1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاکستان، دارالاسلام ؟

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از طاہر اسلام, ‏دسمبر 28، 2013۔

  1. ‏مارچ 14، 2014 #81
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    اب آپکی پہلی پوسٹ کا جواب دیتا ہوں
    جی محترم بھائی میں نے آپ کو کہا تھا کہ آپ نئے ہیں جبکہ میں نے یونیورسٹی میں ایک خاص پہلو سے قانون پڑھایا ہے اسکی اصطلاحات اور فراڈ کو جانتا ہوں
    آپ کو جس وکیل نے بتایا ہے کہ قرارداد مقاصد کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا تو اس سے پوچھیں کہ کون سی شق کے تحت آپ یہ دعوی کر رہے ہیں
    یہ بیچاری قرار داد مقاصد پہلے ۱۹۵۶؁ء کے دستور میں دیباچے کے طور پر شامل کی گئی،پھر ۱۹۶۲؁ء کے دستور میں بھی اسے دیباچہ قراردیا گیا اور اپریل ۱۹۷۲؁ء کے ہنگامی دستور اور ۱۹۷۳؁ء کے دستور میں بھی اسے دیباچے کی حیثیت دی گئی۔
    پھر دفعہ۲ور دفعہ۲ الف کے ذریعے اس قرارداد کو دستور کا مستقل حصہ بنادیاگیا۔دستور کی دفعہ۲کہتی ہے کہ:
    ''ریاستِ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا''۔ اور دفعہ۲الف میں مذکور ہے کہ :
    ''قراردادِ مقاصد،جسے دستورکے ساتھ بطور ضمیمہ بھی ملحق کیا گیا ہے،میں درج اصول واحکام کو دستور کا مستقل حصہ قرار دیاجاتا ہےجو بعینہ من وعن مؤثر ہوں گے''
    اصل عبارت یوں ہے:
    Islam to be State religion
    2. Islam shall be the State religion of Pakistan.
    2A. The Objectives Resolution to form part of substantive provisions
    2A. The principles and provisions set out in the Objectives Resolution reproduced in the Annex are hereby made substantive part of the Constitution and shall have effect accordingly. [PART I Introductory, Article 2].​
    پس قرار داد مقاصد دستور میں شامل ایک شق 2 الف کی وجہ سے ہی حیثیت حاصل کر سکی ہے ورنہ پہلے اسکی کوئی حیثیت نہیں تھی
    اب اس شو 2 الف کو بھی کسی وقت ختم کیا جا سکتا ہے دستور کی دفعہ۲۳۸ واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ پارلیمان کو دستور میں ترامیم کا حق حاصل ہے ۔ جبکہ دفعہ ۲۳۹ میں آئینی ترمیم کے لئے دوتہائی اکثریت کی شرط لگائی گئی ہے۔ اسی دفعہ کے تحت پانچویں اور چھٹے بند میں دو انتہائی اہم باتیں نصاً مذکور ہیں:
    پہلی یہ بات کہ کسی بھی آئینی ترمیم کے خلاف کسی سطح کی عدالت میں کسی بنیاد پر اعتراض کرنا ممکن نہیں۔
    دوسری بات یہ کہ ہر قسم کے شک کو رفع کرنے کے لیے یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ مجلسِ شوریٰ (یعنی پارلیمان)کو دستور کی دفعات میں ترمیم کا لا محدود اختیار حاصل ہے
    اصل عبارت یہ ہے
    "(5) No amendment of the Constitution shall be called in question in any court on any ground whatever.
    (6) For the removal of doubt, it is hereby declared that there is no limitation whatever on the power of the Majilis-e-Shoora (Parliament) to amend any of the provisions of the Constitution" [CONSTITUTION OF PAKISTAN, PART XI Amendment of ConstitutionArticle 239]. ​

    دوسری بات یہ بھی ہے کہ اسی قرار داد مقاصد کے دیباچے میں کئی مرتبہ ''جمہوریت ''کا لفظ استعمال کیا گیاہے۔ اور ''جمہوریت''کی اصطلاح اسی معروف معنی اور معلوم صفات کی حامل ہے۔یہ معانی وصفات جمہوریت کا ایسا جزوِلاینفک ہیں کہ اگر انہیں اس سے الگ کردیاجائے تو جو کچھ باقی بچے گا وہ کسی طور بھی جمہوریت نہیں کہلائے گا۔انہی اساسی صفات میں سےایک یہ بھی ہے کہ قانون سازی اور حکمرانی کا حق عوام کی غالب اکثریت کے پاس ہو اور باقی تمام اقدار واخلاق اسی بنیاد پر طے ہوں ۔پس وہ حرام ہوگاجسے اکثریت حرام کہے اور حلال وہ ہوگا جسے اکثریت حلال قرار دے۔
    اسی طرح دیباچے میں یہ بھی عبارت ملتی ہے کہ :''پاکستان عدلِ اجتماعی کے اصولوں پر قائم ایک جمہوری ریاست ہوگی''
    دیباچے میں یہ عبارت بھی مذکور ہے کہ :''(ہم اس)جمہوریت کی حفاظت کا عزمِ مصمم کیے (ہوئے ہیں)جو ظلم واستبداد کے خلاف عوام کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے'' اب نجانے اس عبارت کےذریعے یہ 'اسلامی'دستور کس چیز کی حفاظت کا ذمہ لے رہا ہے؟پوری جمہوریت کی حفاظت کا؟اکثریت کے حقِ حکمرانی اور حقِ قانون سازی کے تحفظ کا؟آخر کس بات کا ؟پس یہ بات توبڑے واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ دستورِ پاکستان کی ابتدائی سطور سے ہی حق وباطل کی آمیزش کا اغاز ہوجاتاہے
    قراردادِ مقاصد کے اسلامی احکامات
    جہاں تک قراردادِ مقاصد میں موجود اسلامی ہدایات واحکامات کا تعلق ہے ،تو ان کی عبارتوں میں ایسا عموم پایاجاتا ہے کہ ان سے کوئی متعین حکم اخذکرنا ممکن نہیں،البتہ کچھ عمومی باتیں شاید اخذ کی جاسکیں۔
    (۱)مثلاً یہ عبارت کہ:
    ''یہ بات اظہرمن الشّمس ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکمِ کل ہے اور پاکستان کے عوام کو جو اقتدار واختیار بھی اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنے کا احق حاصل ہے ،وہ ایک مقدس امانت ہے''۔
    یہ ایک عمومی سی عبارت ہے جو نہ تو یہ بات صراحتاً کہتی ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف شریعتِ اسلامی کی ہوگی اور نہ ہی اس بات پر دوٹوک دلالت کرتی ہے کہ شرعی احکامات کو ایک ایسے بلند وبرتر مصدر کی حیثیت حاصل ہوگی جس کے مقابل کوئی دوسری شریعت یا قانون قابل قبول نہ ہوں گے۔اسی طرح اس عبارت میں تصریح بھی نہیں کی گئی کہ شرعی احکامات کو عوامی اکثریت کی رائے پر بھی فوقیت دی جائے گی
    (۲)اسی طرح یہ عبارت کہ:
    ''مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اس قابل بنایاجائے گاکہ وہ اپنی زندگی قرآنِ پاک اور سنتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیان کردہ اسلامی تعلیمات ،تشریحات اور ضروریات کے حسبِ منشاء ترتیب دے سکیں''۔
    یہ بھی محض ایک وعدہ ہے ،جو کہ ساٹھ سال گزرجانے کے بعد بھی پورانہیں ہوسکا۔
    مزید اس بارے کوئی معلومات چاہئے ہوں تو حاضر ہوں

    جی ہونا کیا تھا قانونی طور پر یہ بھی اسلامی نظریاتی کونسل کی طرح کچھ نہیں کر سکتی آج کل نظریاتی کونسل کا کم عمری کی شادی پر مشوری دینے پر پارلیمنٹ والے جو حال کر رہے ہیں کہ تم لولی لنگڑی کو یہ کیسے جرات ہوئی کہ ہمارے بنائے قانون پر اعتراض کر سکو
    پس وہ صرف اعتراض تو کر سکتی ہے مگر مشوری کی حد تک ماننا نہ ماننا پارلیمنٹ کا کام ہے مگر پارلیمنٹ کو یہ مشوری بھی گوارہ نہیں جسکی خود اجازت دی ہوئی ہے اور فرحت اللہ بابر کا بیان اس بارے جنگ میں پڑھ لیں

    محترم بھائی میں نے اسکا ذکر اسلئے کیا تھا کہ شرعی معاملات کو صرف یہی دیکھ سکتی ہے خیر اس لولی لنگڑی کا تذکرہ کو چھوڑ دیتے ہیں جہاں تک سپریم کورٹ کے ججوں کا تعلق ہے تو وہ میں نے اوپر 239 کے تحت بتا دیا ہے کہ جو پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کہ دے وہ چیف جسٹس کا باپ بھی اعتراض تو کیا اس مقدمے کو سن بھی نہیں سکتا

    بھائی آپ سلمان تاسیر کو مارنے والے ممتاز قادری کے فیصلے کو اٹھا کر پڑھ لیں اخبار میں بھی مکمل لگا تھا اس بات سے قطع نظر کہ درست تھا یا غلط مگر جج فیصلہ میں کہتا ہے کہ اگرچہ یہ کام شریعت کے عین مطابق تھا مگر ہم نے شریعت کو نہیں دیکھنا ہوتا ہم نے قانون کے مطابق فیصلہ دینا ہوتا ہے پس میں اسکو پھانسی دیتا ہوں

    جی میں نے اوپر بتا دیا کہ دفعہ 239 کے تحت پارلیمنٹ کے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تو پروسیجر یہ کیسے ہے محترم بھائی اسلامی نظریاتی کونسل بھی آپ کے مشورے پر عمل کر کے عدالت جا کر شرعیت کے حق میں فیصلہ نہیں کروا سکتی دیکھیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل جو پارلیمنٹ کو کم عمری کی شادی پر مشورہ دے رہی ہے کیا وہ عدالت میں جا کر آپ کے مطابق اس غیر شرعی شق کو ختم نہیں کرا سکتی تھی اسکو مشورہ دینے کی کیا ضرارت تھی اور پھر فرحت اللہ بابر پر توہین عدالت کا مقدمہ بھی درج نہیں کرا سکتی تھی بھئی یہ سارے ہمیں بے وقوف بنانے کی باتیں ہیں اللہ سمجھ دے امین

    باقی جواب اگلی فرصت میں انشاءاللہ
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 14، 2014 #82
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا عبدہ بھائی۔
    اصل میں مجھے بنیادی اسی اسلامی نظریاتی کونسل اور عدالت والی بات پر غلطی لگی تھی۔ جب وہ کچھ نہیں کر سکتی تو پھر ساری باتیں واقعی صرف الفاظ کی حد تک رہ جاتی ہیں۔
    ویسے آگے مزید لکھیے گا۔ میرے علم میں اضافہ ہوگا۔
    یہاں اس بات میں تشنگی رہ جاتی ہے کہ جب یہ سب ایسا ہی ہے جیسا ظاہر ہو رہا ہے تو پھر ہم اس میں کیا اصلاح کر سکتے ہیں اور اس کے لیے کیا طریقہ کار ہونا چاہیے؟ اس پر بھی براہ کرم روشنی ڈالیے گا۔
     
  3. ‏مارچ 16، 2014 #83
    چاچا جی

    چاچا جی مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2014
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    اگرچہ میں اسکا علیحدہ تھریڈ بنا چکا ہوں لیکن چونکہ یہ پوسٹ بالکل اس تھریڈ سے متعلق ہے اس لیے یہاں بھی لگا رہا ہوں
    آئین ایک مذہبی مقدس دستاویز ہے - چیف جسٹس پاکستان
    http://www.nawaiwaqt.com.pk/lahore/02-Mar-2014/285643
    لاہور (وقائع نگار خصوصی+ سٹاف رپورٹر+ ایجنسیاں) چیف جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ اس وقت ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ عدلیہ بطور ادارہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا ہے۔ ایف سی کالج کے سالانہ ڈنر میں بطور مہمان خصوصی خطاب میں انہوں نے کہا جمہوریت، قانون کی حکمرانی، برداشت، روا داری اور بنیادی حقوق ہماری اقدار ہیں۔ جن کو عدم برداشت، تشدد اور دیگر منفی عوامل سے خطرہ ہے۔ اس وقت تمام اداروں اور طبقوں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک انصاف فراہم کرنے والا معاشرہ وجود میں آئے۔ ان چینجز کو قبول کرتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کر کے ہی ہم ملک کا مستقبل بہتر بنا سکتے ہیں۔ قائداعظمؒ محمد علی جناح کا آئین ساز اسمبلی سے خطاب ہی ہمارا وژن ہے۔ انہوں نے ایف سی کالج میں بطور طالب علم اپنے دور کے بارے میں ماضی کی یادوں کو تقریب کے شرکاء سے شیئر کیا۔ جسٹس تصدق نے کہا کہ لو گ روزانہ مار ے جارہے ہیں ہمیں سچ کیلئے آواز اٹھانا ہوگی' آج ہمیں مہلک ہتھیاروں اور غیر ریاستی عنا صر سے خطرات لاحق ہے مگردہشت گردی ملک کو ایک نیا پاکستان بننے سے نہیں روک سکتی' ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے' بطور شہری ہم امن اور ترقی میں حصہ دار ہیں' ملک میں قتل وغارت اور دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں' آئین شہر یوں کو حقوق اور سستا انصاف فراہم کر تا ہے' آئین میں موجود اقدار کو قتل وغارت سے خطرہ ہے۔ آئین ایک مذہبی مقدس دستاویز ہے جس میں معاشرے کا ہر فرد اپنی مرضی کی زندگی گزار کیلئے آزاد ہے مگر غیر ریاستی عناصر ملک میں دہشت گردی کرکے بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس وقت بہت سے چیلنجز درپیش ہے اس کیلئے نوجوانوں کو بھی آگے بڑھ کر اپنے اور ملک کے بہتر مستقبل اور معاشرے کی اصلاح کیلئے اپنا کردار ادا کر نا چاہئے۔ غیر ریاستی عناصرموت کا کاروبارکر رہے ہیں' مذہبی اور لسانیت کے نام پر موت بانٹی جا رہی ہے۔

    علماء کرام سے گزارش ہے کہ کیا یہ "تبدیل" نہیں ؟
     
  4. ‏مارچ 19، 2014 #84
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی ہم اکثر لاشعوری طور پر توحید اس کو سمجھ لیتے ہیں کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی اور سے نہ مانگیں باقی جو مانگتے ہیں انکو غلط کہیں یا نہ کہیں اس کا توحید کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ تو حید ہماری ہمارے شرک میں ملوث نہ ہونے سے ہی پوری ہو جائے گی تو میرے خیال میں یہ درست سوچ نہیں
    ایک انسان ساری زندگی ایک اللہ سے مانگتا رہے اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے مگر شریک ٹھرانے والے کو غلط نہ سمجھے تو اسکو کوئی موحد نہیں کہ سکتا بلکہ توحید کا جھگڑا ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار پر شروع ہوا تھا
    اس پس منظر میں آپ توحید کے غلبہ کو دیکھیں تو قانون میں آپ کو توحید کے غلبے کا احساس ہو جائے گا ان شاءاللہ

    محترم بھائی سعودی عرب میں شریعت نافذ ہے البتہ وہاں بھی آپ کو پھر ایسے اشکالات نظر آئیں گے
    محترم بھائی میں نیچے دو صورتیں لکھوں گا جن کے ہوتے ہوئے بھی شریعت کے نفاذ کو موثر سمجھا جائے گا
    1-اپنے کسی ذاتی فائدہ کے لئے کسی فیصلے کو تاویل کرتے ہوئے شریعت کے خلاف کرنا
    2-اشکال یا غلط فہمی کی وجہ سے کسی فیصلے کو شریعت کے خلاف کرنا

    پس ہم تو متفق علیہ معاملات کو دیکھیں گے نہ کہ مختلف فیہ معاملات کو دیکھ کر شریعت کے نفاذ کے متعلق فیصلہ کریں گے میں نے ایک اور جگہ پوسٹ میں عثمان پیرذادہ کے جنگ میں ایک حالیہ کالم کا حوالہ دیا تھا جس میں اس نے کچھ اجتہادی باتوں میں تبدیلی کو بنیاد بنا کر شریعت کو تبدیل کرنا جائز قرار دیا تھا اسنے لکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے شراب کو چالیس سے 80 کیا اسی طرح حلالہ والے کو سنگسار کرنے کا اجتہاد کیا وغیرہ وغیرہ تو پھر آج ہماری پارلیمنٹ کی اکثریت شریعت میں حالات کے مطابق تبدیلی کیوں نہیں کر سکتی

    محترم بھائی ویسے تو میں نے یہاں سے انڈیا جانے والے مسلمانوں کی بات نہیں کی تھی بلکہ ادھر کے رہنے والے مسلمانوں کی بات کی تھی پس آپ ان مسلمانوں کو یہاں کے مسلمانوں سے مختلف تصور نہیں کر سکتے
    لیکن اگر آپ ویزے والے معاہدے کو دلیل بنانا چاہتے ہیں تو محترم بھائی قانون میں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے constructive notice یعنی آپ جا کر نیازی کی اسلام آباد وای بس پر بیٹھ گئے مگر آپ نے کنڈیکٹر وغیرہ سے کوئی معاہدہ نہیں کیا مگر حقیقت میں انکی پریکٹس یا انکا بورڈ آپ کے لئے اور انکے لئے ایک نوٹس ہے اور معاہدہ ہے جس کا کوئی فریق انکار نہیں کر سکتا
    پس پاکستان میں رہتے ہوئے آپ کو یہ constructive notice ہوتا ہے کہ آپ اسکے تمام قوانین کی پابندی کریں گے اور انکو مانیں گے
    دوسرا اگر آپ یہاں لاعلمی کا اظہار کریں تو اس پر بھی قانون ہے کہ ignorance of law is no excuse یعنی آپ جہالت کا کہہ کر اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتے-
    پس ویزہ کے بغیر بھی آپ کا پاکستان کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے

    جی محترم بھائی اگلی پوسٹ میں بھی آپ نے اسی طرح لکھا ہوا ہے میں ان شاءاللہ اگلی فرصت میں اس پر رائے دوں گا ویسے مجھے یہ نہ سمجھیں کہ میں کوئی طالبان ہوں اور اس قانون کو بالکل وقعت نہیں دیتا بلکہ میرا اعتراض یہ ہے کہ آپ اس قانون کو شریعت کہ کر نہ منوائیں بلکہ کسی اور لحاظ سے (معاہدہ وغیرہ کے تحت بات کریں) ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ
    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
    کارواں کے دل سے احساس ضیاں جاتا رہا
     
  5. ‏مارچ 25، 2014 #85
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی اس سلسلے میں "اسلامی سیاسی نظام کی خصوصیات" دھاگہ بنایا ہے
    البتہ جہاں تک آپ کی اصلاح کے طریقے کار کی بات ہے تو محترم بھائی اصلاح کے طریقے ڈھونڈنے کے لئے کسی چیز کے غلط ہونے پر شرح صدر ہونا چاہیے پھر اللہ کا وعدہ ہے کہ والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا
    پس اگر سود غلط ہے تو متبادل نظام کی عدم فراہمی اسکی جواز کی دلیل نہیں بن سکتی واللہ اعلم

    محترم بھائی جہاں تک ملک کے تمام افراد کو پسند آنے والا حل چاہیے تو وہ شاید نہ دے سکوں البتہ شریعت کی روشنی میں حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کیا ہونا چاہئے اس پر اپنی رائے نئے دھاگے "اسلامی سیاسی نظام کی خصوصیات" میں دینے کے بعد آپ کے سوال پر بحث کروں گا ان شاءاللہ

    محترم بھائی لایکلف للہ نفسا الا وسعھا کے تحت ہم سے عمل کے بارے ہماری طاقت سے زیادہ نہیں پوچھا جائے گا مگر کسی غلط کام کو غلط نہ کہنے کا پوچھا جائے گا
     
  6. ‏اپریل 02، 2014 #86
    جہان حیرت

    جہان حیرت مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2014
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    اسلامی نظریہ کونسل ختم کر دی جائے' سندھ اسمبلی کی متفقہ قرارداد
    http://www.nawaiwaqt.com.pk/front-page/01-Apr-2014/292531
    کراچی (وقائع نگار+ ایجنسیاں) سندھ اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعہ اسلامی نظریہ کونسل کی طرف سے خواتین کے معاملات سے متعلق حالیہ سفارشات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس کونسل کو ختم کردیا جائے۔ یہ قرارداد فنکشنل لیگ کی خاتون رکن مہتاب اکبر راشدی نے پیش کی تھی جس پر کئی دیگر ارکان کے دستخط بھی موجود تھے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ''یہ ایوان اسلامی نظریہ کونسل کی حالیہ سفارشات پر سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ کونسل نے خواتین سے متعلق معاملات پر مکمل لاپروائی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے اور سفارش کی ہے کہ شادی کیلئے عمر کی کم سے کم کوئی حد نہیں، زیادتی کے واقعات میں ڈی این اے ٹیسٹ کی مخالفت کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ دوسری شادی کیلئے بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ کونسل کی یہ تمام سفارشات افسوسناک اور خواتین مخالف ہیں ۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات کو حل کرنے کی بجائے لوگوں کے ذہنوں میں انتشار اور الجھن پیدا کی جا رہی ہے۔ ایوان سفارش کرتا ہے کہ اسلامی نظریہ کونسل مثبت کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، لہٰذا اس سے جان چھڑا لینی چاہئے کیونکہ پاکستان اب مزید نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔'' سینئر وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو نے قرارداد کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سے پہلے بیٹیوں کو دفن کردیا جاتا تھا لیکن اسلام اصلاحات لیکر آیا۔ اسلامی نظریہ کونسل کو اس طرح کے فتوے نہیں دینے چاہئیں ۔ اگر ایسے فتوے آتے رہے تو فتوے دینے والوں کی مخالفت ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان اللہ خان مروت نے کہا کہ اسلامی نظریہ کونسل ہم پر فتوے مسلط نہ کرے۔ قوم کے ساتھ یہ مذاق ہے کہ دوسری شادی کیلئے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ سندھ اسمبلی کی طرف سے قومی اسمبلی کو یہ پیغام ہے کہ اگر اس میں ہمت نہیں ہے تو ہم میں تو ہمت ہے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اللہ اور اسکے رسولؐ کے بنائے ہوئے قانون میں کسی کو ترمیم کا اختیار نہیں ہے۔ اسلام میں شادی کیلئے نہ صرف رضامندی ضروری ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شادی سے پہلے دولہا اور دلہن ایک دوسرے کو پسند کریں۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان کی نامزدگی دیکھ بھال کر کرنی چاہئے اور ایسے لوگوں کو رکن بنانا چاہئے جو قانون، روایات، رسم و رواج اور ثقافت سے واقف ہوں۔ ایوان میں بلاول کو ملنے والے دھمکی آمیز خط پرتشویش کا اظہار کیا گیا اور ان کی سلامتی کیلئے دعا بھی درخواست بھی کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے متعدد ارکان نے یہ مسئلہ اٹھایا۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان اللہ خان مروت نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کی مذمت کرتے ہیں، وہ قوم کا اثاثہ ہیں۔ انہیں ہر جگہ فول پروف سیکورٹی ملنی چاہیے، میرا پنجاب حکومت سے رابطہ ہے۔ پنجاب حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انکے دورہ پنجاب کے دوران ہر ممکن اور انکی تسلی کے مطابق سکیورٹی فراہم کی جائیگی۔ سندھ اسمبلی نے ایک بل کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی جس کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی رقم میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ یہ بل پراونشل موٹر وہیکل (ترمیمی) بل 2014ء کہلائیگا، جس کے ذریعہ پراونشل موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965ء میں متعدد ترامیم کی گئیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں