1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرد بھی بکتے ہیں جہیز کے لیے

'جہیز' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏فروری 21، 2012۔

  1. ‏مارچ 17، 2013 #31
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    خود مانا جا رہا ہے کہ جہیز ایک غلط چیز ہے، اور اس کے حق میں دلائل بھی کون دیتا ہے؟۔۔ لیکن اس کے باوجود پھر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ نہیں جہیز ملنا چاہے بس نام ضروریات زندگی کا رکھ لیا جائے۔ یعنی شراب کا نام پانی رکھ کر بیچتے چلے جاؤ۔
    کتنی ہی عورتیں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں ۔ کم جہیز کی وجہ سے بہت سی عورتوں کی زندگی عذاب ہو جاتی ہے؛ مار پیٹ کے علاوہ بعض دفعہ ان کو جلا دیا جاتا ہے یا ان پر تیزاب پھینکا جاتا ہے ۔ دوسری طرف آج کل کا معاشرہ انسانی رشتوں سے زیادہ دولت کو اہمیت دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ لعنت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام سادگی کا دین ہے اور اسلام کی نظر میں عورت کا بہترین جہیز اس کی بہترین تعلیم و تربیت ہے۔

    باپ کی وارثت میں بیٹیوں کا ایک معین حصہ قرآن نے مقرر کیا ہے۔ اس کی طرف تو کوئی توجہ نہیں کی جاتی بلکہ اگر کوئی مطالبہ کردے تو اسے معیوب تصور کیا جاتاہے۔ اس کے برعکس جہیز کے بغیر شادی کا تصور بھی ناممکن ہے۔ معاشرے میں کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی صرف اس لیے وقت پر نہ ہو سکی کہ ان کے والدین ان کے جہیز کا بندوبست نہ کرسکے۔چند امیر لوگوں کو چھوڑ کر بے شمار لوگوں کی زندگیاں اپنی بیٹیوں کا جہیز تیار کرنے میں گزر جاتی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات قرض لے کر اس ہندوانہ رسم کی ادائیگی کی جاتی ہے ۔اور اگر کوئی خدا ترس اس رسم کو ختم کرنے کے لیے قدم اٹھائے تو اسے معاشرے کی طرف سے زبردست طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑتاہے۔۔۔جو عمل صنف نازک کے گلے کا طوق بن چکا ہے، ہمارے اصحاب اس وقت بھی مشورہ دیتے چلے جاتے ہیں کہ افراد وتفریط اچھی نہیں۔
    میں مانتا ہوں کہ ہر معاملے میں افراط وتفریط اچھی چیز نہیں لیکن جہاں اچھی چیز ہو، وہاں ادھر ادھر کی دور کی کڑیاں لگا کر جان بھی نہیں چھڑانی چاہیے۔
    جو ایسا کرتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔ اور جو ضروریات کا نام دے کر ایک ایسی چیز کو رائج کرنے کے چکروں میں ہیں۔ جن کے نقصانات سورج کی طرح عیاں ہیں۔ ان کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ غریبوں کےلیے تلواروں کو بے نیام کرنے کے ساتھ ماؤں بیٹیوں کے سروں پہ چادریں دینے کے بجائے کھینچتے چلے جارہے ہیں۔
    فرائض فروض اور اگر مگر پارٹی سے ہمارا (اہل الحدیث کا) کوئی تعلق نہیں۔۔ اس لیے گفتگو میں فرضی بات کو لانے کا جواب بھی فرضی سمجھ لیا جائے۔۔
    ضروریات زندگی ؟ بہت خوب۔
    1۔ پہلی بات مجھے آج ایسا گھرانہ آپ دکھا ہی نہیں سکتے کہ جس گھر میں سونے کےلیے بستر نہ ہوں، کھانے پینے اور کھانا پکانے کےلیے سامان نہ ہو، اگر آپ کی نظر میں ایسا گھرانہ ہے تو بتائیے۔ باللہ التوفیق ایسے گھر کے ساتھ (ان شاءاللہ ہم سب) تعاون کرنے کےلیے تیار ہیں۔۔ اور پھر جو ایسے گھر میں اپنی بیٹی کا رشتہ دے گا۔( شرط یہ ہے کہ خود صاحب مال ہو، اور اس طرح کے گھر بیٹی کا رشتہ دے رہا ہوں۔ جہاں نہ سونے کےلیے بستر ہوں، اور نہ کھانے پینے کا سامان) تو ان شاءاللہ اس کی بیٹی کو ضروریات زندگی کا سامان ہم دیں گے۔۔۔۔ہے کوئی تیار ایسا کرنے کےلیے ؟
    2۔ دوسری بات حقیقتاً جب ایسی صورت حال بن جائے تو علماء سے شرعی رہنمائی لینے آجائیے گا۔ آپ کے حق میں ہی رہمائی مل جائے گی۔ لیکن ابھی فرضی قصے کہانیوں سے دور رہیں۔۔شکریہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں