اللَّاتِ جاؤ لات بت کی شرمگاہ چومو۔ (۱۳۳)
    جواب:
    مرزائی معترض نے جو حوالہ پیش کیا ہے اور جو ترجمہ کیا ہے اس میں پورا پورا مرزائیت کا ثبوت دیا ہے۔ مرزائیوں کی ذہنیت خدا تعالیٰ نے بالکل مسخ کردی ہے۔ ان سے غور و فکر کی تمام قوتیں سلب کرلی ہیں۔ جب کوئی بات بن نہ آئے تو جھٹ واقعات کو موڑ توڑ کر نہایت برے طریق سے پیش کرکے بزرگانِ دین کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
    قطع نظر اس کے کہ مرزائیوں کی پیش کردہ عبارت کس حیثیت کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کا جواب علم کی روشنی میں دیا جائے تاکہ علم دوست اور انصاف پسند حضرات کے لیے چراغِ راہ کا کام دے سکے۔
    واقعات اس طرح ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کفارِ مکہ میں سے ایک شخص نامی بُدَیْل بن ورقاء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے متعلق کہا: ’’ اِنَّ ھٰؤُلَآئِ لَوْ قَدْ مَسَّھُمْ حَزُّ السِّلَاحِ لَاَسْلَمُوْکَ۔ اگر ان مسلمانوں کو ذرا سی تکلیف پہنچی اور مصائب و آلام سے دوچار ہوئے تو آپ کو چھوڑ دیں گے اور دشمنوں کے حوالے کردیں گے۔

    یہ بات ایک جان نثار اور فدا کار مسلمان کیونکر برداشت کرسکتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی غیرت اسلامی جوش میں آگئی۔ آپ سے نہ رہا گیا فوراً بول اُٹھے۔

    یعنی جاؤ، لات بت سے کہو کہ ہمیں متزلزل کردے۔ ہمارے پائے استقلال میں لغزش پیدا کردے (اگر وہ کرسکے) ہم حضور علیہ السلام کے فدا کار غلام ہیں۔ جہاں آپ کا پسینہ بہے گا ہم اپنا خون بہا دیں گے۔ مگر حضور علیہ السلام پر آنچ تک نہ آنے دیں گے۔ تمہاری بکواس اور بے ہودہ گوئی ہم پر کوئی اثر نہیں کرسکتی اور نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ہماری عقیدت کے متعلق کوئی شک و شبہ پیدا کرسکتی ہے۔(۱۳۴)

    بُدَیل نہایت عیار اور چالاک انسان تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں مسلمانوں کے اخلاص و عقیدت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کردئیے جائیں۔ اور دوسری جانب مسلمانوں کو یہ سبق دیا جائے کہ تکلیف و آزمائش کے وقت علیحدہ ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ دو پھر آپ جانیں اور دشمنانِ اسلام۔

    اس کا جواب حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ تیری بکواس کی کوئی حقیقت نہیں۔ ہم تیری باتوں میں آنے والے نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینا عین سعادت سمجھتے ہیں۔ تیری باتیں یا وہ گوئی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ ان کو حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔

    مرزائیوں کو جو علم و عقل سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ یہ جان لینا چاہیے کہ عربوں کا محاورہ ہے اُمْصُص بَظْرِ فُلَانَۃٍ اَوْ اُمِّہٖ فلاں اور اُمَّ (ماں) کی بجائے کسی محبوب ترین چیز کا نام بھی لیتے ہیں اور مراد ہوتی ہے کہ جاؤ جو مرضی ہے بکتے پھرو یا وہ گوئی کرو۔ اس کی وضاحت کے لیے ابن رشیق کی مشہور و معروف کتاب ’’ العمدۃ‘‘ کا ایک حوالہ پیش کیا جاتا ہے جو ہماری اس دلیل کو مضبوط ترین کردیتا ہے۔ ’’ اِنَّ الشُّعَرَائَ ثَلَاثَۃٌ شاعر، شُوَیعر ومَاصٍ بَظْر اُمّہٖ۔ (۱۳۵)طبع ۱۹۳۴ء یعنی شاعروں کی تین قسمیں ہیں۔ ایک تو بلند پایہ شاعر، دوسرے معمولی اور گھٹیا درجے کے شاعر، تیسرے محض یا وہ گو اور تک بند۔

    اب اس روشنی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے الفاظ پر غور فرمائیے کہ مرزائیوں نے کتنا غلط اور بیہودہ ترجمہ کیا ہے ۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب قادیانی نے اردو، فارسی اور عربی میں نہایت گندی اور فحش گالیاں اپنے مخالفوں کے حق میں استعمال کی ہیں جن کا نمونہ گزشتہ صفحات میں درج کیا جاچکا ہے۔

    حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انتہائی جوش اور غصے کے عالم میں بھی کوئی نازیبا کلمہ استعمال نہیں فرمایا۔ صرف یہی کہا کہ تمہاری باتیں محض بکواس ہیں ہم ایسے نہیں جیسے تم نے خیال کیا ہے تمہارا خیال بالکل باطل ہے۔ بتائیے اس میں کونسی گالی ہے؟

    -----------------

    (۱۳۱) مرقس کی انجیل باب اول آیت ۱۳،۱۴

    (۱۳۲) دافع البلائِ و معیار اہل الاصطفاء ص۴و روحانی ص۲۲۰، ج۱۸، نوٹ: مرزا نے یہی توضیح ایام الصلح ص۱۱۷تحفہ گولڑویہ ص۱۲۵، انجام آتھم اور حمامۃ البشریٰ ص۴۷میں کی ہے، ابو صہیب

    (۱۳۳) احمدیہ پاکٹ بک ص۹۶۱

    (۱۳۴) صحیح بخاری ص ۳۷۸،ج۱کتاب الشروط باب الشروط فی الجھار، نوٹ،مرزائیوں نے، ادارۃ المصنفین ربوہ ضلع جھنگ، کی طرف سے ترجمہ ، صحیح بخاری شائع کیا تھا۔ جس کے مترجم (مرزے محمود کے رشتہ میںسالے) سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب تھے،انہوں نے مذکورہ حدیث پر ایک مبسوط حاشیہ لکھا ہے کہ یہ کلمات عرب لوگ گالی کے طور پر استعمال کرتے تھے لیکن یہ فقرہ استعارۃ مزا لینے اور خمیازہ بھگتنے کے معنوں میں بھی ہوسکتا ہے، لات، طائف میںقبیلہ بنو ثقیف کی دیوی تھی اور اسی کے نام پر بت خانہ تھا۔ جو ایک چٹان پر واقع تھا۔ لات دیوی خوب صورت پوشاک میں ملبوس اور زیوروں سے آراستہ و پیراستہ رکھی جاتی تھی نہ صرف بنو ثقیف بلکہ سارا عرب ہی اس کی پوجا کرتا تھا۔ جس طرح ہندوؤں میں لنگ پوجا وغیرہ کا رواج ہے اسی طرح کا ایک پوجا اس بت خانہ میں بھی ہوتی تھی اور لات کے پجاریوں میں زنا کاری اور شراب خوری بکثرت تھی … حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی … مذکورہ بالا فقرے سے ان کے عیوب کی طرف اشارہ کیا جو لات دیوی کے پجاریوں میںعام تھے۔ حاشیہ ترجمہ بخاری ص۸تا ۱۱جزء گیارہواں، طبعہ ربوہ ۱۹۷۰ء ۔ (ابو صہیب)

    (۱۳۵) العمدۃ ص۹۷، تا ۹۸، ج۱طبعہ ۱۹۳۴ء
     
  2. ‏جون 13، 2014 #362
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    لفظ زنیم کی تحقیق

    اعتراضِ مرزائیہ :
    اگر مرزا صاحب نے اپنے مخالفوں کو حرا مزادہ کہا ہے تو کیا ہوا؟ قرآن نے بھی تو اپنے مخالفین کے حق میں ’’ زنیم‘‘ (حرا مزادہ) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ (۱۳۶)
    جواب:
    مرزائی معترض نے اس جگہ بھی نہایت بد دیانتی سے کام لیا ہے اور قرآنِ مجید جو کہ اقوامِ عالم کے لیے زندگی کا پیغام لایا ہے جو مردہ قوموں کو حیات بخشا ہے جس نے عرب کے جاہل بدوؤں کو عالم اور مہذب بنا کر اس لائق کیا کہ علم و عمل اور تہذیب و تمدن میں تمام دنیا کو سبق دیں، ایسے پاکیزہ اور حیات آفریں پیغامات پر یہ مرزائی گالیوں کا الزام لگا رہے ہیں۔ صرف اس لیے کہ مرزا صاحب سے یہ ناشائستہ حرکت سرزد ہوئی ہے مرزائیوں کا تو یہ دستور ہے کہ جو عیب مرزا صاحب کی ذات ’’تقدس مآب‘‘ میں پایا جائے، وہی عیب قرآن اور پیغمبر اسلام علیہ السلام میں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب سنیے! زنیم کے اصلی معنی کتب ادب اور لغت کی زبانی پھر مرزائیوں کی جسارت کی داد دیجئے۔ یہ لفظ سورۃ القلم کی آیت نمبر ۱۳میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے:
    (۱) عربی لغات میں زَنِیْم کے معنی لکھے ہیں:
    (ا) اَلْمُلْصَقُ بِالقوم وَلَیْسَ مِنْھُمْ۔(۱۳۷)
    (ب) اَلْمُسْتَلْحَقُ فِیْ قَوْمٍ وَّلَیْسَ مِنْھُمْ۔(۱۳۸)

    (ج) One adapted among a people to whom he does not belong.(۱۳۹)
    (عربی انگریزی ڈکشنری از ای۔ ڈبلیوکین)

    عربی کی ان مشہور و معروف اور مستند لغات کی رو سے زَنِیْم کے معنی ہیں:
    ’’ وہ شخص جو کسی دوسری قوم میں شامل ہو جائے، بحالیکہ وہ اس قوم سے نہیں۔‘‘
    (۲) کتب ادب:
    کسی لفظ کے معنی وہی صحیح سمجھے جاتے ہیں جو ادب اور لٹریچر کی کتابوں میں بیان ہوں۔ عربی زبان سے تھوڑی سی واقفیت رکھنے والا انسان بھی خوب سمجھتا ہے کہ علامہ عصر المبرد کی شہرہ آفاق کتاب ’’الکامل‘‘ کا مرتبہ اور درجہ کتنا بلند ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں مولوی فاضل اور ایم۔ اے عربی کے نصاب میں داخل ہے اور علامہ ابنِ خلدون نے اس کتاب کو عربی ادب کے ارکان اربعہ میں پہلا درجہ دیا ہے۔ اس مستند اور مشہور کتاب میں زَنِیْم والی آیت نقل کرکے زَنِیْم کے معنی علامہ موصوف نے یہ لکھے ہیں۔ ھُوَ الدَّاعِی الْمُلْزَقُ یعنی ہو تو کسی قوم سے اور مل جائے کسی دوسری قوم کے ساتھ۔ (۱۴۰)
    حضرت حسان رضی اللہ عنہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور خاص شاعروں میں سے تھے، ایک شعر میں ’’زنیم‘‘ کا لفظ استعمال کرکے خود ہی اس کے معنے لکھتے ہیں:
    زَنِیْمٌ تَدَاعَاہُ الرجالُ زیادَۃٌ
    کَمَا زِیْدَنِیْ عَرْضِ الْاَدِیْمِ الْاکارِعُ(۱۴۱)

    یعنی زنیم وہ ہے جسے لوگ زائد سے تعبیر کرتے ہیں جس طرح کھال میں ٹانگیں زائد معلوم ہوتی ہیں۔
    عربی کتب ادب اور لغات کی رُو سے زنیم کے معنی ہیں ’’ وہ آدمی جو ایک قوم میں سے تو نہ ہو مگر اس میں آملے۔‘‘
    قرآن مجید کی آیت پر اعتراض کرنے والے مرزائیوں کو غور کرنا چاہیے کہ مرزا صاحب کی محبت میں وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدفِ طعن بناتے ہیں، قرآن پاک کی عظمت پر حملہ کرتے ہیں۔ قرآنِ حمید اس سے بہت بلند و بالا اور ارفع و اعلیٰ ہے کہ اس قسم کے نازیبا الفاظ اپنے مخالفین کے حق میں استعمال کرے۔ گالیاں تو وہ دیتا ہے جو کمزور ہو، اللہ عزوجل جو سب جہانوں کا مالک ہے، جس کے ارادے کو کوئی روک نہیں سکتا، جو آنکھ جھپکنے میں چاہے تو سارے جہان کو تباہ و برباد کردے، اسے کیا ضرورت ہے کہ گالیوں پر اتر آئے؟ قرآنِ عزیز کے نزول کا مقصد تو یہ ہے کہ دلوں کو پاک بنائے۔ سینوں میں ہدایت کا نور بھر دے۔ گمراہوں کو سیدھے راستے پر لے آئے۔ کیا ایسی گالیوں کو قرآن میں ثابت کرنا راجپالی ذہنیت نہیں؟ کیا یہ کلام اللہ کی توہین نہیں؟ کیا قرآن کی عظمت کے خلاف نہیں؟ یقینا ہے۔
    اس کے خلاف مرزا صاحب کی صاف اور واضح عبارتیں اردو، فارسی اور عربی میں موجود ہیں جن میں مخالفوں کو ’’ نسلِ بدکاراں، حرامزادے کنچنیوں کی اولاد، ذریۃ البغایا‘‘ وغیرہ مکروہ اور ناشائستہ الفاظ سے یاد فرمایا گیا ہے۔
    نوٹ: اس کے علاوہ ابن دُریْد جو لغت کا مشہور امام ہے کتاب الاشتقاق میں زنیم پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    وَالزَّنِیْمُ الَّذِیْ لَہٗ زَنَمَۃٌ مِّنَ الشَرِّیُعْرَفُ بِھَا اَیْ عَلَامَۃٌ۔
    پھر قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت نقل کرکے لکھتے ہیں:
    اِنَّمَا اداد بزنیمْ اَنَّ لَہٗ ذَنَمَۃٌ مِنَ الشَّرِ۔(۱۴۳)
    یعنی زنیم کے معنی قرآنی آیت میں ہیں: ’’ شرارت میں مشہور‘‘ ابن دُرَیْد ایسا مسلمہ امام لغت لکھتا ہے کہ زنیم گالی وغیرہ کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا، بلکہ اس کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنی شرارتوں کی وجہ سے لوگوں میں مشہور ہو جائے۔
    بتائیے کہ ان معنوں میں کونسی برائی ہے؟ اے کلام اللہ پر اعتراض کرنے والو! اپنی نظروں کو وسیع کرو۔


    واٰخر دعوٰنا ان الحمد للّٰہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبیَّ بعدہ۔


    ------------------------
    (۱۳۶) احمدیہ پاکٹبک ص۹۶۰
    (۱۳۷) لسان العرب ص۲۷۷، ج۱۲
    (۱۳۸) تاج العروس شرح قاموس
    (۱۳۹) عربی انگریزی ڈکشنری از۔ ای ڈبلیو کین
    (۱۴۰) الکامل للمبرد ص۱۱۴۶ج ۳ولسان العرب ص۲۷۷، ج۱۲
    (۱۴۱) لسان العرب ص۲۷۷، ج۱۲واساس البلاغۃ ص۱۹۶
    (۱۴۲) مرزا محمود ، سورہ القلم کی آیت ۱۴کی تشریح میں لکھتا ہے کہ قرآن مجید میں زنیم کالفظ ہے۔ جس کے معنیٰ ہوتے ہیں کہ وہ شخص جو کسی قوم کا فرد تو نہیں مگر اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتا ہے ہم نے اس کا ترجمہ خدا کا بندہ ہو کر شیطان سے تعلق رکھتا ہے، کیا ہے یعنی ہے تو وہ خدا کا مگر اپنے آپ کو منسوب بتوں کی طرف کرتا ہے، تفسیر صغیر ص۷۶۳طبعہ ۱۹۹۰ء
    محمد علی مرزائی لاہوری اپنی تفسیر، بیان القرآن ص۱۸۷۶، ج۳حاشیہ ۳۴۰۱میں لکھتا ہے کہ زنیم۔ جو ایک قوم میں سے نہیں مگر ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے (انتھی) ابو صہیب۔
    (۱۴۳)کتاب الاشتقاق ص۱۰۸طبع یورپ تخریج محمدیہ پاکٹ بک سے فارغ ہوا۔ ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۹۵ء بروز پیر صبح ۹بج کر ۲۵منٹ، اے میرے پیارے اللہ میرے لیے اسے کفارہ سیات اور عوام کے لیے نافع بنا اور میرے ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں برکت ڈال دے۔ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی ، آمین یا الہ العالمین ، ابو صہیب محمد داؤد ارشد کوٹلی ورکاں نا رنگ منڈی۔ شیخوپورہ
     
    Last edited: ‏جون 13، 2014
  3. ‏ستمبر 09، 2015 #363
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,359
    موصول شکریہ جات:
    6,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    فورم پر موجود قادیانیوں سے ہوشیار و خبردار رہیئے۔ جزاک اللہ خیرا!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 10، 2015 #364
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,502
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جزاک اللہ خیرا کثیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں