1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ملحدین کی تردید میں متفرق تحریریں

'دہریت والحاد' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکر, ‏مارچ 07، 2015۔

  1. ‏مارچ 09، 2015 #21
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    وہ کہنے لگے: دیکھو بھئی۔ یہ جو سارا عقائد کا معاملہ ہے یہ صرف اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ بچے کو پیدا ہونے کے بعد سے ہی خدا کا ورد کروایا جاتا ہے۔ اس کے وجود پر یقین کروایا جاتا اور باور کرایا جاتا کہ خدا ہی تمام کائنات کا خالق و مالک ہے۔ اگر یہ سبق نہ پڑھایا گیا ہوتا تو کوئی وہ کبھی بھی خدا پر یقین نہ رکھتا۔ ہر بچے کی پیدائش پر سرپرستوں کی طرف سے بچے کا ایک خدا تخلیق ہوجاتا ہے۔ اصل میں جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔

    ہم نے گذارش کی:
    جناب آپ نے بہت درست بات کی ہے۔ یہ صرف خدا کا نہیں، بہت سے دوسرے معاملات میں بھی یہی مسئلہ درپیش ہے۔ مثلاً بطخ کا بچہ جب انڈے سے نکلتا ہے تو وہ فوراً ہی اپنی ماں کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ لوگ یہی سمجھتے رہے کہ یہ اس بچّے کی ماں ہے، اس لیے اس کی اموشنل اٹیچمنٹ اسے ماں کے پیچھے چلنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ تو بھلا ہو لارنز کا جس نے بتایا کہ بھائی انڈے سے نکلنے پر اماں کی جگہ ایک گیند بھی اس بچے کو چلتی ہوئی نظر آجائے تو وہ بچہ اس گیند کے پیچھے چلنا شروع کردے گا۔ یہ ماں وغیرہ کا سارا چکر خود ساختہ تخلیق کردہ ہے۔
    اسی طرح ایک بچہ جسے شعور کی عمر تک اپنے باپ کا پتہ نہ ہو اس کے لیے باپ کے احساسات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ نہیں بھائی یہ باپ واپ کچھ نہیں ہوتا۔ یہ تو بچپن سے پڑھائے گئے سبق کی بات ہے۔ جیسا پڑھا دو گے ویسے ہی احساسات جنم لیں گے۔
    لیکن یہاں ان دونوں مثالوں سے ایک بات واضح ہے۔ وہ یہ ہے کہ سبق چاہے جو بھی پڑھا دیا جائے، اس سے اصل وجود کا انکار نہیں ہوتا۔ جس طرح باپ کا پتہ نہ ملنے کی وجہ سے باپ کا انکار نہیں ہوسکتا، بطخ کے بچے کا گیند کے پیچھے جانا بطخ کا انکار نہیں کرتا، اسی طرح خدا کا سبق پڑھانے یا نہ پڑھانے سے ذاتی احساسات کا ہونا یا نہ ہونا گفتگو میں آسکتا ہے۔ لیکن اس سے خدا کو غرض کوئی نہیں۔ اس سے خدا کا انکار کہاں لازم آتا ہے؟ خدا تو موجود تھا، موجود رہے گا۔ بندہ پہچانے یا نہ پہچانے۔
     
  2. ‏مارچ 11، 2015 #22
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    کیوں؟ آخر کیوں؟

    چلو مان لیا کہ بگ بینگ ہوا..

    مگر یہ گتهی تو سلجهاؤ.

    اس دهماکے میں ان دو قوتوں کا میں کیا کروں جنہوں نے پلک جهپکتے کائنات کا مربوط نظام مرتب کر دیا؟

    ایک طاقت تهی کشش.. جو اتنی طاقتور تهی کہ دهماکے سے بکهرنے والے موجودات کو دوبارہ سمیٹ کر یکجان کر سکتی تهی، مگر بقول آپ کے اس کے مخالف قوت تهی رفتار، جس نے کشش کو ہرا دیا..

    سوال تو یہ ہے کہ رفتار اور کشش کے مابین یہ تناسب کیسا تها کہ جس نے ایک مربوط نظام کی بنیاد رکه دی.

    کیوں کشش اتنی طاقتور نہ ہو سکی کہ ہر چیز کو واپس سمیٹ سکے؟
    کیوں کشش اتنی طاقتور بهی ہو گئی کہ ان موجودات کو اپنی دسترس سے دور بهی نہ جانے دیا؟
    کیوں رفتار اتنی طاقتور ہو گئی کہ موجودات کو واپس نہ سمٹنے دیا؟
    کیوں رفتار اتنی کمزور بهی ہو گئی کہ چیزوں کو ایک خاص مقام سے آگے منتشر نہ کر سکی؟
    کیوں؟
    اس تناسب نے دنیا کیلئے خاص مقام کیسے چن لیا؟

    یاد رہے کہ:
    سانئسدانوں کے مطابق اگر کائنات کے پھیلنے کی رفتار 55^1/10 کے تناسب سے کم یا زیادہ ہوتی تو کائنات یا تو پلٹ کر تباہ ہو جاتی یا پھر بکھر جاتی اور کہکشائیں، ستارے اور سیارے بننے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ یہ تناسب بہت ہی چھوٹا ہے۔ 1 کے آگے 55 صفر ہیں۔ جو کہ ہمارے محدود ذہن میں آنے ہی مشکل ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ہم نے کوئی گیند بنانا ہو اور اس کا قطر 5 سینٹی میٹر بنانا ہے لیکن 5 سینٹی میٹر کا کروڑواں حصہ بھی اوپر نیچے نہیں ہونا چاہئے۔ یاد رکھیں کروڑ میں صرف 7 صفر ہیں۔ انسان ایسا گیند کبھی کوشش کے باوجود نہیں بنا سکتا۔ لیکن نادان یہ دعوی کرتا ہے کہ کائنات اتفاق سے اتنے باریک شرط کے باوجود بن گئی۔ اتنی باریک بینی ہمارے وہم گمان میں بھی نہیں۔ ۔ اللہ اکبر کبیرا
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 11، 2015 #23
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ملحدین کی رد میں ایک ویڈیو -

    کیا یہ اتنی بڑی مچھلی بھی خود ہی پیدا ہوئی یا پھر اس کا بنانا والا کوئی ہے -

    اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی


    لنک





     
  4. ‏مارچ 11، 2015 #24
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,377
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ماشاء اللہ !یہ تو بہت بڑی مچھلی ہے، ہم تو کہتے ہیں اس مکڑی کو بھی دیکھو ،اللہ تعالی نے اس میں کیا کیا خصوصیات رکھیں ہیں۔ سبحان اللہ!
     
  5. ‏مارچ 11، 2015 #25
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,377
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    کیا اسی کو اندھا عقیدہ نہیں کہتے ہیں؟ یعنی کسی دوسرے کی بات کو بلا کسی تحقیق کے مان لینا، اور اگر وقت پڑے تو اسے ثابت تک نہ کر پانا۔۔۔؟؟ اگر یہی کام ایک مذہبی ذہن کرے تو دنیا لعن طعن کرے لیکن ایک ملحد کرے تو وہ عقل مند، محقق اور سائنس دان ہوگیا ہے؟ کیا یہی فری تھنکنگ ہے؟
    میں نے ایسے بہت سے بے چارہ اور بے سہارہ ملحدین دیکھیں جن کی بے بسی پر ترس بھی آتا ہے اور ہنسی بھی۔ وہ اپنے فائدے میں سائنس کے نظریات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے موقف کو سائنسی موقف کا درجہ دیتے تھکتے نہیں ہیں۔ لیکن جب بحث گوگل سے ہٹ کر اکیڈیمک سطح پر آتی ہے اور سائنس کے ایسے موقف، جو مذہبی نظریات کو مضبوط بنیاد فراہم کر رہے ہوتے ہیں، سامنے آتے ہیں وہاں آکر وہ فوراً اپنی باتوں سے پھر جاتے ہیں۔
    در اصل الحاد ایک ایسا جھوٹ ہے جس کی نہ تو ایک زبان ہے نہ ایک ادب۔ یہ صرف اپنی دماغی خلفشار کو سلجھانے کے لیے مختلف اصطلاحات کے جواب میں "نہیں، نہیں" کی رٹ لگانے کا ایک بھونڈا سلسلہ ہے۔

    -مزمل شیخ
     
  6. ‏مارچ 12، 2015 #26
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    میں کوئی ماہر قانون تو نہیں لیکن ایک ایسے مسئلے پر اپنی رائے پیش کرنا چاہتا ہوں جس کا تعلق قانون سے ہے۔ اگر میری رائے میں کوئی سقم نظر آئے تو براہ مہربانی مطلع فرمائیں۔
    میرا نظریہ ہے کہ انسان کے لئے کوئی قانون بنانا یا بالخصوص اصول قانون کو طے کرنا کسی انسان کے لئے مناسب نہیں۔ اس لئے کہ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو اپنے ماحول اور معاشرے سے متاثر نہ ہو۔ جب ہر انسان اپنے ماحول اور گرد و پیش سے متاثر ہوتا ہے تو یقینا اس کی ترجیحات اور دوسرے انسانوں کی ترجیحات میں فرق ہوتا ہے۔ اب ان میں سے کس کی ترجیحات درست ہیں اور کس کی غلط؟ یہ فیصلہ صرف انسانی ذہن سے کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ نا مناسب بھی ہے۔ مثلا ایک آدمی کی نظر میں جان کی اہمیت سب سے زیادہ ہے اور جان کی حفاظت کے لئے سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے لیکن دوسرا آدمی وہ ہے جو چند نظریات کی خاطر اپنی جان کی قربانی دینا نہ صرف جائز سمجھتا ہے بلکہ اسے باعث فخر خیال کرتا ہے۔ اب ان میں سے کون درست ہے؟ کس کی ترجیحات اعلی و ارفع ہیں؟ اس کا فیصلہ انسانی ذہن کیسے کر سکتا ہے؟ اسی طرح مغربی معاشرے میں رہنے والے کسی شخص کی بہن سے سر عام کوئی بوس کنار کرے تو وہ اسے معمولی گمان کرے گا بلکہ شاید کسی صورت میں اس پر فخر کا اظہار بھی کر دے لیکن مشرقی معاشرے میں خاوند کی اپنی بیوی کے ساتھ ایسی حرکت کو بھی انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے۔اور اس معاملے میں جہاں مغرب مشرق کو تنگ نظری کے طعنے دیتا ہے، وہیں مشرق مغرب کو بے حیائی اور فحاشی کا مرتکب گردانتا ہے۔ کسی معاشرے میں کزن میرج انتہائی معیوب ہے اور کہیں فخر اور اتفاق کا باعث!

    اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کے واسطے کامل و اکمل قانون بنانے کے لئے کسی مافوق البشر ہستی کا ہونا ضروری ہے۔ ایسی ہستی جو انسانی مجبوریوں اور کوتاہیوں سے پاک ہو! ایسی ہستی جس کو کسی قانون سے کسی قسم کی غرض اور فائدہ نہ ہو! اور وہ ہستی اللہ سبحانہ و تعالی کی ہے۔گویا اس دلیل سے نہ صرف اللہ تعالی کا وجود ثابت ہوتا ہے بلکہ شریعت الہی کا انسانیت کے لئے ناگزیر ہونا بھی معلوم ہوتا ہے۔
     
  7. ‏مارچ 12، 2015 #27
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    توجہ طلب ہوں!

    آپ نے عموما الحاد پرستوں کو کچه اس طرح کے اعتراضات کرتے پایا ہو گا،

    1. اللہ سبحانہ نے کائنات کو کیوں تخلیق کیا؟
    2. جب اللہ سبحانہ کو انسان کے تمام احوال سے آگاہی تهی تو عرش پر سزا جزا کر لیتا، انسان کو فرش پر کیوں بهیجا؟
    3. اگر اللہ سبحانہ کو اسلام پسند تها تو سبهی کو مسلمان کیوں نا پیدا کر دیا؟
    4. اللہ نے یہ کیوں کیا؟ اللہ نے وہ کیوں نا کیا؟

    اگر آپ ان تمام اعتراضات پر نظر ڈالیں، جن میں لفظ "کیوں" کا بکثرت استعمال ہوا ہے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ اللہ سبحانہ کی وہ حکمت عملیاں ہیں، جو انسانی ذہن کی سمجه سے بالاتر ہیں لیکن ایک الحادی ذہن چاہتا ہے کہ اللہ سبحانہ کے ہر فعل کی حکمت عملی سے انسان کا واقف ہونا ضروری ہے. آپ کہہ سکتے ہو کہ ایک ملحد چاہتا ہے "خدا بالکل کسی انسان کی طرح سوچے.. اس کا ہر فعل انسان کی طرح ہو. اس کی سوچ انسان جیسی ہو. اس کی ہر حکمت عملی انسانی حکمت عملی جیسی ہو"
    یعنی کہ خدا انسان کے تابع ہو، اپنا ہر اذن انسان سے پوچهے، خدا ہر فعل میں انسان کا جواب دہ ہو.
    یہی بنیادی الحادی خیالات ہیں جن کی بنا پر ملحد خدا کو تلاش نہیں کر پاتا کیونکہ ان اوصاف کا مالک خدا تو ہرگز نہیں ہو سکتا..
     
  8. ‏مارچ 12، 2015 #28
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    زوجین کا اصول

    قرآن کی سوره الذاریات میں تخلیق کے اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : یعنی اور هم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو -

    مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ، خواه وه مادی هو یا غیر مادی ، اس کا ایک زوج (pair) موجود ہے - جیسے مادی ذرات میں پازیٹو پارٹیکل کے ساته نیگیٹو پارٹیکل ، نباتات میں میل پلانٹ کے ساته فی میل پلانٹ ، حیوانات میں ہی اینمل کے ساته شی اینمل (she animal) موجود ہیں - اسی طرح انسان کی دنیا میں بهی عورت کے ساته مرد پیدا کیے گئے ہیں -

    مگر انسان کا معاملہ دوسری مخلوقات سے مختلف ہے - انسان کے لیے زوجین کی پیدائش کافی نہیں - انسان اس کے سوا بهی ایک اور چیز کا طالب ہے - انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے زوجین کے سوا ایک اور چیز چاہتا ہے - اس کو دوسرے الفاظ میں انسان کا فطری ہیبی ٹیٹ (habitat)کہا جا سکتا ہے - موجوده دنیا انسان کے لیے اس کا ہیبی ٹیٹ نہیں - انسان ہر اعتبار سے ایک کامل دنیا چاہتا ہے ، مگر موجوده دنیا کسی بهی اعتبار سے کامل دنیا نہیں -

    اس دنیا میں انسان کے سوا جو چیزیں ہیں ، ان کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے اور دنیا کے درمیان کامل مطابقت پائی جاتی ہے - لیکن انسان کا معاملہ مختلف ہے ، انسان اور دنیا کے درمیان مطابقت موجود نہیں - یہ عدم مطابقت پوری کائنات میں ایک استثنائی واقعہ ہے - انسانی زندگی کا یہ استثنائی پہلو تقاضہ کرتا ہے کہ انسان کو اس کی مطلوب دنیا حاصل هو - اسی مطلوب دنیا کا نام جنت ہے جو انسان کی لیے اس کے مطلوب مسکن کی حیثیت رکهتی ہے - جنت کا امکان اپنے آپ میں جنت کے وجود کا ثبوت ہے -

    الرسالہ ، جنوری 2015
    مولانا وحیدالدین خان
     
  9. ‏مارچ 12، 2015 #29
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    تو (اے گروہ جن وانس!) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟



    لنک




    اَللّٰھُمَّ فَقِّھْنِیْ فِی الدِّیْنِ


    اے ﷲ! مجھے دین کی سمجھ عطافرما (بخاری)
     
  10. ‏مارچ 12، 2015 #30
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کوئی بھی تو نہیں ﷲ کے سوا جو یہ کر سکے

    وہی ﷲ جو اس کائنات کی ابتداء سے اب تک کتنوں کو پال چکا ہے اور کتنوں کو پال رہا ہے اور نہ جانے کتنوں کو پالے گا سبحان ﷲ


    لنک


     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں