1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

واقعہ کربلا کے تئیں اہل سنت کے غور و فکر کے لیے چند باتیں

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏ستمبر 19، 2018۔

  1. ‏ستمبر 19، 2018 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791


    واقعہ کربلا کے تئیں اہل سنت کے غور و فکر کے لیے چند باتیں

    لیکن کیا اہل سنت اس نقطۂ نظر کو تسلیم کر لیں گے

    کیا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی غیرت پر نعوذ باللہ شک کرنے کی جرات کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے؟

    یقیناً کوئی اہل سنت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق اس قسم کا عقیدہ نہیں رکھتا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی بڑی تلخ ہے کہ اہل سنت شہادت حسین کا جو فلسفہ بیان کرتے ہیں وہ اسی تال سر سے ترتیب پاتا ہے جو شیعیت کا مخصوص راگ ہے۔

    واقعہ یہ ہے کہ سانحۂ کربلا کو معرکہ حق و باطل باور کرانے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت کردار اور ان کی دینی حمیت مجروح ہوتی ہے اور شیعوں کا مقصد بھی یہی ہے لیکن یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے کہ واقعہ ایسا ہے یا نہیں؟
    تو حقیقت یہ ہے کہ یہ حق و باطل کا تصادم نہیں تھا، یہ کفر واسلام کا معرکہ نہیں تھا، یہ اسلامی جہاد نہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس راہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ اکیلے نہ ہوتے، ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تعاون بھی انہیں حاصل ہوتا جن کی پوری عمریں اعلائے کلمۃ اللہ میں گزریں جو ہمہ وقت باطل کے لیے شمشیر برہنہ اور کفر و ارتداد کے لیے خدائی للکار تھے۔ یہ تصادم دراصل ایک سیاسی نوعیت کا تھا اس نکتے کو سمجھنے کے لیے حسب ذیل پہلو قابل غور ہیں۔

    واقعات کربلا سے متعلقہ سب ہی تاریخوں میں ہے کہ حضرت حسین جب کوفے کی طرف کوچ کرنے کے لیے تیار ہو گئے تو ان کے رشتہ داروں اور ہمدردوں نے انہیں روکنے کی پوری کوشش کی اور اس اقدام کے خطرناک نتائج سے ان کو آگاہ کیا۔ ان میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو الدرداء،حضرت ابو واقد لیثی، جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے بھائی محمد بن الحنفیہ نمایاں ہیں۔ آپ نے ان کے جواب میں نہ عزم سفر ملتوی فرمایا نہ اپنے موقف کی کوئی دلیل پیش کی،ورنہ ممکن ہے کہ وہ بھی اس موقف میں ان کے ساتھ تعاون کے لیے آمادہ ہو جاتے۔ دراصل حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اہل کوفہ ان کو مسلسل کوفہ آنے کی دعوت دے رہے ہیں،یقیناً وہاں جانا ہی مفید رہے گا۔

    یہ بھی تمام تاریخوں میں آتا ہے کہ ابھی آپ راستے ہی میں تھے کہ آپ کو خبر پہنچی کہ کوفے میں آپ کے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل شہید کر دئیے گئے جن کو آپ نے کوفے کے حالات معلوم کرنے کے لیے ہی بھیجا تھا۔ اس المناک خبر سے آپ کا اہل کوفہ پر سے اعتماد متزلزل ہو گیا اور واپسی کا عزم ظاہر کیا، لیکن حضرت مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے بھائیوں نے یہ کہہ کر واپس ہونے سے انکار کر دیا کہ ہم تو اپنے بھائی مسلم کا بدلہ لیں گے یا خود بھی مر جائیں گے اس پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "تمہارے بغیر میں بھی جی کر کیا کروں گا؟"

    "وكان معه إخوة مسلم بن عقيل فقالوا : والله لا نرجع حتى نأخذ بثأرنا ممن قتل أخانا أو نقتل . فقال : لا خير في الحياة بعدكم۔"

    "چنانچہ حضرت حسین نے رضی اللہ عنہ نے واپسی کا ارادہ کر لیا، لیکن آپ کے ساتھ مسلم بن عقیل کے جو بھائی تھے، انہوں نے کہا کہ ہم تو اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ ہم انتقام نہ لے لیں یا پھر خود بھی قتل ہو جائیں"، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ" تمہارے بغیر میرے جینے میں کوئی بھلائی نہیں۔"(1)

    (1)۔تاریخ الطبری: 292/4، مطبعۃ الاستقامۃ، قاہرۃ: 1939ء)

    اور یوں اس قافلے کا سفر کوفے کی طرف جاری رہا۔

    پھر اس پر بھی تمام تاریخیں متفق ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جب مقام کربلا پر پہنچے تو گورنر کوفہ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو مجبور کر کے آپ کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ عمر بن سعد نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے گفتگو کی تو متعدد تاریخی روایتوں کے مطابق حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہ تجویز رکھی۔

    "اختر منی احدیٰ ثلاث اما ان الحق بثغر من الثغور واما ان ارجع الی المدینۃ واما ان اضع فی ید یزید بن معاویۃ فقبل ذلک عمر منہ"
    یعنی "تین باتوں میں سے ایک بات مان لو۔ میں یا تو کسی اسلامی سرحد پر چلا جاتا ہوں یا واپس مدینہ منورہ لوٹ جاتا ہوں یا پھر میں (براہ راست جا کر) یزید بن معاویہ کی ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتا ہوں(یعنی ان سے بیعت کر لیتا ہوں) عمر بن سعد نے ان کی یہ تجویز قبول کر لی۔(2)

    (2)۔الاصابۃ: 71/2، الطبعۃ 1995ء، دارالکتب العلمیۃ

    ابن سعد نے خود منظور کر لینے کے بعد یہ تجویز ابن زیاد (گورنر کوفہ ) کو لکھ کر بھیجی مگر اس نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ پہلے وہ (یزید کے لیے )میرے ہاتھ پر بیعت کریں۔

    "فکتب الیہ عبید اللہ (ابن زیاد) لا اقبل منہ حتی یضع یدہ فی یدی"

    حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اور ان کی طبع خوددار نے یہ گوارا نہیں، چنانچہ اس شرط کو مسترد کر دیا جس پر لڑائی چھڑ گئی اور آپ کی مظلومانہ شہادت کا یہ حادثۂ فاجعہ پیش آ گیا۔(3)

    (3)۔ (الاصابۃ: 71/2، الطبری: 293/4)

    "فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ فامتنع الحسین فقاتلوہ۔۔۔ ثم کان آخر ذلک ان قتل رضی اللہ عنہ وارضاہ"

    یقینا ہم سب اللہ ہی کےلئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ چنانچہ حسین رضی اللہ عنہ اس بات سے انکار کردیا اور انہوں نے ان کے ساتھ قتال کیا ۔۔۔ اورآخر کار ان سب کا یہ نتیجہ نکلا کہ حسین رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش فرمالی۔

    اس روایت کے مذکورہ الفاظ جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بیعت یزید پر رضا مندی کا اظہار فرمایا(4)

    (4)۔ملاحظہ فرمائیں:"الاصابہ" کے علاوہ تہذیب التہذیب، 328/2، 353 ،تاریخ طبری، 293/4 ،تہذیب تاریخ ابن عسا کر، 325/4، 337 ،البدایۃ والنہایۃ، 170/8۔175 ،کامل ابن اثیر،283/3 اور دیگر کئی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ حتی کہ شیعی کتابوں میں بھی ہیں۔ ان کے دوسرے الفاظ بھی ہیں تاہم نتیجے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

    ان تاریخی شواہد سے معلوم ہوا کہ اگر یہ حق و باطل کا معرکہ ہوتا تو کوفے کے قریب پہنچ کر جب آپ کو مسلم بن عقیل کی مظلومانہ شہادت کی خبر ملی تھی۔ آپ واپسی کا عزم ظاہر نہ فرماتے۔ ظاہر بات ہے کہ راہ حق میں کسی کی شہادت سے احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ ساقط نہیں ہو جاتا۔

    پھر ا ن شرائط مصالحت سے جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد کے سامنے رکھیں، یہ بات بالکل نمایاں ہو جاتی ہے ہے کہ آپ کے ذہن میں کچھ تحفظات تھے بھی تو آپ ان سے دست بردار ہو گئے تھے، بلکہ یزید کی حکومت تک کو تسلیم کر لینے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔

    ایک یہ بات اس سے واضح ہوئی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، امیر یزید کو فاسق و فاجر یا حکومت کا نا اہل نہیں سمجھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو وہ کسی حالت میں بھی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینے کے لیے تیار نہ ہوتے جیسا کہ وہ تیار ہو گئے تھے، بلکہ یزید کے پاس جانے کے مطالبے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ان سے حسن سلوک ہی کی توقع تھی۔ ظالم وسفاک بادشاہ کے جانے کی آرزو (آخری چارۂ کار کے طور پر بھی) کوئی نہیں کرتا۔

    اس تفصیل سے اس حادثے کے ذمہ دار بھی عریاں ہو جاتے ہیں اور وہ ہے ابن زیاد کی فوج، جس میں سب وہی کوفی تھے جنہوں نے آپ کو خط لکھ کر بلایا تھا، انہی کوفیوں نے عمر بن سعد کی سعیِ مصالحت کو بھی ناکام بنا دیا جس سے کربلا کا یہ المناک سانحۂ شہادت پیش آیا۔
    وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا
    (اس کی مزید تفصیل کتاب کے دیگر مضامین میں۔۔۔ سانحۂ کربلا، پس منظر اور اسباب۔۔۔ میں ملاحظہ فرمائیں۔)



    ماخوذ از کتاب "رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا"
    از صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ تعالیٰ، مدیر: شعبۂ ترجمہ و تحقیق و تصنیف،
     
    Last edited: ‏ستمبر 19، 2018
    • پسند پسند x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 19، 2018 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    892
    موصول شکریہ جات:
    242
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏ستمبر 19، 2018 #3
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,104
    موصول شکریہ جات:
    320
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    خطوط کس نے لکھے ؟
    اہل ِکوفہ نے

    قتل کی سازش کس نے رچی ؟
    اہلِ کوفہ نے

    کیا حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ نے امیر المؤمنین یزید بن معا ویہ رحمہ اللہ تعالٰی کی بیعت پر راضی ہوئے؟
    جی ہاں

    کیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے حضرت حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ساتھ دیا ؟
    بالکل نہیں


    ان سوالات سے بخوبی معلوم ہوا کہ یہ ایک سیاسی نوعیت کا معاملہ تھا جس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔لیکن افسوس ہے رفض نُما اہلِ سنت والجماعت کی اکثریت پر ،جو رافضیوں کی ہم نوائی میں ان کا پورا پورا ساتھ دیتے ہیں اور امیر المؤمنین و خلیفۃ المسلمین یزید بن معاویہ رحمہ اللہ تعالٰی کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ،حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی برائی کرتے اور آخر میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔کاش یہ حضرات جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے عقل و منطق کی روشنی میں معاملے کی نوعیت پر غور کریں ۔
     
  4. ‏ستمبر 19، 2018 #4
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,104
    موصول شکریہ جات:
    320
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    یاد رکھنا !
    امیر یزید رحمہ اللہ تعالٰی خونِ حسین رضی اللہ تعالٰی سے ایسے ہی بری الذمہ ہیں جیسے بھیڑیاخونِ یوسف علیہ السلام سے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 19، 2018 #5
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,104
    موصول شکریہ جات:
    320
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    رافضیوں نے حادثہ ٔ کربلا کو بالکل ایسے ہی استعمال کیا ہے جس طرح یہودیوں نے ہولوکاسٹ کو دنیا بھر میں اپنی مظلومیت جتانے کے لیے استعمال کیا، نیز یہ بھی یاد رہے کہ سبائی اور رافضی یہودیوں میں سے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 20، 2018 #6
    MD. Muqimkhan

    MD. Muqimkhan رکن
    جگہ:
    نئی دہلی
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2015
    پیغامات:
    245
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    بھائی اس تشبیہہ کا جواب نہیں .
     
  7. ‏ستمبر 21، 2018 #7
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم،
    سلفی نام رکھنے کے بجائے سلف کو اس حوالے سے پڑھ لیتے تو سب کے حق میں بہتر ہوتا اگر یہ حق و باطل کا معرکہ نہیں تھا تو اکابرین اور سلف نے حسین رضی اللہ عنہ کو حق پر کیوں لکھا اور ان کے مقابلے پر یزید کو باغی قرار دیا ہے
    وَمِنْ قَامَ لِعَرَضِ دُنْيَا فَقَطْ، كَمَا فَعَلَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ فِي الْقِيَامِ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَكَمَا فَعَلَ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي الْقِيَامِ عَلَى يَزِيدَ بْنِ الْوَلِيدِ، وَكَمَنْ قَامَ أَيْضًا عَنْ مَرْوَانَ، فَهَؤُلَاءِ لَا يُعْذَرُونَ، لِأَنَّهُمْ لَا تَأْوِيلَ لَهُمْ أَصْلًا، وَهُوَ بَغْيٌ مُجَرَّدٌ.


    وَأَمَّا مَنْ دَعَا إلَى أَمْرٍ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ نَهْيٍ عَنْ مُنْكَرٍ، وَإِظْهَارِ الْقُرْآنِ، وَالسُّنَنِ، وَالْحُكْمِ بِالْعَدْلِ: فَلَيْسَ بَاغِيًا، بَلْ الْبَاغِي مَنْ خَالَفَه

    (المحلی بالاثار باب قتل اھل البغی 11/335)

    ابن حجر فرماتے ہیں

    قِسْمٌ خَرَجُوا غَضَبًا لِلدِّينِ مِنْ أَجْلِ جَوْرِ الْوُلَاةِ وَتَرْكِ عَمَلِهِمْ بِالسُّنَّةِ النَّبَوِيَّةِ فَهَؤُلَاءِ أَهْلُ حَقٍّ وَمِنْهُمُ الْحَسیَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي الْحَرَّةِ وَالْقُرَّاءُ الَّذِينَ خَرَجُوا عَلَى الْحَجَّاجِ(ُفتح الباری تحت رقم 6929)
    اور شذرات الذھب میں اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ خروج حق بجانب تھا۔

    والعلماء مجمعون على تصويب قتال عليّ لمخالفيه لأنه الإمام الحق،
    ونقل الاتفاق أيضا على تحسين خروج الحسين على يزيد، وخروج ابن الزّبير، وأهل الحرمين على بني أمية، وخروج ابن الأشعث [1] ومن معه من كبار التابعين وخيار المسلمين على الحجّاج.
    ثم [إن] الجمهور رأوا جواز الخروج على من كان مثل يزيد، والحجّاج، ومنهم من جوّز الخروج على كل ظالم
    شذرات الذھب جلد 1 275
    اب رہی دوسری بات کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ کیوں نہیں دیا تو اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی کوئی بہت بڑی تعداد موجود نہیں تھی اور جو تھےانہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد ان امور میں حصہ لینا بند کر دیا تھا چنانچہ امام ذہبی فرماتے ہیں

    أما إن رجالا من مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ لَزِمُوا بُيُوتَهُمْ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ فَلَمْ يَخْرُجُوا إِلَّا إِلَى قُبُورِهِم
    البدایہ النھایہ ط الفکر 7/253 )
    اب یہ بات کہ حسین رضی اللہ عنہ کو روکا اور ان کو جانے سے منع کیا تو وہ ازرائے شفقت تھا نہ کہ ان کو اس فیصلے کو غلط سمجھنا تھا چنانچہ امام ذہبی فرماتے ہیں

    قُلْتُ: هَذَا يَدُلُّ عَلَى تَصْوِيبِ عَبْدِ اللهِ بنِ عَمْرٍو لِلْحُسَيْنِ فِي مَسِيْرِهِ، وَهُوَ رَأْيُ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَجَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ شَهِدُوا الحَرَّةَ.
    سیر اعلام النبلاء 3/293)
    اور اسی طرح ابن کثیر نے نقل کیا ہے

    بَلِ النَّاسُ إِنَّمَا مَيْلُهُمْ إِلَى الْحُسَيْنِ لِأَنَّهُ السَّيِّدُ الْكَبِيرُ، وَابْنُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَيْسَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ يساميه ولا يساويه، ولكن الدولة اليزيدية كانت كُلَّهَا تُنَاوِئُهُ.
    البدایہ والنھایہ 8/151)

    یہ فقط مفروضہ ہے اس حوالے سے کوئی صحیح دلیل موجود نہیں ہے
     
  8. ‏ستمبر 21، 2018 #8
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    اخر میں انتظامیہ سے گزارش ہے یا تو اس قسم کے موضوعات پر نگرانی کی جائے یا پھر فورم کے اصولوں کے تحت ہر کسی کو آزادی سے بحث کی اجازت دی جائے کیونکہ اس حوالے سے دو رائے ہیں اور جب ایک رائے پیش کی جاتی ہے تو لازمی سے بات ہے عمل کا رد عمل سامنے پیش کیا جاتا ہے
     
  9. ‏ستمبر 21، 2018 #9
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم،
    خطوط ضرور اہل کوفہ نے لکھے تھے مگر قتل کا حکم ابن زیاد نے دیا تھا اور عمرو بن سعد نے قتل کیا تھا اس پر صحیح روایت موجود ہے جس کو سنابلی صاحب نے بھی نقل کیا ہے

    قَالَ: وَحَدَّثَنِي سعد بن عبيدة، قَالَ: إنا لمستنقعون فِي الماء مع عُمَر بن سَعْد، إذ أتاه رجل فساره وَقَالَ لَهُ: قَدْ بعث إليك ابن زياد جويرية بن بدر التميمي، وأمره إن لم تقاتل القوم أن يضرب عنقك، قَالَ: فوثب إِلَى فرسه فركبه، ثُمَّ دعا سلاحه فلبسه، وإنه عَلَى فرسه، فنهض بِالنَّاسِ إِلَيْهِم فقاتلوهم، فجيء برأس الْحُسَيْن إِلَى ابن زياد، فوضع بين يديه، فجعل ينكت بقضيبه، ويقول: إن أبا عَبْد اللَّهِ قَدْ كَانَ شمط، قَالَ: وجيء بنسائه وبناته وأهله، وَكَانَ أحسن شَيْء صنعه أن أمر لهن بمنزل فِي مكان معتزل، وأجرى عليهن رزقا، وأمر لهن بنفقة وكسوة قَالَ: فانطلق غلامان مِنْهُمْ لعبد اللَّه بن جَعْفَر- أو ابن ابن جَعْفَر- فأتيا رجلا من طيئ فلجأ إِلَيْهِ، فضرب أعناقهما، وجاء برءوسهما حَتَّى وضعهما بين يدي ابن زياد، قَالَ: فهم بضرب عنقه، وأمر بداره فهدمت(تاریخ الطبری5/393)
    ترجمہ: حصین نے بیان کیا کہ سعد بن عبید نے مجھ سے بیان کیا کہ ہم عمر بن سعد کے ساتھ پانی میں نہا رہے تھے کہ اچانک اس کے پاس ایک شخص آیا اور اس سے سرگوشی کی اور اس نے اسے کہا ابن زیاد نے تمہاری طرف جویریہ بن بدر تمیمی کو بھیجا ہے اور اسے حکم دیا ہے کہ اگر تو نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ نہ کی تو وہ تجھے قتل کر دے راوی بیان کرتا ہے کہ وہ اٹھا اور اپنے گھوڑے کے پاس گیا اور اس پر سوار ہو گیا پھر اس نے اپنے ہتھیار منگوا کر پہنے اور اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور وہ لوگوں کے ساتھ ان کی طرف گیا اور انہوں نے ان کے ساتھ جنگ کی اور حسین رضی اللہ عنہ کا سر ابن زیاد کے پاس لاکر اس کے سامنے رکھا گیا اور وہ اپنی چھڑی کو اپ کی ناک پر رکھ کر کہنے لگا بلاشبہ ابو عبداللہ سیا و سفید بالوں والے ہیں، راوی بیان کرتا ہے اور اپ کی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل کو بھی لایا گیا راوی بیان کرتا ہے اس نے سب سے اچھا کام یہ کیا کہ ان کے لیے ایک فرد گاہ کا حکم دیا جوا ایک الگ تھلگ جگہ پر تھی اور ان کی رسد جاری کر دی اور ان کے لئے لباس اور اخراجات کا حکم دیا ان میں سے دو لڑکوں نے جو عبداللہ بن جعفر یا ابن ابی جعفر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے آکر طی قبیلہ کے ایک شخص کی پناہ لی تو اس نے ان دونوں کو قتل کر دیا اور ان دونوں کے سر لا کر ابن زیاد کے سامنے رکھ دیئے ابن زیاد نے بھی اسے قتل کرنے کا اردہ کر لیا اور اس کے حکم سے اس کے گھر کو منہدم کردیا گیا۔

    اس میں واضح موجود ہے کہ ابن زیاد نے حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا اور عمر بن سعد نے ان کو شہید کیا اور ان کا سر لا کر ابن زیاد کو دیا تو حسین رضی اللہ عنہ کو کوفیوں نے شہید کیا مگر ان کوفیوں نے جو حکومت کےساتھ شامل تھے

    دوسری بات حسین رضی اللہ عنہ کا یزید کی بیعت کرنا کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے اس لئے یہ مفروضہ ہے اس کو کوئی حقیقت نہیں ہے
    اور یزید کو کیسے اس قتل سے بری الزمہ قرار دیں گے جبکہ اس نے ہی نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو ہٹا کر ابن زیاد کو گورنر بنا کر بھیجا تھا

    اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کےساتھ ہونے اور نہ جانے کی وجہ اوپر پڑھ لیں
     
  10. ‏ستمبر 25، 2018 #10
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,104
    موصول شکریہ جات:
    320
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    میرے محترم !
    اگر آپ کو تصویر کایہ رخ اچھا لگتا ہے تو آپ اسی کو مانتے رہیں۔
    ویسے کوفیوں نے کس مقصد کے لیے حضرت حسین ؓ کو خطوط لکھے تھے ؟ جب ایسے مکار و غدار لوگ حضرت حسینؓ کو ورغلا سکتے ہیں تو بھلا قتل کا الزام حکومتِ وقت پر ڈالنا کیوں بعید از امکان ہے ؟
    عبید اللہ بن زیاد اور عمر بن سعد کے کردار کے متعلق علامہ محمود احمد عباسی ؒ نے ” خلافت ِ معاویہ ؓ و یزیدؒ “ کے صفحہ نمبر 238-236 میں بڑے پتے کی باتیں بتائیں ہیں۔
    اس خاص معاملے کے متعلق جتنی معلومات ہیں وہ صرف” امکان“ کی حد تک ہیں باقی جو لوگ اس امکان کو ” ایقان“ کی سرحد میں داخل کرکے کسی مسلمان پر فسق و فجور کے فتوے لگاتیں ہیں وہ عند اللہ مسئول ہیں۔
    امیر یزید بن معاویہؒ کی بیعت کے موقع پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما کو حکومت کے ساتھ وفاداری اور بیعت کا مشورہ دیتے ہوئے یہی الفاظ استعمال کیے تھے کہ اتقیا اللہ ولا تفرقا جماعۃ المسلمین (طبری ۶/ ۱۹۱) ” تم دونوں اللہ سے ڈرو،اور مسلمانوں کے ”نظمِ اجتماعی“ کے انتشار کا باعث نہ بنو۔
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں