1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ١ - (حدیث نمبر ١ تا ٨١٣)

'کتب احادیث' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏جون 26، 2012۔

  1. ‏جولائی 19، 2012 #511
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : آمین کہنے کی فضیلت

    حدیث نمبر : 781
    حدثنا عبد الله بن يوسف، أخبرنا مالك، عن أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ إذا قال أحدكم آمين‏.‏ وقالت الملائكة في السماء آمين‏.‏ فوافقت إحداهما الأخرى، غفر له ما تقدم من ذنبه‏"‏‏. ‏
    ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے آمین کہے اور فرشتوں نے بھی اسی وقت آسمان پر آمین کہی۔ اس طرح ایک کی آمین دوسرے کے آمین کے ساتھ مل گئی تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

    الحمد شریف کے خاتمہ پر فرشتے بھی آمین کہتے ہیں۔ سری میں پست آواز سے اورجہری میں بلند آواز سے، پس جس نماز کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل گئی اس کا بیڑا پار ہو گیا۔ اللہ پاک ہر مسلمان کا بیڑا پار لگائے۔
     
  2. ‏جولائی 19، 2012 #512
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : مقتدی کا آمین بلند آواز سے کہنا

    حدیث نمبر : 782
    حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، مولى أبي بكر عن أبي صالح، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ إذا قال الإمام ‏{‏غير المغضوب عليهم ولا الضالين‏}‏ فقولوا آمين‏.‏ فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه‏"‏‏. ‏ تابعه محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ونعيم المجمر عن أبي هريرة رضى الله عنه‏.‏
    ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ علیہ سے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمن کے غلام سمی سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو تم بھی آمین کہو کیوں کہ جس نے فرشتوں کے ساتھ آمین کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ سمی کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور نعیم مجمر نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

    مقتدیٰ امام کی آمین سن کر آمین کہیں گے، اسی سے مقتدیوں کے لیے آمین بالجہر کا اثبات ہوا۔ بنظر انصاف مطالعہ کرنے والوں کے لیے یہی کافی ہے۔ تعصب مسلکی کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔
    تشریح : جہری نمازو ںمیں سورۃ فاتحہ کے اختتام پر امام اور مقتدیوں کے لیے بلند آواز سے آمین کہنا یہ بھی ایک ایسی بحث ہے جس پر فریقین نے کتنے ہی صفحات سیاہ کر ڈالے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس پر بڑے بڑے فسادات بھی ہو چکے ہیں۔ محترم برادران احناف نے کتنی مساجد سے آمین بالجہر کے عاملین کو نکال دیا۔ مارا پیٹا اور معاملہ سرکاری عدالتوں تک پہنچا ہے۔ یہی وجہ ہوئی کہ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے اہل حدیث حضرات نے اپنی مساجد الگ تعمیر کیں اور اس طرح یہ فساد کم ہوا۔ اگر غور کیا جائے تو عقلاً و نقلاً یہ جھگڑا ہرگز نہ ہونا چاہئے۔ لفظ آمین کے معنی یہ ہیں کہ اے خدا میں نے جو دعائیں تجھ سے کی ہیں ان کو قبول فرمالے۔ یہ لفظ یہود و نصاری میں بھی مستعمل رہا اور اسلام میں بھی اسے استعمال کیا گیا۔ جہری نمازوں میں اس کا زور سے کہنا کوئی امر قبیح نہیں تھا۔ مگر صد افسوس کہ بعض علماءسو نے رائی کا پہاڑ بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سرپھٹول ہوئی اور عرصہ کے لیے دلوں میں کاوش پیدا ہو گئی۔

    سیدنا حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں باب منعقد کرکے اوراس کے تحت احادیث لاکر اس بحث کا خاتمہ فرما دیا ہے۔ پھر بھی بہت سے لوگ تفصیلات کے شائق ہیں۔ لہٰذا ہم اس بارے میں ایک تفصیلی مقالہ پیش کر رہے ہیں جو متحدہ بھارت کے ایک زبردست فاضل استاذ الفضلاءراس الاتقیاءحضرت علامہ عبداللہ صاحب روپڑی رحمۃ اللہ علیہ کے زور قلم کا نتیجہ ہے۔ اس میں دلائل کے ساتھ ساتھ ان پر اعتراضات واردہ کے کافی شافی جوابات دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ حضرت مولانا صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں:

    بلند آواز سے آمین کہنے کے متعلق احادیث و آثار اور علماءاحناف کے فتاوے احادیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا تلا غیر المغضوب علیہم ولا الضالین قال آمین حتی یسمع من یلیہ من الصف الاول ( ابوداؤد، ص: 134 طبع دہلی )
    ( ترجمہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غیر المغضوب علیہم ولا الضالین پڑھتے تو آمین کہتے۔ یہاں تک کہ جو پہلی صف میں آپ کے نزدیک تھے وہ سن لیتے۔

    اس حدیث پر حنفیہ کی طرف سے دو اعتراض ہوتے ہیں۔
    ایک یہ کہ اس حدیث کی اسناد میں بشر بن رافع الحارثی ابوالاسباط ایک راوی ہے۔ اس کے متعلق نصب الرایہ، جلد: اول ص: 371 میں علامہ زیلعی حنفی لکھتے ہیں: “ ضعفہ البخاری و الترمذی والنسائی و احمدو ابن معین وابن حبان ” اس کو امام بخاری، ترمذی، نسائی، احمد، ابن معین اور ابن حبان رحمہم اللہ نے ضعیف کہا ہے۔

    دوسرا اعتراض یہ ہے کہ ایک راوی ابوعبداللہ بن عم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہے، جو بشر بن رافع کا استاد ہے، اس کے متعلق علامہ زیلعی رحمۃ للہ علیہ لکھتے ہیں: “ کہ اس کا حال معلوم نہیں اور بشر بن رافع کے سوا اس سے کسی نے روایت نہیں کی۔ یعنی یہ مجہول العین ہے، اس کی شخصیت کا پتہ نہیں۔ ”
    جواب اعتراض اول: خلاصہ تہذیب الکمال کے صفحہ41 میں بشر بن رافع کے متعلق لکھا ہے۔ و ثقہ ابن معین و ابن عدی وقال البخاری لا یتابع علیہ۔ یعنی ابن معین اور ابن عدی نے اس کو ثقہ کہا ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے۔ اس کی موافقت نہیں کی جاتی۔

    اس سے معلوم ہوا کہ کوئی ضعیف کہتا ہے اور کوئی ثقہ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ضعیف کہنے والوں نے ضعف کی وجہ بیان نہیں کی اور ایسی جرح کو جرح مبہم کہتے ہیں۔ اور اصول کا قاعدہ ہے:
    “ ثقہ کہنے والوں کے مقابلے میں ایسی جرح کا اعتبار نہیں۔ ہاں اگر وجہ ضعف بیان کر دی جاتی تو ایسی جرح بے شک تعدیل پر مقدم ہوتی اور ایسی جرح کو جرح مفسر کہتے ہیں۔ ”
    پھر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا کہ اس کی موافقت نہیں کی جاتی۔ یہ بہت ہلکی جرح ہے۔ ایسے راوی کی حدیث حسن درجہ سے نہیں گرتی۔ غالباً اسی لیے ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ اور منذری نے اس پر سکوت کیا ہے اور اس سے دوسرے اعتراض کا جواب بھی نکل آیا ہے۔ کیوں کہ ابوداؤد جس حدیث پر سکوت کرتے ہیں، وہ ان کے نزدیک اچھی ہوتی ہے اور مجہول العین کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ پس ابوعبداللہ مجہو ل العین نہ ہوا، ورنہ وہ سکوت نہ کرتے۔ علاوہ اس کے علامہ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ کو غلطی لگی ہے۔ یہ مجہول نہیں۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ تقریب میں لکھتے ہیں۔ مقبول یعنی اس کی حدیث معتبر ہے۔
    امام دار قطنی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی اسناد حسن ہیں، مستدرک حاکم میں ہے کہ یہ حدیث بخاری مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ امام بیہقی کہتے ہیں۔ حسن صحیح ہے۔ ( نیل الاوطار، جلد: 2ص: 117، طبع مصر )
    تنبیہ: نصب الرایہ جلد اول/ ص: 371 کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ اس کی اسناد میں اسحاق بن ابراہیم بن العلاءزبیدی ضعیف ہے۔
    مگر جو جرح مفسر ثابت نہیں ہوئی ا س لیے دار قطنی نے اس کو “ حسن ” کہا ہے اور حاکم نے صحیح اور بیہقی نے حسن صحیح اور میزان الاعتدال میں جو عوف طائی سے اس کا جھوٹا ہونا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے تقریب میں اس کی تردید کی ہے اور خلاصہ تہذیب الکمال میں عوف طائی کے ان الفاظ کو نقل ہی نہیں کیا۔ حالانکہ وہ خلاصہ والے میزان الاعتدال سے لیتے ہیں۔
    ( 2 ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عن ابی ہریرۃ قال ترک الناس التامین کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا قال غیر المغضوب علیہم ولا الضالین قال آمین حتی یسمعہا اہل الصف الاول فیرتج بہا المسجد۔
    ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، لوگوں نے آمین چھوڑ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہتے تو آمین کہتے۔ یہاں کہ پہلی صف سن لیتی۔ پس ( بہت آوازوں کے ملنے سے ) مسجد گونج جاتی۔ ( ابن ماجہ، ص: 62، طبع دہلی )
    اس حدیث کی صحت بھی ویسی ہی ہے، جیسی پہلی حدیث کی۔ ملاحظہ ہو نیل الاوطار، جلد2، ص: 117، طبع مصر )

    ( 3 ) عن ام الحصین انہا کانت تصلی خلف النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی صف النساءفسمعتہ یقول الحمد للہ رب العلمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین حتی اذا بلغ غیر المغضوب علیہم ولاالضالین قال آمین۔ ( مجمع الزوائد ہیثمی، جلد: 2ص: 114، تخریج ہدایہ حافظ ابن حجر، ص: 78 )
    ( ترجمہ ) ام الحصین رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کے پیچھے عورتوں کی صف میں نماز پڑھا کرتی تھیں ( وہ کہتی ہیں ) میں نے آپ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا۔ الحمد للہ رب العلمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین یہاں تک کہ غیر المغضوب علیہم ولاالضالین پر پہنچتے تو آمین کہتے۔ یہاں تک کہ میں سنتی اور میں عورتوںکی صف میں ہوتی۔

    مذکورہ بالا حدیث میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے۔ اس پر زیلعی رحمۃ اللہ علیہ نے اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے تو سکوت کیا۔ مگر ہیثمی نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ خیر اگر ضعیف ہو تو دوسری روایتیں مذکورہ بالا اور زیریں اس کو تقویت دیتی ہیں۔
    تنبیہ: کبھی پہلی صف کا سننا اور کبھی پچھلی صفوں تک آپ کی آواز کا پہنچ جانا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی آپ آمین فاتحہ کی آواز کے برابر کہتے اور کبھی معمولی آواز سے۔

    ( 4 ) اخرجہ ابوداؤد و الترمذی عن سفیان عن سلمۃ بن کہیل عن حجر بن عنبس عن وائل بن حجر واللفظ لابی داود قال کان رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم اذا قرا ولا الضالین قال آمین و رفع بہا صوتہ انتہی و لفظ الترمذی و مدبہا صوتہ و قال حدیث حسن ( تخریج ہدایہ زیلعی، جلد: اول / ص: 370 )
    ( ترجمہ ) ابوداؤد اور ترمذی میں ہے، وائل بن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ولاالضالین پڑھتے تو بلند آواز سے آمین کہتے۔ یہ ابوداؤد کے لفظ ہیں۔ اور ترمذی کے یہ لفظ ہیں و مد بہا صوتہ یعنی آمین کے ساتھ آواز کو کھینچتے اور ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

    تنبیہ: بعض لوگ مدبہا صوتہ کے معنے کرتے ہیں کہ آمین کے وقت الف کو کھینچ کر پڑھتے لیکن ابوداؤد کے لفظ رفع بہا صوتہ اور نمبر 5کی روایت جہر بآمین نے وضاحت کردی کہ مدبہا سے مراد آواز کی بلندی ہے اور عرب کاعام محاورہ ہے اور احادیث میں بھی بہت آیا ہے۔ چنانچہ ترمذی میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ غفار، اسلم اور مزینہ تینوں قبیلے تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر صعصعہ سے بہترہیں۔ یمدبہا صوتہ۔ یعنی بلند آواز سے کہتے اور بخاری میں براءسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احزاب کے دن خندق کھودتے اور یہ کلمات کہتے:
    اللہم لو لا انت ما اہتدینا ولا تصدقنا و لا صلینا فانزلن سکینۃ علینا و ثبت الاقدام ان لاقینا ان الاولی رغبوا علینا و اذا اراد و افتنۃ ابینا۔ قال یمد صوتہ بآخرہا۔
    “ یا اللہ! اگر تیرا احسان نہ ہوتا تو نہ ہم ہدایت پاتے۔ نہ صدقہ خیرات کرتے نہ نماز پڑھتے پس اگر ہم دشمنوں سے ملیں تو ہمارے دلوں کو ڈھارس دے اور ہمارے قدموں کو مضبوط رکھ۔ یہ لوگ ہم پر دشمنوں کو چڑھا کر لے آئے۔ جب انہوں نے ہم سے مشرکانہ عقیدہ منوانا چاہا۔ ہم نے انکار کر دیا۔ براءکہتے ہیں اخیر کلمہ ( ابینا یعنی ہم نے انکار کر دیا ) کے ساتھ دوسرے کلمات کی نسبت آواز بلند کرتے۔ ”

    اور ابوداؤد وغیرہ میں ترجیع اذان کے متعلق ابومحذورہ کی حدیث ہے اس میں یہ الفاظ فمد من صوتک یعنی اپنی آواز کو ( پہلے کی نسبت ) بلند کر۔

    ( 5 ) اخرج ابوداود و الترمذی عن علی بن صالح و یقال العلاءبن صالح الاسدی عن سلمۃ بن کہیل عن حجر بن عنبس عن وائل بن حجر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ صلی فجہر بآمین۔
    ( ترجمہ ) وائل بن حجر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں بلند آواز سے آمین کہی۔

    تنبیہ: وائل بن حجر کی اس حدیث کے راوی شعبہ بھی ہیں، جو سلمہ بن کہیل کے شاگر د ہیں، انہوں نے اپنی روایت میں و خفض بہا صوتہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ آمین کہی۔ حنفیہ اسی کو لیتے ہیں اور سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے جو اپنی روایت میں سلمہ بن کہیل سے و مدبہا صوتہ یا رفع بہا صوتہ کہا ہے اس کو ترک کر دیا ہے حالانکہ فتح القدیر شرح ہدایہ اور عنایۃ شرح ہدایہ، جلد: اول /ص: 219 پر رفع یدین کی بحث میں لکھا ہے کہ زیادہ فقیہ کی روایت کو ترجیح ہوتی ہے۔ اور سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ بالاتفاق شعبہ رحمۃ اللہ علیہ سے زیادہ فقیہ ہیں۔ اس بنا پر سفیان کی روایت کو ترجیح ہونا چاہئے۔ اور محدثین کا اصول ہے کہ زیادہ حافظہ والے کو ترجیح ہوتی ہے اور سفیان رحمۃ اللہ علیہ حافظہ میں بھی شعبہ رحمۃ اللہ علیہ سے زیادہ ہیں۔ اسی بنا پر حنفیہ نے کئی مقامات پر سفیان رحمۃ اللہ علیہ کو شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت پر ترجیح دی ہے۔ ( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی، جلد: 1 ص: 210 و ص:211 )

    پھر لطف کی بات یہ ہے کہ سلمہ بن کہیل کے دو شاگر د اور ہیں۔ ایک علاءبن صالح یہ ثقہ ہیں اور ان کو علی بن صالح بھی کہتے ہیں۔ دوسرے محمد بن سلمہ، یہ ضعیف ہیں۔ ان دونوں سے علاءکی روایت میں جہر بآمین ہے اور محمد بن سلمہ کی روایت میں رفع بہا صوتہ ہے بلکہ خود شعبہ نے بھی ایک روایت میں سلمہ بن کہیل سے رفع بہا صوتہ روایت کیا ہے اور سند بھی اس کی صحیح ہے۔ ملاحظہ ہو نصب الرایہ، جلد: 1 ص: 369 اور تلخیص الحبیر، ص: 89 اور تحفۃ الاحوذی، جلد: 1ص: 211۔ مگر باوجود اس کے حنفیہ نے شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت خفض بہا صوتہ ہی کو لیا ہے، لیکن سارے حنفیہ ایک سے نہیں۔ کئی اس کمزوری کو محسوس کرکے آمین بالجہر کے قائل ہیں، چنانچہ اس کا ذکر آگے آتا ہے۔ ان شاءاللہ۔
    ( 6 ) عن عبدالجبار بن وائل عن ابیہ قال صلیت خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلما افتتح الصلوۃ کبر و رفع یدیہ حتی حاذتا اذانیہ ثم قرا فاتحۃ الکتاب فلما فرغ منہا قال آمین یرفع صوتہ۔ رواہ النسائی ( تخریج زیلعی، ج: 1 ص: 271 ) ( ترجمہ ) عبدالجبار بن وائل رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ وائل بن حجر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب نماز شروع کی تو تکبیر کہی اور ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ کانوں کے برابر ہوگئے۔ پھر فاتحہ پڑھی، پھر جب فاتحہ سے فارغ ہوئے تو بلند آواز سے آمین کہی۔ اس حدیث کو نسائی نے روایت کیا۔

    نصب الرایہ، جلد : اول / ص: 371 کے حاشیہ میں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ سے بحوالہ شرح المہذب للنووی لکھا ہے کہ ائمہ اس بات پر متفق ہیں کہ عبدالجبار نے اپنے والد سے نہیں سنا اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ وہ اپنے باپ کی وفات کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا ہے۔ پس یہ حدیث منقطع ہوئی۔
    اس کا جواب یہ ہے کہ حجر بن عنبس نے بھی وائل بن حجر سے یہ حدیث روایت کی ہے اور اس نے وائل سے سنی ہے۔ اس لیے منقطع ہونے کا شبہ رفع ہو گیا۔ نیز کتب اسماءالرجال میں عبدالجبار کا استاذ زیادہ تر اس کا بھائی علقمہ لکھا ہے اس لیے غالب ظن ہے کہ اس نے یہ حدیث اپنے بھائی علقمہ سے سنی ہو۔ نصب الرایہ جلد: اول/ ص: 370 پر جو لکھا ہے کہ عقلمہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا، وہ اپنے باپ کے وفات کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا ہے۔ یہ نقل کرنے والوں کی غلطی ہے اور یہیں سے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کو بھی غلطی لگی ہے۔ وہ بھی تقریب میں لکھتے ہیں کہ علقمہ بن وائل نے اپنے باپ سے نہیں سنا۔ حالانکہ وہ عبدالجبار ہے اور وہی اپنے باپ کی وفات کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ ابھی گزرا ہے :
    ترمذی باب المراۃ استکرہت علی الزنا میں تصریح کی ہے کہ علقمہ نے اپنے باپ سے سنا ہے، اور وہ عبدالجبار سے بڑا ہے اور عبدالجبار نے اپنے باپ سے نہیں سنا۔
    اور مسلم باب منع سب الدہر میں علقمہ کی حدیث جو اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے، لائے ہیں اور مسلم منقطع حدیث نہیں لاسکتے کیوں کہ وہ ضعیف ہوتی ہے۔
    اور ابوداؤد باب من حلف لیقتطع بہا مالا میں اس کی حدیث اس کے باپ سے لائے ہیں اور اس پر سکوت کیا ہے حالانکہ ان کی عادت ہے کہ وہ انقطاع وغیرہ بیان کرتے ہیں۔
    بہر صورت علقمہ کے سماع میں شبہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلاصہ تہذیب الکمال میں تقریب کی یہ عبارت کہ “ اس نے اپنے باپ سے نہیں سنا۔ ” ذکر نہیں کی۔ خلاصہ والے تقریب سے لیتے ہیں۔ پس جب علقمہ کا سماع ثابت ہو گیا اور ظن غالب ہے کہ عبدالجبار نے یہ حدیث علقمہ سے لی ہے۔ پس حدیث متصل ہو گئی اور حنفیہ کے نزدیک تو تابعی کی حدیث ویسے ہی متصل کے حکم میں ہوتی ہے۔ خواہ اپنے استاد کا نام لے یا نہ لے تو ان کو تو اس پر ضرور عمل کرنا چاہئے۔
    ( 7 ) عن علی رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا قال ولاالضالین قال آمین ( ابن ماجہ، باب الجہر بآمین، ص: 62 )
    ( ترجمہ ) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناکہ جب آپ ولا الضالین کہتے تو آمین کہتے ۔ اس حدیث میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی ایک راوی ہے اس کے متعلق مجمع الزوائد میں لکھا ہے “ جمہور اس کو ضعیف کہتے ہیں اور ابوحاتم کہتے ہیں مقام اس کا صدق ہے۔ ”

    مجمع الزوائد میں جمہور کے ضعیف کہنے کی وجہ نہیں بتائی۔ تقریب التہذیب میں اس کی وضاحت کی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں۔ صدوق سیئی الحفظ جدا۔ یعنی سچا ہے حافظہ بہت خراب ہے۔
    اس سے معلوم ہوا کہ ضعف کی وجہ حافظہ کی کمزوری ہے۔ ویسے سچاہے، جھوٹ نہیں بولتا۔ پس یہ حدیث بھی کسی قدر اچھی ہوئی اور دوسری حدیثوں کے ساتھ مل کر نہایت قوی ہوگئی۔
    تحفۃ الاحوذی، جلداول / ص: 608 میں ہے: و اما حدیث علی رضی اللہ عنہ فاخرجہ الحاکم بلفظ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول آمین اذا قرا غیر المغضوب علیہم ولا الضالین و اخرج ایضا عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا قرا ولا الضالین رفع صوتہ بآمین کذافی الاعلام الموقعین۔ ( ترجمہ ) مستدرک حاکم میں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آمین کہتے سنا جب کہ آپ نے ( غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ) پڑھا۔

    نیز مستدرک حاکم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب والا الضالین پڑھتے تو بلند آواز سے آمین کہتے۔ اعلام الموقعین میں اسی طرح ہے۔

    ( 8 ) تحفۃ الاحوذی کے اسی صفحہ میں ہے:
    ولابی ہریرۃ حدیث آخر فی الجہر بالتامین رواہ النسائی عن نعیم المجمر قال صلیت وراءابی ہریرۃ فقرا بسم اللہ الرحمن الرحیم ثم قرا بام القرآن حتی بلغ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین قال امین فقال الناس امین الحدیث و فی آخرہ قال والذی نفس محمد بیدہ انی لا شبہکم صلوٰۃ برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و اسنادہ صحیح۔
    ( ترجمہ ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے آمین بالجہر کے بارے میں ایک اورحدیث ہے جو نسائی میں ہے۔ نعیم بن مجمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ انہوں نے پہلے بسم اللہ پڑھی، پھر فاتحہ پڑھی جب غیر المغضوب علیہم ولاالضالین پر پہنچے، تو آمین کہی۔ پس لوگوں نے بھی آمین کہی۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔ بے شک میں نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تم سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں اور اس کی اسناد صحیح ہیں۔

    ( 9 ) نصب الرایہ زیلعی جلد: اول/ ص: 371 میں ہے:
    و رواہ ابن حبان فی صحیحہ فی النوع الرابع من القسم الخامس و لفظہ کان رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا فرغ من قراءۃ ام القرآن رفع بہا صوتہ و قال آمین۔
    ( ترجمہ ) ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فاتحہ سے فارغ ہوتے تو بلند آواز سے آمین کہتے۔ ( زیلعی نے اس حدیث پر کوئی جرح نہیںکی )

    ( 10 ) ابن ماجہ باب الجہر بآمین ص63 میں ہے:
    عن عائشۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما حسدتکم الیہود ما حسدتکم علی السلام و التامین۔
    ( ترجمہ ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود جتنا سلام اور آمین سے حسد کرتے ہیں، اتنا کسی اور شے پر حسد نہیں کرتے۔

    بلند آواز سے آمین کہنے میں جب بہت سی آوازیں مل جائیں تو اس میں اسلامی نمائش پائی جاتی۔ اس لیے یہود کو حسد آتا، ورنہ آہستہ میں حسد کے کچھ معنی ہی نہیں۔ کیوں کہ جب سنا ہی کچھ نہیں تو حسد کس بات پر۔ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے جیسے منذری رحمۃاللہ علیہ نے تصریح کی ہے اور ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ اس کو اپنی صحیح میں لائے ہیں اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسند میں اور بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی سنن میں اس کو سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے۔
    تلک عشرۃ کاملۃ : یہ دس احادیث ہیں۔ ان کے علاوہ اور روایتیں بھی ہیں۔ مسک الختام شرح بلوغ المرام میں 17 ذکر کی ہیں اور آثار تو بے شمار ہیں۔ دو سو صحابہ رضی اللہ عنہم کا ذکر تو عطاءتابعی رحمۃ اللہ علیہ کے قول ہی میں گذرچکا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی لوگ آمین کہتے تھے۔ چنانچہ نمبر 8 کی حدیث گزر چکی ہے بلکہ حنفیہ کے طریق پر اجماع ثابت ہے۔ حنفیہ کا مذہب ہے کہ “ کنویں میں گر کر کوئی مرجائے، تو سارا کنواں صاف کر دینا چاہئے۔ دلیل اس کی کنویں زمزم میں ایک حبشی گر کر مر گیا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں کنویں کا سارا پانی نکلوادیا اور کسی نے انکار نہیں کیا۔

    پس یہ اجماع ہو گیا۔ ٹھیک اسی طرح آمین کا مسئلہ ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مسجد مکہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں آمین کہی اوران کے ساتھ لوگوں نے بھی کہی۔ یہاں تک کہ مسجد گونج اٹھی اور کسی نے اس پر انکار نہیں کیا۔ پس یہ بھی اجماع ہو گیا پھر حنفیہ کے پاس آہستہ آمین کے بارے میں ایک حدیث بھی نہیں۔ صرف شعبہ کی روایت ہے جس کا ضغف اوپر بیان ہو چکا ہے اور ہدایہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول سے استدلال کیا ہے کہ امام چار چیزیں آہستہ کہے۔
    سبحانک اللہم اعوذ بسم اللہ آمین مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ ملاحظہ ہو درایہ تخریج ہدایہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، ص:71، اور نصب الرایہ تخریج ہدایہ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ، جلد: 1 ص: 325، اور فتح القدیر شرح ہدایہ، جلد: 1ص: 204، ص:207 وغیرہ

    ہاں ابراہیم نخعی تابعی کا یہ قول ہے کہ امام چار چیزیں آہستہ کہے۔ مگر مرفوع احادیث اور آثار صحابہ کے مقابل میں ایک تابعی کے قول کی کیا وقعت ہے۔ خاص کر جب خود اس سے اس کے خلاف روایت موجو دہے۔ چنانچہ اوپر گزر چکا ہے کہ وہ آیت کریمہ ولاتجہر بصلوۃ میں صلوۃ کے معنی دعا کرتے ہیں۔ اس بنا پر آمین ان کے نزدیک درمیانی آواز سے کہنی چاہئے نہ بہت چلا کر نہ بالکل آہستہ اور یہی اہلحدیث کا مذہب ہے۔

    حنفیہ کے بقیہ دلائل:
    بعض حنفیہ نے اس مسئلہ میں کچھ اور آثار بھی پیش کئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی ذکر کر دیں۔ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سفر السعادات میں لکھتے ہیں:
    از امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ روایت کردہ اند کہ اخفاءکند امام چہار چیز را، تعوذ، بسم اللہ، آمین، سبحانک اللہم و بحمدک، و از ابن مسعود رضی اللہ عنہ نیز مثل ایں آمدہ۔ وسیوطی رحمۃ اللہ علیہ در جمع الجوامع از ابی وائل روایت آوردہ کہ گفت بودند عمر و علی کہ جہر نمی کردند بسم اللہ الخ و نہ تعوذ و نہ آمین۔ ( ابن جریر طحاوی )
    ( ترجمہ ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام چار چیز آہستہ کہے۔ اعوذ باللہ، بسم اللہ، آمین، سبحانک اللہم اور اسی کے مثل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی آیا ہے اور سیوطی رحمۃ اللہ علیہ جمع الجوامع میں ابی وائل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت لائے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بسم اللہ، اعوذ اور آمین بلند آواز سے نہیں کہتے تھے۔ ابن جریر اور طحاوی نے اس کو روایت کیا ہے۔

    اور ابن ماجہ طبع ہند کے ص 62 کے حاشیہ میں لکھا ہے:
    و روی عن عمر بن الخطاب قال یخفی الامام اربعۃ اشیاءالتعوذ و البسملۃ و آمین و سبحانک اللہم۔ و عن ابن مسعود مثلہ، و روی السیوطی فی جمیع الجوامع عن ابی وائل قال کان عمر و علی رضی اللہ عنہم لا یجہران بالبسلملۃ ولا بالتعوذ ولا بآمین رواہ ابن جریر و الطحاوی و ابن شاہین۔
    اس عربی عبارت کا ترجمہ بعینہ شرح سفر السعادۃ کی فارسی عبار ت کا ترجمہ ہے۔ حنفیہ کی ساری پونچی یہی ہے جو ان دونوں عبارتوں میں ہے ان دونوں عبارتوں ( عربی، فارسی ) میں حضرت عمررضی اللہ عنہ اورحضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کا تو کوئی حوالہ نہیں دیا کہ کس نے اس کو روایت کیا ہے اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فعل کہ وہ اعوذ، بسم اللہ، آمین بلند آواز سے نہیں کہتے تھے۔ اس کے متعلق کہاہے کہ ابن جریر، طحاوی اورابن شاہین نے اس کو روایت کیا ہے، لیکن اس کی اسناد میں سعید بن مرزبان بقال ہے جس کے متعلق میزان الاعتدال میں لکھاہے کہ امام فلاس نے اسے ترک کر دیا ہے اور ابن معین کہتے ہیں کہ اس کی حدیث لکھنے کے قابل نہیں اور بخاری کہتے ہیں منکر الحدیث ہے اور ابان بن حیلہ کوفی کے ترجمہ میں میزان الاعتدال میں ابن القطان نے نقل کیا ہے بخاری کہتے ہیں جس کے حق میں میں منکر الحدیث کہہ دوں اس کی روایت لینی حلال نہیں۔ پس یہ روایت بالکل ردی ہو گئی۔ علاوہ اس کے ان کتابوں کے متعلق جن کی یہ روایت ہے شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ حجۃ اللہ البالغہ اور شاہ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ عجالۃ نافعہ میں لکھتے ہیں: “ کہ ان کی روایتیں بغیر جانچ پڑتال کے نہیں لینی چاہئے۔ کیوں کہ یہ احتیاط نہیں کرتے، جھوٹی سچی، صحیح ضعیف سب انہوں نے خلط ملط کر دی ہیں۔ ”

    پس حنفیہ کا بغیر تصحیح کے ان کی روایتیں پیش کرنا دوہری غلطی ہے۔ خاص کر جب خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آمین بالجہر کی روایت آ گئی ہے جو نمبر 27پر گزر چکی ہے اور بسم اللہ بھی جہراً ان سے ثابت ہے چنانچہ سبل السلام اور دار قطنی میں مذکور ہے۔ ( ملاحظہ ہو مسک الختام شرح بلوغ المرام ص: 230 )
    علاوہ اس کے مرفوع احادیث کے مقابلہ میں کسی کا قول و فعل کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ خواہ کوئی بڑا ہو یا چھوٹا۔ مسلمان کی شان یہ ہونی چاہئے۔

    مصور کھینچ وہ نقشہ جس میں یہ صفائی ہو
    ادھر حکم پیغمبر ہو ادھر گردن جھکائی ہو


    مزید ثبوت اور علماءاحناف کی شہادت:
    بعض اختلافی مسائل میں جانبین کے پاس دلائل کا کچھ نہ کچھ سہارا ہوتاہے مگر یہاں تو دوسرے پلڑے میں کچھ بھی نہیں اور جو کچھ ہے اس کا اندازہ قارئین کرام کو ہو چکا ہوگا۔ اب اس کی مزید وضاحت علماءاحناف کے فیصلوں سے ملاحظہ فرمائیں:

    امام ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ:
    احناف کے جد امجد ہیں۔ حنفی مذہب کی مشہور کتاب شامی ( رد المختار ) کی جلد : 4، /ص: 388 میں لکھا ہے۔ کمال ابن الہمام بلغ رتبۃ الاجتہاد یعنی امام ابن الہمام مرتبہ اجتہاد کو پہنچ گئے وہ اپنی کتاب فتح القدیر میں لکھتے ہیں:
    و لو کان الی فی ہذا شیئی لوفقت بان روایۃ الخفض یراد بہا عدم القرع العنیف و روایۃ الجہر بمعنی قولہا فی زیر الصوت و ذیلہ ( فتح القدیر، ج: 117/1 )
    ( ترجمہ ) اگر فیصلہ میرے سپرد ہوتا تو میں یوں موافقت کرتا کہ آہستہ کہنے کی حدیث سے یہ مراد ہے کہ چلا کر نہ کہے اور جہر کی حدیث سے درمیانی آواز ہے۔

    امام ابن امیر الحاج رحمۃ اللہ علیہ:
    یہ امام ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں۔ یہ اپنے استاد کے فیصلہ پر صاد فرماتے ہیں چنانچہ اپنی کتاب “ حلیہ ” میں لکھتے ہیں: و رجع مشایخنا بما لا یعری عن شیئی لمتاملہ فلا جرم ان قال شیخنا ابن الہمام و لو کان الی شیئی الخ ( تعلیق الممجد علی موطا الامام المحمد، ص: 9-10 )
    ( ترجمہ ) ہمارے مشائخ نے جن دلائل سے اپنے مذہب کو ترجیح دی ہے وہ تامل سے خالی نہیں اس لیے ہمارے شیخ ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اگر فیصلہ میرے سپرد ہوتا الخ۔

    شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ :
    جن کی فارسی عبارت شرح سفر السعادت کے حوالہ سے ابھی گزری ہے۔ یہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بہت پہلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حنفی مذہب کے ترک کا ارادہ کیا لیکن علماءمکہ نے مشورہ دیا کہ جلدی نہ کرو۔ حنفی مذہب کے دلائل پر غور کرو۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے “ فتح سر المنان ” لکھی۔ اس میں حنفی مذہب کے دلائل جمع کئے۔ مسئلہ آمین کے متعلق یہی عبارت لکھی جو امام ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی اور امام ابن الہمام رحمۃاللہ علیہ والا ہی فیصلہ کیا۔
    مولانا عبدالحئی صاحب لکھنؤی رحمۃ اللہ علیہ : حنفی مذہب کے مشہور بزرگ گزرے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: والانصاف ان الجہر قوی من حیث الدلیل ( التعلیق الممجد علی موطاالامام محمد، ص: 105 )
    ( ترجمہ ) یعنی انصاف یہ ہے کہ دلیل کی رو سے آمین بالجہر قوی ہے۔

    مولانا سراج احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ:
    یہ بھی حنفی مذہب کے مشور بزرگ ہیں۔ شرح ترمذی میں لکھتے ہیں:
    احادیث الجہر بالتامین اکثر واصح۔ ( ترجمہ ) یعنی بلند آواز سے آمین کہنے کی احادیث کثیر ہیں اور زیادہ صحیح ہیں۔
    ان کے علاوہ مولانا عبدالعلی بحر العلوم لکھنؤی حنفی رحمۃ اللہ علیہ بھی “ ارکان الاسلام ” میں یہی لکھتے ہیں کہ “ آمین آہستہ کہنے کی بابت کچھ ثابت نہیں ہوا۔ ” اور دیگر علماءبھی اسی طرح لکھتے ہیں مگر ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ کیوں کہ جب آہستہ کہنے کا کوئی ثبوت ہی نہیں تو بہت بھر مار سے فائدہ ہی کیا۔ تسلی و اطمینان کے لیے جو کچھ لکھا گیا۔ خدا اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے اور ضد و تعصب سے محفوظ رکھے۔ آمین

    ( مقالہ آمین و رفع یدین حضرت حافظ عبداللہ صاحب روپڑی نور اللہ قبرہ و برد مضجعہ، آمین ) آج کل کے شارحین بخاری جن کا تعلق دیوبند سے ہے۔ ایسے اختلافی امور پر جو بے تکی رائے زنی فرما رہے ہیں وہ سخت حیرت انگیز ہیں مثلاً امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے پچھلے باب میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا فعل نقل فرمایا کہ وہ اس قدر بلند آواز سے آمین کہا کرتے تھے کہ مسجد گونج اٹھتی تھی۔ اس سے شارحین فرما رہے ہیں:
    “ غالباً یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے کہ جب آپ فجر میں عبدالملک پر قنوت پڑھتے تھے۔ عبدالملک بھی ابن زبیر رضی اللہ عنہ پر قنوت پڑھتا تھا اور جس طرح کے حالات اس زمانہ میں تھے اس میں مبالغہ اور بے احتیاطی عموماً ہو جایا کرتی ہے۔ ” ( تفہیم البخاری، پ: 3، ص: 135 )
    اس بے تکی رائے زنی پر اہل انصاف خود نظر ڈال سکیں گے کہ یہ کہاں تک درست ہے۔ اول تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا آمین بالجہر کہنا خاص نماز فجر میں کسی روایت میں مذکور نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس واقعہ کا تعلق مغرب یا عشاءسے بھی ہو۔ پھر الحمدشریف کے خاتمہ پر آمین بالجہر کا عبدالملک پر قنوت پڑھنے سے کیا تعلق، قنوت کا محل دوسرا ہے پھر مبالغہ اور بے احتیاطی کو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کی طرف منسوب کرنا ایک بڑی جرات ہے اور اسی قسم کی بے تکی باتیں کی جاتی ہیں۔ اللہ پاک ایسے علماءکرام کو نیک ہدایت دے کہ وہ امر حق کو تسلیم کرنے کے لیے دل کھول کر تیار ہوں اور بے جا تاویلات سے کام لے کر آج کے تعلیم یافتہ روشن خیال لوگوں کو ہنسنے کا موقع نہ دیں۔ اللہم وقفنا لما تحب و ترضی آمین۔
     
  3. ‏جولائی 19، 2012 #513
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : جب صف تک پہنچنے سے پہلے ہی کسی نے رکوع کر لیا ( تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ )

    حدیث نمبر : 783
    حدثنا موسى بن إسماعيل، قال حدثنا همام، عن الأعلم ـ وهو زياد ـ عن الحسن، عن أبي بكرة، أنه انتهى إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو راكع، فركع قبل أن يصل إلى الصف، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ زادك الله حرصا ولا تعد‏"‏‏. ‏
    ہم سے موسیٰ بن اسمعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے زیادہ بن حسان اعلم سے بیان کیا، انہوں نے حضرت حسن رحمہ اللہ علیہ سے، انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ( نماز پڑھنے کے لیے ) گئے۔ آپ اس وقت رکوع میں تھے۔ اس لیے صف تک پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے رکوع کر لیا، پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تمہارا شوق اور زیادہ کرے لیکن دوبارہ ایسا نہ کرنا۔

    تشریح : طبرانی کی روایت میں یوں ہے کہ ابوبکرہ اس وقت مسجد میں پہنچے کہ نماز کی تکبیر ہو چکی تھی، یہ دوڑے اور طحاوی کی روایت میں ہے کہ دوڑتے ہوئے ہانپنے لگے، انہوں نے مارے جلدی کے صف میں شریک ہونے سے پہلے ہی رکو ع کر دیا۔ نماز کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حال معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ آئندہ ایسا نہ کرنا۔

    بعض اہل علم نے اس سے رکوع میں آنے والوں کے لیے رکعت کے ہو جانے پر دلیل پکڑی ہے۔ عون المعبود شرح ابوداؤد میں، ص332، میں ہے۔ قال الشوکانی فی النیل لیس فیہ ما یدل علی ما ذہبوا الیہ لانہ کما لم بامرہ بالاعادۃ لم ینقل ایضا انہ اعتد بہا و الدعاءلہ بالجرض لا یستلزم الاعتداد بہا لان الکون مع الامام مامور بہ سواءکان الشئی الذی یدرکہ الموتم معتدا بہ ام لا کما فی الحدیث اذا جئتم الی الصلوۃ و نحن سجود فاسجدوا ولا تعدوہا شئیا علی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد نہی ابابکر عن العود الی مثل ذلک و الاحتجاج بشئی قد نہی عنہ لا یصح و قد اجاب ابن حزم فی المحلی عن حدیث ابی بکرۃ فقال انہ لا حجۃ فیہ لانہ لیس فیہ اجتراءبتلک الرکعۃ الخ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ بقول علامہ شوکانی اس حدیث سے یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیوں کہ اگر حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے کہ آپ نے اسے رکعت کے لوٹانے کا حکم نہیں فرمایا تو ساتھ ہی منقول یہ بھی نہیں ہے کہ اس رکعت کو کافی سمجھا۔ آپ نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو اس کی حرص پر دعائے خیر ضرور دی مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس رکعت کو بھی کافی سمجھا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو اس فعل سے مطلقاً منع فرما دیا تو ایسی ممنوعہ چیز سے استدلال پکڑنا صحیح نہیں۔ علامہ ابن حزم نے بھی محلی میں ایسا ہی لکھا ہے۔

    حضرت صاحب عون المعبود رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    فہذا محمد بن اسماعیل البخاری احد المجتہدین و واحد من ارکان الدین قد ذہب الی ان مدرکا للرکوع لا یکون مدرکا للرکعۃ حتی یقرا فاتحۃ الکتاب فمن دخل مع الامام فی الرکوع فلہ ان یقضی تلک الرکعۃ بعد سلام الامام بل حکی البخاری ہذا المذہب عن کل من ذہب الی وجوب القراۃ خلف الامام الخ ( عون المعبود، ص: 334 ) یعنی حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ جو مجتہدین میں سے ایک زبردست مجتہد بلکہ ملت اسلام کے اہم ترین رکن ہیں، انہوں نے رکوع پانے والے کی رکعت کو تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ ان کا فتوی یہ ہے کہ ایسے شخص کو امام کے سلام کے بعد یہ رکعت پڑھنی چاہئے بلکہ حضر ت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ ہر اس شخص کا مذہب نقل فرمایا ہے جس کے نزدیک امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنی واجب ہے اور ہمارے شیخ العرب و العجم حضرت مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی فتوی ہے۔ ( حوالہ مذکور )

    اس تفصیل کے بعد یہ امر بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ جو حضرات بلا تعصب محض اپنی تحقیق کی بنا پر رکوع کی رکعت کے قائل ہیں وہ اپنے فعل کے خود ذمہ دار ہیں۔ ان کو بھی چاہئے کہ رکوع کی رکعت نہ ماننے والوں کے خلاف زبان کو تعریض سے روکیں اور ایسے مختلف فیہ فروعی مسائل میں وسعت سے کام لے کر اتفاق باہمی کو ضرب نہ لگائیں کہ سلف صالحین کا یہی طریقہ یہی طرز عمل رہا ہے۔ ایسے امور میں قائلین و منکرین میں سے حدیث الاعمال بالنیات کے تحت ہر شخص اپنی نیت کے مطابق بدلہ پائے گا، اسی لیے المجتہد قد یخطی و یصیب کا اصول وضع کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب و الیہ المرجع و المآب دلائل کی رو سے صحیح یہی ہے کہ رکوع میں ملنے سے اس رکعت کا لوٹانا ضروری ہے۔
     
  4. ‏جولائی 19، 2012 #514
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : رکوع کرنے کے وقت بھی تکبیر کہنا

    قاله ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏ فيه مالك بن الحويرث‏.‏
    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے اور مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بھی اس باب میں روایت کی ہے۔

    حدیث نمبر : 784
    حدثنا إسحاق الواسطي، قال حدثنا خالد، عن الجريري، عن أبي العلاء، عن مطرف، عن عمران بن حصين، قال صلى مع علي ـ رضى الله عنه ـ بالبصرة فقال ذكرنا هذا الرجل صلاة كنا نصليها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏ فذكر أنه كان يكبر كلما رفع وكلما وضع‏.‏
    ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے سعید بن ایاس جریری سے بیان کیا، انہوں نے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ سے، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے، انہوں نے عمران بن حصین سے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ میں ایک مرتبہ نماز پڑھی۔ پھر کہا کہ ہمیں انہوں نے وہ نماز یاد دلا دی جو کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ پھر کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب سر اٹھاتے اور جب سر جھکاتے اس وقت تکبیر کہتے۔

    حدیث نمبر : 785
    حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنه كان يصلي بهم، فيكبر كلما خفض ورفع، فإذا انصرف قال إني لأشبهكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏
    ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور جب بھی وہ اٹھتے تکبیر ضرور کہتے۔ پھر جب فارغ ہوتے تو فرماتے کہ میں نماز پڑھنے میں تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھنے والا ہوں۔

    تشریح : حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد ان لوگوں کی تردید کرنا ہے جو رکوع اور سجدہ وغیرہ میں جاتے ہوئے تکبیر نہیں کہتے۔ بعض شاہان بنی امیہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ باب کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا ہے کہ تکبیر کو رکوع میں جا کر پورا کرنا، مگر بہتر ترجمہ وہی ہے جو اوپر ہوا۔
     
  5. ‏جولائی 19، 2012 #515
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : سجدے کے وقت بھی پورے طور پر تکبیر کہنا

    حدیث نمبر : 786
    حدثنا أبو النعمان، قال حدثنا حماد، عن غيلان بن جرير، عن مطرف بن عبد الله، قال صليت خلف علي بن أبي طالب ـ رضى الله عنه ـ أنا وعمران بن حصين،، فكان إذا سجد كبر، وإذا رفع رأسه كبر، وإذا نهض من الركعتين كبر، فلما قضى الصلاة أخذ بيدي عمران بن حصين فقال قد ذكرني هذا صلاة محمد صلى الله عليه وسلم‏.‏ أو قال لقد صلى بنا صلاة محمد صلى الله عليه وسلم‏.‏
    ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے غیلان بن جریر سے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے، انہوں نے کہا کہ میں نے اور عمران بن حصین نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ تو وہ جب بھی سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے۔ اسی طرح جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ جب دو رکعات کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب نماز ختم ہوئی تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلائی، یا یہ کہا کہ اس شخص نے ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح آج نماز پڑھائی۔

    حدیث نمبر : 787
    حدثنا عمرو بن عون، قال حدثنا هشيم، عن أبي بشر، عن عكرمة، قال رأيت رجلا عند المقام يكبر في كل خفض ورفع وإذا قام وإذا وضع، فأخبرت ابن عباس ـ رضى الله عنه ـ قال أوليس تلك صلاة النبي صلى الله عليه وسلم لا أم لك‏.‏
    ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ہشیم بن بشیر نے ابوبشر حفص بن ابی وحشیہ سے خبر دی، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو مقام ابراہیم میں ( نماز پڑھتے ہوئے ) دیکھا کہ ہر جھکنے اور اٹھنے پر وہ تکبیر کہتا تھا۔ اسی طرح کھڑے ہوتے وقت اور بیٹھتے وقت بھی۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا، ارے تیری ماں مرے! کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز نہیں ہے۔

    تشریح : یعنی یہ نماز تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے عین مطابق ہے اور تو اس پر تعجب کرتا ہے۔ لا ام لک عرب لوگ زجر و توبیخ کے وقت بولتے ہیں جیسے ثکلتک امک یعنی تیری ماں تجھ پر روئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما عکرمہ پر خفا ہوئے کہ تو اب تک نماز کا پورا طریقہ نہیں جانتا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے فاضل پر انکار کرتا ہے۔
     
  6. ‏جولائی 19، 2012 #516
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : جب سجدہ کر کے کھڑا ہو تو تکبیر کہے

    حدیث نمبر : 788
    حدثنا موسى بن إسماعيل، قال أخبرنا همام، عن قتادة، عن عكرمة، قال صليت خلف شيخ بمكة فكبر ثنتين وعشرين تكبيرة، فقلت لابن عباس إنه أحمق‏.‏ فقال ثكلتك أمك، سنة أبي القاسم صلى الله عليه وسلم‏.‏ وقال موسى حدثنا أبان حدثنا قتادة حدثنا عكرمة‏.‏
    ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، وہ عکرمہ سے، کہا کہ میں نے مکہ میں ایک بوڑھے کے پیچھے ( ظہر کی ) نماز پڑھی۔ انہوں نے ( تمام نماز میں ) بائیس تکبیریں کہیں۔ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ یہ بوڑھا بالکل بے عقل معلوم ہوتا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تمہاری ماں تمہیں روئے یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے یوں بھی بیان کیا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عکرمہ نے یہ حدیث بیان کی۔

    حدیث نمبر : 789
    حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث، أنه سمع أبا هريرة، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يكبر حين يقوم، ثم يكبر حين يركع، ثم يقول سمع الله لمن حمده‏.‏ حين يرفع صلبه من الركعة، ثم يقول وهو قائم ربنا لك الحمد ـ قال عبد الله ‏{‏بن صالح عن الليث‏}‏ ولك الحمد ـ ثم يكبر حين يهوي، ثم يكبر حين يرفع رأسه، ثم يكبر حين يسجد، ثم يكبر حين يرفع رأسه، ثم يفعل ذلك في الصلاة كلها حتى يقضيها، ويكبر حين يقوم من الثنتين بعد الجلوس‏.‏
    ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل بن خالد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث نے خبری دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بتلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے تھے۔ پھر جب سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور کھڑے ہی کھڑے ربنا لک الحمد کہتے۔ پھر جب ( دوسرے ) سجدہ کے لیے جھکتے تب تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے۔ اسی طرح آپ تمام نماز پوری کر لیتے تھے۔ قعدہ اولیٰ سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔ ( اس حدیث میں ) عبداللہ بن صالح بن لیث کے واسطے سے ( بجائے ربنا لک الحمد کے ) ربنا ولک الحمد نقل کیا ہے۔ ( ربنا ولک الحمد کہے یا ربنا لک الحمد واؤ کے ساتھ ہر دو طریقہ درست ہے )

    تشریح : چار رکعت نماز میں کل بائیس تکبیریں ہوتی ہیں ہر رکعت میں پانچ تکبیریں، ایک تکبیر تحریمہ دوسری پہلے تشہد کے بعد اٹھتے وقت سب بائیس ہوئی۔ اور تین رکعت نماز میں سترہ اور دو رکعت میں گیارہ ہوتی ہیں اور پانچوں نماز وں میں چورانوے تکبیریں ہوتی ہیں۔ موسیٰ بن اسماعیل کی سند کے بیان سے حضرت امام کی غرض یہ ہے کہ قتادہ سے دو شخصوں نے اس کو روایت کیا ہے۔ ہمام اور ابان نے اور ہمام کی روایت اصول میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی شرط پر ہے اور ابان کی روایت متابعات میں۔ دوسری فائدہ یہ ہے کہ قتادہ کا سماع عکرمہ سے معلوم ہوجائے۔
     
  7. ‏جولائی 19، 2012 #517
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : اس بارے میں کہ رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا

    وقال أبو حميد في أصحابه أمكن النبي صلى الله عليه وسلم يديه من ركبتيه‏.‏
    اور ابوحمید نے اپنے ساتھیوں کے سامنے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر جمائے۔

    حدیث نمبر : 790
    حدثنا أبو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن أبي يعفور، قال سمعت مصعب بن سعد، يقول صليت إلى جنب أبي فطبقت بين كفى ثم وضعتهما بين فخذى، فنهاني أبي وقال كنا نفعله فنهينا عنه، وأمرنا أن نضع أيدينا على الركب‏.‏
    ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابویعفور اکبر سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مصعب بن سعد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ اس پر میرے باپ نے مجھے ٹوکا اور فرمایا کہ ہم بھی پہلے اسی طرح کرتے تھے۔ لیکن بعد میں اس سے روک دئیے گئے اور حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔

    تشریح : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا کر دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنا منقول ہے۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ باب لاکر اشارہ فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
     
  8. ‏جولائی 19، 2012 #518
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : اگر رکوع اچھی طرح اطمینان سے نہ کرے تو نماز نہ ہوگی

    حدیث نمبر : 791
    حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، قال سمعت زيد بن وهب، قال رأى حذيفة رجلا لا يتم الركوع والسجود قال ما صليت، ولو مت مت على غير الفطرة التي فطر الله محمدا صلى الله عليه وسلم‏.‏
    ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سلیمان بن اعمش کے واسطہ سے کہا میں نے زید بن وہب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نہ رکوع پوری طرح کرتا ہے نہ سجدہ۔ اس لیے آپ نے اس سے کہا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی اور اگر تم مر گئے تو تمہاری موت اس سنت پر نہیں ہو گی جس پر اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا تھا۔

    تشریح : یعنی تیرا خاتمہ معاذ اللہ کفر پر ہوگا۔ جو لوگ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس طرح خرابی خاتمہ سے ڈرنا چاہئے۔ سبحان اللہ اہل حدیث کا جینا اور مرنا دونوں اچھا۔ مرنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندگی نہیں۔ آپ کی حدیث پر چلتے رہے جب تک جئے خاتمہ بھی حدیث پر ہوا۔ ( مولانا وحید الزماں رحمۃ اللہ علیہ
     
  9. ‏جولائی 19، 2012 #519
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : رکوع میں پیٹھ کو برابر کرنا ( سر اونچا نیچا نہ رکھنا )

    وقال أبو حميد في أصحابه ركع النبي صلى الله عليه وسلم ثم هصر ظهره‏.‏
    ابوحمید رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر اپنی پیٹھ پوری طرح جھکا دی۔
     
  10. ‏جولائی 19، 2012 #520
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان (صفۃ الصلوٰۃ)

    باب : رکوع پوری طرح کرنے کی اور اس پر اعتدال و طمانیت کی ( حد کیا ہے؟ )

    بعض نسخوں میں یہ باب الگ نہیں ہے۔ اور در حقیقت یہ اگلے ہی باب کا ایک جز ہے اور ابوحمید رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیق اس کے اول جزءسے متعلق ہے اور براءکی حدیث پچھلے جز ءسے۔ اب ابن منیر کا اعتراض رفع ہو گیا کہ حدیث باب کے مطابق نہیں ہے کذا قالہ الحافظ۔

    حدیث نمبر : 792
    حدثنا بدل بن المحبر، قال حدثنا شعبة، قال أخبرني الحكم، عن ابن أبي ليلى، عن البراء، قال كان ركوع النبي صلى الله عليه وسلم وسجوده وبين السجدتين وإذا رفع من الركوع، ما خلا القيام والقعود، قريبا من السواء‏.‏
    ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے خبر دی، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع و سجود، دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً سب برابر تھے۔ سوا قیام اور تشہد کے قعود کے۔

    تشریح : قیام سے مراد قرات کا قیام ہے اور تشہد کا قعود، لیکن باقی چار چیزیں یعنی رکوع اور سجدہ اور دونوں سجدوں کے بیچ میں قعدہ اور رکوع کے بعد قومہ یہ سب قریب قریب برابر ہوتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ رکوع سے سر اٹھا کر اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ کہنے والا کہتاآپ بھول گئے ہیں۔ حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے اس طرح ہے کہ اس سے رکوع میں دیر تک ٹھہرنا ثابت ہوتا ہے۔ تو باب کا ایک جزو یعنی اطمینان اس سے نکل آیا اور اعتدال یعنی رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا وہ بھی اس روایت سے ثابت ہوچکا ہے۔ حافظ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے بعض طریقوں میں جن کو مسلم نے نکالا ہے اعتدال لمبا کرنے کا ذکر ہے تو اس سے تمام ارکان کا لمبا کرنا ثابت ہوگیا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں