1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ننگے سر نماز پڑھنے کو شعار نہ بنائیں

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 31، 2017۔

  1. ‏نومبر 06، 2017 #21
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,291
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    تمھاری "علمی حیثت" کی بابت اشماریہ بھائی نے پوچھا تو تھا ، کیوں جواب نا بن پڑا؟
    ملاحظہ ھو:

    جتلا دوں کہ آپ قرآن کی آیت کے مفھوم پر اپنی سمجھ بتا (منوا) رھے تھے !!
     
  2. ‏نومبر 06، 2017 #22
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,291
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    اتہامات کے سلسلے اور دراز کرو کیونکہ اب تم اپنی اصلیت پر اتارو ھو
     
  3. ‏نومبر 06، 2017 #23
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    بھائی میں کچھ کہتا ہوں اور آپ کس مسئلہ کو لے بیٹھتے ہو۔ میں نے واضح لفظوں میں کہا کہ سر ننگا رکھنے کی ترغیب کسی حدیث میں نہیں لہٰذا اس کو شعار نہ بنائیں۔ سر ڈھانکنا واجب ہے یا مستحب یہ میرا موضوع نہیں۔ میں تو اتحاد کے لئے کہہ رہا ہوں کہ باقی معاملات میں ہر دو کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل ہے مگر سر ننگا رکھنے والوں کے پاس کوئی دلیل نہیں تو ایسے کام کو شعار بنانا بدرجہ اولیٰ غلط ہے لہٰذا اسے تو چھوڑ دینے کی ترغیب تمام مسلک کے علماء کے ذمہ ہے کہ وہ اپنے اپنے متبعین کو اس کی تلقین کریں۔

    اس کا مقصد بھی ساتھ ہی بتایا اسے بھی دیکھ لیں۔
     
  4. ‏نومبر 06، 2017 #24
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,251
    موصول شکریہ جات:
    1,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    مجھے مزید بحث نہیں کرنی. جو کہنا تھا سو کہ دیا.
     
  5. ‏نومبر 11، 2017 #25
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    تو کون کون بھائی اس نیکی کے کام میں معاون بنے گا؟
    جو خود بھی اس سے احتراض کرے اور اپنے رفیقوں کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دے۔
     
  6. ‏نومبر 21، 2017 #26
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    سب بھائیوں سے گزارش ہے کہ سر ڈھانپ کر نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
    خصوصاٍ جن کا یہ شعار بن چکا ہے وہ تو پہلی فرصت میں اسے چھوڑ دیں کہ کسی ایسی چیز کو شعار بنانا جس کا حکم نہ ہو فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے۔
     
  7. ‏اپریل 12، 2018 #27
    اللہ کا بندہ

    اللہ کا بندہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 11، 2018
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    حضرت جعفر بن عمرو بن حریث اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ:’’رأیت النبی ﷺ علی المنبر وعلیہ عمامۃ سوداء قد أرخی طرفھا بین کتفیہ‘‘(مسلم : الحج ، باب جواز دخول مکۃ بغیر احرام، برقم: 3312) یعنی کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر دیکھا اس حال میں کہ آپ ﷺ پر ایک سیاہ عمامہ تھا جس کے کنارے کو آپ ﷺ نے دونوں مونڈھوں کے درمیان لٹکا رکھا تھا اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ’’ان رسول اللہ ﷺ دخل یوم فتح مکۃ وعلیہ عمامۃ سودائ‘‘ (مسلم: الحج، باب جواز دخول مکۃ بغیر احرام، برقم: 3310) نبی ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر ایک سیاہ رنگ کا عمامہ تھا۔ پہلی حدیث میں نبی کریم ﷺ کے منبر پر اور دوسری حدیث میں دخول مکہ کے وقت عمامہ استعمال کرنے کا ذکر ہے۔ اور غالب گمان یہ ہے کہ آپ ﷺ نے نماز بھی عمامہ ہی پہن کر پڑھی ہوگی۔ اگرچہ حدیثوں میں اس کی صراحت نہیں ہے۔ بہرحال ان کے علاوہ اور بھی متعدد حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ عمامہ پہنا کرتے تھے
    اور زاد المعاد میں علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کے قول سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کبھی عمامہ کے ساتھ ٹوپی بھی پہنتے تھے اور کبھی صرف عمامہ اور کبھی صرف ٹوپی پہنتے تھے اور کبھی صرف عمامہ پہنتے تھے چنانچہ وہ لکھتے ہیںکہ ’’کانت لہ عمامۃ تسمی السحاب کساھا علیا وکان یلبسھا ویلبس تحتھا القلنسوۃ وکان یلبس القلنسوۃ بغیر عمامۃ ویلبس العمامۃ بغیر قلنسوۃ‘‘(زاد المعاد 1 / 130)

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ عمامہ یا ٹوپی لگا کر نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر کوئی عمامہ یا ٹوپی لگائے بغیر ہی ننگے سر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز جائز ودرست ہے۔ اس لیے کہ حدیث رسول ﷺ میں ہے: ’’لا یصلي أحدکم في الثوب الواحد لیس علی عاتقیہ شيئ‘‘ (البخاری: الصلاۃ، باب إذا صلی فی الثوب الواحد فلیجعل علی عاتقیہ، برقم: 359، ومسلم: الصلاۃ، باب الصلاۃ فی ثوب واحد وصفہ لبسہ ، برقم 16)

    کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے ننگے ہوں۔

    ایک روایت کے اندر یہ الفاظ ہیں:
    ’’ان عمر بن أبي سلمۃ أخبرہ قال: رأیت رسول اللہ ﷺ یصلي في ثوب واحد مشتملا بہ في بیت أم سلمۃ واضعا طرفیہ علی عاتقیہ‘‘ (البخاری: الصلاۃ، باب الصلاۃ فی الثوب الواحد ملتحفا بہ ، برقم: 356، مسلم: الصلاۃ، باب الصلاۃ فی ثوب واحد وصفہ لبسہ، برقم: 517)


    عمربن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ام سلمہ کے گھر میں ایک ہی کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا، آپ نے اس کی دونوں طرفین اپنے کندھوں پر رکھی ہوئی تھیں۔

    ان دونوں حدیثوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مرد کے لیے دوران نماز سر کا ڈھانپنا ضروری نہیں ہے، وگرنہ آپ ﷺ کندھوں کے ساتھ سر کا بھی ذکر فرماتے۔ لہذا سر ڈھانپنے کی ترغیب تو دی جائے لیکن اگر کوئی نہیں ڈھانپتا تو اس کو ملامت نہ کیا جائے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں