1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا تصوّرِ بدعت: اَز روئے تحسین و تقبیح تقسیم بدعت کاجائزہ

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اپریل 21، 2012۔

  1. ‏دسمبر 27، 2013 #31
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105


    رسول اللہﷺ نے فرمایا " کل بدعة ضلالة ہر بدعت ضلالت ہے

    جب ہر بدعت کو ضلالۃ مانتے ہیں اور بدعت کی تقسیم حسنہ اور سئیہ کے قائل نہیں تو پھر کس بنیاد پر بدعت کو لغوی اور شرعی تقسیم فرماتے ہیں آسان الفاظ میں بتادیں قرآن حدیث کی دلیل کے ساتھ اس لئے ہر جگہ یہ رونا رویا جاتا ہے
    جہاں تک حضرت عمر کے قول کی بات ہے تو ان کا قول یہی ہے کہ یہ بدعت حسنہ اور آپ بدعت کی یہ تقسیم مانتے نہیں یعنی اس کا مطلب یہ کہ آپ حضرت عمر کی بات کو نہیں مان رہے
    یاد رہے حضرت عمر نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ" یہ بدعت حسنہ ہے "
    یہ نہیں فرمایا کہ " یہ لغوی بدعت ہے "
    اور آپ زبردستی حضرت عمر کی اس بدعت حسنہ کو لغوی بدعت منوانا چاہتے ہیں
    آخر کچھ تو جس کی پردہ داری ہے
     
  2. ‏دسمبر 27، 2013 #32
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    دوسروں کے منہ میں اپنے نظریات ٹھونس کر ان کی تردید کرنا بزدلوں کا شیوہ ہے۔ جس چیز کے ہم قائل ہیں، اس پر تردید کی کیوں ہمت نہیں کرتے؟
    ہم نے تو وضاحت کر دی کہ کسی بدعت کو گمراہی تو تب ہی کہہ سکتے ہیں جب کہ وہ بدعت کی شرعی تعریف پر پورا اترے۔ اگر اس تعریف پر پورا ہی نہ اترے تو لغوی طور پر بدعت کے نام سے موسوم کر دینا، اسے شرعی بدعت تو نہیں بنا سکتا۔
    بالکل ایسے ہی جیسے ضعیف یا موضوع حدیث کو بھی "حدیث" کہہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کی نسبت ہی جب ثابت نہیں تو موضوع کے ساتھ "حدیث" کہنا چہ معنی دارد؟ آپ کی طرح کا کوئی جاہل وہاں بھی یہی شور مچائے گا کہ دیکھو لفظ حدیث موجود ہے اور حدیث کہتے ہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو ہیں، لہٰذا یہ حدیث ثابت ہے۔
    تو وہی الٹی کھوپڑی اور اوپر سے بغض بھری سمجھ، آپ کو یہاں وہ دکھا رہی ہے، جو موجود ہی نہیں۔ لہٰذا موتو بغیظکم

    اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول میں ایک لفظ کو لے کر شور مچانے والوں کو جب ان کی اپنی کتب سے تحریف قرآن کی، ائمہ معصومین سے مروی، صحیح و مستند بلکہ متواتر روایات دکھائی جاتی ہیں تو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ایک سے ایک دور دراز ناممکن توجیہات و تاویلات تلاش لاتے ہیں۔ اور ہم اگر جائز تاویل اور درست توجیہہ بھی پیش کر دیں تو آپ کو قبول نہیں۔ سبحان اللہ۔
     
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 27، 2013 #33
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    پھر وہی اپنے مولوی کا لکھا ہوا کاپی پیسٹ بھائی آپ کبھی اصل احادیث کی طرف بھی رجوع کرلیا کیجئے لیجئے میں ہی پیش کئے دیتا ہوں نماز تراویح کے حوالے سے صحیح بخاری کی حدیث اس میں رسول اللہﷺکی نماز تراویح کی پوری کفیت بیان کی گئی ہے اور آخر میں فائنلی رسول اللہﷺ کا ارشاد بھی موجود ہے کہ اس نماز تراویح کو کس طرح ادا کرنا ہے
    ترجمہ داؤد راز
    ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ' انہوں نے کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی ' انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ' کہا ہم سے موسیٰ ابن عقبہ نے بیان کیا ' کہا میں نے ابو النضر سے سنا ' انہوں نے بسر بن سعید سے بیان کیا ' ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدنبوی میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور رمضان کی راتوں میں اس کے اندر نماز پڑھنے لگے پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے تو ایک رات آنحضرت کی آواز نہیں آئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنگار نے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لائے ' پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں ' یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز تراویح فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہے۔

    رسول اللہﷺ کی نماز تراویح کی کیفیت
    رسول اللہﷺ نے ایک رمضان میں مسجد نبوی میں ایک حجرہ بنالیا اس حجرے کی دیواریں چھوٹی تھیں اس لئے جب آپ اپنے اس حجرے میں اکیلے نماز تراویح ادا کررہے ہوتے تو آپﷺ حالت قیام میں لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے نظر آتے(یہاں ایک بات یاد رہے کہ یہ حجرہ جو آپﷺ نے مسجد نبوی میں بنایا اس کی وہی کفیت تھی جو فی زمانہ اعتکاف میں بیٹھنے والے مسجد میں بنا لیتے ہیں ) جب اپنے حجرے میں آپﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے لوگوں نے دیکھا تو وہ آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے جبکہ آپ ﷺ نے لوگوں کو اس کا حکم نہیں دیا تھا ( یہاں یہ بات یاد رہے کہ آپﷺ نے نماز تراویح اپنے حجرے میں ادا کی نہ کہ فی زمانہ رائج نماز تراویح کی طرح فرض نماز کے مصلے پر ) اس حدیث کے مطابق یہ کیفیت پورے رمضان نماز پڑھنے کی نہیں رہی بلکہ دو یا تین دن اس کے بعد رسول اللہﷺ جان بوجھ کر اس طرح اپنےاس حجرے میں نہیں پڑھی اس ڈر سے کہ کہیں لوگوں پر نماز تراویح فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو لوگ ایسے قائم نہیں رہ سکیں گے پھر اس کے بعد جو رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا وہ کوئی مولوی بیان نہیں کرتا رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
    پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو


    ایسی ارشاد کی بنیاد پر جب پہلے پہل حضرت عمر نے نماز تراویح پورے رمضان فرض نماز کے مصلے پر رائج کی تو ایسے دیکھ کر فرمایا کہ"یہ بدعت حسنہ ہے " کیونکہ رسول اللہﷺ کا واضح ارشاد پاک ہے کہ نماز تراویح گھر میں پڑھی جائے
    والسلام
     
  4. ‏دسمبر 27، 2013 #34
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    وہی الٹی سمجھ۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن مسجد نبوی میں نماز پڑھائی نا؟ تو یہ سنت ہوئی کہ نہیں!!!؟
    اس کے بعد مسجد میں نماز نہ پڑھنے پڑھانے کی وجہ بھی اسی حدیث میں موجود ہے کہ کہیں یہ نماز فرض نہ ہو جائے۔ اس لئے ارشاد فرمایا کہ یہ نماز اپنے اپنے گھروں میں ادا کرو۔

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ مانع تو تھا نہیں کہ اب یہ نماز فرض کر دی جائے گی۔ لہٰذا انہوں نے متفرق ائمہ کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کو ایک امام کے پیچھے یکجا کر دیا، بالکل ویسے ہی جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن نماز پڑھائی تھی، ویسے ہی نماز کی ادائیگی ہونے لگ گئی۔

    لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر تہمتیں لگانے والے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور فقط ایک امام کے پیچھے لوگوں کو یکجا کرنے کے فعل کی مذمت کرتے وقت اپنی کتب اور اپنے ائمہ کی ان عبارتوں، متواتر حدیثوں کو بھی ضرور یاد رکھیں جو انہوں نے قرآن کی آیات گھڑنے ، قرآن کو محرف ثابت کرنے، آیات کی کمی بیشی، آیات کی تقدیم و تاخیر کے ضمن میں بیان کر کے ہمیشہ کے لئے روافض کے منہ پر کالک مل رکھی ہے۔ دوسروں کی آنکھ میں خوردبین لگا کر تنکا ڈھونڈنے والے اپنے تار تار دامن کی عریانی پر بھی نظر رکھیں تو اپنے جرم کی غلاظت اور اس کی سڑاند سے انہیں خود ہی گھن آنے لگے گی۔ ہاں غیرت کی تھوڑی سی مقدار کا ہونا شرط ہے۔
     
    • متفق متفق x 3
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 27، 2013 #35
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    مسجد میں فرض نماز کے مصلے پر نہیں پڑھائی بلکہ اپنے حجرے میں آپﷺ نماز اکیلے ادا فرمارہے تھے تو لوگ آپ کی اقتداء میں نماز پڑھنے لگے پھر جب یہ کیفیت ملاحظہ فرمائی تو آپ نے اپنے حجرے میں بھی نماز تراویح پڑھنا ترک کردیا اور آخر میں یہی ارشاد فرمایا کہ
    پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو

    لیجئے ایک اور دلیل حاضر ہے
    حدثنا عبد الأعلى بن حماد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثنا وهيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثنا موسى بن عقبة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن سالم أبي النضر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن بسر بن سعيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن زيد بن ثابت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ حجرة ـ قال حسبت أنه قال ـ من حصير في رمضان فصلى فيها ليالي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فصلى بصلاته ناس من أصحابه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما علم بهم جعل يقعد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فخرج إليهم فقال ‏"‏ قد عرفت الذي رأيت من صنيعكم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فصلوا أيها الناس في بيوتكم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإن أفضل الصلاة صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة ‏"‏‏.‏ قال عفان حدثنا وهيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا موسى،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ سمعت أبا النضر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن بسر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن زيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏
    صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 731

    ترجمہ داؤد راز
    ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ابوالنضر سالم سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے، لیکن لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو۔ مگر فرض نماز (مسجد میں پڑھنی ضروری ہے) اور عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوالنضر ابن ابی امیہ سے سنا، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے، وہ زید بن ثابت سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
     
  6. ‏دسمبر 28، 2013 #36
    محمد نعمان مسعود

    محمد نعمان مسعود رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2013
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    181
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    بھائی اس رافضی کا بغض وقت کے ساتھ واضح ہو گیا ہے اور اس کے سوال بھی برائے تنقید و تنقیص ہوتے ہیں میرے خیال میں اس سے اپنے سوالوں کے جواب مانگے جائیں جو وہ اب تک نہیں دے سکا اور اگر پھر بھی وہ روائیتی دھوکے بازی اور تقیہ سے کام لے تو فورم میں اس کو بین کر دینا چاہیے -
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 28، 2013 #37
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,952
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نہ ہی بھائی فورم میں ان کا اکاونٹ بین نہیں کرنا چاھیے ہمارا کام حق لوگوں تک پہچانا ہے ھدایت اللہ سبحان و تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں وہ ھدایت اس ہی کو دیتا ہے جس کو طلب ہوتی ہے-
     
  8. ‏دسمبر 28، 2013 #38
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    الحدیث یفسر بعضہ بعضا۔ پہلی حدیث جو آپ ہی نے پیش کی۔ اس کے یہ الفاظ بھی آپ ہی نے ہائی لائٹ کئے تھے۔
    لہٰذا۔ ہمارا مؤقف اور آپ کا بغض دونوں ثابت۔ باقی نفرت تو انسان کو اندھا کر ہی دیتی ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جمع کردہ قرآن کو جب آپ کے اکابرین نے محفوظ نہ مانا اور بغض صحابہ میں قرآن تک کی تحریف پر متفق ہو گئے، تو ایک نفل نماز کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏دسمبر 28، 2013 #39
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    حضرت عمر رضی عنہ نے " باجماعت تراویح کو بدعت حسنہ " اس لئے قرار دیا کہ کہ یہ عمل اس سے پہلے اِس انداز میں نہیں ہوا تھا- لہٰذا یہ بدعتِ لغوی ہے بدعتِ شرعی نہیں ہے کیونکہ بدعتِ شرعی وہ گمراہی ہوتی ہے جو دلیل شرعی کے بغیر سر انجام دی جائے۔ جیسے میلاد ، تیجہ ، چالیسواں وغیرہ -یعنی وہ بدعت جو قرآن و سنت، اجماع اور بعض اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال کے خلاف ہو تو وہ بدعت ضلالہ ہے۔ اور جو بدعت ان تمام چیزوں (یعنی قرآن و سنت، اجماع اور اثر صحابہ) میں سے کسی کے مخالف نہ ہو تو وہی بدعت حسنہ ہے۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ''نعمت البدعۃ ہذہ''- اور اس بات کی تصدیق نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم کے فرمان سے ہوتی ہے -جس میں آپ نے ،فرمایا کہ میری امّت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی -تمام جہنّم میں ہونگے صرف ایک فرقہ جنّت میں جائے گا - صحابہ کرام نے پوچھا کہ وہ کون سا خوش نصیب فرقہ ہوگا- نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم نے فرمایا کہ جو میرے اور میرے صحابہ کی سنّت پر عمل پیرا ہو گا" - مطلب یہ کہ صحابہ کرام کا اجتہاد بھی تمام امّت کے لئے اسی طرح حجت ہے جیسا کہ نبی کریم نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم کی سنّت مبارکہ تمام امّت کے لئے حجت رکھتی ہے- اگر صحابہ کا عمل حجت نہ ہوتا تو آپ صل الله علیہ و آ لہ وسلم صرف یہ کہتے کہ جو صرف میری سنّت پر عمل پیرا ہوگا وہی جنّتی ہو گا - صحابہ کرام رضوان اللہ اجمین چوں کہ نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم سے براہ راست تعلیم یافتہ تھے - اس لئے آپ نے خوصوصی طور پراپنے صحابہ کرام کے اعمال وافکار کوبھی امّت مسلمہ کے لئے خیر و برکت کا موجب قرار دیا -

    نبی کریم نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے پس تم پر لازم ہے کہ تم میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو پکڑے رہو اور اسے نواجذ (ڈاڑھوں) سے محفوظ پکڑ کر رکھو اور دین میں نئے امور نکالنے سے بچتے رہو کیونکہ ہرنئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔[سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر ١٢١٩، سنت کا بیان :سنت کو لازم پکڑنے کا بیان] - مطلب یہ کہ خلفائے راشدین رضوان الله اجمین سے بدعت کا ظہور ممکن نہیں - ورنہ حدیث میں خلفائے راشدین کا خوصوصی ذکر اور پھر ان کی سنّت پر عمل کے حکم نبوی کی کیا حثیت رہ جاتی ہے -

    والسلام -
     
  10. ‏دسمبر 28، 2013 #40
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    حضرت عمر نے تراویح کی نماز پڑھتے ہوئے لوگوں کے دیکھ کر یہ نہیں فرمایا کہ یہ بدعت لغوی ہے بلکہ فرمایا یہ بدعت حسنہ ہے جب کہ آپ کے نزدیک بدعت حسنہ ہوتی ہی نہیں اور جو بات حضرت عمر نے نہیں کہی ایسے آپ حضرات زبردستی حضرت عمر کی طرف نسبت دے رہیں

    اور جو آپ کے نزدیک بدعت ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا کہ میلاد ، تیجہ ، چالیسواں ان میں کیا ہوتا ہے سوائے اس کے کہ لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا جو رسول اللہﷺ کے ارشاد کے مطابق " کھانا کھلانا اسلام ہے "
    یہ تو الٹی گنگا ہی بہا دی کہ نماز تراویح رسول اللہﷺ کے حکم کے مطابق گھر پر ادا کرنی چاہئے اس فرمان کی مخالفت کرتے ہوئے مسجد میں با جماعت پڑھنا آپ کے نزدیک بدعت لغوی اور جس کام یعنی کھانا کھلانا کو رسول اللہﷺ اسلام اور ایمان کہیں وہ عمل بدعت شرعی غور فرمائیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں