1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یزیدؒ بن معاویہ ؓ سے متعلق اہلحدیث کا متفّقہ مؤقف؟

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏ستمبر 24، 2018۔

  1. ‏ستمبر 24، 2018 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    821
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    یزیدؒ بن معاویہ ؓ سے متعلق اہلحدیث کا متفّقہ مؤقف؟


    تحریر : صالح حسن

    کچھ دن قبل ہمیں ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کا موقع ملا جس میں گوجرانوالہ کے ایک مولوی صاحب فرما رہے ہیں کہ اہل الحدیث کا یزید کے بارے میں یہ ایک اتفاقی مؤقف ہے کہ یزید ظالم اور فاسق بادشاہ تھا ، حسینؓ اور ان کے گھر والوں کی شہادت کا ذمہ دار، واقعہ حرّہ میں 700 صحابہ ؓ اور بے شمار تابعین کی شہادت کا ذمہ دار اور حرمین شریفین کی توہین کرنے والا ہے۔

    ان مولوی صاحب کے دعویٰ میں جن باتوں کو اہلحدیث کا اتفاقی مؤقف قرار دیا گیا ہے وہ یہ ہیں:
    1۔ یزید ظالم اور فاسق بادشاہ تھا۔

    2۔ سیّدنا حسینؓ اور ان کے اہل یت کی شہادت کا ذمہ دار۔

    3۔ واقعہ حرّہ میں 700 صحابہ اور بے شمار تابعین کی شہادت کا ذمہ دار ۔

    4- حرمین شریفین کی توہین کرنے والا ہے۔

    سب سے پہلے تو ہم اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ علماء اہل حدیث میں یزیدؒ کی شخصیت کو لے کرکوئی اتفاقی مؤقف ہرگز موجود نہیں نہ ہی ماضی میں کبھی اس پر کوئی اتفاق ہوا اور نہ ہی موجودہ دور میں علماء اہل حدیث کسی ایک مؤقف پر متفق ہو سکے بلکہ واقعہ کربلا اور شخصیت یزیدؒ کو لے کر ہمیشہ سے ہی علماء اہل حدیث دو مختلف آراء رکھتے ہیں ۔ ایک گروہ یزیدؒ کو انہی بعض الزامات سے متصف سمجھتا ہے جبکہ دوسرا گروہ ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور یزیدؒ کو ان الزامات سے بری سمجھتے ہوئے ان کا دفاع کرتا رہا ہے۔

    دعویٰ نمبر-1:یزید فاسق بادشاہ تھا


    ان دونوں گروہوں میں سے پہلے گروہ میں سے اکثر علماء نے متاخرین علماء پر اعتماد کرتے ہوئے یزید سے متعلق فسق و فجور کے اقوال نقل کیئے ہیں جبکہ ان الزامات کی تردید کرنے والوں نے ان اقوال سے آگے بڑھ کر خود ان الزامات کی تحقیق کی ہے ۔وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یزیدپر فسق و فجور کے الزامات صرف اتہامات ہی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ افسانے یزیدؒ کی شخصیت کو داغ دار کرنے کے لیئے سبائیوں نے گھڑے ہیں۔ محرم الحرام میں یزید کے فسق و فجور کے افسانے سنانے والے خطباء عوام کو خوش کرنے اور ان کی داد وصول کرنے کے لیئے یزید کو ایک آسان حدف کے طور پر ٹارگٹ کرتے ہیں کیونکہ عوام الناس جس ماحو ل کا حصہ ہیں ان کا ذہنی و قلبی میلان انہی باتوں کو سننے پر آمادہ رہتا ہے اگر اس سے ہٹ کر کچھ پیش کیا جائے تو بڑے بڑے خطباء و علامہ فہامہ کہلانے والے حضرات کو دفاعی پوزیشن پر جا کر خود اپنی ذات کا دفاع کرنا پڑ سکتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے دشمنِ اہل بیت ، یزیدی، گستاخ وغیرہ کے سرٹیفیکیٹ بھی ملیں گے اور ہو سکتا ہے اگلی بار جناب کو جلسے کے لیئے اسٹیج بھی میسّر نہ آ سکے۔ بلکہ قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان سب باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کون یہ مصیبت مول لے اور حق بیان کرنے کے چکر میں اپنی روزی روٹی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے؟ اس لیئے عافیت اسی میں سمجھی جاتی ہے کہ وہی کہا جائے جو لوگ سننا چاہتے ہیں۔ لوگ بھی خوش ،مولوی صاحب بھی خوش۔

    فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
    " عشرۂ محرم میں دستور و رواج ہے کہ شیعی اثرات کے زیرِ اثر واقعاتِ کربلا مخصوص رنگ اور افسانوی و دیومالائی انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ شیعی ذاکرین تو اس ضمن میں جو کچھ کرتے ہیں وہ عالم آشکارا ہے، لیکن بدقسمتی سے بہت سے اہل سنت کے واعظان خوش گفتار او خطیبان سحر بیان بھی گرمیٔ محفل اور عوام سے داووتحسین وصول کرنے کے لیئے اسی تال سر میں ان واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں جو شیعیت کی مخصوص ایجاد اور ا ن کی انفرادیت کا غماز ہے۔"[رسوماتِ محرم الحرام اور سانحۂ کربلا ص 10]

    اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ عبدالسلام رحمانی ؒ لکھتے ہیں:
    " اب تو صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ محرم کا مہینہ شروع ہوتے ہی حادثۂ کربلا کی یاد شروع ہو جاتی ہے ، اسٹیج بجنے لگتے ہیں اور شیعوں وخرافیوں ہی کے حلقے میں نہیں بلکہ خرافات سے خود کو مستثنیٰ سمجھنے والوں کے حلقوں میں بھی بڑا زور شور پیدا ہو جاتاہے اور بڑے بڑے ثقہ حضرات تک فضائل محرم وحادثۂ کربلا و شہیدِ کربلا سے متعلق بے سرو پا روایات کو پورے زور و قوت کے ساتھ بیان کرتے نظر آتے ہیں اور پورا عشرہ تقاریر کا سلسلہ چلتا ہے اور وعظ و بیان کی محفلیں جمتی ہیں۔ ان کی بلا سے روایات بے بنیاد ہوں اور بیان خلافِ تحقیق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی اس موضوع پر تحقیقی معلومات سے عموماً عاری ہوتے ہیں۔ وہ حضرات حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے معاملہ میں جذبات کا شکار ہوتے ہوں اور فضائلِ محرم و یومِ عاشوراء کی بابت بے بنیاد روایتوں کو صحیح اور حقیقت سمجھتے ہیں۔ " [ محرم الحرام و مسئلہ سیّدنا حسین و یزید ص9،8 ]

    اہلحدیث کے اتفاقی مؤقف میں سب سے پہلے جو چیز پیش کی گئی وہ یزید کا فاسق ہونا ہے۔ یعنی علماء اہلحدیث کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یزید فاسق تھا۔ اس دعویٰ میں کتنی صداقت ہے آئیے دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ یزید کے متعلق تمام اہل سنّت سمیت اہلحدیث میں بھی دو گروہ پائے جاتے ہیں اس لیئے یزید کے فسق و فجور کے افسانوں کے متعلق بھی دو ہی گروہ ہیں۔ ایک ان پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتا ہے جب کہ خود تحقیق کرنے والے یزید کے فسق و فجور کی تردید کرتے ہیں۔ ا س سلسلہ میں چند علماء اہلحدیث کی تصریحات ملاحظہ کیجیے۔

    مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانیؒ لکھتے ہیں:
    " رابعاً: اگر آپ( حسینؓ) کے نزدیک یزید مسلمان نہیں تھا یا اس کو لعنتی اور فاسق و فاجر گردانتے تھے یا اس کو حکومت کا اہل نہیں سمجھتے تھے، تو اس کے پاس جا کر اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کے لیئے کیوں تیار ہو گئے تھے۔یزید کے ہاں جانے کے مطالبے سے یہ بھی ثابت ہو ا کہ حضرت اس کو نہ اپنا دشمن جانتے تھے، نہ ظالم و سفاک ، بلکہ آپ کو اس سے حسنِ سلوک کی توقع تھی۔ " [ آثارِحنیف بھوجیانی ؒ :2/418 ]


    شیخ عبدالسلام رحمانی ؒ لکھتے ہیں:
    " یزید کے فسق و فجو رکی من گھڑت و موضوع داستانیں تو مسلّمہ حقائق کی طرح بیان کی جاتی ہیں لیکن حضرت علی ؓ کے صاحبزادے حضرت محمد (جو ابن الحنفیہ کے نام سے معروف ہیں) کی یہ شہادت ان حلقوں میں کسی طرح قبول و مسموع نہیں ہو رہی ہے جسے علامہ ابن کثیر ؒ نے البدایہ والنہایہ ج۸ ص۲۳۳ میں نقل کیا ہے۔ " [ محرم الحرام و مسئلہ سیّدنا حسین و یزید ص 82 ]

    اس کے بعد مصنف نے محمد بن حنفیہ ؒ سے یزید کے فسق و فجور کی تردید میں روایت نقل کی ہے ۔

    فضیلۃ الشیخ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
    " رہی بات یزیدرحمہ اللہ کے فسق و فجور کے افسانوں کی ، تو یہ بھی یکسر غلط ہے ۔ " [ رسوماتِ محرم ا لحرام ص 32 ]

    مزید لکھتے ہیں :
    " کیونکہ عام ذہن یہ بنا دیا گیا ہے کہ یزید بہت بُرا شخص تھا ، خانوادۂ رسول کا دشمن تھا اور دنیا جہاں کی خرابیاں اس میں جمع تھیں ۔ اس فضا میں کون شخص حقیقت سے پردہ اٹھانے کی ہمت کر سکتا ہے؟ " [ رسوماتِ محرم ا لحرام ص 35 ]

    مزید لکھتے ہیں :
    " لیکن جہاں تک سانحہ کربلا کا تعلق ہے اس پر ساری قلمرد میں کوئی عمومی ردِ عمل ظاہر نہیں ہوا نہ اس حادثۂ الیمہ کے باعث یزید کو "ظالم و قاتل اور فاسق و فاجر" قرار دے کر اس کے خلاف کسی نے بھی خروج کو جائز سمجھا' گو ذاتی قلق اس کا کیسا بھی شدید رہا ہو۔ " [ رسوماتِ محرم ا لحرام ص 40 ]

    مشہور اہل حدیث عالم شیخ الحدیث حافظ عبدالمنان نورپوریؒ سے سوال ہوا:
    " س : یزید کے متعلق اہل حدیث کا کیا مؤقف اور نظریہ ہے کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔۔ کہتے ہیں کہ یزید شراب پیتا تھا ور اچھے کام نہیں کرتا تھا؟
    ج: مومن اور مومنوں کا حکمران کئی صحابہؓ نے بھی ان کی بیعت کی ہوئی تھی۔ " [ قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل ج1ص 479 ]

    شیخ عبدالمنان نورپوریؒ نے اس فتویٰ میں صرف اپنا مؤقف بیان نہیں کیا بلکہ ان سے جماعتِ اہلحدیث کا مؤقف دریافت کیا گیا ہے جس میں انہوں نے یزید پر فسق و فجور کے الزامات کو رد کرتے ہوئےمومن اور مومنوں کا حکمران قرار دیا ہے۔آج بھی شیخ نورپوری ؒ کے اکثر شاگردوں کا یہی مؤقف ہے۔

    مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی (بانی و سابق چیف ایڈیٹر ماہنامہ ضیائے حدیث ) لکھتے ہیں:
    " مگر ان سب باتوں کے باوجود وہ (یزید) ایسا بھی نہیں تھا جیسے ناروا پروپیگنڈے نے مشہور کر رکھا ہے کہ وہ زانی و شرابی اور فاسق و فاجر تھا۔ " [سیرتِ حسینؓ مع سانحہ کربلا ص 235 ]

    مزید لکھتے ہیں :
    " آپ (حسینؓ) نے یزید کو فاسق، فاجر ،بے دین، زانی اور شرابی وغیرہ کبھی نہیں سمجھا نہ کہا ۔ اس سلسلہ میں کوئی معتبر حوالہ نہیں پیش کیا جا سکتا ۔ " [ ایضاً ص 227 ]

    آگے لکھتے ہیں :
    " یزید میں کوئی شرعی عیب اور نقص بھی نہیں تھا، جیسا کہ بادلائل آپ پڑھ چکے ہیں ۔ " [ ایضاً ص237 ]

    یزید میں سب برائیاں صرف اسی لیئے جمع کر دی گئیں کیونکہ اس بیچارے کے دورِ حکومت میں حسینؓ کو شہید کر دیا گیا۔ فاروقی صاحب لکھتے ہیں:
    " بدقسمتی سے یہ (شہادتِ حسینؓ کا) واقعہ اس کے دورِ حکومت میں ہوا جس کی بنا پر وہ بدنام ہو گیا، اور دنیا جہاں کے جملہ عیوب اس میں جمع ہو گئے ، اور شرابی ، زانی، کبابی، فاسق، فاجر، کافر اور پتہ نہیں کیا کیا بن گیا؟ " [ ایضاً ص 203 ]

    امام ابوبکر بن العربی (المتوفی :۵۴۳ھ) لکھتے ہیں:
    " فإن قيل. كان يزيد خمارًا. قلنا: لا يحل إلا بشاهدين، فمن شهد بذلك عليه بل شهد العدل بعدالته. فروى يحيى بن بكير، عن الليث بن سعد، قال الليث: " توفي أمير المؤمنين يزيد في تاريخ كذا " فسماه الليث " أمير المؤمنين " بعد ذهاب ملكهم وانقراض دولتهم، ولولا كونه عنده كذلك ما قال إلا " توفي يزيد "
    اگر کہا جائے ہ یزید شرابی تھا تو ہم کہتے ہیں کہ بغیر دو گواہوں کہ یہ بات ثابت نہیں ہو سکتی تو کس نے اس بات کی گواہی دی ہے؟ بلک عادل لوگوں نے تو یزید کے عدل کی گواہی دی ہے۔ چنانچہ یحییٰ بن بکیر نے روایت کیا ہے کہ امام لیث بن سعد ؒ نے کہا: امیرالمومنین یزید فلاں تاریخ میں فوت ہوئے تو یہاں پر امام لیث ؒ نے یزید کو "امیرالمومنین " کہا ہے اور وہ بھی ان کی حکومت اور ان کا دور ختم ہونے کے بعد ۔ اگر ان کے نزدیک یزید اس درجہ قابلِ احترام نہ ہوتا تو وہ صرف یوں کہتے کہ یزید فوت ہوئے تھے۔" [العواصم من القواصم ص:228 ]

    دکتورمحمد بن عبدالہادی الشیبانی یزید سے متعلق فسق و فجور کی روایات کا جائزہ لینے کے بعد لکھتے ہیں :
    " وبهذا فقد ثبت لدینا بالقرائن والدلائل التي ذکرناها أن اتهام يزید بشرب الخمر والترك الصلاۃ لم يثبت ، ولذا قال شیخ الاسلام ابن تيمة : ولم يکن يزید مظهراً للفواحش كما يحكي عنه خصومه "
    " مذکورہ بالا قرائن ودلائل کے ساتھ ہمارے نزدیک یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ یزید پر شراب نوشی اور ترکِ نماز کی تہمت ثابت نہیں ہے۔اسی لیئے امام ابن تیمیہ نے فرمایا ہے کہ وہ فواحش کا اعلانیہ مرتکب نہیں تھا جیسے کہ اس کے دشمن اس کے متعلق بیان کرتے ہیں ۔ " [ مواقف المعارضة في عهد يزيد بن معاويةص 486 ]

    یزید کے فسق و وفور کے افسانے انہی الزاما ت کی بنیاد پر ہیں کہ وہ زانی ، شرابی وغیرہ تھا لیکن محققین علماء نے ان الزامات کو جھوٹی و من گھڑت روایات کی بنیاد پر یکسر مسترد کر دیا ہے ۔یزید کے شرابی یا تارک صلوٰۃ ہونے کی کوئی ایک بھی روایت پأیہ ثبوت کو نہیں پہنچتی بلکہ ایسی تمام روایات جھوٹی و من گھڑت ہیں جن کے راوی سخت ضعیف بلکہ کذاب بھی ہیں۔یزید سے متعلق ان روایات کی تحقیق " مواقف المعارضة في عهد يزيد بن معاوية اور " یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ " [ ص: 733-743 ]
    پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

    حافظ زبیر علی زئی مرحوم یزید مخالف ہونے کے باوجود لکھتے ہیں:

    " ہمارے نزدیک تو یہ روایت ہی ثابت نہیں لہذا ا یزید بن معاویہ کا شرابی ہونا یا تارکِ صلوٰۃ ہونا ثابت ہی نہیں۔ " [ ماہنامہ الحدیث :شمارہ:107 ص 15 ]

    ہم نے یزید کے فاسق و فاجر ، زانی و شرابی وغیرہ ہونے کی تردید بالکل اختصار کے ساتھ چند علماء اہلحدیث کی زبانی پیش کر دی ہیں۔ ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہو چکی کہ یزید کو فاسق و فاجر سمجھنا اہر گز اہل حدیث کا اتفاقی مؤقف نہیں بلکہ متعدد علماء اہلحدیث نے ان الزامات کی زبردست تردید کر رکھی ہے۔

    امام ابن كثير رحمہ الله (المتوفى774)نے کہا :
    " جب اہل مدینہ کے یزید کے پاس سے واپس آئے تو عبداللہ بن مطیع اوران کے ساتھی محمدبن حنفیہ کے پاس آئے اوریہ خواہش ظاہر کی کہ وہ یزید کی بیعت توڑدیں لیکن محمدبن حنفیہ نے ان کی اس بات سے انکار کردیا ، تو عبداللہ بن مطیع نے کہا: یزیدشراب پیتاہے ، نماز چھوڑتاہے کتاب اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تو محمدبن حنفیہ نے کہا کہ میں نے تو اس کے اندر ایسا کچھ نہیں دیکھا جیساتم کہہ رہے ہو ، جبکہ میں اس کے پاس جاچکاہوں اوراس کے ساتھ قیام کرچکاہوں ، اس دوران میں نے تو اسے نماز کا پابند، خیرکا متلاشی ، علم دین کاطالب ، اورسنت کا ہمیشہ پاسدار پایا ۔ تولوگوں نے کہاکہ یزید ایسا آپ کو دکھانے کے لئے کررہاتھا ، تو محمدبن حنفیہ نے کہا: اسے مجھ سے کیا خوف تھا یا مجھ سے کیا چاہتاتھا کہ اسے میرے سامنے نیکی ظاہرکرنے کی ضرورت پیش آتی؟؟ کیا تم لوگ شراب پینے کی جوبات کرتے ہو اس بات سے خود یزید نے تمہیں آگاہ کیا ؟ اگرایسا ہے تو تم سب بھی اس کے گناہ میں شریک ہو ، اوراگر خود یزید نے تمہیں یہ سب نہیں بتایا ہے تو تمہارے لئے جائز نہیں کی ایسی بات کی گواہی دو جس کا تمہیں علم ہی نہیں ۔ لوگوں نے کہا: یہ بات ہمارے نزدیک سچ ہے گرچہ ہم نے نہیں دیکھا ہے ، تو محمدبن حنفیہ نے کہا: اللہ تعالی نے اس طرح گواہی دینے کوتسلیم نہیں کرتا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ’’جو حق بات کی گواہی دیں اورانہیں اس کا علم بھی ہو‘‘ ، لہذا میں تمہاری ان سرگرمیوں میں کوئی شرکت نہیں کرسکتا ، تو انہوں نے کہا کہ شاید آپ یہ ناپسندکرتے ہیں کہ آپ کے علاوہ کوئی اورامیر بن جائے توہم آپ ہی کو اپنا امیربناتے ہیں ، تو محمدبن حنفہ نے کہا: تم جس چیز پرقتال کررہے ہو میں تو اس کوسرے سے جائز نہیں سمجھتا: مجھے کسی کے پیچھے لگنے یا لوگوں کو اپنے پیچھے لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے ، لوگوں نے کہا: آپ تو اپنے والد کے ساتھ لڑائی لڑچکے ہیں؟ تو محمدبن حنفیہ نے کہا کہ پھر میرے والد جیسا شخص اورانہوں نے جن کے ساتھ جنگ کی ہے ایسے لوگ لیکر تو آؤ ! وہ کہنے لگے آپ اپنے صاحبزادوں قاسم اور اورابوالقاسم ہی کو ہمارے ساتھ لڑائی کی اجازت دے دیں ، محمدبن حنفیہ نے کہا: میں اگران کا اس طرح کا حکم دوں تو خود نہ تمہارے ساتھ شریک ہوجاؤں ۔ لوگوں نے کہا : اچھا آپ صرف ہمارے ساتھ چل کرلوگوں کو لڑالی پر تیار کریں ، محمدبن حنفیہ نے کہا: سبحان اللہ ! جس کو میں خود ناپسندکرتاہوں اوراس سے مجتنب ہوں ، لوگوں کو اس کا حکم کیسے دوں ؟ اگر میں ایسا کروں تو میں اللہ کے معاملوں میں اس کے بندوں کا خیرخواہ نہیں بدخواہ ہوں ۔ وہ کہنے لگے پھر ہم آپ کو مجبورکریں گے ، محمدبن حنفیہ نے کہا میں اس وقت بھی لوگوں سے یہی کہوں گا کہ اللہ سے ڈرو اورمخلوق کی رضا کے لئے خالق کوناراض نہ کرو۔ "[ البداية والنهاية: 8/ 2، [تاريخ الإسلام للذهبي: 5/ 2744 ]

    محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے یزید سے متعلق ان فسق و فجور کی اڑائی گئی تمام افواہوں کی تردید کر دی اور ایسی باتیں کرنے والوں سے اپنی بات کی دلیل اور سچائی کا ثبوت طلب کیا تو ان کے پاس اس کا جواب نہیں تھا ۔ یہ الزامات بعض مخالفین کی طرف سے بغیر تحقیق کے سنی سنائی باتوں اور افواہوں کے زیرِ اثر مشہور کی گئی تھیں جس کا ان لوگوں کے پاس کوئی ثبوت یا گواہ بھی موجود نہیں تھا حالانکہ یہ افواہیں پھیلانے والے اس دور میں یزید کی زندگی میں ہی اس کی تحقیق کر کے گواہ بھی پیش کر سکتے تھے لیکن ان باتوں میں کوئی سچائی ہوتی تو ایسا ممکن ہوتا۔

    ایسی باتیں مخالفین ہی کرتے ہیں لیکن سیدنا حسینؓ جنہوں نے یزید کی بیعت نہیں کی اور اس سے اختلاف کیا ، انہوں نے اپنی پوری تحریک کے دوران کبھی یزید کو فاسق و فاجر ، زانی و شرابی نہیں کہا ۔ اس حوالے سے پوری تاریخ اسلامی میں کوئی روایت بھی موجود نہیں کہ جس میں حسینؓ نے یزید پر اس طرح کا کوئی الزام عائد کیا ہو۔ اہلحدیث کا اتفاقی مؤقف پیش کرنے والے کوشش کریں اور ایسی کوئی روایت مع سند و متن ہمیں فراہم کر دیں ہم شکریہ کے ساتھ قبول کریں گے۔ لیکن اگر ایسی کوئی روایت نہیں ملتی اور ملے گی بھی نہیں ان شاء اللہ ، تو یہ ماننا پڑے گا کہ حسینؓ کے نزدیک بھی یزید فاسق و فاجر نہیں بلکہ نیک و صالح حکمران تھا۔

    بعض علماء یزید کی شراب نوشی وغیرہ کے الزامات بعض ائمہ حدیث سے نقل کرتے ہیں جن میں حافظ ذہبی، حافظ ابن حجر وغیرہ ہیں اور کہتے ہیں کہ ان ائمہ محدثین نے یزید کو شرابی وغیرہ قرار دیا ہے اس پر جرح کی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ان ائمہ نے اپنے اس جرح کی دلیل نقل نہیں کی اس لیئے ان کی جرح غیر مسموع اور ناقابلِ قبول ہے.

    حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں :

    " حافظ ذہبی نے بھی عمرو بن یحییٰ کو ابن معین کی طرف غیر ثابت جرح کی وجہ سے دیوان الضعفاء المترکین (۲/۲۱۲ ت : ۳۲۲۹) وغیرہ میں ذکر کیا ہے اور اصل بنیاد منہدم ہونے کی وجہ سے یہ جرح بھی منہدم ہے ۔ " [ مقالات: 5/553 ]

    اسی طرح یزید کا شرابی ، زانی وغیرہ ہونا بھی غیر ثابت ہے اور چونکہ جرح کی بنیاد غیر ثابت ہے ، تو یہ جرح بھی کالعدم و منہدم ہے۔

    دعویٰ نمبر - 2 : سیّدنا حسینؓ اور ان کے اہل بیت کی شہادت کا ذمہ دار

    متفّقہ مؤقف میں دوسرا دعویٰ ہے کہ یزید شہادت حسینؓ کا ذمہ دار ہے۔ اس دعویٰ کو بھی متفّقہ ہونے کے لیئے ضروری ہے کہ علماء اہلحدیث کے درمیان اس مسئلہ پر بھی کوئی اختلاف نہ پایہ جائے بلکہ سب ایک پیج پر ہوں۔

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    " وَلَمْ يَكُنْ يَزِيدُ أَمَرَهُمْ بِقَتْلِهِ وَلَا ظَهَرَ مِنْهُ سُرُورٌ بِذَلِكَ وَرِضًى بِهِ بَلْ قَالَ كَلَامًا فِيهِ ذَمٌّ لَهُمْ "
    " یزید نے انہیں قتل حسین ؓ کا حکم نہیں دیا تھا نہ اس پر اس نے خوشی و رضا کا ظہار کیا بلکہ ایسی بات کہی جس میں ان کی مذمت تھی ۔ " [ مجموع الفتاوى:4/505 ]

    معروف اہلحدیث عالم ، مدرسۂ شیخ الکل سیّد نزیر حسین محدث دہلویؒ کے صدر المدرّسین شیخ الحدیث ابو الزبیر محمد یونس دہلویؒ لکھتے ہیں :
    " حضرت امام حسینؓ بموجب حدیث من قتل دون ماله وفی روایه دون عرضه بے شک شہید ہیں مگر ان کی شہادت سے یزید کو کیا واسطہ۔یزید نے ابن زیاد کو نہ تو قتلِ حسینؓ کا حکم دیا تھا نہ قید کرنے کا ۔ " [ واقعہ کربلا از ابولمکارم ص 25 ]

    فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں :
    " محققین علماء اہل سنّت نے یزید پر سب و شتم کرنے سے بھی روکا ہے اور اسی ضمن میں اس امر کی صراحت بھی کی ہے کہ یزید کا قتلِ حسینؓ میں نہ کوئی ہاتھ ہے نہ اس نے کوئی حکم دیا اور نہ اس میں اس کی رضامندی ہی شامل تھی۔ " [ رسومات محرم الحرام ص 30،31 ]

    اسی طرح کے اور حوالے بھی دیئے جا سکتے ہیں لیکن فی الحال ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ مولوی صاحب کے اس دوسرے دعویٰ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیئے یہ کافی ہے ۔ یعنی یزید کو قتلِ حسینؓ کا ذمہ دار سمجھنا اہل حدیث کا ہرگز متفقّہ مؤقف نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ شہدائے کربلا کے لواحقین میں سے کسی نے بھی یزید کو قتلِ حسینۥ کا ذمہ دار قرار نہیں دیا نہ ہی کسی نے قصاص کا مطالبہ کیا جس طرح سیّدنا عثمانؓ کے لیئے کیا گیا تھا۔


    دعویٰ نمبر - 3 : واقعہ حرّہ میں 700 صحابہ اور بے شمار تابعین کی شہادت کا ذمہ دار
    اس سلسلہ میں مولوی صاحب نے کوئی روایت پیش نہیں کی نہ ہی علماء اہلحدیث میں سے کسی سے ان روایات کی توثیق پیش کی ہے۔ اس کو متفّقہ مؤقف کہنے سے پہلے مولوی صاحب ان علماء اہلحدیث کے نام مع حوالہ پیش کریں جنہوں نے 700 صحابہ ؓ کے قتل کی کسی روایت کی توثیق کی ہو۔ اس کے بعد ہم ان روایات کی حیثیت بھی ان شاء اللہ واضح کر دیں گے۔ اس وقت تک یہ دعویٰ ایک جھوٹ ہی ہے۔


    دعویٰ نمبر- 4 : حرمین شریفین کی توہین کرنے والا

    مولوی صاحب کا اشارہ شاید خانہ کعبہ میں آگ لگنے کے واقعہ کی طرف ہے تو اس کے لیئے امام ابن تیمیہ ؒ کی وضاحت ہی کافی ہے۔

    امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
    " وأما ملوك المسلمين من بني أمية وبني العباس ونوابهم فلا ريب أن أحدا منهم لم يقصد أهانة الكعبة لا نائب يزيد ولا نائب عبد الملك الحجاج بن يوسف ولا غيرهما بل كان المسلمين كانوا معظمين للكعبة وإنما كان مقصودهم حصار ابن الزبير والضرب بالمنجنيق كان له لا للكعبة ويزيد لم يهدم الكعبة ولم يقصد إحراقها لا وهو ولا نوبه باتفاق المسلمين۔ "
    " جہاں تک مسلم بادشاہوں بنوامیہ ، بنوعباس اوران کے نائبین کی بات ہے تو بلاشبہہ ان میں سے کسی ایک نے بھی خانہ کعبہ کی اہانت کبھی نہ کی ، نہ تو یزید کے نائب نے نہ عبدالملک الحجاج بن یوسف کے نائب نے ، اورنہ ہی ان کے علاوہ کسی نے ، بلکہ مسلمان تو ہمیشہ سے کعبہ کی تعظیم ہی کرتے آئے ہیں ، ان میں سے بعض کا مقصود صرف یہ تھا کہ عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کو گرفتارکیاجائے ، اورمنجنیق کا استعمال عبداللہ بن زیبررضی اللہ عنہ ہی کی خاطرہوا تھا نہ کی خانہ کعبہ کی خاطر، اوریزید(رحمہ اللہ )نے ہرگز بیت اللہ کو منہدم (شہید) نہیں کیا اورنہ ہی اسے جلانے کا ارادہ کیا ، یقینا نہ تو ایسا اقدام یزید نے کیا اورنہ ہی اس کے نائبین نے کیا اس بات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق واجماع ہے۔ "[منهاج السنة النبوية 4/ 577 ]

    مولوی صاحب کا دعویٰ ہے کہ خانہ کعبہ کی توہین کا ذمہ دار یزید ہے بلکہ تمام علماء اہلحدیث کا اتفاقی مؤقف ہے لیکن امام ابن تیمیہؒ اس بات پر اتفاق و اجماع کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ یزید یا اس کے امراء میں سے کبھی کسی نے ایسا اقدام نہیں کیا۔
    اس کے علاوہ واقعہ حرّہ میں دس ہزار عورتوں سے جبری زنا اور مسجدِ نبوی میں گھوڑے وغیرہ باندھے جانے کی باتیں بھی غیر ثابت ہیں۔ پھر ان چیزوں کی تفصیلات پر علماء اہلحدیث کے اتفاق کا دعویٰ مضحکہ خیزی کے سوا کچھ نہیں۔
    یزید بن معاویہؓ سے متعلق اہلحدیث کے "اتفاقی مؤقف " کی حقیقت ہم نے واضح کر دی ہے، مجموعی طور پر اور جزئی طور پر بھی اس سلسلہ کے چاروں دعاویٰ کی حقیقت آ پ کے سامنے ہے، اس پر کسی قسم کا کوئی اتفاق قطعی موجود نہیں۔ لیکن مولوی صاحب کو اپنی دوکانداری چمکانے کے لیئے ایسے مضحکہ خیز دعوے کرنے پڑتے ہیں۔
    ----------------



     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 24، 2018 #2
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم،
    پھر اس نیک و صالح کی بیعت پہلے ہی کیوں نہ کرلی پہلے مکہ پھر وہاں سے کوفہ جانے کی کیا ضرورت پیش آ گئی۔
    ابن عمر رضی اللہ عنہ کو جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کرنے کو کہا تو انہوں نے اس کو دین کا سودا قرار دیا پڑھ لیں

    " أَخْبَرَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بَعَثَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ بِمِائَةِ أَلْفٍ. فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُبَايِعَ لِيَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَرَى ذَاكَ أَرَادَ. إِنَّ دِينِي عِنْدِي إِذًا لَرَخِيصٌ.(طبقات ابن سعد 4/ 138 طبقہ الثانیہ من مھاجرین و الانصار ترجمہ 402عبداللہ بن عمر اسنادہ صحیح رجال الشیخین)
    معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ایک لاکھ درھم بھیجا پھر جب یزید کی بیعت کا ان سے کہا تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ کیا اس ارادہ سے بھیجے تھے پر تو میرا دین بہت سستا ہے۔

    یہ صرف ایک مثال دی ہے یہ روایت بتاتی ہے یزید کتنا نیک تھا باقی اہلحدیث کا تو میں نہیں جانتا کیونکہ اس میں ناصبیت کے جراثیم داخل ہو رہے ہیں مگر اہلسنت سلف صالحین و اکابرین کا اس پر اجماع ضرور ہے کہ یزید فاسق و فاجر تھا اور اس پر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود ہے۔
     
  3. ‏ستمبر 24، 2018 #3
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    701
    موصول شکریہ جات:
    113
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم @عامر عدنان صاحب
    السلام علیکم
    برائے مہربانی اس سوال کا جواب دے دیجیے گا ۔ کہ جب یزید نہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کا ارادہ رکھتا تھا نہ گرفتار کرنے کا آپ کے حوالے کے مطابق
    " حضرت امام حسینؓ بموجب حدیث من قتل دون ماله وفی روایه دون عرضه بے شک شہید ہیں مگر ان کی شہادت سے یزید کو کیا واسطہ۔یزید نے ابن زیاد کو نہ تو قتلِ حسینؓ کا حکم دیا تھا نہ قید کرنے کا ۔ " [ واقعہ کربلا از ابولمکارم ص 25 ] تو اس نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کے دوسرے افراد کو شہید کرنے والوں اور اس کا حکم دینے والے کے خلاف کیا کاروائی کی ۔
    اور بحیثیت حکمران یزید سے اس کا ذمہ دار ہے کہ اس کی حکومت میں یہ سب کچھ ہوا۔
    حضرت عمررضی اللہ عنہ کا قول بھی یاد رکھیں "فرات کے کنارے بکری کا بچہ بھی مرجائے تو اس کا سوال عمر سے ہوگا"
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی ہے جس کا مفہوم ہے کہ ہر حاکم سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

    صحیح مسلم: 4724 --- سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا اس کی رعیت کا (حاکم سے مراد منتظم اور نگران کار اور محافظ ہے)

    پھر جو کوئی بادشاہ ہے وہ لوگوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا ۔ اس کی رعیت کا کہ اس نے اپنی رعیت کے حق ادا کیے ان کی جان و مال کی حفاظت کی یا نہیں

    اور آدمی حاکم ہے اپنے گھر والوں کا اس سے سوال ہو گا ان کا اور عورت حاکم ہے اپنے خاوند کے گھر کی اور بچوں کی اس سے ان کا سوال ہو گا اور غلام حاکم ہے اپنے مالک کے مال کا اس سے اس کا سوال ہو گا ۔ غرض یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک شخص حاکم ہے اور تم میں سے ہر ایک سے سوال ہو گا اس کی رعیت کا ۔ “
     
  4. ‏ستمبر 24، 2018 #4
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    821
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    وعلیکم السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    اس کے لئے آپ یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ ص 369 پڑھیں
     
  5. ‏ستمبر 24، 2018 #5
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    701
    موصول شکریہ جات:
    113
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم عدنان صاحب
    آپ کے جواب کا بہت شکریہ۔
    جو حوالہ ہے اس میں تو پہلے یہ بحث ہے کہ قصاص کا مطالبہ نہیں کیا پھر کوئی کاروائی کا کیا جواب۔
    میراخیال ہے مسلم بن عقیل کو بھی ابن زیاد کی مرضی سے نہیں شہید کیا ہوگا۔ابن زیاد کو تو کچھ بھی پتا نہیں ہوگا کہ اس کی فوج کربلا میں کیا کر رہی ہے۔ وہ تو بالکل معصوم تھا۔ اور جب ابن زیاد کو کچھ نہ پتا تھا تو غریب یزید کو کیا پتا ہوگا ۔
    یہ اندازہ ہوگیا کہ شیعوں کہ یہاں معصوم نہیں بلکہ ہمارے اہل حدیث بھائی بھی کے یہاں بھی انبیاء کے علاوہ معصوم کا عقیدہ ہے۔
     
  6. ‏ستمبر 24، 2018 #6
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    701
    موصول شکریہ جات:
    113
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    اور آپ کے دئیے گئے حوالے کےایک جواب کے مطابق حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ورثاء نے تو کسی قصاص کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی شکایت کی ۔کیا اس کا ایک مطلب یہ نکلتا ہے کہ ان کے ورثاء کو حضرت حسین کی شہادت کا کوئی غم نہیں تھا۔ اس لئے اس بابت کوئی بات ہی نہیں کی۔؟
    پھر یزید نے یا ابن زیاد نے کیوں اپنی فوج کے لوگوں کو قصاص میں قتل کیا۔ جب کہ کوئی قصاص مانگ ہی نہیں رہا تھا۔
    اس باب میں دئیے گئے جوابات ظن اور منطق کے تحت ہیں۔ کہ ایسا ہوا ہوگا یا یہ اس لئے کہا ہوگا۔اگر آپ کو اس پر اعتماد ہے اور اس سے آپ اپنا عقیدہ بناتے ہیں تو یہ آپ کا حق ہے۔
     
  7. ‏ستمبر 24، 2018 #7
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,094
    موصول شکریہ جات:
    317
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    اس کی یہی وجہ قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ لشکرِ یزید ؒ نے قاتلوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا تھا اس لیے کوئی مطالبۂ قصاص نہیں اُٹھا۔ ویسے ہر کوئی اس سانحے کے متعلق یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ بہت بُرا ہوا ، لیکن کیا کبھی اس بات پر بھی غور و فکر کیا ہے کہ اگر حضرت حسینؓ کوفہ چلے جاتے تو کیا ہوتا ؟ میرا خیال ہے کہ اگر ایسا ہو جاتا تو اس کے سامنے جنگِ جمل و صفین کی رو داد لوگ بھول جاتے ۔
    اس خاص معاملے میں ہمارے علماء کی اکثریت عقل کو بالائے طاق رکھ کرمحض جذبات کی بھینٹ چڑھ گئی ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے دنوں ہر سال کی طرح ذو الحجہ گزر گیا لیکن مجال ہے جو کوئی مخالف صحابہؓ و معاویہؓ و ِ یزید ؒ ،عمرِ فاروق ؓ و ذوالنورینؓ کے لیے اتنا رویا اور تڑپا ہو جن کا معاملہ سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً دینی و اسلامی تھا۔
    اس معاملے میں لوگ جتنے سوالات خلافتِ یزید ؒ کے متعلق اُٹھا تے ہیں اس سے زیادہ سوالات تو حضرت حسینؓ کے اقدام کےمتعلق اُٹھتے ہیں۔چونکہ کچھ لوگوں کی رگوں میں خون ِرَفض جوش مارتا ہے اس لیے منہ مجبوراًبند رکھنا پڑتا ہے۔
     
  8. ‏ستمبر 25، 2018 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,726
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بیعت نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کسی کے نزدیک فاسق و فاجر ہے۔ بالمقابل اگر بیعت کرنا ثابت ہو جائے تو کسی میں موجود فسق و فجور کے دعو ی سے دستبرداری اختیار کر لی جائے گی؟
    طرفین سے اپنے اپنے موقف اور نظریہ میں مبالغہ آرائی اور رنگ آمیزی کم ہو گی تو کوئی مناسب موقف بن سکتا ہے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 25، 2018 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,726
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میرے خیال میں صاحب تحریر نے جو بات ثابت کرنا چاہی ہے، اس میں وہ کامیاب رہے ہیں۔
    فریق ثانی کو چاہیے کہ وہ بھی اس زمانے میں موجود اہل حدیث علما کے اقوال نقل کردیں، جو یزید کے متعلق اوپر بیان کردہ موقف سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔
    حقیقت یہی ہے کہ یزید کے متعلق اہل حدیث میں کوئی ایک متفقہ موقف نہیں ہے۔ کچھ لوگ یزید کو ہر برے طعنے کا مستحق سمجھتے ہیں۔
    دوسرا موقف یزید کا دفاع کرنے والوں کا ہے، جو یزید پر اٹھنے والے ہر ہر اعتراض کا جواب دیتے ہیں، اور یزید کے دفاع کو صحابہ کا دفاع سمجھتے ہیں، بلکہ اس دفاع میں وہ ’ تحقیقی نکات‘ بھی لاتے ہیں جن کی’ضرورت‘ بھی نہیں۔ بقول شاعر
    اس مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ سجدے بھی کیے جو واجب بھی نہ تھے
    تیسری قسم کا رویہ یہ ہے کہ وہ فریقین میں موجود تشدد اور غلو کو ناپسند کرتے ہیں۔ اور ان معاملات میں زیادہ تحقیق اور محاذ آرائی میں نہیں پڑھتے۔
    میری نظر میں تحقیقی اعتبار سے مضبوط رویہ دوسرا ہے، جبکہ مبنی بر اعتدال رویہ تیسرا ہے، جبکہ پہلا رویہ کافی کمزور اور کسی حد تک دلائل سے عاری بھی ہے، اور جذباتی گفتگو ان کا رأس المال ہے۔
    یہ دوسرے اور تیسرے میں فرق اس لیے کیا ہے، کیونکہ بعض لوگ تحقیق اور دفاع میں لگے رہنے کی وجہ سے بعض دفعہ حد اعتدال سے باہر جاتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ تیسرے رویے کے حامل لوگ بعض دفعہ تحقیق کا جواب تحقیق سے دینے کی بجائے صرف اعتدال کی نصیحت کردینا کافی سمجھتے ہیں۔ اگر اس معاملے میں اہل تحقیق میں اعتدال اور اہل اعتدال میں تحقیق آجائے، تو مجھے یہ کہنے میں باک نہ ہوگی کہ اہل حدیث میں یزید کے حوالے سے صرف دو رویے ہیں، ایک عالمانہ وتحقیقی ، دوسرا جاہلانہ و جذباتی۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 25، 2018
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 27، 2018 #10
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم،
    معزرت کے ساتھ عرض ہے کہ بیعت نہ کرنا فسق وفجور کی علامت نہیں ہے جیسا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کی بھی بیعت نہیں کی تھی مگر بیعت کرنے کو دین کا سودا قرار دینا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بیعت صحیح نہیں تھی وگرنہ اس کو دین کا سودا قرار نہ دیا جاتا یہی وجہ ہے کہ ابن حزم وغیرہ نے یہ نقل کیا کہ حسین رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ یزید کی بیعت گمراہی کی بیعت ہے۔ تو پھر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بعد میں بیعت کیوں کر لی اس کی وجہ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہی بیان کی ہے کہ ان کو دھمکایا جاتا تھا
    أنَّهُ لَا يُبَايَعُ الْمَفْضُولُ إِلَّا إِذَا خُشِيَ الْفِتْنَةُ وَلِهَذَا بَايَعَ بَعْدَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ ثُمَّ ابْنَهُ يَزِيدَ"(فتح الباری تحت رقم 4108 جلد7 ص404)۔

    اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نےجب بیعت کی تو یہ بھی فرمایا کہ "ہم صبر کریں گے"
    تو بیعت کرنے کو دین کا سودا قرار دینا اور پھر بیعت کرنے کی دھمکی دیناجبکہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کی بیعت بالکل نہیں کی مگر کسی نے یہ نہیں لکھا کہ ان کو دھمکایا جاتا تھا اور جب یزید کی بعیت کی تو اس پر صبر کرنے کے الفاظ ادا کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ بیعت کسی نیک صالح کی نہیں تھی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں