1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کے مسائل

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جنوری 12، 2012۔

  1. ‏جنوری 12، 2012 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    نام کتاب
    نکاح کے مسائل


    تالیف
    محمد اقبال کیلانی


    ناشر
    حدیث پبلیکیشنز
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 12، 2012 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ اَمَّا بَعْدُ!
    نکاح انسان کی زندگی کے انتہائی اہم موڑکی حیثیت رکھتا ہے ۔ والدین کے ہاں بیٹاپیدا ہوتا ہے تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا ، ماں باپ بڑے پیار اور محبت سے اپنے راج دلارے کی پرورش میں لگ جاتے ہیں، دنیا کا ہر دکھ اور مصیبت برداشت کرکے اپنے بیٹے کو آرام اور سکون مہیا کرتے ہیں، ایثار اور قربانی کی نادر مثالیں پیش کرکے بچے کی تعلیم و تربیت اوراس کے مستقبل کے لئے دن رات ایک کردیتے ہیں۔ ننھا منا پودا دیکھتے ہی دیکھتے تناور درخت بن جاتا ہے تو بوڑھے والدین کی رگوں میں جوان خون دوڑنے لگتا ہے ۔ نوجوان بیٹا والدین کی تمنائوں اور حسین خوابوں کا مرکز بن جاتا ہے ۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی والدین کو بیٹے کی شادی کی فکر لا حق ہوجاتی ہے ۔ ماں باپ اپنے پیارے بیٹے کے لئے ایسی بہو تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں جو لاکھوں میں ایک ہو، مبارک سلامت کی دعائوں کے ساتھ بہو گھر آجاتی ہے ۔ مشکل سے چند ہفتے گزرتے ہیں کہ موسم بہار، خزاں میں بدلنے لگتا ہے ۔ والدین جو اس دنیا میں اولاد کے لئے رب کی حیثیت رکھتے ہیں ، بیٹے کو ان کی نصیحتیں گراں گزرنے لگتی ہیں ، بیٹا جو پہلے والدین کی آنکھوں کا تارا تھا ’’رن مرید‘‘ کہلانے لگتا ہے۔ بہو ، جو گھر میں آنے سے پہلے لاکھوں میں ایک تھی ، زمانے بھر کی پھوہڑ کہلانے لگتی ہے۔ نوبت بایں جا رسید کہ معاشرے کی اس اہم ترین مثلث بیٹا ، بہو، سسرال کا یکجا رہنا محال ہوجاتا ہے۔
    والدین کے ہاں بیٹی کا پیدا ہونا زمانہ جاہلیت کی طرح آج بھی برا سمجھاجاتا ہے ۔ بچی کی تعلیم و تربیت ، اس کی عصمت و عفت کی حفاظت ، مناسب رشتے کی تلاش ، رسم و رواج کے مطابق جہیز کی تیاری اور اسی قسم کے دوسرے مسائل ، بیٹیوں کے پیدا ہوتے ہی والدین کی نیندیں حرام کردیتے ہیں۔
    یہ مسائل معاشرے کی اس اکثریت کے ہیں جو معمول کے مطابق زندگی بسر کررہی ہے ورنہ استثنائی واقعات اس قدر لرزہ خیز ہیں کہ الحفیظ والاماں ۔ چند خبروں کی سرخیاں ملاحظہ ہوں:
    1 بیٹی کی شادی پر جھگڑے میں خاوند نے ساتھیوں کی مدد سے ٹانگیں اور ہاتھ کاٹ کر بیوی کو پھانسی دے دی۔
    2 مرضی کار شتہ نہ کرنے پر بیٹے نے باپ کو گولی مار دی۔
    3 دوسری شادی کی اجازت نہ دینے پر بیوی کو گولی ماردی۔
    4 شادی شدہ عورت نے اپنے آشنا سے مل کر خاوند کو قتل کردیا۔
    5 دوسری شادی کرنے پر ماں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
    6 لو میرج میں ناکامی پر دل برداشتہ جوڑے نے اپنے اپنے گھر میں زہر کھا کر خود کشی کرلی۔‘
    7 بیوی عدالت سے خلع لینا چاہتی تھی ، شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا ، حالت بگڑنے پر بدکاری کا مقدمہ درج کروادیا۔’
    8 بہن کو طلاق ملنے پر تین بھائیوں نے بہنوئی کے باپ کو قتل کردیا۔“
    9 لو میرج کرنے والی لڑکی کو دارا الامان سے عدالت لے جاتے ہوئے گولی ماردی گئی، نماز جنازہ میں نہ میکے والے شریک ہوئے نہ سسرال والے ، شوہر پہلے ہی جیل میں تھا۔”
    0 اولاد نہ ہونے پر شوہر نے زندگی عذاب بنادی ، طلاق چاہئے ، دارالاماں میں مقیم لڑکی کا مطالبہ۔•
    مذکورہ بالا خبروں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہمارے معاشرے میں چادر اور چاردیواری کے اندر کی زندگی کس قدر المناک بن چکی ہے ۔ اس صورت حال کا تقاضا یہ تھا کہ ہمارے ارباب حل و عقد ، دانشور، اور پڑھے لکھے مرد وخواتین اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کرتے ۔ ازدواجی زندگی میں اسلام نے مرد اور عورت کو جو حقوق عطا فرمائے ہیں ان کا تحفظ کیا جاتا ، لیکن یہ حقیقت بڑی افسوس ناک ہے کہ گزشتہ پچاس برس سے وطن عزیز میں ایسا طبقہ حکمرانی کرتا چلا آرہا ہے جو مغربی طرز معاشرت سے اس قدر مرعوب ہے کہ اپنے تمام مسائل کا حل اسی طرز معاشرت کی پیروی میں سمجھتا ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں قائم کئے گئے ۔ خواتین کے حقوق سے متعلق کمیشن نے حکومت کو جوسفارشات پیش کی ہیں وہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں ۔ چند سفارشات ملاحظہ ہوں:
    1 بیوی کی مرضی کے بغیرازدواجی تعلق کو جرم قرار دیا جائے اور اس کی سز ا عمر قید رکھی جائے۔
    2 120دن کے حمل کو ساقط کروانے کے لئے عورت کو قانونی تحفظ دیا جائے۔
    3 شوہر کی مرضی کے بغیر بیوی کو نس بندی کا آپریشن کروانے کی اجازت دی جائے۔
    4 کم عمر بیوی سے اس کی مرضی کے بغیر ازدواجی تعلق قائم کرنے کو زنا قرار دیاجائے۔
    ہمیںیہ اعتراف کرنے میں قطعاً کوئی تامل نہیں کہ چادر اور چار دیواری کے اندر مجموعی طور پر عورت بہت مظلوم ہے ۔ اس کی داد رسی ہونی چاہئے ۔ معاشرے میں اسے باعزت اور باوقار مقام ملنا چاہئے ، لیکن غورطلب بات یہ ہے کہ مذکورہ سفارشات میں کون سی سفارش ایسی ہے جس سے کسی مسلمان خاتون کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوسکتا ہے یا اس کی مظلومیت کی تلافی ہو سکتی ہے؟ مذکورہ سفارشات در حقیقت اسلامی طرز معاشرت کو مکمل طور پر مغربی طرز معاشرت میں بدلنے کی سعی نامراد ہے۔ حکمرانوں کے اس اسلام دشمن رویئے کے ساتھ ساتھ آج کل ہماری فاضل عدالتیں جس زور و شور سے گھروں سے آشنائوں کے ساتھ فرار ہونے والی لڑکیوں کے بارے میں ’’ولی کی اجازت کے بغیر نکاح جائز ہے۔‘‘ کے فتوے صادر فرمارہی ہیں۔ اس سے تہذیب مغرب کے پرستاروں کے حوصلے اور بھی بلند ہوئے ہیں اور رہی سہی کسر مغربی طرز معاشرت کی دلدادہ خواتین نے ’’تحریک نسواں ‘‘، ‘‘تنظیم آزادی نسواں‘‘ ، ’’وومنز فورم ‘‘ ، ’’ہیومن رائٹس فائونڈیشن فورم‘‘ جیسی تنظیمیں بنا کر پوری کردی ہے۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے گزشتہ نصف صدی سے مسلسل انگریزی سانچہ میں ڈھلی ہوئی نسلیں تیار کرتے آرہے ہیں ۔ وہی افرادآج اس ملک کے کلیدی عہدوں پر بیٹھے مغرب کے بے دام سرکاری وکیلوں کا کردار ادا کررہے ہیں۔
    سوال یہ ہے کہ عورت کو عزت اور وقار مغربی طرز معاشرت میں حاصل ہے یا اسلامی طرز معاشرت میں ہے ؟ عورت پر ہونے والے ظلم و ستم کا خاتمہ مغربی طرز معاشرت میں ممکن ہے یا اسلامی طرز معاشرت میں؟ عورت کے حقوق کا اصل محافظ مغربی طرز معاشرت ہے یا اسلامی طرز معاشرت ؟ ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ مغربی طرز معاشرت پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈال لی جائے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ مغربی طرز معاشرت ہے کیا؟
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 12، 2012 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مغربی طرز معاشرت

    اٹھارویں صدی کے آخر میں یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہوا تو بڑی تیز رفتاری سے کارخانے اور فیکٹریاں بننی شروع ہوگئیں۔ ان فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے کے لئے جب مردوں کی تعداد کم پڑ گئی تو مزید ہاتھ مہیا کرنے کے لئے سرمایہ دار نے عورت کو چادر اور چاردیواری سے نکال کر صنعتی ترقی کے لئے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا جس کے لئے ’’مساوات مردو زن‘‘ ، ’’آزادی نسواں‘‘ اور ’’حقوق نسواں ‘‘ جیسے خوبصورت نعرے اورفلسفے تراشے گئے۔ ناقص العقل عورت مساوات مردوزن کے دلفریب جال کو ہی اپنی بلندی درجات خیال کرتے ہوئے مردوں کے دوش بدوش میدان معیشت میں کود پڑی جس کا اصل فائدہ توسرمایہ دار ہی کو ہوا لیکن اس کا ضمنی فائدہ یہ بھی ہوا کہ پہلے جہاں صرف ایک مرد کی کمائی سے گھر کے چار یا پانچ افراد کو محض وسائل زندگی مہیا ہوتے تھے وہاں اسی گھر کے دو یا تین افراد کے برسر روزگار ہونے سے وسائل زندگی کی دوڑ کا آغاز ہوگیا اور یوں مردوں ، عورتوں کافیکٹریوں اور کارخانوں میں شب وروز مشینوں کی طرح کام کرنا ہی مقصد حیات ٹھہرا۔
    دفاتر، فیکٹریوں اورکارخانوں میں عورتوں اور مردوں کے آزادنہ اختلاط کا دائرہ صرف وہیں تک محدود رہنا ممکن ہی نہ تھا ۔ آہستہ آہستہ یہ دائرہ ہوٹلوں، ریستورانوں، کلبوں ، ناچ گھروں ، مارکیٹوں ، بازاروں سے لے کر سیاست کے اکھاڑوں ، سیر گاہوں ، تفریح کے پارکوں اور کھیل کے میدانوں تک وسیع ہوگیا۔ پوری سوسائٹی میں مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط نے شرم وحیا کی اقدار کو ایک ایک کرکے پامال کردیا ۔ مردوں کے دوش بدوش چلنے والی عورت میں آرائش حسن، نمائش جسم ، جلوہ نمائی، پُرکشش ، دلربا اور جاذب نظر آنے کا جذبہ فزوں سے فزوں تر ہونا بالکل فطری بات تھی جس کے لئے باریک ، تنگ ، بھڑکیلے ، نیم عریاں لباس پہننا ، نیز بنائو سنگھار کرنا مردوں کے ساتھ نیم عریاں حالت میں سوئمنگ کرنا، عریاں تصویریں اتروانا ، کلبوں ،سٹیج ڈراموں ، ناچ گھروں اور فلموں میں عریاں کردار ادا کرنا پوری سوسائٹی کا جزو حیات بن گیاجس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مغرب میں ’’آزادی نسواں‘‘اور ’’حقوق نسواں ‘‘ کے نام پر عورتوں کا سربازار عریاں ہونا اور بن بیاہی ماں بننا ، کوئی عیب کی بات نہیں رہی۔ گزشتہ دنوں ایک امریکی سکول میں دو خاتون اساتذہ نے اناٹومی کی آٹھویں جماعت میں برہنہ ہو کر پڑھانے کا انوکھا طریقہ استعمال کیا ۔ دونوں خواتین اساتذہ کا استدلال یہ تھا کہ اس خشک مضمون میں اس طرح طلباء و طالبات کی دلچسپی برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ اٹلی میںمسولینی کی پوتی نے اسمبلی کی ممبر شپ کے لئے برہنہ ہو کر حاضرین سے خطاب کیا اور ووٹ مانگے ۔ دنیا میں حقوق انسانی کے سب سے بڑے علمبردار امریکہ کی ریاست انڈیانا مین نیکڈسٹی کے نام سے ایک شہر آباد ہے جس کے باشندوں کے جسم پر زمین و آسمان نے لباس نام کی کبھی کوئی چیز نہیں دیکھی ، وہاں ہر سال پوری دنیا کی مادر زاد برہنہ ہونے کی شوقین عورتوں کے ’’ویمن نیو ورلڈ‘‘ مقابلے ہوتے ہیں۔
    1996ء میں فرانس کے صدرشیراک کی بیٹی کلاڈ کے ہاں شادی کے بغیر بچی کی پیدائش ہوئی تو کلاڈ نے بچے کے والد کا نام بتانے سے انکار کردیا لیکن باپ کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی ۔Ž امریکہ کے سابق صدر ریگن کی بیوی نینسی ریگن نے انکشاف کیا ہے کہ جب میں نے ریگن سے شادی کی تھی ، اس وقت امید سے تھی ، سات ماہ بعد ہمارے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ۔ برطانوی پارلیمنٹ کے انتخابات 1997ء میں ایک ایسی خاتون نے حصہ لیا جو گزشتہ 18سال سے نکاح کے بغیر اپنے بوائے فرینڈکے ساتھ رہ رہی تھی جس سے اس کے تین بچے ہیں۔ یہ خاتون سکول انسپکٹر اور مجسٹریٹ بھی رہ چکی ہے۔ برطانیہ کی بننے والی ملکہ ڈیانا نے ٹیلی ویژن پر اپنے خاوند کی موجودگی میں دوسرے لوگوں کے ساتھ اپنے جنسی تعلقات کا بڑی بے تکلفی کے ساتھ اعتراف کیا ۔‘ امریکہ کے صدربل کلنٹن کے جنسی اسکینڈلز اب تک اخبارات کی زینت بنتے چلے آرہے ہیں۔’ امریکہ کے بشپ اعظم اور دنیائے عیسائیت کے عظیم مبلغ ’’جمی سواگرٹ‘‘ نے امریکی ٹیلی ویژن میں بیوی کی موجودگی میں اپنے جنسی گناہوں کا اعتراف کیا ۔“ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مغربی طرز معاشرت میں بدکاری اور فحاشی کے سامنے اخلاقی اور مذہبی اقدار بالکل غیر موثر ہوچکی ہیں۔ عام آدمی تو کیا بڑی سے بڑی مذہبی شخصیت کا بھی اس طرز معاشرت میں پارسا رہنا ممکن نہیں رہا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 12، 2012 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    ترقی یافتہ ممالک میں زنا کاری ، فحاشی ، اور بے حیائی کے اس کلچر کی ایک اور تصویر نیوز ویک کی اس رپورٹ سے سامنے آتی ہے جس میں امریکہ اور یورپ کے سترہ ممالک میں بن بیاہی مائوں کی شرح فیصد شائع کی گئی ہے جو کہ درج ذیل ہیں:
    نمبر شمار نام ملک بن بیاہی مائوں کی شرح فیصد
    1 سویڈن 50 فیصد
    2 ڈنمارک 47 فیصد
    3 ناروے 46 فیصد
    4 فرانس 35 فیصد
    5 برطانیہ 32 فیصد
    6 فن لینڈ 31 فیصد
    7 امریکہ 30 فیصد
    8 آسٹریا 27 فیصد
    9 آئرلینڈ 20 فیصد
    10 پرتگال 17 فیصد
    11 جرمنی 15 فیصد
    12 نیدرلینڈ 13 فیصد
    13 للسم برگ 13 فیصد
    14 بلجیم 13 فیصد
    15 اسپین 11 فیصد
    16 اٹلی 7 فیصد
    17 سوئزرلینڈ 6 فیصد
    18 یونان 3 فیصد
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 12، 2012 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    زناکاری ، فحاشی اور بے حیائی کے اس ابلیسی طوفان نے مغرب کے تمام ترقی یافتہ ممالک کو جنسی درندوں کا جنگل بنا دیا ہے۔ امریکی جریدہ ’’ٹائمز‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی ، فرانس، چیکوسلواکیہ، رومانیہ ، ہنگری اور بلغاریہ کی بڑی بڑی شاہراہوں پر فاحشہ عورتیں قطار باندھے کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ برلن اور پراگ کو ملانے والی بارہ سو کلومیٹر لمبی شاہراہ غالباً دنیا کا ارزاں ترین اور طویل ترین جنسی اڈہ ہے جہاں سے گزرنے والوں کو نہایت سستی عیاشی کے لئے نوخیز اور حسین و جمیل لڑکیاں مل جاتی ہیں۔
    ایک سروے کے مطابق برطانیہ کی مشہورترین یونیورسٹی آکسفورڈ میںزیر تعلیم 76فیصد طلباء شادی کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنے کے حق میں ہیں۔51فیصد طالبات نے تسلیم کیا کہ وہ یونیورسٹی میں آنے کے بعد کنواری نہیں رہیں۔25فیصد طالبات نے مانع حمل گولیاں استعمال کرنے کا اقرار کیا ہے۔ 56فیصد طلباء کو جنسی لذت کے حصول کے لئے ایڈز کی کوئی پروا نہیں۔ 48فیصد ہم جنس پرستی کو حصول لذت کا قدرتی اور محفوظ طریقہ سمجھتے ہیں۔ برطانوی اخبارایکسپریس کے مطابق ہر سال ایک لاکھ برطانوی طالبات حاملہ ہوتی ہیں ۔ یادرہے کہ برطانوی قانون کے مطابق چار سال کے بعد ہر بچے کو سکول بھجوانا لازمی ہے۔ سکول میں زیر تعلیم بچوں کو ابتداء سے ہی ایک دوسرے کے ساتھ برہنہ ہو کر غسل کرنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔بڑی کلاسوں میں پہنچنے کے بعد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے مشترکہ سوئمنگ لازمی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو رات دیر تک گھر سے باہر رہنے کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں کسی بات پر ڈانٹیں یا ماریں تو پولیس کو فون کرکے انہیں تھانے بھجوا دو۔ Žامریکہ کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے ۔ ایک سکول میں دو لڑکوں نے پندرہ سالہ لڑکی سے زنا کیا ،مقدمہ عدالت میں گیا تو جج نے فیصلہ میں لکھا کہ لڑکوں نے لڑکپن میں شرارت کی ہے اسے زنا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایک ماہانہ امریکی جریدے کے سروے کے مطابق 1980ء سے 1985ء کے درمیان شادی کرنے والی خواتین میں سے صرف 14فیصد خواتین حقیقتاً کنواری تھیں ۔ باقی 86فیصد شادی سے قبل ہی گوہر عصمت سے محروم ہو چکی تھیں۔ 80فیصد سے زائد لڑکے اور لڑکیاں 19سال کی عمر سے پہلے ہی جنسی تعلق قائم کر چکے ہوتے ہیں۔
    ایک سروے کے مطابق امریکہ میں اسقاط حمل کروانے والی عورتوں کی شرح 33فیصد ہے۔‘ وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کی سب کمیٹی کے سامنے فوج میں ملازم متعدد خواتین نے اپنے فوجی افسروں کے ہاتھوں آبروریزی کی شکایت کی تو کمیٹی نے مجرم فوجیوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے انکار کردیا ۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اس کے ’’باس‘‘ نے اس کی آبروریزی کی ہے تو اسے کہا گیا ’’اسے بھول جائو۔‘‘ جنسی لذت کے اس جنون نے ان اقوام کے اندر انسانیت تو کیا ، ممتاجیسے عظیم جذبات تک کو مسخ کر ڈالا ہے۔ نیوجرسی کے ایک سکول کی طالبہ نے محفل رقص کے دوران سکول کے ریسٹ روم میں بچے کو جنم دیا اور اسے وہیں کچرے دان میں پھینک کر رقص کی تقریب میں دوبارہ شامل ہوگئی۔
    امر واقع یہ ہے کہ مغرب کی یہ آزاد جنسی معاشرت ، شہوانی جذبات کا ایک ایسا آتش فشاں بن چکا ہے جو کسی طرح بھی سرد ہونے کا نام نہیں لیتا بلکہ روز بروز پھیلتا چلا جارہا ہے ۔ چنانچہ اب اخلاق باختہ مغرب میں زنا کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرستی کی وبابھی جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی ہے۔ برطانوی پولیس کے سنٹرل کمپیوٹر پر ایسے دس ہزار افراد کے نام موجود ہیں جن کے متعلق یہ ثابت شدہ امر ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اصل تعداد کا معمولی سا حصہ ہے اس لئے کہ پولیس نے یہ ریکارڈ صرف گزشتہ چار سال سے تیار کرنا شروع کیا ہے۔Ž لندن میں عیسائی رسم و رواج کے مطا بق ہزاروں مہمانوں کی موجودگی میں ٹائون ہال کے پادری نے دو عورتوں کا آپس میں نکاح پڑھا کر ہم جنس پرستی کی شرمناک مثال قائم کی۔امریکہ میں تحریک نسواں کی ایک لیڈر ’’پیٹریشیا‘‘ نے یہ اعتراف کیا کہ وہ اپنے شوہر کے علاوہ ایک عورت کے ساتھ بھی جنسی تعلقات رکھتی ہے۔ ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے تخمینہ کے مطابق امریکہ میں تحریک نسواں کی تیس سے چالیس فیصد خواتین اپنی ہم جنسوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھتی ہیں۔ یہ ہے مغربی طرز معاشرت کی ایک مختصر سی جھلک جس پر ہمارے ارباب حل و عقد اور دانشور طبقہ فریفتہ ہے اور جس کی تقلید میں مشرقی عورت کے تمام مسائل کا شافی حل سمجھا جاتا ہے۔
    مغربی طرز معاشرت میں مساوات مردو زن کا نعرہ بعض خواتین وحضرات کو بڑا دلکش محسوس ہوتا ہے۔ کیامغرب میں واقعی خواتین کو عملاً مردوں کے برابر حقوق حاصل ہیں یا یہ محض ایک پرفریب پروپیگنڈہ ہے؟ ذیل میں ہم اس کا مختصر ساجائزہ پیش کررہے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 12، 2012 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مساوات مردو زن

    وائس آف جرمنی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں کم تنخواہ ملتی ہے۔ جرمنی میں سماجی امداد پر گزارہ کرنے و الے مزدوروں میں معمر خواتین کا تناسب 90فیصد ہے جنہیں بڑھاپے کی پنشن نہیں ملتی ۔ جرمنی میں کام کرنے والی تین چوتھائی عورتوں کی آمدنی اتنی نہیں ہوتی کہ وہ اکیلی گھر کا خرچ چلا سکیں۔ جرمنی میں اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کا تناسب بہت ہی کم ہے۔ جرمنی میں ہر سال تقریباً چالیس ہزار عورتیں مردوں کے تشدد کے باعث گھر سے بھاگ کر دارالامانوں میں پناہ لیتی ہیں۔ مساوات مردوزن کے سب سے بڑے علمبردار امریکہ کی سپریم کورٹ میں آج تک کوئی خاتون جج نہیں بن سکی۔ فیڈرل ایپلٹ کورٹ کے97ججوں میں سے صرف ایک خاتون جج ہے امریکی بار ایسوسی ایشن میں آج تک کوئی خاتون صدر نہیں بن سکی۔ امریکہ میں جس کام کے لئے مرد کو اوسطاً پانچ ڈالر ملتے ہیں،عورت کو اسی کام کے تین ڈالرملتے ہیں۔ 1978ء میں ہوسٹن امریکہ میں تحریک آزادی نسواں کی کانفرنس میں خواتین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک ہی طرح کے کام کے لئے مردوں اور عورتوں کو برابر کا معاوضہ ملنا چاہئے۔Ž جاپان میں ڈیڑھ کروڑ عورتیں مختلف جگہوں پر کام کرتی ہیں ، جن میں سے زیادہ تر خواتین مرد افسروں کے ساتھ معاون کے طورپر کام کرتی ہیں۔ کیا یہ بات قابل ِغور نہیںکہ مساوات مردوزن کا نعرہ لگانے والے ممالک نے اپنی افواج میں کمانڈر انچیف کے عہدے پر کسی عورت کا آج تک کیوں تعین نہیں کیا یا کم از کم جرنیل کے درجہ پر ہی عورتوں کو مردوں کے مساوی عہدے کیوں نہیں دیئے؟ کیا کوئی مغربی ملک میدان جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کے عہدے پر مردوں اور عورتوں کو مساوی جگہ دینے کے لئے تیار ہے؟ یہ ہے وہ مساوات مردوزن ، جس کا پروپیگنڈہ دن رات کیا جاتا ہے۔ مساوات مردوزن کے علاوہ ایک اور نعرہ جو عام آدمی کے لئے بڑی کشش رکھتا ہے ، وہ ہے ’’آزادی ٔ نسواں‘‘ کا ۔ کیا مغرب میں عورت کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے؟ ذیل میں ہم اس کی وضاحت بھی کررہے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 12، 2012 #7
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آزادیٔ نسواں

    کیامغرب میں عورت کو اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ وہ گھربیٹھے ہر ماہ اپنی تنخواہ وصول کرتی رہے؟ کیا اسے اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کئے بغیر اپنی کار سڑک پر چلا سکے؟ کیا اسے اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ وہ جس بنک کو چاہے لوٹ لے؟ جی نہیں ! ہر گز نہیں ، عورت بھی ملکی قوانین کی اسی طرح پابند ہے جس طرح مرد پابند ہیں۔ عورت کو مغرب میں اتنی آزادی بھی حاصل نہیں کہ وہ ڈیوٹی کے اوقات میں اپنی مرضی کالباس ہی پہن سکے۔ سیکنڈے نیوین ممالک (ناروے ، سویڈن اور ڈنمارک ) کی ایئر لائنز کی ہوسٹس نے ایک مرتبہ شدید سردی کی وجہ سے منی سکرٹ کی بجائے گرم پاجامے استعمال کرنے کی اجازت چاہی تو انتظامیہ نے خواتین کی یہ درخواست مسترد کری۔
    عورت کو مغرب میں جن باتوں کی آزادی حاصل ہے وہ صرف یہ ہیں سربازارمادر زاد برہنہ ہونا چاہے تو ہوسکتی ہے، اپنی عریاں تصویریں اخبار اور جرائد میںشائع کروانا چاہے تو کرواسکتی ہے ، فلموں میں عریاں کردار ادا کرنا چاہے تو کر سکتی ہے ، جس مرد کے ساتھ زنا کرنا چاہے کر سکتی ہے ، ساری زندگی اولاد پیدا نہ کرنا چاہے تو کر سکتی ہے ، حمل ہونے کے بعد ساقط کروانا چاہے تو کرواسکتی ہے ، بوائے فرینڈ جتنی مرتبہ بدلنا چاہے ، بدل سکتی ہے ، ہم جنس پرستی کا شوق ہو تو بلا تکلف اپنا شوق پورا کرسکتی ہے۔ ’’تحریک آزادیٔ نسواں‘‘ کے مشہور جریدہ ’’نیشنل آرگنائزیشن فاروویمن ٹائمز‘‘ نے جنوری 1988ء کے شمارہ میں آزادی نسواں کے موضوع پر لکھتے ہوئے ’’آزادی نسواں‘‘ کا مطلب یہ بتایا ہے کہ ’’عورت کی حقیقی آزادی کے لئے ضروری ہے کہ خواتین آپس میں جنسی تعلقات قائم کریں۔‘‘ (اور مردوں سے جنسی تعلقات قائم کرنے سے بے نیاز ہوجائیں ،مولف) ہوٹلوں ،کلبوں، مارکیٹوں،سرکاری اور غیر سرکاری اداروںحتی کہ فوج میں بھی مردوں کا دل بہلانے کے لئے ’’ملازمت‘‘کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں ، گویا مغرب میں عورت کو ہر اس کام کی آزادی حاصل ہے جس سے مردوں کے جنسی جذبات کو تسکین حاصل ہوسکے۔
    یہ ہے وہ آزادی جو مغرب میں مردوں نے عورتوں کو دے رکھی ہے اگر اس کے علاوہ عورتوں کو کوئی دوسری آزادی حاصل ہے تو تہذیب مغرب کے ثناخوانوں سے ہم درخواست کرتے ہیں کہ وہ براہ کرام ہمیں اس سے آگاہ فرمائیں ۔ کیا عورتوں کی اس آزادی کو ’’آزادی نسواں ‘‘ کی بجائے ’’آزادی مرداں‘‘کہنا زیادہ مناسب نہیں جنہوں نے عورت کو آزادی کے اس مفہوم سے آشنا کرکے اتنا بے وقعت اور بے قیمت کردیا ہے کہ جب چاہیں ،جہاں چاہیں بلا روک ٹوک اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناسکتے ہیں ؟ کوئی مسلمان خاتون اپنے دین سے خواہ کتنی ہی بیگانہ کیوں نہ ہو کیا ایسی آزادی کا تصور کرسکتی ہے؟
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 12، 2012 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مغرب کے اس آزاد جنسی طرز معاشرت نے اہل مغرب کو کیا کیا تحفے عنایت کئے ہیں ، چلتے چلتے اس کابھی تذکرہ ہوجائے ان تحائف میں خاندانی نظام کی بربادی ، امراض خبیثہ کی کثرت ، شرح پیدائش میں کمی اور خود کشی کے رجحان میں اضافہ سرفہرست ہیں۔ چند حقائق درج ذیل ہیں:
    خاندانی نظام کی بربادی
    یورپ کے صنعتی انقلاب نے عورت کو معاشی استقلال تو عطاکردیا لیکن خاندانی نظام پر اس کے اثرات بڑے دور رس مرتب ہوئے۔ عورت جب مرد کی کفالت اور مالی اعانت سے بے نیاز ہوگئی تو پھر قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوا کہ جو عورت خود کمائے وہ مرد کی خدمت کیوں کرے؟ گھر داری کی ذمہ داریاں کیوں سنبھالے؟ برطانیہ کی نیشنل وویمنز کونسل کی ایک خاتون رکن کا کہنا ہے کہ ’’یہ خیال مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ شادی کرکے شوہر کی خدمت کے جھمیلے میں کیوں پڑا جائے بس زندگی کے مزے اڑا لئے جائیں بہت سی خواتین یہ فیصلہ کر چکی ہیں کہ ان کو اپنی بقا کے لئے مردوں کے سہارے کی ضرورت نہیں۔‘‘ امریکہ میں ’’تحریک نسواں‘‘ کی علمبردار شیلا کروئن کہتی ہیں ’’عورت کے لئے شادی کے معنی غلامی ہیں اس لئے تحریک نسواں کو شادی کی روایت پر حملہ کرنا چاہئے۔ شادی کی روایت کو ختم کئے بغیر عورت کو آزادی نصیب نہیں ہو سکتی۔‘‘ تحریک نسواں کی عورتوں کا کہنا ہے کہ ’’عورت کا مرد کو چاہنا اور اس کی ضرورت محسوس کرنا عورت کے لئے باعث تحقیر ہے۔ عورتوں کا بچوں اور گھر بار کی دیکھ بھال کرنا ، ان کو کم تربنا دیتا ہے۔ ‘‘ امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی امریکی معاشرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’نئی نسل میں نکاح کا رواج نہیں رہا اس کے بغیر ہی لڑکی لڑکا یا مرد عورت اکٹھے رہتے ہیں، بچے بھی پیدا کرتے ہیں اور ہر دو چار سال بعد اپنا شریک زندگی میں بھی تبدیل کرلیتے ہیں ،جس طرح لباس تبدیل کیاجاتا ہے ۔ بوڑھے والدین سوشل سکیورٹی یعنی بڑھاپے کی پنشن پر گزر بسر کرتے مرجائیں تو عام طور پر بے مروت اولاد دفنانے بھی نہیں آتی۔‘‘عورت کے معاشی استقلال نے نہ صرف نکاح کا بوجھ سر سے اتار پھینکا ہے بلکہ شرح طلاق میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی مردم شماری بیورو کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں روزانہ 7ہزار جوڑے نکاح کے بندھن میں باندھے جاتے ہیں جن میں سے 3ہزار 3سو میاں بیوی ایک دوسرے کو طلاق دے دیتے ہیں یعنی پچاس فیصد نکاح ، طلاق پر منتج ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب میں عورت کی آزادی اور معاشی استقلال نے خاندانی نظام کو مکمل طور پر تباہ کردیا ہے ۔ نوجوان نسل کی اکثریت ایسے افراد پر مشتمل ہے، جنہیں اپنی ماں کا پتہ ہے تو باپ کا پتہ نہیں ، باپ کا پتہ ہے تو ماں کا پتہ نہیں یا پھر ماں باپ دونوں کا علم نہیں۔ بہن اور بھائی کے مقدس رشتہ کا تصور تو بہت دور کی بات ہے۔
    امراض خبیثہ کی کثرت
    زنا، بدکاری اور ہم جنس پرستی کی کثرت کے نتیجہ میں امراض خبیثہ (سوزاک، آتشک او رایڈزوغیرہ) کی کثرت نے پورے امریکہ اور مغرب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ 1997ء میں ڈنمارک میں ہونے والی میڈیکل کانفرنس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا میں ہر سال سولہ کروڑ تیس لاکھ افراد سوزاک اور آتشک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں عورتوں کی اموات کی دوسری وجہ آتشک اور سوزاک ہی ہے۔
    1975ء میں برطانیہ کے ہسپتالوں میں جنسی امراض کی تعداد 4لاکھ 30ہزار نوٹ کی گئی جن میں سے ایک لاکھ 60ہزار عورتیں اور 2لاکھ 70ہزار مرد تھے۔ 1978ء تک دنیا ایڈز کے نام سے واقف نہ تھی ۔ یاد رہے ایڈز (Aids)انگریزی لفظ (Acquired Immune Deficiency Syndrom) کا مخفف ہے۔ جس کا مطلب ہے جسم کے مدافعتی نظام کی تباہی کی علامت ۔ آزاد جنس پرستی کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والی یہ خطرناک بیماری ترقی یافتہ ممالک میں عذاب الیم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ میں اس وقت ایڈز کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ پچاس لاکھ ہے جبکہ افریقہ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد سات کروڑ پچاس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔عالمی تنظیم برائے صحت (W.H.O) کی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کو صرف ایڈز سے بچنے کے لئے ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ خرچ کرنے پڑیں گے۔ امریکی سائنسدان ڈاکٹر اسٹریکر نے ایڈز پر اپنا ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ دنیا کی تمام حکومتوں کو ایڈز کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے ، ورنہ اکیسویں صدی میں ایڈز کے سبب بہت کم انسان باقی رہ جائیں گے جو حکومت کرنے کے قابل ہوں گے۔
    شرح پیدائش میں کمی
    مغرب میں آزاد شہوت رانی کے کلچر نے عالمی سطح پر مغربی ممالک کی آبادی پر کس قدر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ، اس کا اندازہ اس خبر سے لگایا جا سکتا ہے ’’برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد عیسائیوں کے میتھوڈسٹ فرقہ سے بڑھ گئی ہے ۔ برطانوی اخبار ڈیلی ایکسپریس کے مطابق اس کی وجہ مسلمانوں کا مستحکم خاندانی نظام ہے جبکہ انگریز لوگ گرل فرینڈ بنا کر جوانی گزار دیتے ہیں۔ مانع حمل ادویات استعمال کرتے ہیں ، شادی کرتے ہیں لیکن بیشتر شادیاں طلاق پر منتج ہوتی ہیں ۔ یوں ان کی تعداد مسلمانوں سے کم ہو رہی ہے۔ 1991ء میں امریکی کالم نگار بین وائن برگ نے اپنی کتاب ’’پہلی عالمی قوم‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ فرض کرلینے کی بے شمار وجوہات ہیں کہ آنے والے دور میں مسلمانوں کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوگا جس کا ایک سبب دنیا بھرمیں مسلمانوں کی شرح آبادی میں معتد بہ اضافہ بھی ہے۔ شرح پیدائش میں کمی کے باعث تمام یورپی ممالک جس اضطراب اور تشویش سے دوچار ہیں اس کا اندازہ اس خبر سے لگایا جاسکتا ہے کہ رومانیہ کی حکومت نے قانون جاری کیا ہے کہ 5سے کم بچوں والی عورتیں اور جن کی عمر 54سال سے کم ہو ، اسقاط حمل نہیں کراسکیں گی نیز جن جوڑوں کے ہاں کوئی بچہ نہیں ہے ان پر ٹیکس بڑھا دیاجائے گا نیز زیادہ بچوں والے گھرانوں کو زیادہ مراعات دی جائیں گی۔ ‘یہودی جوڑوں کو اسرائیلی وزیر اعظم شمعون نے ہدایت کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں کیونکہ اسرائیل کی آبادی کم ہورہی ہے۔ اگر آبادی اسی رفتارسے گھٹتی رہی تو بڑے قومی نقصان کا سامنا ہوگا۔ 1991ء میں امریکی فوج کی مستقبل منصوبہ بندی کے سلسلہ میں ہونے والی کانفرنس میں پیش کی گئی رپورٹ میں نہ صرف مسلم ممالک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا کے گنجان آباد خطوں ، خصوصاً مسلم ممالک میں جنگوں ، گروہی سیاست اور فیملی پلاننگ کے ذریعہ آبادی کو کم کرنا ضروری ہے۔
    کاش مسلمان اس حقیقت کو جان سکیں کہ امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے انہیں خاندانی منصوبہ بندی کے لئے بے دریغ دی جانے والی مدد کا اصل مقصد مسلم ممالک کی بھلائی یا خیر خواہی نہیں بلکہ اس کا اصل ہدف مسلم ممالک کو اسی عذاب یعنی شرح پیدائش کی کمی میں مبتلا کرنا ہے جس میں وہ خود مبتلا ہیں۔ مسلمانوں کے دین اور دنیا کی بھلائی رسول اکرم eکے اسی ارشاد مبارک میں مضمر ہے ’’زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو ، قیامت کے روز میں دوسرے انبیاء کرام کے مقابلے میں تمہاری وجہ سے اپنی امت کی کثرت چاہتا ہوں۔‘‘ (احمد، طبرانی)
    خود کشی کے رجحان میں اضافہ
    تسخیر کائنات کے جنون میں مبتلا ، لیکن رب کائنات کی باغی اقوام کو رب العالمین نے زندگی کی سب سے بڑی دولت ’’سکون‘‘ سے محروم کررکھا ہے۔ عیش پرست، شراب اور زنا میں غرق ، حسب نسب سے محروم اقوام مغرب کی نئی نسلیں جرائم پیشہ ، مایوس اور ڈپریشن کا شکار ہو کر خود کشی میں اپنی نجات تلاش کررہی ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکہ میں 20لاکھ نوجوان ایسے ہیں جو اپنے جسم زخمی کرکے سکون حاصل کرتے ہیں ان میں سے 99فیصد لڑکیاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق نوجوانوں کی یہ عادت شدید مایوسی اور ڈپریشن کے باعث ہے۔
    1963ء میں امریکہ جیسے دنیاوی مسائل سے مالا مال ملک میں دس لاکھ افراد نے خود کشی کی ۔ مارچ 1997ء میں ایک مذہبی فرقہ Heavens Gateکے 39افراد نے جنت میں جانے کے لئے خود کشی کی۔ 1978ء میں گیانا جنوبی افریقہ کے جون سزٹائون میں نو سوافراد نے نجات کی تلاش میں زہریلی شراب پی کر خودکشی کی۔ 1975ء میں کینیڈا اور سوئٹزر لینڈ اور فرانس میں ایسی ہی اجتماعی خود کشی کے واقعات ہو چکے ہیں۔ 1972ء میں یورپ کے مشہور مذہبی فرقہ ’’دی سولر ٹمپل‘‘ کے پیروکاروںمیں بھی خودکشیوں کا سلسلہ چلتا رہا۔
    یہ ہے وہ طرز معاشرت اور اس کے ثمرات جس کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہمارے ارباب حل و عقد اور دانشور طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اس طرز معاشرت کو اختیار کرکے خاتون مشرق کی مشکلات اورمسائل حل کئے جاسکتے ہیں اور معاشرے میں اسے باعزت اور باوقارمقام دلایاجاسکتا ہے؟
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 12، 2012 #9
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آئیے ایک نظر اسلامی طرز معاشرت کا بھی جائزہ لیں اور پھر عدل کے میزان میں فیصلہ کریں کہ کون سا طرز معاشرت عورت کے حقوق کا محافظ ہے اور کون سا طرز معاشرت عورت کے حقوق کا غاصب ہے ؟ کون ساطرز معاشرت عورت کو عزت اور وقار عطا کرتا ہے اور کون سا طرز معاشرت عورت کی عزت اور آبرو لوٹتا ہے؟
    اسلام کیا چاہتا ہے؟
    اسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مزاج او رفطرت کے عین مطابق بنایا ہے ۔ اس میں افراط ہے نہ تفریط ، انسان کے اندر موجودہ حیوانی اور انسانی جذبات دونوں سے اسلام اس طرح بحث کرتا ہے کہ انسان ، انسان ہی رہے ، حیوان نہ بننے پائے۔ اسلامی طرز معاشرت کو سمجھنے کے لئے پہلے نکاح سے متعلق چند ضروری مباحث دیئے گئے ہیں ۔ اس کے بعد فرد کی اصلاح کے لئے اسلامی نظام تربیت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور آخر میں مغربی اور اسلامی طرز معاشرت کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے قارئین کرام کو کسی نتیجہ پر پہنچنے میں ان شاء اللہ آسانی رہے گی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  10. ‏جنوری 12، 2012 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    نکاح سے متعلق چند اہم مباحث

    1 مسنون خطبہ ٔ نکاح:
    شب عروسی میں مرد اور عورت کے اکٹھاہونے سے پہلے جبکہ دونوں کے صنفی جذبات میں شدید ہیجان اور طوفان بپا ہوتا ہے ۔ اسلام مرد اور عورت دونوں کی خواہش نفس اور ہیجان انگیز جذبات کو دائرہ انسانیت میں رکھنے کے لئے ایجاب و قبول کے وقت ایک بہت ہی فصیح و بلیغ خطبہ دیتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بھی ہے ، زندگی کے مسائل اور مشکلات میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے کی تعلیم بھی ، گزشتہ زندگی کے گناہوں پر ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار کی ہدایت بھی ہے اور آنے والی زندگی میں اپنے نفس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ کا سوال بھی کیا گیا ہے، اس پُر مغز خطبہ نکاح میں قرآن مجید کی تین آیات شامل کی گئی ہیں ۔ ان تینوں آیات میں چار مرتبہ تقویٰ کی زبردست تاکید کی گئی ہے۔( ملاحظہ ہو مسئلہ نمبر91)
    شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ ایک ایسا لفظ ہے جس میں معانی کا ایک جہاں آباد ہے ۔ مختصر الفاظ میں یوں سمجھئے کہ خلوت کی زندگی ہو یاجلوت کی، چاردیواری کے اندر ہو یا باہر، دن کی روشنی ہو یا رات کی تاریکی، ہر وقت اور ہر آن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی برضاو رغبت اطاعت اور فرماں برداری کا نام ہے ، تقویٰ۔ اس موقع پر تقویٰ کی اس قدر تاکید کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی خوشی کے موقع پر بھی انسان کا دل ، دماغ ، اعضاء ، یعنی سارا جسم و جان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکے حکم کے تابع رہنے چاہئیں، شیطانی اورحیوانی افکار و اعمال اس پر غالب نہیں آنے چاہئیں نیز آنے والی زندگی میں مرد کو عورت کے حقوق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے اور عورت کو مرد کے حقوق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے۔ مرد کو فطرت نے جو ذمہ داریاں سونپی ہیں وہ انہیں پورا کرے اور عورت کو فطرت نے جو ذمہ داریاں سونپی ہیں ، عورت انہیں پورا کرے اور دونوں میان بیوی اس معاملہ میں حدود اللہ سے تجاوز نہ کریں۔
    خطبہ نکاح گویا پوری زندگی کا ایک دستور ہے جو نئے خاندان کی بنیاد رکھتے ہوئے ارکان خاندان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔ خطبہ نکاح صرف دُلہا اور دُلہن کو ہی نہیں بلکہ تقریب ِ نکاح میں شریک سارے اہل ایمان کو مخاطب کرکے تقریب نکاح کو محض ایک عیش و طرب کی مجلس ہی نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک انتہائی پروقار اور سنجیدہ عبادت کا درجہ دے دیتا ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ
    اولاً : دولہا دُلہن سمیت حاضرین مجلس میں سے خطبہ نکاح کے مطالب و معانی کو سمجھنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ۔
    ثانیاً : نکاح خواں حضرات بھی مسرت کے ان جذباتی لمحات میں اس بات کی ضر ورت محسوس نہیں کرتے کہ ایک نئی اور پہلے کی نسبت زیادہ ذمہ دارانہ زندگی کا سفر شروع کرنے والے نوواردوں کو مستقبل کے نشیب و فراز سے گزر نے کا سلیقہ سکھلانے والے اس اہم خطبہ کی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ نکاح خواں حضرات یا مجلس نکاح میں شامل کوئی بھی دوسرا عالم خطبہ نکاح کا ترجمہ کرکے اس کی مختصر تشریح اور وضاحت کردے ، باسعادت اور نیک روحیں خطبہ نکاح کے احکام میں سے بہت سی نصیحتیں عمر بھر کے لئے پلّے باندھ لیں گی جو ان کی کامیاب ازدواجی زندگی کی ضمانت ثابت ہوں گی اور یوں مجلس نکاح کا انعقاد کسی رسم کی بجائے ایک بامقصد اور نفع بخش عمل بن جائے گا۔ ان شاء اللہ!
    2 نکاح میں ولی کی رضامندی اور اجازت :
    انعقاد نکاح کے لئے آج تک اسلامی اور مشرقی روایت بھی یہی رہی ہے کہ بیٹیوں کے نکاح باپوں کی موجودگی میں گھروں پر منعقد ہوتے دونوں خاندانوں کے بزرگ افراد کی موجودگی میں بیٹیاں نیک دعائوں اور تمنائوں کے ساتھ بڑی عزت اور احترام کے ساتھ گھروں سے رخصت ہوتیں اور والدین اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے کہ زندگی کا اہم ترین فریضہ ادا ہوگیا۔ والدین کے چہروں پر طمانیت ، عزت اور وقار کا ایک واضح تاثر موجود ہوتا لیکن جب سے مغرب کی حیا باختہ تہذیب نے ملک کے اندر پر پرزے نکالنے شروع کئے ہیں تب سے نکاح کا ایک اور طریقہ رائج ہونے لگا ہے۔ لڑکا اور لڑکی چوری چھپے معاشقہ کرتے ہیں ایک ساتھ مرنے جینے کا عہد ہوتا ہے ، والدین سے بغاوت کرکے فرار کا منصوبہ بنتا ہے اور ایک آدھ دن کہیں روپوش رہنے کے بعد اچانک لڑکا اور لڑکی عدالت میں پہنچ جاتے ہیں ، ایجاب و قبول ہوتا ہے اور عدالت اس فتوے کے ساتھ کہ ’’ولی کے بغیر نکاح جائز ہے۔‘‘ نکاح کی ڈگریاں عطا فرمادیتی ہے۔ والدین بے چارے ذلت اور رسوائی کا داغ دل پر لئے عمر بھر کے لئے منہ چھپائے پھرتے ہیں ۔ اس قسم کے عدالتی نکاح کو ’’کورٹ میرج‘‘ کہاجاتا ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ مشرقی روایات سے بھی سراسر بغاوت ہے جس کا مقصد فقط یہ ہے کہ ایسے نکاحوں کو اسلامی سند جواز مہیا ہوجائے تاکہ مغرب کی مادر پدر آزاد تہذیب کو ملک کے اندر مسلط کرنے میں آسانی پیدا ہوجائے۔
    نکاح کے وقت ولی کی موجودگی ، اس کی رضامندی اور اجازت کے بارے میں قرآن و حدیث کے احکام بڑے واضح ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں عورتوں کے نکاح کا حکم آیا ہے ، وہاں براہ راست عورتوں کو خطاب کرنے کی بجائے ان کے ولیوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ مثلاً ’’مسلمان عورتوں کے نکاح مشرکوں سے نہ کرویہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔‘‘Œ (سورہ بقرہ آیت نمبر221) جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عورت از خود نکاح کرنے کی مجاز نہیں بلکہ ان کے ولیوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کے مشرک مردوں کے ساتھ نکاح نہ کریں ۔ ولی کی رضامندی اور اجازت کے بارے میں رسول اللہﷺکی چند احادیث بھی ملاحظہ ہوں ، ارشاد مبارک ہے :
    1 ’’جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے۔‘‘ (احمد ، ابودائود، ترمذی ، ابن ماجہ)
    ابن ماجہ کی روایت کردہ ایک حدیث میں تو الفاظ اس قدر سخت ہیں کہ اللہ اور ا س کے رسول پر سچا ایمان رکھنے والی کوئی بھی مومنہ عورت ، ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا تصور تک نہیں کر سکتی۔ ارشاد مبارک ہے :
    2 اپنا نکاح خود کرنے والی تو صرف زانیہ ہے۔‘‘
    یہاں ضمنی طور پر دو باتیں قابل وضاحت ہیں ۔
    اولاً : اگر کسی عورت کا ولی واقعی ظالم ہو اور وہ عورت کے مفاد کی بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دے رہا ہو تو شرعاً ایسے ولی کی ولایت از خود ختم ہوجاتی ہے اور کوئی دوسرا اقرب رشتہ دار عورت کا ولی قرار پاتا ہے۔ اگر خدانخواستہ پورے خاندان میں کوئی بھی خیرخواہ اور نیک آدمی ولی بننے کا مستحق نہ ہو تو پھر اس گائوں یا شہر کا نیک حاکم مجاز ولی بن کر عورت کا نکاح کرسکتا ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے :
    ’’جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کاولی حاکم ہے۔‘‘ (ترمذی)
    ثانیاً : اسلام نے جہاں عورت کو ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے سے روک دیا ہے وہاں ولی کو بھی عورت کی مرضی کے بغیر نکاح کرنے سے روک دیا ہے۔
    ایک کنواری لڑکی رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ’’اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہے۔‘‘رسول اللہ ﷺنے اسے اختیار دیا کہ چاہے تو نکاح باقی رکھے چاہے تو ختم کردے۔ (ابودائود، نسائی ، ابن ماجہ) اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح میں ولی اور عورت دونوں کی رضامندی لازم و ملزوم ہے۔ اگر کسی وجہ سے دونوں کی رائے میں اختلاف ہو تو ولی کو چاہئے کہ وہ عورت کو زندگی کے نشیب و فراز سے آگاہ کرکے اسے رائے بدلنے پر آمادہ کرے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر ولی کو عورت کا نکاح کسی ایسی جگہ کرناچاہئے جہاں لڑکی بھی راضی ہو۔
    نکاح میں ولی اور عورت دونوں کی رضامندی کو لازم و ملزوم قرار دے کر شریعت اسلامیہ نے ایک ایسا متوازن اورمعتدل راستہ اختیار کیا ہے جس میں کسی بھی فریق کے نہ تو حقوق پامال ہوتے ہیں نہ ہی کسی فریق کا استحقار یا استخفاف پایا جاتا ہے۔
    قرآن و حدیث کے ان احکام کے بعد آخر اس بات کی کتنی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ لڑکی اور لڑکا والدین سے بغاوت کریں۔ جوش ِ جوانی میں فرار ہو کر عدالت میں پہنچنے سے پہلے ہی ایک دوسرے کی قربت سے لطف اندوز ہوتے رہیں اور پھر اچانک عدالت میں پہنچ کر نکاح کا ڈرامہ رچائیں اور قانونی میاں بیوی ہونے کا دعویٰ کریں؟ اگر ولی کے بغیر اسلام میں نکاح جائز ہے تو پھر اسلامی طرز معاشرت اور مغربی طرز معاشرت میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے؟ مغرب میں عورت کی یہی تو وہ ’’آزادی‘‘ہے جس کے تباہ کن نتائج پر خود مغرب کا سنجیدہ طبقہ پریشان اور مضطرب ہے۔ 1995ء میں امریکی خاتون اول ہیلری کلنٹن پاکستان کے دورے پر آئیں تو اسلام آباد کالج فار گرلز کی طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے بڑے حسرت آمیز لہجہ میں ان خیالات کا اظہار کیا کہ امریکہ میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاںبغیر شادی کے طالبات اور لڑکیاں حاملہ بن جاتی ہیں ۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ، خواہ عیسائی ہوں یا مسلم اپنے مذہب اور معاشرتی اقدار سے بغاوت نہ کریں بلکہ مذہبی و سماجی روایات اور اصولوں کے مطابق شادی کریںاور اپنے والدین کی عزت و آبرو اور سکون کو غارت نہ کریں۔
    3 مساوات مرد و زن
    مغرب میں مساوات مردوزن کا مطلب یہ ہے کہ عورت ہر جگہ مرد کے دوش بدوش کھڑی نظر آئے۔ دفتر ہو یا دکان ، فیکٹری ہو یا کارخانہ ، ہوٹل ہو یاکلب ، پارک ہو یا تفریح گاہ ، ناچ گھر ہو یا پلے گرائونڈ ، مساوات مردو زن یا آزادی نسواں یا حقوق نسواں کا یہ فلسفہ تراشنے کی اصل ضرورت عورت کو نہیں بلکہ مرد کو پیش آئی جس کے سامنے دو ہی مقصد تھے ۔
    اولاً : صنعتی انقلاب کے لئے فیکٹریوں اور کارخانوں کی پیداوار میں اضافہ ۔
    ثانیاً : جنسی لذت کا حصول۔
    دوسرے لفظوں میں مغرب میں تحریک آزادی نسواں کا اصل محرک دو ہی چیزیں ہیں ’’شکم اور شرمگاہ۔‘‘امر واقعہ یہ ہے کہ مغرب کے انسان کی ساری زندگی انہی دو چیزوں کے گرد گھوم رہی ہے ۔ اس فلسفہ حیات نے بنی نوع انسان کو کیا دیا ۔ اس پر ہم سیر حاصل بحث کر آئے ہیں۔ یہاں ہم ’’مساوات مردو زن‘‘ کے بارے میں اسلامی نظریہ حیات واضح کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام نے مرداور عورت کی ذہنی اور جسمانی ساخت اور طبعی اوصاف کو پیش نظر رکھتے ہوئے دونوں کے الگ الگ حقوق اور فرائض مقررکئے ہیں۔ بعض امور میں دونوں کومساوری درجہ دیا گیا ہے، بعض میں کم او ربعض میں زیادہ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں