• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موضوع: ’’الصحيفة من كلام ائمة الجرح والتعدیل علي ابي حنيفة‘‘

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

رانا اویس سلفی

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
387
ری ایکشن اسکور
1,609
پوائنٹ
109
5۔ حدثنی احمد بن محمد بن یحیی بن سعید القطان ثنا ابو نعیم قال کنامع سفیان جلوسا فی المسجدالحرام فاقبل ابو حنیفۃ یرید فلمار آہ سفیان قال قومو ا بنا لا یعدنا ھذا بجربہ فقمنا وقام سفیان وکنا مرۃ اخری جلوسا مع سفیان فی المسجدالحرام فجاء ابو حنیفۃ فجلس فلم تشعریہ فلما زآہ سفیان استدار فجعل ظھرہ الیہ (اسنادہ حسن) (کتاب السنۃ) جلد اول ص 199)

ترجمہ:امام ابو نعیم ؒ نے کہا ہم امام سفیان ثوریؒ کیساتھ مسجد الحرام میں بیھٹے ہوئے تھے پس ابو حنیفہ آیا ہو اس (سفیان) کی طرف آنا چاہتا تھا جاب امام سفیان ؒ نے اس کو دیکھا امام سفیانؒ ثوری نے کا کھڑے ہوجاؤ یہ شخص اپنی خارش سے ہمیں بھی خارش زدہ کردے گا پس ہم کھڑے ہوگئے اور امام سفیان ثوریؒ بھی کھڑے ہوگے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم بھیٹے ہوئے تھے امام سفیان ثوریؒ کیساتھ مسجدالحرام میں پس انکے پاس ابو حنیفہ آیا اور بیٹھ گیا تو ہمیں اس کا پتہ نہیں چلا۔ تو جب امام سفیانؒ نے اس کو دیکھا تو اس سے منہ پھیر لیا اور اپنی پشت اس کی طرف کردی۔

سند کی تحقیق:
1۔ احمد بن محمد بن یحیی بن سعید القطان ابو سعید البصری صدوق (تقریب التھذیب ص 16)
2۔ ابو نعیم : ھو ٖفضل بن دکین الکوفی دکین عمرو بن حماد بن زھیر التیمی ابو نعیم ثقۃ ثبت (تقریب التھذیب ص 275)
محدث العصر امام سفیان بن عیینہؒ
(ولادت 107ھ متوفی 198ھ)

1۔ حدثنی ابوالفضل الخراسانی نامحمد بن ابی عمر قال سمعت سفیان بن عیینہ یقول: ماولد فی الاسلام مولود اضر علی الاسلام من ابی حنیفۃ (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلدا ول 217)

ترجمہ: امام سفیان بن عیینہؒ نے کہا کہ ابو حنیفہ سے زیادہ نقصان پہنچانے والا اسلام میں کوئی شخص پیدا نہیں ہوا۔

سند کی تحقیق:
1۔ ابو الفضل الخراسانی: ھو ھاشم بن لیث الجوھری نزیل بغداد وقال امام محمد بن مخلد کان ثقۃ متقنا حافظا (تاریخ بغداد جلد 8 ص 245)
2۔ محمد بن ابی عمر: ھو محمد بن یحیی بن ابی عمر العدنی نزیل مکہ امام ذھبیؒ نے کہا محمد بن یحیی اپنے زمانہ کےشیخ الحرم تھے عبادت گزار اور صالح بزرگ تھے ان سے امام مسلم ،ترمذی، نسائی،ابن ماجہ وغیرہ روایت کرتے ہیں امام ابو حاتم نے کہا صدوق اور صالح تھے اور ان میں کچھ غفلت ہے (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 366) امام ابن حبان نے کہا ثقۃ تھا (خلاصہ تذھیب تھذیب الکمال جلد 2 ص 468)


2۔ حدثني محمد بن علي حدثنا إبراهيم بن بشار قال سمعت سفيان بن عيينة يقول كان أبو حنيفة يضرب بحديث رسول الله  الأمثال فيردها بلغه أني أحدث بحديث عن رسول الله  أنه قال البيعان بالخيار ما لم يتفرقا فقال أبو حنيفة أرأيتم أن كانا في سفينة كيف يتفرقان فقال سفيان فهل سمعتم بأشر من هذا. (اسنادہ حسن) (کتاب السنۃ جلد اول ص 216)

ترجمہ: امام سفیان بن عیینہ ؒ نے کہا ابو حنیفہ احادیث رسواللہﷺ کو مثالیں بیان کر کے رد کردیتا تھا انہیں پتہ لگا کہ میں حدیث رسول اللہ ﷺ البیعان بالخیار مالم یتفرقا بیان کرتا کرتا ہوں تو ابو حنیفہ نے کہا کہ دونوں لین دین کرنے والے اگر کشتی میں سوار ہوں تو کیسے جدا ہوں گے امام سفیانؒ نے کہا اس سے بری بات بھی تم نے سنی ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن علی بن حسن بن شفیق بن دینار المروزی ثقۃ صاحب حدیث (تقریب التھذیب ص 311)
2۔ ابراھیم بن بشار الرمادی ابو اسحاق البصری حاٖفظ لہ اوھام (تقریب التھذیب ص 19)
 

رانا اویس سلفی

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
387
ری ایکشن اسکور
1,609
پوائنٹ
109
3۔ اخبرنا ابن رزق اخبرنا عثمان بن احمد الدقاق حدثنا حنبل بن اسحاق حدثنا الحمیدی قال سمعت سفیان کنت فی جنازۃ ام خصیب بالکوفۃ، فسال رجل ابو حنیفۃ عن مسالۃ من الصرف فاقتاہ فقلت یا ابا حنیفۃ ان اصحاب محمد ﷺ قد اختلفو ا فی ھذہ فغضب وقال للذی استقتاہ اذھب فاعمل بھافما کان فیھا من اثم فھو علی (اسنادہ صحیح) (خطیب فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 406)

ترجمہ: امام سفیان بن عیینہ ؒ نے کہا کہ کوفہ میں ام حصیب کے جنازہ میں شریک ہوا تو ایک شخص نے ابو حنیفہ سے سونے چاندی کے مسئلے کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے فتویٰ دیا میں نے کہا کہ ابو حنیفہ اصحاب محمد ﷺ اس میں اختلاف کرتے ہیں تو ابو حنیفہ کو غصہ آیا۔ اور سائل سے کہا کہ جس طرح تجھے میں نے بتایا ہے اس طرح عمل کرنا اگر اس میں گناہ ہے تو مجھ پر ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ ابن رزق: ثقۃ صدوق (تاریخ بغداد جلد اول ص 351)
2۔ عثمان بن احمد الدقاق :ثقۃ (مستدرک الحاکم جلدا ول ص 188)
3۔ حنبل بن اسحاق بن حنبل شیبانی: امام ذھبیؒ نے کہا امام حنبل بن اسحاق قابل اعتمادحافظ حدیث تھے اور امام احمد بن حنبل کے چچا زاد بھائی اور شاگرد رشید تھاے امام خطیب نے کہا ثقہ اور ثبت تھے (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 427)
4۔ الحمیدی: ھو عبداللہ بن زبیر بن عیسی القرشی الحمیدی المکی ابو بکر ثقۃ حاٖفظ فقیہ اجل اصحاب ابن عیینہ (تقریب التھذیب ص 173) وانظر ایضا ص 53


4۔ اخبرنا ابو نعیم الحافظ حدثنا محمد بن احمد بن الحسن الصواف حدثنا بشر بن موسی حدثنا الحمیدی حدثنا سفیان عن ہاشم بن عروۃ عن ابی قال لم یزل امر بنی اسرائیل معتدلا حتی ظھر فیھم المولدون ابناء سبایا الامم فقالو ا فیھم بالرای فضلو و اضلو ا قال سفیان ولم یزل امرالناس معتد لا حتی غیر ذلک ابو حنیفۃ با لکو مۃ و (عثمان ) البتی بالبصرۃ وربیعۃ (بن ابی عبدالرحمن) با لمدینۃ ، فنظرنا فوجد نا ھم من ابناء سبایا الامم (اسنادہ صحیح) (خطیب بغدادی فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 413،414 اخرجہ امام ابو زرعۃ الدمشقی فی تاریخ دمشق جلد اول ص 508 عن محمد بن ابو عمر عن ابن عیینہ بہ مختصرا

ترجمہ: امام عروہ بن زیبر ؒ نے کہا بنی اسرائیل کا حال صحیح رہا حتیٰ کہ باندھیوں سے لڑکے پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی رائے سے باتیں کیں خود بھی گمراہ ہوئے اور لوگوں کہ بھی گمراہ کیا امام سفیان بن عیینہ ؒ نے کہا اس امت کا حال بھی اسی طرح صحیح رہا حتیٰ کہ ابو حنیفہ نے کوفہ میں عثمان البتی نے بصرہ میں اور ربیعہ بن عبدالرحمن نے مدینہ میں بگاڑ پیدا کیا ، تو ہم نے ان کو دیکھا کہ یہ بھی باندھیوں کے لڑکے تھے۔

سند کی تحقیق:
1۔ ابو نعیم الحافظ: ھو احمد بن عبداللہ بن احمد بن اسحاق : امام ذھبیؒ نے کہامحدث العصر تھے اور بہت بڑے حاٖفظ حدیث تھے امام حمزہ بن عباس علوی نے کہا محدثین کہا کرتے تھے کہ ابو نعیم کا چودہ سال تک کوئی نظیر نہ تھا مشرق اور مغرب میں نہ ان سے بڑا کوئی حافظ حدیث تھا اور نہ کسی کے پاس ان سے اعلیٰ سند تھی (تذکرۃ الحفاظ جلد 2ص 732،733)
2۔ محمد بن احمد بن الحسن الصواف: ثقۃ مامون (تاریخ بغداد جلد اول ص 289)
3۔ بشر بن موسیٰ اسدی بغدادی: امام ذھبیؒ نے کہا آپ پختہ کار محدث تھے امام ابو خلال نے کہا امام احمد بن حنبل ان کی بہت عزت کرتے تھے امام دارقطنی نے کہا ثقہ تھے اور عقل مند تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ جلداول ص 433)
4۔ الحمیدی: ھو عبداللہ بن زبیر بن عیسی القرشی الحمیدی المکی ابو بکر ثقۃ حاٖفظ فقیہ اجل اصحاب ابن عیینہ (تقریب التھذیب ص 173) وانظر ایضا ص 53


5۔ اخبرنا ابن رزق اخبرنا عثمان بن احمد الدقاق حدثنا حنبل بن اسحاق حدثنا الحمیدی قال سمعت سفیان یقول: کان ھذا الامر مستقیما حتی نشا ابو حنیفۃ بالکوفۃ وربیعہ بالمدینہۃ والبتی بالبصرہ قال ثم نظر الی سفیان فقال : فاما بلدکم فکان علی قول عطاء ثم قال سفیان : نظرنا فی ذلک فظننا انہ کما قال ھشام بن عروہ عن ابیہ ان امر بنی اسرائیل لم یزل مستقیما معبتدلا حتی ظھر فیھم المولدون ابناء سبایا الامم فقالو فھم بالرای فضلو ا واضلو قال سفیان فنظرنا فوجدنا ربیعۃ ابن سبی، والبتی ابن سبی، و ابو حنیفۃ ابن سبی، فنری ان ھذا من ذالک (اسنادہ صحیح) (تاریخ بغداد جلد 13 ص 414)

ترجمہ: امام حمیدیؒ نے کہا کہ میں نے امام سفیان بن عیینہ کو کہتے ہوئے سنا کہ دین اسلام سیدھا اور صحیح چلتا رہا یہاں تک کہ ابو حنیفہ کوفہ میں ،ربیعہ مدینہ میں ، اور البتی بصرہ میں پیدا ہوئے پھر سفیان نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ تمہارا شہر بھی عطا کے قول طرح ہے اس کے بعد امام سفیان بن عیینہ نے کہا ہم نے دیکھا تو اسی طرح پایا کہ جس طرح ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے بیان کیا کہ بنی اسرائیل کا حال صحیح دیا۔ یہاں تک کہ ان کے اندر باندھیوں کے لڑکے پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی رائے سے باتیں کیں خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا امام سفیان نے کہا ہمارا بھی یہی حا ل رہا ربیعہ بھی لونڈی کا پچہ بتی بھی لونڈی کا بچہ ابو حنیفہ بھی لونڈی کا بچہ ۔ لہذا ہم اس کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔

سند کی تحقیق: وانظر ایضا ص 92،93


امام سعید بن ابی عروبہؒ
(متوفی 156ھ)

1۔ حدثنی علی بن عثمان بن ونفیل حدثنا ابو مسھر حدثنا یحیی بن حمزۃ و سعید یسمع ان ابا حنیفۃ قال لو ان رجلا عبد ھذہ النعل یتقرب بھا الی اللہ لم اربذلک باسا فقال سعید ھذا کفر صریح (اسنادہ صحیح) (کتاب المعرفۃ و التاریخ جلد 2 ص 494 اخرجہ خطیب بغدادی فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 437)

ترجمہ: امام یحیی بن حمزہؒ سے اور امام سعید بن ابی عروبہ سن رہا تھا کہ ابو حنیفہ نے کہا کہ اگر ایک آدمی اللہ کے تقرب کے لیے جوتے کی عبادت کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں دیکھتا ۔ امام سعیدؒ نے نے کہا کہ یہ کفر صریح ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ علی بن عثمان بن محمد بن سعید النفیلی ابو محمد الحرانی ثقۃ ( خلاصہ تذھیب تھذیب الکمال جلد 2 ص 253)
2۔ ابو مسھر: ھو عبدالا علی بن مسھر الغسانی ابو مسھر دمشقی ثقۃ فاضل (تقریب التھذیب ص 195)
3۔ یحیی بن حمزۃ الحٖضرمی قاضی دمشق ابو عبدالرحمن ثقۃ امام (الکاشف جلد 3 ص 223)


2۔ حدثني أبو الفضل حدثنا مسلم بن إبراهيم حدثنا عبد الوارث بن سعيد قال حدثنا سعيد قال جلست إلى أبي حنيفة بمكة فذكر شيئا فقال له رجل روى عمر بن الخطاب رضي الله عنه كذا وكذا قال أبو حنيفة ذاك قول الشيطان وقال له آخر أليس يروى عن رسول الله  أفطر الحاجم والمحجوم فقال هذا سجع فغضبت وقلت ان هذا مجلس لا أعود إليه ومضيت وتركته (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 226،227)

ترجمہ: امام سعید ؒ نے کہا میں ابو حنیفہ کے پاس بیٹھا تھا تو اس نے کوئی بات کی تو ایک آدمی نے ابو حنیفہ سے کہا عمر بن خطابؓ سے اس طرح روایت کیا گیا ہے تو ابو حنیفہ نے کہا یہ شیطان کا قول ہے اور اس (ابو حنیفہ) سے ایک دوسرے آدمی نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ سے مروی نہیں "کی سینگی لگانے والا اور جس کو سینگی لگائی گئی ہے دونوں کا روزہ ختم ہے۔" تو (ابو حنیفہ) نے کہا یہ تو تک بندی ہے تو میں (سعیدؒ) غضبناک ہوا اور میں نے کہا بےشک میں اس مجلس کی طرف دوبارہ نہیں آؤن گا اور میں چلا گیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا۔

سند کی تحقیق:
1۔ ابو الٖفضل الخراسانی : ھو ھاشم بن لیث الجوھری نزیل بغداد وقال امام محمد بن مخلد کان ثقۃ ثبتا متقنا حافظا (تاریخ بغداد جلد 8 ص 245)
2۔ مسلم بن ابراھیم الازدی الفراھیدی ابو عمرو البصری ثقۃ مامون (تقریب التھذیب ص 335) امام یحیی بن معین اور امام ابو حاتم نے کہا ثقہ و مامون تھا (خلاصہ تذھیب تھذیب الکمال جلد 3 ص 23) امام عجلی نے کہا ثقہ تھا (تاریخ الثقات ص 427)
3۔ عبدالوارث بن سعید بن ذکوان العنبری مولاھم ابو عبدۃ العنبری البصری ثقۃ ثبت (تقریب التھذیب ص 222)
 

رانا اویس سلفی

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
387
ری ایکشن اسکور
1,609
پوائنٹ
109
امام سلمہ بن عمروالقاٖضیؒ

1۔ فاخبرنی محمد بن الولید قال سمعت ابا مسھر یقول قال سلمۃ بن عمرو القاضی علی المنبر لارحم اللہ ابا حنیفۃ فانہ اول من زعم ان القرآن مخلوق (اسنادہ صحیح) (تاریخ دمشق جلد اول ص 506 اخرجہ الخطیب فی تاریخ البغداد جلد 13 ص 385)

ترجمہ: امام سلمہؒ بن عمرو قاضی نے ممبر پر کہا کہ ابو حنیفہ پر اللہ رحم نہ کرے کہ مخلوق قرآن کا پہلا قائل وہی ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔محمد بن الولید بن ھیرۃ الدمشقی الفلانسی ثقۃ (الکاشف جلد 3 ص 93)
2۔ ابو مسھر: ھو عبدالا علی بن مسھر الغسانی ابو مسھر دمشقی ثقۃ فاضل (تقریب التھذیب ص 195)


امام سلیمان بن حرب ؒ
(متوفی 224ھ)

1۔ حدثنا سلیمان حرب حدثنا حماد بن زید قال قال ابن عون نبنت ان فیکم صدا دین یصدون عن سبیل اللہ قال سلیمان بن حرب وابو حنیفۃ واصحابہ ممن یصدون عن سبیل اللہ (اسنادہ صحیح) (کتاب المعرفۃ والتاریخ جلد 2 ص 786 اخرجہ الخطیب جلد 13 ص 420)

ترجمہ: امام حماد بن زیدؒ کہتے ہیں کہ امام ابن عون ؒ نے کہا کہ مجھے خبردی گئ ہے کہ بے شک میں اللہ کے راستہ سے روکنے والے لوگ ہیں امام سلیمان بن حربؒ نے کہا کہ ابو حنیفہ اور اس کے اصحاب اللہ کے راستے سے روکتے تھے۔

سند کی تحقیق:
1۔ سلیمان بن حرب الازدے البصری القاضی بمکا ثقۃ امام حافظ (تقریب اتھذیب ص 133)
2۔ حماد بن زید بن درھم الازدی الجھضمی ابو اسمعیل البصری ثقۃ ثبت فقیہ (تقریب التھذیب ص 82)


امام شریک بن عبداللہ ؒ
(ولادت 95ھ متوفی 177ھ)

1۔ حدثني منصور بن أبي مزاحم قال سمعت شريكا يقول لان يكون في كل ربع من أرباع الكوفة خمار يبيع الخمر خير من أن يكون فيه من يقول بقول أبي حنيفة (اسناد ہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 203 اخرجہ ابن عدی فی الکامل فی ضعفاء الرجال جلد 7 ص 2474 و ابن حبان فی کتاب المجروحین جلد 3 ص 73)

ترجمہ: امام منصور بن ابی مزاحمؒ نے کہا میں نے شریک ؒ سے سنا وہ کہتے تھے کہ کوفہ کے ہر محلہ میں اگر شراب کا کوئی ڈپو ہو جو شراب بیچتا رہے وہ بہتر ہے اس بات سے کہ ابو حنیفہ کے قول سے وہ فتویٰ دے۔

سند کی تحقیق:
1۔ منصور بن ابی مزاحم بشیر الترکی ابو نصر بغدادی الکاتب ثقۃ (تقریب التھذیب ص 348)

2۔ حدثني أبو الفضل الخراساني حدثنا أبو نعيم قال كان شريك سيء الرأي جدا في أبي حنيفة وأصحابه ويقول مذهبهم رد الأثر عن رسول الله (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلدا ول ص 204)

ترجمہ: امام ابو نعیم ؒ نے کہا امام شریک ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے بارے میں سخت بری رائے رکھتے تھے ۔ اور کہتے تھے ابو حنیفہ اور اس کے اصحاب کا مذہب رسواللہ ﷺ کی حدیث کو رد کرتا ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ ابو الٖفضل الخراسانی : ھو ھاشم بن لیث الجوھری نزیل بغداد وقال امام محمد بن مخلد کان ثقۃ ثبتا متقنا حافظا (تاریخ بغداد جلد 8 ص 245)
2۔ ابو نعیم : ھو ٖفضل بن دکین الکوفی دکین عمرو بن حماد بن زھیر التیمی ابو نعیم ثقۃ ثبت (تقریب التھذیب ص 275)

3۔ حدثني محمد بن عمرو الباهلي حدثنا الاصمعي عن شريك قال أصحاب أبي حنيفة أشد على المسلمين من عدتهم من لصوص تاجر قمي (اسنادہ حسن ) (کتاب السنۃ جلد اول ص 203)

ترجمہ: امام شریک ؒ نے کہا اصحاب ابی حنیفہ مسلمانوں کیلئے قمی چوروں سے زیادہ نقصان دہ ہیں۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن عمرو بن عباس الباھلی البصری ثقۃ (تاریخ بغداد جلد 3ص 127)
2۔ الاصمعی: ھو عبدالملک قریب بن عبدالملک ابو سعید الا صمعی احد الا علام وقال ابن معین ثقۃ (خلاصہ تذھیب تھذیب الکمال جلد 2 ص 179)

4۔ حدثنی محمد بن اسماعیل قال حدثنا الحسن بن علی حدچنا یحیی قال سمعت شریکا یقول انما کان ابو حنیفۃ صاحب خصومات لم یکن یعرف الا بالخصومات ( اسنادہ صحیح) (کتاب الضعفاء الکبیر جلد 4 ص 282)

ترجمہ: امام شریک ؒ نے کہا کہ ابوحنیفہ فسادی اور جگھڑالو آدمی تھا اور اسی جگھڑے بازی سے ہی پہچانا جاتا تھا۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن اسماعیل بن یوسف السلمی ابو اسماعیل الترمذی نزیل بغداد ثقۃ حافظ لم یتصح کلام ابن ابی حاتم فیہ (تقریب التھذیب ص 290)
2۔ حسن بن علی بن عفان العامری ابو محمد الکوفی صدوق ( تقریب التھذیب ص 70)


شیخ الاسلام امام شعبہ بن حجاجؒ
(ولادت 82ھ متوفی 160ھ)

1۔ حدثني محمد بن أبي عتاب الاعين حدثنا منصور بن سلمة الخزاعي قال سمعت حماد بن سلمة يلعن أبا حنيفة قال أبو سلمة وكان شعبة يلعن أبا حنيفة. (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 211 واخرجہ امام العقیلی فی کتاب الضعفاء الکبیر جلد 4 ص 281)

ترجمہ: امام منصور بن سلمہ الخزاعیؒ نے کہا میں نے امام حماد بن سلمہ کو سنا وہ ابی حنیفہ پر لعنت کرتے تھے ۔ ابو سلمہ ؒ نے کہا اور امام شعبہ ابوحنیفہ پر لعنت بھیجتے تھے۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن ابی عتاب الاعین ۔ امام ذھبیؒ نے کہا محمد بن ابی عتاب بلند پایہ حافظ حدیث اور ایک تجربہ کار عالم تھے ۔ امام ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے۔ امام احمد بن حنبل نے جب ان کو وفات کی خبر سنی تو کہا میں ان پر رشک کرتا ہوں فوت ہوگئے اور حدیث کے سوا کسی دوسرے علم کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 398،399)
2۔ منصور بن سلمۃ بن عبدالعزیز ابو سلمۃ الخزاعی البغدادی ثقۃ ثبت حافظ (تقریب التھذیب ص 348) امام ذھبیؒ نے کہا منصور بن سلمہ نامور حافظ حدیث تھے اور محدث بغداد کے لقب سے مشہور تھے امام یحیی بن معینؒ اور دوسرے محدثین نے ان کی توثیق کی ہے امام دارقطنی ؒ نے کہا آپ ان بلند قدر حافظ حدیث میں سے ایک تھے جن سے محدثین رجال حدیث کے پیچیدہ مسائل پوچھتے تھے اور اس بارہ میں آپ کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے امام احمد بن حنبل ؒ اور امام یحیی بن معین ؒ نے رجال کا فن ان سے ہی سیکھا تھا۔ امام ابن سعد نے کہا آپ ثقہ تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 275)
 

رانا اویس سلفی

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
387
ری ایکشن اسکور
1,609
پوائنٹ
109
جبل علم حبرا مت امام شافعیؒ
(ولادت 150ھ متوفی 204ھ)

1۔ حدثنا ربیع بن سلیمان المرادی قال سمعت الشافعی یقول ابو حنیفۃ یضع اول المسالۃ خطاثم یقیس الکتاب کلہ علیھا (اسنادہ صحیح) ( آداب و مناقب الشافعی ص 171 اخرجہ خطیب فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 437)

ترجمہ: امام شافعیؒ نے کہا ابو حنیفہ پہلے ایک غلط مسئلہ گھڑتا تھا پھر ساری کتاب کو اس پر قیاس کرتا تھا (تو ساری کتاب غلط ہوجاتی)

سند کی تحقیق:
1۔ ربیع بن سلیمان بن داؤد الجیزی المرادی ابو محمد البصری الاعرج ثقۃ (تقریب التھذیب ص 101) قال امام ذھبی ربیع بن سلیمان المرادی الفقیہ حافظ (الکاشف جلد اول ص 236)
2۔ حدثنا محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم قال سمعت الشافعی یقول قال لی محمد بن الحسن ایھا اعلم صاحبنا اوصاحبکم (یعنی امام مالک وابو حنیفۃ) قلت علی الانصاف قال نعم قلت فانشدک اللہ من اعلم با القرآن صاحبنا اوصاحبکم ؟ قال صاحبکم (یعنی امام مالک ) قلت فمن اعلم بالسنۃ صاحبنا اوصاحبکم ؟ قا اللھم صاحبکم قلت فانشدک اللہ من اعلم با قاویل اصحاب رسول اللہ ﷺ والمتقدمین صاحبنا اوصاحبکم ؟ قال صاحبکم (قال الشافعی) قلت فلم یبق الاالقیاس والقیاس لایکون الاعلی ھذہ الاشیاء فمن لم یعرف الاصول علی ای شی یقیس؟ (اسنادہ صحیح) (کتاب الجرح التعدیل جلد اول ص 4،12 ومناقب الشافعی ص 159،160)

ترجمہ: امام شافعی ؒ کی محمد (شاگرد خاص ابو حنیفہ) سے ایک موقع پر آپس میں گفتگو ہوئی۔ محمد امام شافعی ؒ سے تمہارے صاحب (امام مالک ؒ) بڑے عالم ہیں یا ہمارے صاحب (ابوحنیفہ) امام شافعیؒ نے کہا بات انصاف سے ہو محمد نے کہا ہاں بالکل انصاف سے امام شافعیؒ میں اللہ کا واسطہ دے کر تجھ سے پوچھتا ہوں امام مالک ؒ قرآن کے بڑے علم تھے یا ابو حنیفہ؟ محمد نے کہا امام مالکؒ قرآن کے بڑے عالم تھے۔ امام شافعی ؒ نے کہا امام ملک ؒ سنت کے بڑے عالم تھے یا ابو حنیفہ؟ محمد نے کہا امام مالک ؒ سنت کے بڑے عالم تھے امام شافعیؒ میں اللہ کا واسطہ دے کر تجھ سے پوچھتا ہوں اقوال صحابہؓ عنہم کے بڑے عالم امام مالکؒ تھے یا ابو حنیفہ؟ محمد نے کہا امام مالکؒ تھے امام شافعیؒ نے کہا اب صرف قیاس باقی ہے اور صحیح قیاب بھی تو ان ہی اصولوں پر ہوتا ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم ابو عبداللہ المصری : امام ذھبیؒ نے کہا محمد بن عبداللہ ممتاز حافظ حدیث اور اپنے زمانہ کے فقیہ تھے امام سنائی نے کہا ثقہ ہیں امام ابن خزیمہ نے کہا میں نے فقہا میں صحابہ اور تابعین کے اقوال کو ان سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں دیکھا امام ابن ابی حاتم نے کہا ثقہ اور صدوق ہیں اور امام مالک کے تلامذہ میں سے مصر کے ایک فقیہ ہیں (تذرکرۃ الحفاظ جلد اول ص 395) وقال امام ابن حجر عسقلانی الفقیہ ثقۃ (تقریب التھذیب ص 305)


3۔ ثنا محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم قال قال لی محمد بن ادریس الشافعی نطرت فی کتب لاصحاب ابی حنیفۃ ، فاذا فیھا مائۃ وثلاثون ورقۃ، فعددت منھا ثمانین ورقۃ خلاف الکتاب والسنۃ قال ابو محمد لان الاصل کان خطاء فصارت الفروع ماضیۃ علی الخطاء (اسنادہ صحیح) (آداب و مناقب الشافعی ص 171،172) اخرجہ الخطیب فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 436،437)

ترجمہ: امام شافعیؒ نے کہا کہ میں نے اصحاب ابو حنیفہ کی کتابوں میں ایک کتاب دیکھی جس کے 130 اوراق تھے تو ان میں سے میں نے 80 اوراق ایسے شمار کیے جو کہ کتاب و سنت کے خلاف تھے امام ابو محمد ؒ(ابن ابی حاتم ) نے کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ بنیادی ہی غلط تھی تو جو مسائل ان سے نکالے گئے تو وہ بھی غلط ہی رہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن عبداللہ بن حکم : تقدم فی رقم ص 104)

امام علی بن عاصمؒ
(ولادت 105ھ متوفی 201ھ)

1۔ حدثنی ابو الٖفضل نا یحیی بن ایوب نا علی بن عاصم قال حدثت ابا حنفۃ بحدیث فی النکاح اوفی الطلاق، قال ھذا قضاء الشیطان (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلدا ول ص226)

ترجمہ: امام علی بن عاصمؒ نے کہا میں نے ابو حنیفہ سے نکاح یا طلاق کے بارے میں حدیث بیان کی تو ابو حنیفہ نے کہا یہ شیطان کا فیصلا ہے۔ (معاذاللہ)

سند کی تحقیق:
1۔ ابو الٖفضل الخراسانی : ھو ھاشم بن لیث الجوھری نزیل بغداد وقال امام محمد بن مخلد کان ثقۃ ثبتا متقنا حافظا (تاریخ بغداد جلد 8 ص 245)
2۔ یحیی بن ایوب: المقابری البغدادی العابد ثقۃ (تقریب التھذیب ص 373)


شیخ الاسلام امام علی بن مدینیؒ
(ولادت 161ھ متوفی 234ھ)

1۔ امام علی بن مدینیؒ نے انہوں نے امام سفیان بن عیینہؒ سے کہ امام بن عیینہؒ نے ابو حنیفہ کے سامنے یہ حدیث البیعان بالخیار مالم یتفرقا بیان کی تو ابو حنیفہ نے کہا اگر خرید فروخت کرنے والے کشتی میں بیٹھے ہوں تو وہ جدا کیسے ہوں گے تو امام علی بن مدینیؒ نے کہا "ان اللہ سائلہ عما قال" ترجمہ: بے شک ابو حنیفہ نے جہ کہا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں اس ساے پوچھ لے گا (السنن الکبری جلد 8 ص 272) اس روایت کی سند صحیح ہے خود محمد بن زاہد بن حسن کوثری نے اس روایت کی سند پر کوئی جرح نہیں کی دیکھے (تانیب الخطیب ص 218) اور ویسے بھی امام ابن عیینہ سے یہ واقعہ صحیح سند سے مذکور ہے اس لیے محمود الحسن دیوبندی حنفی کو کہنا پڑا کہ "خیار مجلس" کا مسئلا اہم مسائل میں سے ہے اور ابو حنیفہ نے اس میں جمہور اور اکثر مقتدمین و متاخریں کی مخالفت کی ہے۔ (اسباب اختلاف الفقھا ص 87 وتقریر ترمذی ص 39)


امام عبداللہ بن مبارکؒ
(ولادت 118ھ متوفی 181ھ)

1۔ حدثني محمد بن أبي عتاب الاعين حدثنا إبراهيم بن شماس قال صحبت ابن المبارك في السفينة فقال اضربوا على حديث أبي حنيفة قال قبل أن يموت ابن المبارك ببضعة عشر يوما (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 214)

ترجمہ: امام ابراہیم بن شماس ؒ نے کہا میں امام عبداللہ بن مبارکؒ کیساتھ ایک کشتی میں تھا انھوں (بن مبارکؒ ) نے کہا ابو حنیفہ کی حدیث کو چھوڑ دو۔ امام ابراھیم بن شماسؒ نے کہا یہ بات امام عبداللہ بن مبارکؒ نے اپنی وفات سے چند دن پہلے کی۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن ابی عتاب الاعین ۔ امام ذھبیؒ نے کہا محمد بن ابی عتاب بلند پایہ حافظ حدیث اور ایک تجربہ کار عالم تھے ۔ امام ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے۔ امام احمد بن حنبل نے جب ان کو وفات کی خبر سنی تو کہا میں ان پر رشک کرتا ہوں فوت ہوگئے اور حدیث کے سوا کسی دوسرے علم کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 398،399)
2۔ابراھیم بن شماس الغازی ابو اسحاق السمرقندی نزیل بغداد ثقۃ (تقریب اتھذیب ص 20)


2 حدثني عبد الله بن أحمد بن شبويه قال سمعت عبدان يقول سمعت سفيان بن عبدالملك يقول سمعت عبدالله بن المبارك يقول في مسألة لأبي حنيفة قطع الطريق احيانا احسن من هذا.(اسنادہ صحیح) کتاب السنۃ جلد اول ص 214)

ترجمہ: امام عبداللہ بن مبارکؒ ابو حنیفہ کے ایک مسئلہ کے بارے میں کہہ رہے تھے بسا اوقات ڈاکہ ڈال لینا اس سے بہتر ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ عبداللہ بن احمد بن شبویہ : امام ابن حبان نے کہا عبداللہ بن احمد مستقیم الحدیث تھا (کتاب الثقات جلد 8 ص 366، تاریخ بغداد جلد 9 ص 371)
2۔ عبدان: ھو عبداللہ بن عثمان بن جبلۃ ابو عبدالرحمن المروزی الملقلب عبدان ثقۃ حافظ (تقریب التھذیب ص 181)
3۔ سفیان بن عبدالملک المروزی من کبار اصحاب ابن المبارک ثقۃ (تقريب التهذيب ص 128)

3۔ سمعت اسحاق بن ابراھیم یقول قال ابن مبارک کان ابو حنیفہ یتیم فی الحدیث (اسنادہ صحیح) (مختصر قیا م الیل ص 212 باب ذکر الوتر بثلاث عن الصحابۃ التابعین)

ترجمہ: امام عبداللہ بن مبارکؒ نے کہا ابو حنیفہ حدیث میں یتیم تھا۔

سند کی تحقیق:
1۔ اسحاق بن ابراھیم بن مخلد الحنظلی ابو محمد بن راھویہ المروزی ثقۃ حافظ مجتھد (تقریب التھذیب ص 27) امام محمد بن اسلم طوسیٰ نے کہا اسحاق سب لوگوں سے بڑے عالم تھے۔ اگر سفیان ثوری ، حماد بن زید، اور حماد بن سلمہ زندہ ہوتے تو ان کے محتاج ہوتے۔ امام احمد بن حنبل ؒ نے کہا مجھے عراق میں اسحاق کا نظیر معلوم نہیں ہے۔ امام سنائی نے کہا اسحاق ثقہ مامون اور امام تھے (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 325) امام ولی الدین نے کہا آپ کی ذات حدیث و فقہ اور اتقان اور صدق اور پرہیزگاری کی جامع تھی (الکمال اسماء الرجال ص 90)

4 حدثني عبدة بن عبد الرحيم سمعت أبا الوزير محمد بن أعين رضي الله عنه وصي ابن المبارك قال دخل رجل من أصحاب عبد الكريم على ابن المبارك والدار غاصة بأصحاب الحديث فقال يا أبا عبدالرحمن مسألة كذا وكذا قال فروى ابن المبارك فيه أحاديث عن النبي  وأصحابه فقال الرجل يا أبا عبدالرحمن قال أبو حنيفة خلاف هذا فغضب ابن المبارك وقال أروي لك عن النبي  وأصحابه تأتيني برجل كان يرى السيف على أمة محمد  (اسنادہ صحیح ) (کتاب السنۃ جلد اول ص 213)

ترجمہ: امام ابن اعینؒ نے کہا ایک آدمی عبدالکریم کے ساتھیوں میں سے امام عبداللہ بن مبارکؒ کے پاس آیا اور مجلس اصحاب حدیث سے بھری ہوئی تھی تو اس نے کہا اے ابو عبدالرحمنؒ (ابن مبارکؒ کی کنیت) یہ مسئلا کس طرح ہے تو امام عبداللہ بن مبارکؒ نے اس سے مسئلہ میں اصحابہ رضی اللہ عنہم اور آپ ﷺ سے احادیث بیان کی۔ تو اس آدمی نے کہا ابو حنیفہ ان حدیث کے خلاف کہتا ہے تو امام عبداللہ بن مبارکؒ غصہ میں آگے اور کہا میں تجھے نبی ﷺ کی اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیھم اجمعین کی بات بیان کرتا ہوں اور تو مجھ سے ایسے شخص کی بات بیان کرتا ہے جو اس امت محمد ﷺ پر تلوار کو جائز سمجھتا ہے۔ (یعنی قتل کرنا)

سند کی تحقیق:
1۔ عبدۃ بن عبدالرحیم: المروزی ثقۃ (الکاشف جلد 2 ص 196)
2۔ ابو الوزیر محمد بن اعین المروزی خادم ابن مبارک ثقۃ (تقریب التھذیب ص 291)
 

رانا اویس سلفی

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
387
ری ایکشن اسکور
1,609
پوائنٹ
109
5 اخبرنا محمد بن عبداللہ الحنائی اخبرنا محمد بن عبداللہ الشافعی حدثنا محمد بن اسماعیل السلمی حدثنا ابو توبۃ الربیع بن نافع حدثنا عبداللہ بن مبارک قال من نطر فی کتاب الحیل لابی حنیفۃ احل ماحرم اللہ وحرم ما اجل اللہ (اسنادہ صحیح) (الخطیب فی تاریخ بغدادی جلد 13 ص 426)

ترجمہ: امام عبداللہ بن مبارکؒ نے کہا ابو حنیفہ کی کتاب الحیل کو جو بھی دیکھےگا۔ (وہ پائےگا) کے حلال قرار دیا ہے (ابو حنیفہ نے) اس چیز کو جس کو اللہ نے حرام کہا ہے اور حرام قرار دیا ہے (ابو حنیفہ نے ) اس چیز کو جس کو اللہ نے حلال کہا ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن عبداللہ الحنائی: ثقۃ مامون زاھد (تاریخ بغداد جلد 2 ص 336)
2۔ محمد بن عبداللہ الشافعی: امام ذھبیؒ نے کہا محمد بن عبداللہ بغداد کے رہنے والے حجت،حافظ حدیث اور محدث عراق تھے۔ امام خطیب نے کہا آپ قابل اعتماد اور پختہ کار تھے۔ امام دارقطنی نے ان کے متعلق پوچھا گیا تو کہا ثقہ اور مامون تھے انے زمانہ میں ان سے زیادہ قابل اعتماد کوئی نہیں تھا (تذکرۃ الحفاظ جلد 2 ص 606)
3۔ ابوتوبۃ : ھو ربیع بن نافع ابو توبۃ الحلبی نزیل طرسوس ثقۃ حجۃ عابد (تقريب التهذيب ص 101)

6 حدثني القاسم بن محمد الخراساني حدثنا عبدان عن ابن المبارك قال ما كان على ظهر الأرض مجلس أحب إلى من مجلس سفيان الثوري كنت إذا شئت أن تراه مصليا رأيته وإذا شئت أن تراه في ذكر الله عز وجل رأيته وكنت إذا شئت أن تراه في الغامض من الفقه رأيته وأما مجلس لا أعلم أني شهدته صلى فيه على النبي  قط فمجلس ثم سكت ولم يذكر فقال يعني مجلس أبي حنيفة. (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 213،214) اخرجہ امام المحدثین امام بخاری قال لنا عبدان عن ابن مبارک بہ (تاریخ الکبیر للبخاری ج 2 ص 92 وتاریخ الصغیر اللبخاری ص 182)

ترجمہ: امام عبداللہ بن مبارک ؒ نے کہا ارضی پر کوئی ایسی مجلس نہیں جو میرے نزیک امام سفیان ثوریؒ کی مجلس سے زیادہ محبوب ہو اگر تم امام سفیان ثوریؒ کو نماز کی حالت میں دیکھنا چاہو تو تم انہیں دیکھ سکتے ہو۔ اور اگر تم ان کو اللہ کے ذکر میں مشغول پانا تو تم انہیں ایسی حالت میں بھی ماسکتے ہو ۔ اور اگر تم فقہی مسائل میں غور ہ خوض کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہو تو تم ان کو ایسے بھی دیکھ سکتے ہو مگر میں جب بھی ابو حنیفہ کی مجلس میں گیا ہوں۔ تو وہاں میں نے نبی ﷺ پر درودنہیں سنا۔

سند کی تحقیق:
پہلی سند:
1۔ قاسم بن محمد الخراسانی المروزی: ثقۃ (تاریخ بغداد جلد 12 ص 431)
2۔ عبدان: ھو عبداللہ بن عثمان بن جبلۃ ابو عبدالرحمن المروزی الملقلب عبدان ثقۃ حافظ (تقریب التھذیب ص 181)

دوسری سند:
1۔ عبدان: ھو عبداللہ بن عثمان بن جبلۃ ابو عبدالرحمن المروزی الملقلب عبدان ثقۃ حافظ (تقریب التھذیب ص 181)

7۔ حدثنا اسحاق بن راھویہ قال نا وکیع ان ابا حنیفۃ قال ما با لہ ترفع یدیہ عند کل رفع وخفض ایریدان یطیر فقال لہ عبداللہ بن مبارک ان کان یریدان یطیر اذا افتتح فانہ یریدان یطیر اذاخفض ورفع (اسنادہ صحیح) (کتاب تاویل مختلف الحدیث ص 39) اخرجہ امام عبداللہ بن حنبل فی کتاب السنۃ جلد اول ص 59 والخطیب فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 405،406 وامام المحدثین امام بخاری فی جز رفع الیدین ص 60)

ترجمہ: امام وکیعؒ کہتے ہیں ابو حنیفہ نے امام عبداللہ بن مبارکؒ سے کہا تجھے کیا ہے؟ کہ (نماز میں ) رکوع کرتے اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھوں کو اٹھاتا ہے۔ کیا اڑنے کا ارادہ ہے (طنزا) امام عبداللہ بن مبارکؒ نے کہا اگر تم نماز شروع کرے وقت ہاتھوں کو اٹھاتے وقت اڑنے کا ارادہ رکھتے ہو تو میں بھی رکوع کرتے اور رکوع سے اٹھتے وقت اڑنا چاہتا ہوں۔

سند کی تحقیق:
1۔ اسحاق بن ابراھیم بن مخلد الحنظلی ابو محمد بن راھویہ المروزی ثقۃ حافظ مجتھد (تقریب التھذیب ص 27) امام محمد بن اسلم طوسیٰ نے کہا اسحاق سب لوگوں سے بڑے عالم تھے۔ اگر سفیان ثوری ، حماد بن زید، اور حماد بن سلمہ زندہ ہوتے تو ان کے محتاج ہوتے۔ امام احمد بن حنبل ؒ نے کہا مجھے عراق میں اسحاق کا نظیر معلوم نہیں ہے۔ امام سنائی نے کہا اسحاق ثقہ مامون اور امام تھے (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 325) امام ولی الدین نے کہا آپ کی ذات حدیث و فقہ اور اتقان اور صدق اور پرہیزگاری کی جامع تھی (الکمال اسماء الرجال ص 90)

امام عبداللہ بن ابی داؤدؒ
(ولادت 230ھ متوفی 313ھ)

1۔ سمعت بن أبى داود يقول الوقيعة في أبى حنيفة جماعة من العلماء لان امام البصرة أيوب السختياني وقد تكلم فيه وإمام الكوفة الثوري وقد تكلم فيه وامام الحجاز مالك وقد تكلم فيه وامام مصر الليث بن سعد وقد تكلم فيه وامام الشام الأوزاعي وقد تكلم فيه وامام خراسان عبد الله بن المبارك وقد تكلم فيه فالوقيعة فيه إجماع من العلماء في جميع الأفاق (الکامل فی ضعفاء الرجال ج 7 ص 2476)

ترجمہ: امام عبداللہ بن ابی داؤد نے کہا ابو حنیفہ پر جرح کرنے میں تمام محدثین کا اجماع ہے اس لئے کہ بصرہ کے امام ایوب السختیانی نے ابو حنیفہ پر جرح کی ہے اور کوفہ کے امام سفیان ثوریؒ نے ابو حنیفہ پر جرح کی ہے اور حجاز کے امام مالک بن انس ؒ نے ابو حنیفہ پر جرح کی ہے ۔ اور مصر کے امام لیث بن سعد ؒ نے ابو حنیفہ پر جرح کی ہے اور شام کے امام اوزاعیؒ نے ابو حنیفہ پر جرح کی ہے اور خراسان کے امام عبداللہ بن مبارکؒ نے ابو حنیفہ پر جرح کی ہے پس تمام اطراف کے محدثین کا ابو حنیفہ پر جرح کرنے میں اجماع ہے۔


امام عبداللہ بن زبیرالحمیدیؒ
(متوفی 219ھ)

1۔ قال الحمیدی فرجل لیس عندہ سنن عن رسول اللہ ﷺ ولا عن اصحابہ فی المناسک وغیرھا کیف تھلا احکام اللہ فی المورایت والفرائض والزکوۃ والصلوٰۃ و امور الاسلام (تاریخ الصغیر للبخاری ص 186)

ترجمہ: امال المحدثین امام بخاریؒ اپنے استاد امام عبداللہ بن زبیر الحمیدیؒ سے ابو حنیفہ کے متعلق لکھتے ہیں امام عبداللہ بن زبیر الحمیدیؒ نے کہا کہ جس شخص (ابو حنیفہ) کے پاس رسواللہ ﷺ کی حدیثین اور صحابہ رضی اللہ عنھم کے آثار اور مناسک وغیرہ میں نہ ہوں ایسے شخص کی بات احکام اللہ میں مثل میراث، اور فرائض اور زکوٰۃ اور نماز وغیرہ امور اسلام میں کیونکر قبول کی جائے۔

2۔ حدثني هارون بن عبدالله حدثنا عبدالله بن الزبير الحميدي حدثنا حمزة بن الحارث بن عمير من آل عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن أبيه قال سمعت رجلا يسأل أبا حنيفة في المسجد الحرام عن رجل قال أشهد أن الكعبة حق ولكن لا أدري هل هي هذه أم لا فقال مؤمن حقا وسأله عن رجل قال أشهد أن محمدا بن عبدالله نبي ولكن لا أدري هو الذي قبره بالمدينة أم لا فقال مؤمن حقا.
قال الحميدي من قال هذا فقد كفر.
قال الحميدي وكان سفيان بن عيينة يحدث عن حمزة بن الحارث.
حدثني هارون حدثنا الحميدي حدثنا مؤمل بن إسماعيل عن الثوري رحمه الله بنحو حديث حمزة (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 194،195) اخرجہ خطیب فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 374)

ترجمہ: امام حارث بن عمیرؒ نے کہا کہ ایک آدمی نے مسجدالحرام میں ابو حنیفہ سے کسی ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جہ کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ کعبہ برحق ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ یہی ہے جہ مکہ میں ہے یا کوئی اور؟ ابو حنیفہ نے کہا وہ پکا مومن ہے اور اسی طرح اس نے ایک اور آدمی کے بارے میں پوچھا جو کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن عبداللہﷺ نبی ہے لیکن نہیں جانتا کہ وہ وہی ہے جن کی قبر مدینہ میں ہے یا کوئی اور؟ ابو حنیفہ نے کہا پکا مومن ہے امام عبداللہ بن زبیر الحمیدیؒ نے کہا جس نے یہ عقائد رکھے وہ کافر ہے۔

سند کی تحقیق:
پہلی سند :
1۔ ھارون بن عبداللہ بن مروان البغدادی ابو موسی الحمال البزار ثقۃ (تقریب التھذیب ص 361)
2۔ عبداللہ بن زبیر بن عیسی القرشی الحمیدی المکی ابو بکر ثقۃ حاٖفظ فقیہ اجل اصحاب ابن عیینہ (تقریب التھذیب ص 173) وانظر ایضا ص 53
3۔ حمزۃ بن حارث بن عمیر العدوی مولاھم ابو عمارۃ البصری نزیل مکۃ ثقۃ (تقریب التھذیب ص 83)
4۔ حارث بن عمیر البصری مکۃ وقال امام ابن معین وامام ابو حاتم ثقۃ (الکاشف جلدا ول ص 139،140)
دوسری سند:
1۔ ھارون بن عبداللہ بن مروان البغدادی ابو موسی الحمال البزار ثقۃ (تقریب التھذیب ص 361)
2۔ مؤمل بن اسماعیل ابو عبدالرحمن البصری حافظ عالم یخطی وثقۃ ابن معین وقال ابو حاتم صدوق شدید فی السنۃ (المیزان الاعتدال جلد 4 ص 228)
3۔ الثوری: ھو سفیان بن سعید بن مسروق الثوری ابو عبداللہ الکوفی ثقۃ فقیہ عابد امام حجۃ (تقریب التھذیب ص 128)

3۔ اخبرنا ابن زرق اخبرنا عثمان بن احمد حدثنا حنبل بن اسحاق قال سمعت الحمیدی یقول لابی حنیفۃ اذا کناہ ابو حنیفۃ لایکنی عن ذالک ویظھرہ فی المساجد الحرام فی حلقتہ والناس حولہ (اسنادہ صحیح) (تاریخ بغداد جلد 13 ص 431)

ترجمہ: امام احمد بن اسحاقؒ نے کہا کہ میں نے ابو حمیدیؒ کو سنا کہ جب وہ ابو حنیفہ کی کنیت بیان کرتے تو ابو جیفہ (مردار کا باپ) کہتے اور اس کو چھپاتے نہ تھے اور مسجد حرام میں اپنے حلقہ میں اس وقت ظاھر کرتے جب کہ لوگ اس کے ارد گرد ہوتے تھے۔

سند کی تحقیق:
1۔ ابن زرق : ثقۃ صدوق (تاریخ بغداد جلد اول ص 351)
2۔ عثمان بن احمد الدقاق: ثقۃ (مستدرک الحاکم جلد اول ص 188)
3۔ حنبل بن اسحاق بن حنبل شیبانی: امام ذھبیؒ نے کہا امام حنبل بن اسحاق قابل اعتمادحافظ حدیث تھے اور امام احمد بن حنبل کے چچا زاد بھائی اور شاگرد رشید تھاے امام خطیب نے کہا ثقہ اور ثبت تھے (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 427)


امام عبداللہ بن نمیرؒ
(ولادت 118ھ متوفی 199ھ)

1۔ حدثنا محمد بن ایوب قال حدثنا محمد بن عبداللہ بن نمیر قال سمعت ابو قال ادرکت الناس ما یکتبون الحدیث عن ابی حنیفۃ فکیف الرای؟ (اسنادہ صحیح ) (کتاب الضعفاء الکبیر جلد 4 ص 283 اخرجہ الخطیب فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 444)

ترجمہ: امام عبداللہ بن نمیرؒ نے کہا کہ میں نے لوگوں کو پایا کہ وہ ابو حنیفہ سے حدیث نہیں لکھتے تھے تو وہ اس کی فقہ کیسے لکھتے ہوں گے؟

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن ایوب بن یحیی بن ضریس: امام ذھبی ؒ نے کہا آپ رے کے رہنے والے جلیل القدر حافظ حدیث اور کتاب فضائل القرآن کے مصنف ہیں۔ امام عبدالرحمن بن ابی حاتم اور امام خلیلی نے ان کی توثیق کی ہے اور کہا ہے یہ محدث ابن محدث ہیں (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 453)
2۔ محمد بن عبداللہ بن نمیر المدانی الکوفی ابو عبدالرحمن ثقۃ حافظ فاضل (تقریب التھذیب ص 306) امام ابوحاتم ؒ نے کہا ثقہ اور حجت ہیں امام نسائی نے کہا ثقہ اور مامون ہیں (تذکرۃ الحفاظ جلدا ول ص 329)

محمد بن عبداللہ بن نمیر المدانی الکوفی ابو عبدالرحمن ثقۃ حافظ فاضل (تقریب التھذیب ص 306) امام ابوحاتم ؒ نے کہا ثقہ اور حجت ہیں امام نسائی نے کہا ثقہ اور مامون ہیں (تذکرۃ الحفاظ جلدا ول ص 329)


امام عبدالرزاق بن ہمام ؒ
(ولادت 126 ھ متوفی 211ھ)

1۔ حدثنی محمد بن عبدالملک بن زنجویہ ثنا عبدالرزاق وقیل لہ ابو حنیفہ مرجی؟ فقال انی حقا (اسنادہ صحیح ) (کتاب السنۃ جلد اول ص 225)

ترجمہ : امام عبدالرزاق سے کہا گیا ابو حنیفہ مرجی تھا تو انہوں نے کہا توں نے حق بات کہی۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن عبدالملک بن زنجویہ البغدادی ابو بکر الغزال ثقۃ (التقریب التھذیب ص 309)


امام عبدالرحمن بن مہدیؒ
(ولادت ف135ھ متوفی 198ھ)

1۔ حدثنی محمد بن بشار قال سمعت عبدالرحمن بن مھدی یقول بین ابی حنیفۃ وبین الحق حجاب (اسنادہ صحیح) (کتاب المرفعۃ والتاریخ ج 2 ص 784) اخرجہ الخطیب فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 432 العقیلی کتاب الضعفاء الکبیر جلد 4 ص 284)

ترجمہ: امام محمد بن بشار ؒ نے کہا میں نے امام عبدالرحمن بن مہدیؒ سے سنا انہون نے کہا کہ ابو حنیفہ اور حق کے درمیان پردہ حائل ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن بشار بن عثمان العبدی البصری ابو بکر بندار ثقۃ (تقریب التھذیب ص 291) قال الخطیب : کان یحفظ حدیثہ وقال العجلی بندار ثقۃ کثیرالحدیث وقال ابو حاتم صدوق قال النسائی لاباس بہ (خلاصہ تذھیب تھذیب الکمال جلد 2 ص 384)
 

رانا اویس سلفی

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
387
ری ایکشن اسکور
1,609
پوائنٹ
109
امام عمرو بن علیؒ
(ولادت 165 ھ متوفی 249 ھ)

1۔ قال عمرو بن علی و ابو حنیفۃ صاحب الرای و اسمہ نعمان بن ثابت لیس یحافظ مضطرب الحدیث واھی الحدیث (الکامل فی ضعفاء الرجال جلد 7 ص 2473) اخرجہ الخطیب فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 450،451)

ترجمہ: امام عمرو بن علیؒ نے کہا ابو حنیفہ صاحب الرای تھا اور اس کا نام نعمان بن ثابت تھا حافظ نہیں تھا بلکہ مضطرب الحدیث واہی الحدیث تھا۔






امام عثمان البتیؒ
(متوفی 143ھ)

1۔ حدثنی احمد بن ابراھیم حدثنا معاذ بن معاذ سمعت عثمان البتی یقول زات یوم ویل ابی حنیفۃ ھذا مایخطی ء مرۃ فیصیب (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 191)

ترجمہ: امام عثمان البتیؒ نے کہا ابو حنیفہ کے لئے ہلاکت ہو نہیں وہ غلطی کرتا کہ پھر وہ اصلاح کرے۔

سند کی تحقیق:
1۔ احمد بن ابراھیم الدورقی بن کثیر بن زید الدورقی البغداری ثقۃ حافظ (تقریب التھذیب ص 11)
2۔ معاذ بن معاذ بن نضر ابو المشی العنبری البصری القاضی ثقۃ متقن (تقریب التھذیب ص 340)


امام عبدالوارث بن سعیدؒ
(ولادت 102ھ متوفی 180ھ)

1۔ حدثنا ایوب بن اسحاق نا ابو معمر عن عبدالوارث بن سعید قال سالت ابا حنیفۃ اوسئل ابو حنیفۃ عن الوتر فقال فریضۃ فقلت او فقیل لہ حکم الفرض ؟ قال خمس صلوات فقیل لہ فما تقول فی الوتر ؟ قال فریضۃ فقلت او فقیل لہ انت لا تحسن الحساب (اسنادہ صحیح ) (صحیح ابن خزیمہ ج 2 ذکر الوتر وما فیہ من السنن حدیث نمبر 1069 ص 252)

ترجمہ: امام عبدالوارث بن سعیدؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ سے وتر کے بارے میں پوچھا یا اس سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو ابو حنیفہ نے کہا کہ فرض ہے سو میں نے کہا یا اس سے کہا گیا کہ فرض نمازیں کتنی ہیں ؟ کہا پانچ نمازیں فرض ہیں تو پھر کہا گیا کہ تم وتر کہ بارے میں کیا کہتے ہو؟ ابو حنیفہ نے کہا فرض ہے۔پس میں نے کہا یا ان سے کہا گیا کہ تم حساب میں اچھے نہیں ہو۔

سند کی تحقیق:
1۔ ایوب بن اسحاق: صدوق (الجرح والتعدیل جلد 2 ص 241)
2۔ ابو معمر: ھو اسماعیل بن ابراھیم بن معمر بن الحسن الھلالی ابو معمر القطیعی ثقۃ مامون (تقریب التھذیب ص 31،32)


امام فضیل بن عیاضؒ
(ولادت 107ھ متوفی 187ھ)

امام فضیل بن عیاضؒ کہتے تھے اور اصحاب الرائے (ابو حنیفہ) نے کہا نماز اور روزہ اور کوۃ اور کوئی بھی فرض کام ایمان سے نہیں ہے۔ اللہ عزوجل پر افتراء بہتان باندھتے ہوئے اور اس کی کتاب (القرآن) اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کا خلاف کرتے ہوئے اور اگر بات اسی طرح ہوتی (یعنی ایمان صرف قول کا نام ہے) جیسے یہ کہتے ہیں ابو بکر صدیق ؓ مرتد ہو جانے والوں سے نہ لڑتے۔ (کتاب السنۃ جلد اول ص 374،376)


امام دار الہجرۃ شیخ الاسلام امام مالک بن انسؒ
(ولادت 93ھ متوفی 179ھ)

1۔ حدثنی منصور بن ابی مزاحم سمعت مالک بن انس زکر ابا حنیفۃ فذکرہ بکلام سوء وقال کا دالدین وقال من کا دالدین فلیس من الدین (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 199) امام العقیلی فی کتاب الضعفاء الکبیر ج 4 ص 281)

ترجمہ: امام منصور بن ابی مزاحم ؒ نے کہا میں نے امام مالک بن انس ؒ کو ابو حنیفہ کاذکر برے کلام کے ساتھ کرتے سنا اور امام مالک بن انسؒ نے کہا کہ ابو حنیفہ نے دیں کو نقصان پہنچایا اور کہا جو دین کو نقصان پہنچائے اس کا کوئی دین نہیں۔

سند کی تحقیق:
1۔ منصور بن ابی مزاحم بشیر الترکی ابو نصر بغدادی الکاتب ثقۃ (تقریب التھذیب ص 348)


2۔ حدثنی ابو معمر عن الولید بن مسلم قال قال مالک بن انس ایذکر ابو حنیفۃ ببلد کم ؟ قلت نعم قال ینبغیی لبلدکم ان یسکن (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 199) (اخرجہ امام العقیلی فی کتاب الضعفاء الکبیر ج 4 ص 81 و ابن عدی الکامل فی ضعفاء الرجال جلد 7 ص 2473)

ترجمہ:امام ولید بن مسلمؒ نے کہا کہ مجھے امام مالک بن انسؒ نے کہا کہ تمہارے شہر میں ابو حنیفہ کا چرچا ہے۔میں نے کہا ہاں امام مالکؒ نے کہا مناسب نہیں کہ تمہارے شہر میں سکونت اختیار کی جائے۔

اسناد تحقیق:
1۔ ابو معمر: ھو اسماعیل بن ابراھیم بن معمر بن الحسن الھلالی ابو معمر القطیعی ثقۃ مامون (تقریب التھذیب ص 31،32)
2۔ ولید بن مسلم ابو العباس الدمشقی قال امام ذھبی الحافظ، عالم اھل الشام وقال امام ابن سعد ولید بن مسلم کثیرالحدیث و کثیرالعلم وقال علی بن مدینی مار ایت من اشامین مثلہ وقال ابن عدی ثقۃ (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 236،237)


3۔ سمعتُ أبي رحمه الله يقول قال عبدالله بن أدريس قلت لمالك بن أنس كان عندنا علقمة والاسود فقال قد كان عندكم من قلب الامر هكذا وقلب أي بطن كفه على ظاهرها يعني أبا حنيفة (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 220) اخرجہ الخطیب فی تاریخ بغداد ج 13 ص 422 باسناد صحیح)

ترجمہ: امام عبداللہ بن ادریسؒ کہتے ہیں کہ میں امام مالک بن انس ؒ کے کہا ہمارے پس علقمہ اور اسود جیسے ہیں تو امام مالک ؒ نے کہا تمہارے پاس ابو حنیفہ بھی ہے۔ جس نے تمام امر کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ احمد بن حنبل ابو عبداللہ احد الائمہ ثقۃ حافظ فقیۃ حجۃ (تقریب التھذیب ص 16)
2۔ عبداللہ بن ادریس بن یزید بن عبدالرحمن الاودی ابو محمد الکوفی ثقۃ فقیہ عابد (تقریب التھذیب ص 167) امام ذھبیؒ نے کہا آپ حجت، محدثین کے پیشوا اور کوفہ کے بلند پایہ عالم تھے۔ امام یعقوب بن شیبہ نے کہا عالم فاضل تھے۔ امام ابو حاتم نے کہا آپ مسلمانوں کے اماموں میں سے ایک امام تھے اور حجت تھے۔ کہتے ہیں ان کے زمانے میں کوفہ میں ان سے زیادہ عبادت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 223)

4۔ ثنا ابن ابی داؤد حدثنا ریبع بن سلیمان الحیری عن الحارث بن مسکین عن ابن قاسم قال قال ملک الداء العضال الھلاک فی الدین و ابو حنیفۃ من الداء العضال (اسنادہ صحیح) (الکامل فی ضعفاء الرجال ج 7 ص 2473)

ترجمہ: امام مالک بن انسؒ نے کہا چھوت دار بیماری دین کے لیے ہلاکت ہے اور ابو حنیفہ بھی اسلام کے لیے چھوت دار بیماری ہے۔

سند کی تحقیق:
1۔ ابن ابی داؤد: ھو عبداللہ بن ابی داؤد ابو بکر الازدی : آپ نامور فقیہ ممتاز عالم اور بلند پایہ حافظ حدیث تھے ۔ امام دارقظنی نے کہا ثقہ تھے (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 527،528)
2۔ ربیع بن سلیمان بن داؤد الجیزی المرادی ابو محمد البصری الاعرج ثقۃ (تقریب التھذیب ص 101)
3۔ حارث بن مسکین بن محمد بن یوسف ابو عمرو البصری ثقۃ مامون فقیہ (تذکرۃ الحفاظ جلد اول ص 374)
4۔ عبدالرحمن بن قاسم بن خالد بن جنادۃ العتقی ابو عبداللہ البصری افقیہ صاحب مالک ثقۃ (تقریب التھذیب ص 208)


امام محمد بن سعدؒ
(ولادت 185ھ متوفی 230ھ)

1۔ امام محمد بن سعدؒ کہتے ہیں ابو حنیفہ اصحاب الرائے میں سے تھا اور حدیث میں ضعیف تھا (طبقات ابن سعد جلد 6 ص 389)





امام محمد بن نصرالمروزیؒ
(ولادت 204ھ متوفی 296ھ)

1۔ قال محمد بن نصر وزعم النعمان ان الوتر ثلاث رکعات لا یجوز ان یزاد علی ذلک ولا ینقص منہ فمن اوتر بواحدۃ فوتر ہ فاسد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقولہ ھذاخلاف للاخبار الثاثبۃ عن رسول اللہﷺ واصحابہ وخلاف لما اجمع علیہ اھل العلم و انما اتی من قلۃ معرفتہ با لا خبار وقلۃ مجالسۃ للعلماء (مختصر قیام اللیل ص 212)

ترجمہ: امام محمد بن نصرؒ نے کہا ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کا خیال ہے کہ وتر تین رکعات ہیں۔ نہ اس سے زائد جائز ہیں اور نہ ہی کم جو کوئی ایک وتر پڑھتا ہے اس کی نماز وتر فاسد ہے (امام محمد بن نصرؒ نے کہا) اور اسکی بات رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب سے ثابت شدہ باتوں کے خلاف ہے اور جس پر اہل علم کا اتفاق ہے اس کے بھی خلاف ہے اور اس نے یہ بات صرف احادیث میں کم علمی اور علماء کے ساتھ کم بیٹھنے کی وجہ سے کی۔


امام مسلم بن حجاجؒ
(ولادت 204ھ متوفی 261ھ)

1۔ قال مسلم ابو حنیفۃ النعمان بن ثابت صاحب الرای مضطرب الحدیث لیس لہ کبیر حدیث صحیح ۔ (کتاب الکنی المسلم ص 310) (اخرجہ الخطیب فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 451)

ترجمہ: امام مسلم نے کہا نعمان بن ثابت ابو حنیفہ صاحب الرائے مضطرب الحدیث ہے اور اس کی زیادہ روایات صحیح نہین ہیں۔
امام نسائی
(ولادت 215ھ متوفی 303ھ)

1۔ وقال النسائی ابو حنیفۃ لیس بقوی فی الحدیث وھو کثیر الغلط والخطا علی قلۃ روایتہ (کتاب الضعفاء و المتروکین ص 310)

ترجمہ: امام نسائی کہتے ہیں ابو حنیفہ حدیث میں قوی نہیں اور بہت کم روایات بیان کرنے کے باوجود اکثر غلطیاں کر جاتا ہے۔


امام ہشیم بن بشیر الواسطیؒ
(ولادت 104ھ متوفی 183ھ)

1۔ حدثنی ابو الفضل الخراسانی نا ابو الا حوص محمد بن حیان قال سال رجل ھشیما یوما عن سالۃ فحدثہ فیھا بحدیث فقال الرجل ان ابا حنیفۃ و محمد بن الحسن و اصحابہ یقولون بخلاف ھذا فقال ھشیم یا عبداللہ ان العلم لا یو خذ من السفل (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 227،228)

ترجمہ: امام محمد بن حیانؒ نے کہا ایک آدمی نے امام ہشیم ؒ سے ایک مسئلہ کے بارے میں پوچھا امام ہیشم نے اس آدمی سے اس مسئلےکے بارے میں ایک حدیث بیان کی اس آدمی نے کہا کہ ابو حنیفہ اور محمد بن حسن اور ان کے اصحاب اس کے الٹ کہتے ہیں (یعنی حدیث کہ خلاف ) امام ہشیم ؒ نے کہا اے عبداللہ بے شک جاہلوں سے علم حاصل نہیں کیا جاتا۔

سند کی تحقیق:
1۔ ابو الٖفضل الخراسانی : ھو ھاشم بن لیث الجوھری نزیل بغداد وقال امام محمد بن مخلد کان ثقۃ ثبتا متقنا حافظا (تاریخ بغداد جلد 8 ص 245)
2۔ ابو الاحوص محمد بن حیان قال ابن معین ثقۃ وقال صالح بن محمد صدوق (خلاصہ تذھیب تھذیب الکمال جلد 2 ص 397)


امام وکیع بن جراحؒ
(ولادت 119ھ متوفی 197ھ)

1۔ قال یوسف عن عیسی سمعت وکیفا یقول حین روی ھا الحدیث قال لاتنظرو االی قول اھل الرائے فی ھذا افان الاشمار وقولھم بدعۃ قال سمعت ابا السائب یقول کنا عند وکیع فقال للرج ممن ینظر فی الرای اشعر رسول اللہ ﷺ ویقول ابو حنیفۃ ھو مثلۃ و الرجل فانہ قدروی عن ابراھیم النخعی انہ قال الاشعار مثلۃ قال فرایہ وکیعا غضب غضبا شدیدا وقال اقول لک قول رسول اللہ ﷺ وتقو قال ابراھیم ما احقک بان تجس ثم لا تخرج حتی تنرع عن قولک ھذا۔ (اسنادہ صحیح) (جامع الترمذی معہ تحفۃ الاحوذ ج 3 ص 773)

ترجمہ: امام یوسف بن عیسیؒ نے کہا میں نے امام وکیعؒ سے سنا جاب انہوں نے ھدی کو اشعار کرنے والی حدیث پیش کی تو کہا اہل الرای (حنفیون) کے قول کے طرف مت دیکھو قربانی کے جانور کو اشعار کرنا سنت ہے اور یہ بدعت کہتے ہیں امام ترمذی ؒ نے کہا میں نے کہا میں نے امام ابو سائب ؒ سے سنا وہ کہتے تھے ہم امام وکیعؒ کے پاس تھاے اہل الرای میں سے ایک شخص نے کہا رسول اللہ ﷺ نے اشعار کیا اور ابو حنیفہ اسے مثلہ (اعضاء کا کاٹنا) کہتا ہے اور ابو حنیفہ نے اس کو ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ اشعار مثلہ ہے تو امام ابو سائب ؒ نے کہا میں نے امام وکیع ؒ کو دیکھا کہ وہ سخت غصے میں آکر کہنے لگے میں تجھ سے رسول اللہ ﷺ کی بات کر رہا ہوں اور تو کہتا ہے کہ ابراہیم نے یہ کہا ہے تو اس لائق ہے کہ تجھے اس وقت قید میں ڈال دیا جائے جب تک تو اپنے اس قول سے باز نہیں آجاتا۔
سند کی تحقیق:
1۔ یوسف بن عیسی بن دینار الزھری ابو یعقوب المروزی ثقۃ ٖفاضل (تقریب التھذیب ص 389)
2۔ ابو سائب : ھو عبداللہ بن سائب بن یزید الکندی ابو محمد المدنی وثقۃ النسائی (تقریب التھذیب ص 174)


امام یحیی بن معینؒ
(ولادت 158ھ متوفی 233ھ)

1۔ حدثني أبو الفضل حدثنا يحيى بن معين قال كان أبو حنيفة مرجئا وكان من الدعاة ولم يكن في الحديث بشيء (اسنادہ صحیح) (کتاب السنۃ جلد اول ص 226)

ترجمہ: امام یحیی بن معینؒ نے کہا ۔ ابو حنیفہ مرجی تھا اور اس کی دعوت دینے والوں سے تھا حدیث میں کوئ چیز نہیں۔

سند کی تحقیق:
1۔ ابو الٖفضل الخراسانی : ھو ھاشم بن لیث الجوھری نزیل بغداد وقال امام محمد بن مخلد کان ثقۃ ثبتا متقنا حافظا (تاریخ بغداد جلد 8 ص 245)

2۔ حدثنا علی بن احمد بن سلیمان حدثنا ابن ابی مریم قال سالت یحیی بن معین عن ابی حنیفۃ قال لایکتب حدیثہ (اسنادہ صحیح) (الکامل فی ضعفاء الرجال جلد 7 ص 2473)

ترجمہ: امام ابن ابی مریم ؒ نے کہا میں نے یحیی بن معین ؒ سے ابو حنیفہ کے متعلق پوچھا امام یحیی بن معینؒ نے کہا ابو حنیفہ کی حدیث نہ لکھی جائے۔

سند کی تحقیق:
1۔ علی بن احمد بن سلیمان : ثقۃ (سیراعلام النبلاء جلد 14 ص 496)
2۔ ابن ابی مریم: ھو سعید بن ابی مریم الحکم بن محمد الحافظ ابو محمد المصری وقال امام ابو حاتم ثقۃ (الکاشف ج اول ص 283) قال امام ذھبی ثقۃ کثیر الحدیث حافظ محدث وقال امام ابو داؤد ھو عندی حجۃ ، قال امام العجلی ثقۃ وقال ابن یونس فقیہ (تذکرۃ الحفاظ ج اول ص 298) قال ابن حجر عشقلانی ثقۃ ثبت فقیہ (تقریب التھذیب ص 120)
 

رانا اویس سلفی

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
387
ری ایکشن اسکور
1,609
پوائنٹ
109
امام ابو یوسف بن اسباطؒ

1۔ حدثنی محمد بن ھاورن نا ابو صالح قال سمعت یوسف بن اسباط یقول لم یولد ابو حنیفۃ علی الفطرۃ قال و سمعت یوسف یقول رد ابو حنیفۃ اربعمائۃ اثرا عن رسول ﷺ (اسنادہ حسن) (کتاب السنۃ جلدا ول ص 225)

ترجمہ: امام ابو صالح نے کہا میں نے یوسف بن اسباطؒ سے سنا کہ امام یوسف بن اسباطؒ نے کہا ابو حنیفہ فطرت پر پیدا نہیں ہوا امام ابو صالح نے کہا اور میں نے امام یوسف ؒ سے سنا انہوں نے کہا ابو حنیفہ نے 400 احادیث رسول اللہ ﷺ کو رد کیا۔

سند کی تحقیق:
1۔ محمد بن ھارون بن ابراھیم الربعی ابو جعفر البغدادی للبزار ابو نشیط ثقہ (خلاصہ تذھیب تھذیب الکمال جلد 2 ص 464)
2۔ ابو صالح ھو محبوب بن موسی الانطا کی ابو صالح الفراء ثقہ (الکاشف جلد 3 ص 108)

2۔ حدثنی ابراھیم ثنا ابو صالح محبوب بن موسیٰ الفرا عن یوسف بن اسباط حدثنی محمد بن ھارون نا ابو صالح سمعت یوسف یقول کان ابو حنیفۃ یقول لو ادرکنی النبیﷺ اوادرکتہ لاخذ بکثیر منی ومن قولی وھل الدین الا الرای؟ ( الحسن) (اسنادہ حسن) (کتاب السنۃ ج اول ص 206،226) اخرجہ ابن عدی الکامل فی ضعفاء الرجال جلد 7ص 7524) وخطیب فی تاریخ بغداد جلد 13 ص 407)

ترجمہ: امام صالح سے کہ میں نے امام یوسفؒ سے سنا انہوں نے کہا ابو حنیفہ کہتا ہے اگر مجھے رسول اللہ ﷺ پالیتے یا میں آپ ﷺ کو پالیتا تو آپ ﷺ میرے بہت سے اقوال کو لے لیتے۔ اور دین تو صرف اچھی رائے کا نام ہے۔

سند کی تحقیق:
پہلی سند :
1۔ محمد بن ھارون بن ابراھیم الربعی ابو جعفر البغدادی للبزار ابو نشیط ثقہ (خلاصہ تذھیب تھذیب الکمال جلد 2 ص 464)
2۔ ابو صالح ھو محبوب بن موسی الانطا کی ابو صالح الفراء ثقہ (الکاشف جلد 3 ص 108)
دوسری سند:
1۔ ۔ ابراھیم بن سعید الجوھری ابو اسحاق الطبری نزیل بغداد ثقہ حافظ (تقريب التهذيب ص 20)
2۔ ابو صالح ھو محبوب بن موسی الانطا کی ابو صالح الفراء ثقہ (الکاشف جلد 3 ص 108)
 
شمولیت
مئی 09، 2014
پیغامات
93
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
18
محدث فورم کی انتظامیہ اس پر غور کرے! (جو بھی قرآٰن و حدیث کو چھوڑ دے گا وہ گمراہ ہوجائےگا۔ ابو حنیفہ کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے قرآن و حدیث کو چھوڑ دیا۔)
محدث فورم کے منتظم جناب انس نضر صاحب وضاحت فرمائیں گے کہ واقعی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ "گمراہ" تھے؟
نٹ گردی کرتے ہوئے جناب شیخ مقصود الحسن فیضی صاحب کا یہ مضمون نظر سے گزرا دل سے دعا نکلی کہ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے پرائے کی پرواہ کئے بغیر "راہ اعتدال" پر گامزن ہیں ، اللہ ہر مسلمان کو راہ اعتدال پر اپنانے کی توفیق بخشے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان پر نقد
از : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ
{ناشر :شعبہ توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com}

الحمد للہ وحدہ الصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ۔
اما بعد
ارشاد باری تعالی ہے : [تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ] {البقرة:134}
" یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ، ان کی کمائی ان کے لئے ہے اور تمہاری کمائی تمہارے لئے اور ان کے اعمال کے بارے میں تم سے باز پرس نہ ہوگی " ۔
ارشا نبوی ہے :
"لا تسبو الاموات فانھم قد افضوا الی ما قدموا " ۔
مردوں کو گالی نہ دو ، اس لئے کہ جو کچھ اچھے برے اعمال وہ آگے بھیجے اس تک پہنچ گئے "
{ صحیح بخاری :1393 ، الجنائز – سنن النسائی :1936 ، الجنائز – مسند احمد6/180، بروایت عائشہ }
بلکہ ہمیں حکم یہ ہے کہ مردوں کے عیبوں کو ظاہر کرنے سے بچیں اور ان کی خوبیوں کو واضح کریں "
ارشاد نبوی ہے :
" اذکروا محاسن موتاکم وکفوا عن ساوئھم "
" اپنے مردوں کی خوبیوں کا ذکر کرو اور ان کے عیوب کو نہ چھیڑو " ۔
{ سنن ابو داود :4900، الادب – سنن الترمذی :1019، الجنائز – مستدرک الحاکم :1/358 ، بروایت ابن عمر }
ذرا اس قصہ پر بھی غور کریں :
ایک مجلس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا : یزید بن قیس کا – اس پر اللہ کی لعنت ہو – کیا حال ہے ؟ [ واضح رہے کہ یہ یزید وہی شخص ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والوں کا سردار تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ کو کھلے عام برا بھلا کہتا تھا ] لوگوں نے جواب دیا : وہ تو مرگیا ، یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا استغفار پڑھنے لگیں ، لوگوں نے کہا : ابھی تک تو آپ اسے گالیاں دے رہی تھیں اور اب استغفار پڑھ رہی ہیں ، اس کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : مردوں کو برا بھلا نہ کہو اس لئے کہ وہ اپنے کئے کو پہنچ گئے ہیں ۔
{ صحیح ابن حبان :5/43 ، نمبر :2010 }
سنن ابو داود میں یہ حدیث مختصر ہے جس کے الفاظ ہیں :
" اذا مات صاحبکم فدعوہ ولا تقعوا فیہ "
" جب تمہار ساتھی مر جائے تو اس کو چھوڑ دو اور اس کی عیب جوئی کے پیچھے نہ پڑو "
{ سنن ابو داود :4899، الادب }
خاص کر اگر کسی مردے کو برا بھلا کہنے سے زندوں کو تکلیف پہنچ رہی ہو تو اس کی قباحب اور بڑھ جاتی ہے ۔
ارشاد نبوی ہے :
" لا تسبوا الاموات فتوذوا بہ الاحیاء "
" مردوں کو گالی نہ دو کہ اس سے زندوں کو تکلیف پہنچے "
{ سنن ابو داود :1983 ، الجنائز – مسند احمد :4/252 – صحیح ابن حبان :3011 ، 5/43 ، بروایت مغیرہ بن شعبہ }
ان احادیث کے پیش نظر اگر کوئی مصلحت راجحہ نہ ہوتو کسی مردے کو برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے بلکہ بعض علماء کا خیال ہے کہ اگر کسی مردہ کافر کو برا بھلا کہنے سے زندوں کو تکلیف ہوتی ہو تو اسے بھی برا بھلا نہ کہا جائے گا ۔
{ دیکھئے فتح الباری :3/258-259 }
اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ و رضی اللہ عنہ و ارضاہ کی شخصیت قدماء اہل علم میں محل نزاع رہی ہے کچھ علماء نے بعض مسائل کی بنیاد پر ان پر جرح کی ہے حضرت امام سے متعلق بعض ناروا چیزیں معاصرانہ چشمک کی وجہ سے بعض کتابوں میں منقول ہوگئی ہیں ، دوسری طرف کچھ لوگوں نے ان کے بارے میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ قولا نہیں تو عملا ان کی معصومیت کا عقیدہ رکھ لیا ہے اور ان کے فضائل میں حدیثیں گھڑ لیں ہیں ، یہ دونوں رائیں مردود اور انصاف پسند اہل علم کے نزدیک قابل رد ہیں ، امام موصوف کے بارے میں عادلانہ رائے یہ ہے کہ وہ اہل سنت وجماعت کے اماموں میں سے ایک بہت بڑے امام ، کتا ب وسنت کے پابند اور دین اسلام کے ایک بہت بڑے خادم اور اس کی طرف سے دفاع کرنے والے عالم ہیں ، نہ غلطیوں سے مبرا ہیں اور نہ ہی فسق وفجور اور کفر وبدعت کے داعی ہیں ۔
{ دیکھئے معیا ر حق کا مقدمہ از شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی }
چنانچہ کتب تراجم وتاریخ و سیر کے عصر تدوین وتمحیص میں اہل سنت و جماعت کے معتبر اور قابل اعتماد علماء کا اس پر اتفاق ہے ، چھٹی و ساتویں صدی ہجری اور اس کے بعد لکھی جانے والی معتبر تاریخی کتابوں کا جس شخص نے بھی مطالعہ کیا ہوگا وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے گا ۔
میں یہاں چند حوالے نقل کرتا ہوں :
[۱] امام ذہبی رحمہ اللہ اپنی کتاب تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں وکان امام ورعا ، عالما عاملا ، متعبدا، کبیر الشان لا یقبل جوائز السلطان بل یتجرد وینکسب ۔{1/168}
آپ ایک پرہیزگار ، باعمل عالم ، عبادت گزار اور بڑے عظیم شان والے امام ہیں ، بادشاہوں کے انعامات قبول نہ کرتے بلکہ خود تجارت اور اپنی روزی کماتے ۔
یہی امام ذہبی اپنی مشہور کتاب سیر اعلام النبلاء کے تقریبا پندرہ صفحات پر امام صاحب کا ذکر خیر کیا ہے اور آپ کے ذم میں ایک حرف بھی نقل نہیں کیا بلکہ ذم کی طرف اشارہ تک نہیں کیا کہ امام موصوف پر لوگوں نے کچھ کلام کیا ہے ، پھر آخر میں لکھتے ہیں :
" وقال الشافعی : الناس فی الفقہ عیال علی ابی حنیفہ قلت : الامامۃ فی الفقہ و دقائقہ مسلمۃ الی ھذا لامام و ھذا امر لا شک فیہ ، ولیس یصح فی الاذھان شیئ، اذا احتاج النھار الی دلیل وسیرتہ تحتمل ان تفرد فی مجلدین رضی اللہ عنہ ورحمہ توفی شھیدا سقیا فی سنۃ خمسین ومائۃ ولہ سبعون سنۃ " ۔
{ السیر :6/403 }
امام شافعی فرماتے ہیں کہ تمام لوگ فقہ میں امام ابو حنیفہ کے خوشہ چیں ہیں ، میں کہتا ہوں کہ فقہ اور فقہ کے دقیق مسائل کا استنباط اس امام کے بارے میں امر مسلم ہے ، یہ ایسی چیز ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے [پھر امام ذہبی عربی کا ایک شعر لکھتے ہیں جس کا ترجمہ ہے ] اگر دن کو وجود بھی دلیل پیش کرنے کا محتاج ہوتو ایسے ذہن رکھنے والوں کے نزدیک کوئی چیزصحیح نہیں ہوسکتی ، امام موصوف کی سیرت ایسی ہے کہ اسے دو جلدوں میں مرتب کی جائے اللہ تعالی ان سے راضی ہو اور ان پر رحم کرے ،سن۱۵۰ھ میں زہر دے کر انہیں شہید کردیا گیا ، اس وقت ان کی عمر ستر سال تھی ۔
[۲] امام ذہبی کے ہم عصر ایک اور امام جو تفسیر وحدیث اور تاریخ میں معروف خاص عام ہیں ، میری مراد حافظ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ سے ہے وہ اپنی مشہور کتاب البدایہ و النہایہ میں لکھتے ہیں :
" فقیہ العراق و احد أئمۃ الاسلام و السادۃ الاعلام و احد أرکان العلماء و احد أئمۃ الاربعۃ اصحاب المذاھب المتبوعۃ " ۔
عراق کے فقیہ ، ائمہ اسلام میں سے ایک ، اسلام کے سرداروں اور جوئی کے لوگوں میں سے ایک ، علماء میں سے ایک اہم بڑی شخصیت ، چار متبوعہ مذاہب سے ایک کے امام ۔
پھر تقریبا ایک صفحہ پر امام موصوف کی تعریف میں اہل علم کے اقوال نقل کئے ہیں ۔
{ البدایہ :10/110 }
[۳] حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے تہذیب التھذیب کے تقریبا چار صفحات پر امام موصوف کا ذکر خیر کیا ہے اور ان کے ذم میں ایک لفظ بھی نقل نہیں کیا بلکہ آخر میں لکھتے ہیں :
" ومناقب الامام ابو حنیفہ کثیرۃ حدا فرضی اللہ عنہ و أسکنہ الفردوس " آمین
امام ابوحنیفہ کے مناقب بہت زیادہ ہیں اللہ تعالی آپ سے راضی ہو اور جنت الفردوس میں جگہ دے ،
{ تھذیب التھذیب :10/102}
واضح رہے کہ یہ تینوں بزرگ جن کا ذکر کیا گیا ان میں سے کوئی بھی حنفی نہیں ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کے سامنےوہ تمام اقوال تفصیل کے ساتھ تھے جن سے امام ابو حنیفہ کی تنقیص وتوہین ثابت ہوئی ہے لیکن ان بزرگوں کا ان اقوال کی طرف اشارہ تک نہ کرنا بلکہ ان تمام باتوں کو بالکل ہی گول کرجانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان محققین کے نزدیک وہ اقوال امام صاحب ، ان کے علم ، ورع اور تقوی کے شایان شان نہیں ہیں ۔
[۴] حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے بھی امام ابو حنیفہ کو اپنی کتاب طبقات الحفاظ سے پانچویں طبقہ میں رکھا ہے اور ان کے ذم میں ایک لفظ بھی نقل نہیں کیا ہے ۔
{ طبقات الحفاظ :80-81 } ۔
[۵] بلکہ حسن اتفاق یہ دیکھئے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے ایک مختصر سی کتاب طبقات المحدثین میں لکھی ہے جس میں بڑے بڑے محدثین اور حفاظ حدیث کے نام کی فہرست رکھی ہے ، لکھتے ہیں : " فھذہ مقدمۃ فی ذکر اسماء اعلام حملۃ الآثار النبویہ "
{ المعین طبقات المحدثین ،ص:17 }
اس کتاب میں محدثین کے کل ستائیس طبقات ہیں جن میں چوتھے طبقے کا عنوان ہے ، طبقۃ الاعمش و ابی حنیفہ ، پھر اس طبقہ کے محدثین عظام میں امام ابو حنیفہ کا بھی نام درج ہے ۔ {ص:51-57 } ۔
[۶] امام ابن خلکان رحمہ اللہ ساتویں صدی ہجری کے مشہور امام و مؤرخ ہیں انہوں نے بھی اپنی مشہور کتاب وفیات الاعیان کے تقریبا دس صفحوں پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ذکر خیر کیا ، چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں :" وکان عالما عاملا زاھدا عابدا ، ورعا تقیا ، کثیر الخشوع دائم التفرع الی اللہ تعالی "{ 5/406 }
" وہ عالم باعمل تھے ، پرہیزگار و عبادت گزار تھے ، متقی اور صاحب ورع بزرگ تھے ، ہمیشہ خشوع و خضوع اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے " ۔
پورے ترجمے میں ایک لفظ بھی ذم میں نقل نہیں کیا ہے بلکہ لکھتے ہیں کہ کاشکہ وہ اقوال جو خطیب بغدادی نے امام موصوف کے مثالب میں نقل کیا ہے نہ لکھے ہوتے تو بہتر تھا ۔
اس طرح اگر اگلے پچھلے اہل علم کے اقوال نقل کئے جائیں تو موضوع بہت طویل ہوجائے گا ، ہم نے یہاں صرف پانچ اہل علم کے حوالے نقل کئے ہیں جو اہل سنت وجماعت کے معتبر اور قابل اعتماد ناقدین فن ہیں خاص کر ابتدا کے تین حضرات کے اقوال وتحقیق پر حدیث کی تصحیح و تضعیف کی بنیاد رکھی جاتی ہے ، اب ان حضرات کا امام موصوف کے ذم و تنقیص کا ایک لفظ بھی نقل نہ کرنا بلکہ ان کی طرف اشارہ تک نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اقوال اس لائق ہیں کہ انہیں طاق نسیان پر رکھ کر اس پر بھول کا دبیز پردہ ڈال دیا جائے ۔ واللہ اعلم ۔
یہی منہج ہمارے ہند وپاک کے کبار علمائے اہلحدیث کا رہا ہے اور اپنے اساتذہ کو بھی ہم نے اس نہج پر چلتے پایا ہے چنانچہ شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی کتاب معیار حق میں امام حنیفہ رحمہ اللہ کو اپنا پیشوا مجتہد ، متبع سنت اور متقی و پرہیزگار لکھتے ہیں ۔ {ص:29 }
امام عصر علامہ محمد ابراہیم سیالکوٹی رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب تاریخ اہل حدیث میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا تذکرہ بڑے خوبصورت اور عمدہ انداز میں کرتے ہیں ، اہل حدیث کو اس کا مطالعہ کرلینا چاہئے ، علامہ سیالکوٹی رحمہ اللہ امام موصوف کی طرف دفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں : " حالانکہ آپ اہل سنت کے بزرگ امام ہیں اور آپ کی زندگی اعلی درجے کے تقوے اور تورع پر گزری جس سے کسی کو انکار نہیں " ۔
{ تاریخ اہل حدیث ،ص:77 }
اس کے بعد ان تمام الزامات کی تردید کی ہے جو امام پر لگائے جاتے ہیں اور ائمہ فن کے اقوال بھی نقل کئے ہیں اس میں سب سے پہلے نمبر پر امام ابو حنیفہ کو رکھا ہے اور تقریبا بارہ صفحات پر آپ کی سیرت لکھی ہے ۔
{ص:54تا 65 }
۲- سابق امیر جمعیت اہل حدیث پاکستان علامہ محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ اپنے گہرے علم ، باریک بینی اور توازن طبع کے لحاظ سے بہت مشہور ہیں ، جن لوگوں نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں ، ان کی بعض اردو کتابوں کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا ہے ، وہ اپنی کتاب فتاوی سلفیہ میں لکھتے ہیں : " جس قدر یہ زمین [زمین کوفہ ]سنگلاخ تھی اسی قدر وہاں اعتقادی اور عملی اصلاح کے لئے ایک آئینی شخص حضرت امام ابو حنیفہ تھے جن کی فقہی موشگافیوں نے اعتزال و تجمم کے ساتھ رفض وتشیع کو بھی ورطہٴحیرت میں ڈال دیا ۔ اللھم ارحمہ واجعل الجنۃ الفردوس ماواہ ۔
{ فتاوی سلفیہ ،ص:143 }
۳- عصر حاضر میں علامہ البانی رحمہ اللہ کا حدیث وفقہ میں جو مقام ہے اور علمائے اہل حدیث کے نزدیک ان کی جو اہمیت ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے ، علامہ مرحوم جہاں ایک طرف حفظ و ضبط کے لحاظ سے امام موصوف پر کلام کرتے ہیں وہیں ان کی علمیت ، صلاح وتقوی سے متعلق جو کچھ امام ذہبی نے نقل کیا ہے اس سے مکمل موافقت ظاہر کرتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں :
" ولذلک ختم الامام الذھبی فی سیر النبلاء :5/288/1 ، بقولہ وبہ نختم : قلت : الامامۃ فی الفقہ و دقائقہ مسلمۃ الی ھذا الامام وھذا امر لا شک فیہ ،
لیس یصح فی الاذھان شیئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا احتاج النھار الی اللیل ۔
{ سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ :1/167 }
یہاں یہ امر بھی قابل اشارہ ہے کہ ہمارے ہندوپاک کے بعض اہل علم نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پرکلام کیا ہے جیسے حال میں مولانا رئیس احمد ندوی رحمہ اللہ ۔
اس سلسلہ میں گزارش یہ ہے کہ :
اولا : اگر بعض اہل علم نے امام صاحب سے متعلق کوئی ایسی بات کہی ہے تو ان کے مقابل جمہور علمائے اہل حدیث جو ان سے زیادہ علم رکھنے والے اوران سے گہری نظر رکھنے والے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مقام کو زیادہ سمجھنے والے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو ان الزامات سے بری قرار دیا ہے جیسے شیخ الکل اور علامہ میں سیالکوٹی رحمہم اللہ جمیعا ۔
ثانیا : مولانا رئیس ندوی رحمہ اللہ نے مستقلا اور بالمقصد امام صاحب رحمہ اللہ پر کلام نہیں کیا اور نہ عوام کے سامنے امام موصوف کے عیوب بیان کرتے پھرتے تھے بلکہ ان کی تحریر تو دیوبندی حضرات کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں غلو اور اہلحدیثوں پر امام صاحب پر توہین کے الزام کا رد عمل ہے جس سے مولانا مرحوم کا مقصد یہ بتلانا تھا کہ :
اتنی نہ بڑھا پاکی واماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
اور یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ اہل علم کا علمی مجالس میں کسی موضوع کو چھڑنا اور معنی رکھتا ہے اور اسے حدیث مجالس اور کم علم وکم سمجھ اور کم تجربہ لوگوں کے سامنے بیان کرنا دوسرا معنی رکھتا ہے ۔
حتی کہ میری رائے میں حضرت مولانا رئیس احمد ندوی رحمہ اللہ اگر وہی اسلوب اختیار کئے ہوتے جو علامہ عبد الرحمن معلمی یمانی رحمہ اللہ نے التبکیل میں استعمال کیا ہے تو بہتر ہوتا ۔
ذرا غور کریں کہ ہم جیسے معمولی علم رکھنے والے طالبان علم کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر ایک طرف امام صاحب پر کسی وجہ سے بعض اہل علم نے کلام کیا ہے تو دوسری طرف دوسرے اہل علم نے انکی مدح سرائی بھی کی ہے جسے کتب سیر میں دیکھا جاسکتا ہے ، اب صرف ایک طرف کی بات کو لے لینا اور باقی باتوں کو چھوڑ دینا تحقیق و انصاف سے گری ہوئی بات ہے ، خاص کر امام موصوف رحمہ اللہ کی طرف منسوب بہت سی باتیں محل نظر ہیں علی سبیل المثال خلق القرآن سے متعلق امام موصوف سے دونوں قسم کی روایتیں منوقل ہیں ایک طرف یہ نقل کیا جاتا ہے کہ امام صاحب خلق قرآن کے قائل تھے { واضح رہے کہ اس کم علم کی تحقیق میں یہ روایتیں صحیح نہیں ہیں } اور دوسری طرف یہ منقول ہے کہ امام صاحب خلق قرآن کے قائل نہیں تھے بلکہ اسے بدعت اور کفر قرار دیتے تھے جیسا کہ فقہ اکبر اور عقیدہ طحاویہ وغیرہ میں مذکور ہے ، اب سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس ان متضاد راویوں کو پرکھنے کا معیار کیاہے ؟ جب کہ ہم دیکھتے ہیں امام ذہبی ، امام ابن کثیر اور حافظ ابن حجر رحمہم اللہ جیسے ناقدین فن ان باتوں سے قطعا اعراض کرتے آئے ہیں بلکہ امام ابن تیمیہ اور امام ذہبی رحمہما اللہ وغیرہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو سلف کے عقیدے پر مانتے ہیں ۔
اس لئے طالبان علوم شرعیہ سے میری گزارش ہے کہ اپنے علم کو پختہ بنانے ، تزکیہ نفس اور ذہنی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور اہل علم کے عیوب اور ان کی ذات پر کیچڑ اچھالنے سے پرہیز کریں اور یاد رکھیں کہ علماء نے کہا ہے کہ " لحوم العلماء مسمومۃ " علماء کا خون زہر آلود ہے ، نیز تاریخ شاہد ہے کہ جن لوگوں نے جذبات اور ناتجربہ کاری اور اپنے کو عوام مِں ظاہر کرنے کی غرض سے علماء حق پر انگلی اٹھائی ہے اللہ تعالی نے ان کے علم کی برکت کو محو کردیا ہے ، ایسے لوگوں کو امام سخاوی رحمہ اللہ کی کتاب الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے ۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے متعلق یہ چند سطریں اس لئے تحریر کی گئیں کہ بہت سے جذباتی اور نوجوان اہلحدیث دعاۃ سے متعلق سننے میں آتا ہے کہ وہ امام موصوف سے متعلق بدزبانی ہی نہیں بلکہ بدعقیدگی میں مبتلا ہیں حتی کہ ان میں سے بعض تو امام موصوف کو " رحمہ اللہ " کہنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امام صاحب کو مسلمان نہیں سمجھتے { حاشا للہ } مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں ایسے لوگ خود ہی رحمت الہی سے محروم نہ ہوجائیں ، علامہ میر سیالکوٹی لکھتے ہیں :
" ہر چند کہ میں سخت گنہگار ہوں ، لیکن یہ ایمان رکھتا ہوں اور اپنے اساتذہ جناب ابو عبد اللہ عبیدہ اللہ غلام حسن صاحب مرحوم سیالکوٹی اور جناب مولانا حافظ عبد المنان صاحب مرحوم محدث وزیر آبادی کی صحبت وتلقین سے یہ بات یقین کے رتبے تک پہنچ چکی ہے کہ بزرگان دین خصوصا حضرات ائمہ متبوعین سے حسن عقیدت نزول برکات کا ذریعہ ہے ۔
{ تاریخ اہل حدیث :95 }
واللہ اعلم وصلی اللہ علی نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top