1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا تصوّرِ بدعت: اَز روئے تحسین و تقبیح تقسیم بدعت کاجائزہ

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اپریل 21، 2012۔

  1. ‏دسمبر 26، 2013 #21
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بھائی آپ کو صرف اتنا کرنا ہے کہ محدث فورم کا کوئی بھی موضوع کو کوپی کریں اور اس کو اپنے فیس بک یا کسی بھی پیج پر پوسٹ کر دیں اور آخر میں اس کا جو لنک اوپر آ رہا ہے اس کو کوپی کریں اور اپنے فیس بک کے اکاونٹ پر پوسٹ کر دیں -

    http://forum.mohaddis.com/threads/ڈ...یح-تقسیم-بدعت-کاجائزہ.6365/page-2#post-145913

    یا پھر آپ اس پیج کو اوپن کریں-

    حق کی طرف رجوع
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 26، 2013 #22
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    جزاکم اللہ خیرا۔۔
    بارک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  3. ‏دسمبر 26، 2013 #23
    SHD38SK

    SHD38SK مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 04، 2011
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    اس فورم پر جب میں آیا تھا تو ریپلائی یا دھاگوں کا سلسلہ نہیں رکھا تھا مگر جب جب حق بیان ہوتا رہا میں اپنا ریپلائی دعاؤں کی شکل میں ضرور بھیجتا رہا ہوں ، الحمدللہ
    آؤ سب مل کر دعا کریں کہ یا اللہ ہمیں بھٹکنے نا دینا ان لوگوں کی طرح جنہوں نے دین کو ٹکرے ٹکرے کر لیا اور اسی پر مگن مزید گمراہیاں خریدتے رہے ،

    آمین
     
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 26، 2013 #24
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    عبدہ
    شاکر بھائی نے جو طریقہ سکھایا ہے وہ یہ ہے کہ آپ جو بھی تھریڈ پوسٹ کرتے ہیں اُس صفحے کے آخر میں ایک بٹن ہے جس کا سکرین شاٹس ملاحظہ فرمائیں:
    [​IMG]
    یہ بٹن پریس کرنے سے آپ کا مضمون فیس بک پر شئیر ہو جائے گا۔ان شاءاللہ
    بلاگ بھی ایک سوشل میڈیا نیٹ ورک ہے، اگر آپ کا جی میل اکاؤنٹ ہے تو آپ اس سے بلاگ بنا سکتے ہیں، خیر اگر آپ کا اکاؤنٹ نہیں ہے تو کوئی بات نہیں آپ محدث فورم پر زیادہ توجہ کریں۔
    جب بھی بنیں تو یہ علمی مضامین کو شئیر کریں۔ ان شاءاللہ
    میں نے تو فیس بک بنانا نہیں سکھائی، مجھے تو آج سے چار، پانچ سال قبل خود بھی انگلینڈ میں رہائش پذیر ایک اہلحدیث بھائی نے اکاؤنٹ بنا کر دیا تھا، جو آج سے قریبا ایک سال قبل استعمال کرنا شروع کیا ہے۔
    مجبورا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابتسامہ
    آپ نے کبھی کہا ہی نہیں کہ مجھے سکھاؤ تو میں کیسے سکھا سکتا ہوں، ویسے فیس بک پر شئیرنگ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہر، پوسٹ کے نیچے تین آپشنز ہوتے ہیں:
    Like...Comment...Share
    آپ شئیر پر کلک کر کے آگے شئیر کر دیں۔
    سیدھے طریقے سے ہی سکھاؤں گا۔ ان شاءاللہ، آپ سیکھنے والے تو بنیں۔
    اوکے
    آمین
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 27، 2013 #25
    ہابیل

    ہابیل سینئر رکن
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏ستمبر 17، 2011
    پیغامات:
    961
    موصول شکریہ جات:
    2,890
    تمغے کے پوائنٹ:
    225

    ماشاءاللہ شاکر بھائی ارسلان بھائی اور عامر بھائی بہت زبردست طریقے سے فیس بک پر کام کر رہے ہیں
    خاص طور پر عامر بھائی بہت زیادہ محنت کر رہے ہیں میں بھی اپنی طرف سے کچھ حصہ اس طرح ڈال رہا ہوں احادیث کو ڈیسنگ کر کے ساتھ میں محدث فورم کا لوگو اور یوآر ایل بھی لگا دیتا ہوں
    میری شاکر@ بھائی سے ایک درخواست ہے کے وہ ہمیں محدث فورم کا بڑے سائز میں اگر لوگو فراہم کر سکتے ہیں تو بہت مہر بانی ہو گی کیونکہ یہ لوگو بہت چھوٹا ہے اگر اس کو فوٹو شاپ میں بڑا کرنے کی کوشش کریں تو یہ پھٹ جاتا ہے جس کی وجہ بیک گرائنڈ نہیں بن پاتا جزاک اللہ
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 27، 2013 #26
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    ہربدعت مبنی بر ضلالت ہے چاہے حسنہ ہو یا سئیہ یعنی بدعت کو حسنہ اور سئیہ میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا
    لیکن حیرت انگیز طور پر بدعت کی تقسیم بدعت لغوی اور بدعت شرعی میں کی جاسکتی ہے یہاں وہ قول پانی بھرنے لگتا ہے کہ ہر بدعت مبنی بر ضلالت ہوتی ہے !
    اب انٹر نیٹ کے ذریعہ دین کی تبلیغ کیا کہلائی گی بدعت حسنہ یا سئیہ یا لغوی یا شرعی ؟؟؟؟
    اور پھر اول و آخر تو تمام بدعت ہی مبنی بر ضلالت ہی ہے چاہے اس کو کسی بھی طرح تقسیم کریں ! یا نہیں؟
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 27، 2013 #27
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    رسول اللہﷺ نے فرمایا " کل بدعة ضلالة ہر بدعت ضلالت ہے
    حضرت عمر نے تراویح کی نماز مسجد میں باجماعت ،فرض نماز کے مصلے پر ، اور پورے رمضان پڑھانے کا حکم دیا اور لوگوں کو اس طریقے سے نماز پڑھتے دیکھ ( آپ نے خود نہیں پڑھی) کہا ''نعمة البدعة ھذہ'' یہ بدعت حسنہ ہے
    یہاں حضرت عمر نے بدعت کو تقسیم کیا یعنی بدعت حسنہ سے پھر بھی یہ قول حجت نہیں حیرت ہے !!!!!
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  8. ‏دسمبر 27، 2013 #28
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891


    محترم، بدعت کو لغوی اور شرعی میں تقسیم کرنا تو فقط اس لئے ہے تاکہ یہ تو طے ہو کہ کس چیز کو بدعت کہا جائے گا اور کس کو نہیں؟
    ایک مرتبہ جب یہ طے پا جائے کہ فلاں شے شرعی لحاظ سے بدعت کہلائی جائے گی، تو اب اس بدعت کو اچھی اور بری میں تقسیم کرنا غلط ہے۔
    اب حدیث تو کہتی ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں۔
    لیکن یہ بات تو طے کرنی ہی پڑے گی نا کہ بدعت سے مراد ہے کیا؟ پہلے کسی چیز کو بدعت ہونا ثابت کریں گے، پھر اسے گمراہی قرار دیں گے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏دسمبر 27، 2013 #29
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    ہر جگہ وہی رونا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول پر آپ کو کئی جگہ جوابات پیش کر دئے گئے ہیں، لیکن آپ ہیں کہ انجان بن کر ایک جیسی باتیں کچھ دن بعد پھر سے دہرانا شروع کر دیتے ہیں۔۔!
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے آپ کی نفرت اور بغض و حسد، آپ کا سرمایہ زندگی ہے، اور اسی بغض میں ایک دن مر کر اللہ کے سامنے پہنچ جائیں گے۔ اس سے قبل ہی توبہ کر لیتے تو اچھا تھا۔

    خیر، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس فعل کو بدعت کہا، وہ بدعت کی شرعی تعریف کی مد میں آتا ہی نہیں۔ لہٰذا ہم اسے لغوی معنوں میں بدعت گردانتے ہیں۔
    ہاں، اگر یہ فعل شرعی تعریف کے لحاظ سے بھی بدعت ہوتا تو آپ کی بات کسی حد تک جائز بھی تھی۔

    جیسے ، آپ پچھلی پوسٹ میں انٹرنیٹ پر دین کی تبلیغ کو بھی بدعت قرار دے رہے ہیں۔ تو یہ لغوی معنوں میں ضرور بدعت ہے۔
    لیکن شرعی معنوں میں بدعت ہو ہی نہیں سکتی۔
    اگر شرعی بدعت ہوتی تو آپ سب سے پہلے ہمیں اس سے براءت کا اظہار کرتے ہوئے پاتے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏دسمبر 27، 2013 #30
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    رمضان المبارك ميں باجماعت نماز تراويح سنت ہے بدعت نہيں


    كيا باجماعت نماز تراويح بدعت شمار ہو گى كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور مبارك ميں ايسا نہ تھا، بلكہ سب سے پہلے اسے شروع كرنے والے عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ ہيں ؟

    الحمد للہ :

    يہ كہنا كہ نماز تراويح بدعت ہے، سراسر غلط اور ناانصافى ہے، بلكہ يہ كہا جا سكتا ہے كہ:

    كيا يہ عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ كى سنت ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور مبارك ميں ايسا نہيں تھا، بلكہ يہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے دور ميں ہوا ہے، يا كہ يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ اور سنت ہے ؟!

    لہذا بعض لوگوں كا دعوى ہے كہ يہ عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ كا طريقہ اور سنت ہے، اور اس كى دليل يہ ديتے ہيں كہ:

    عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ نے ابى بن كعب رضى اللہ تعالى عنہ اور تميم دارى رضى اللہ تعالى عنہ كو حكم ديا كہ وہ لوگوں كو گيارہ ركعات پڑھائيں، اور ايك رات عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ باہر نكلے تو لوگ نماز ادا كر رہے تھے، تو عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے:

    " يہ بدعت اور طريقہ اچھا ہے"

    يہ اس كى دليل ہے كہ اس سے قبل يہ مشروع نہ تھى .....

    ليكن يہ قول ضعيف ہے، اور اس كا قائل صحيحين وغيرہ كى اس حديث سے غافل ہے كہ:


    لہذا سنت نبويہ سے تراويح ثابت ہيں، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے تسلسل كے ساتھ جارى نہ ركھنے كا مانع ذكر كيا ہے نہ كہ اس كى مشروعيت كا، اور وہ مانع اور علت فرض ہو جانے كا خدشہ تھا، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى وفات سے يہ خوف زائل ہو چكا ہے، كيونكہ جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم فوت ہو گئے تو وحى بھى منقطع ہو گئى اور اس كى فرضيت كا خدشہ بھى جاتا رہا، لہذا جب انقطاع وحى سے علت زائل اور ختم ہو چكى جو كہ فرضيت كا خدشہ اور خوف تھا، تو معلول كا زوال ثابت ہو گيا، توپھر اس وقت اس كا سنت ہونا واپس پلٹ آئے گا. اھـ
    ديكھيں: الشرح الممتع لابن عثيمين ( 4 / 78 ).

    امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    اس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا اپنى امت پر مكمل شفقت و مہربانى كا بيان پايا جاتا ہے. اھـ

    لہذا يہ كہنا كہ نماز تروايح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت نہيں بلا وجہ اورغلط ہے، بلكہ يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ہے، صرف نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس خدشہ كے پيش نظر اسے ترك كيا تھا كہ كہيں يہ امت پر فرض نہ ہو جائے، اور جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم فوت ہو گئے تو يہ خدشہ جاتا رہا.

    اور ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ مرتدين كے ساتھ لڑائى اور جنگ ميں مشغول رہے، اور پھر ان كى خلافت كا عرصہ بھى بہت ہى قليل ( دو برس ) ہے، اور جب عمر رضى اللہ تعالى عنہ كا دور آيا اور مسلمانوں كے معاملات درست ہو گئے تو لوگ رمضان المبارك ميں اسى طرح نماز تراويح كے ليے جمع ہو گئے جس طرح رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ جمع ہوئے تھے.

    لہذا عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے جو كچھ كيا ہے وہ زيادہ سے زيادہ يہ ہے كہ انہوں اس سنت كا احياء كيا اور اسے كى طرف واپس گئے.
    اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

    واللہ اعلم .
    الشيخ محمد صالح المنجد
     
    • پسند پسند x 3
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں