1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یزیدؒ بن معاویہ ؓ سے متعلق اہلحدیث کا متفّقہ مؤقف؟

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏ستمبر 24، 2018۔

  1. ‏ستمبر 27، 2018 #11
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہی بات آپ پہلے ذہن میں رکھتے تو شاید اوپر والے الفاظ نہ لکھتے، جن پر مجھے اعتراض تھا۔
    جب دعوی پر استدلال کی باری آئی تو دور سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں وہ لفظ نقل کریں، جن سے پتہ چلے کہ کسی نے یزید کے فسق و فجور کی بنا پر اس کی بیعت نہیں کی تھی۔
    اور جس بات کو آپ دین کا سودا کہہ رہے ہیں، اور اس سے جو مراد لے رہے ہیں، عربی عبارت میں وہ بھی سرے سے موجود نہیں۔
    یہ دھمکانے والی بات کدھر ہے؟
    میں ایک دفعہ پھر عرض کروں گا کہ ’ زیب داستان‘ سے گریز کرنا چاہیے۔ خیر القرون کے ان معاملات کو بگاڑ کر پیش کرنے کا ثواب کہیں بھی مرقوم نہیں۔ اور یہ عرض طرفین کو ہی ہے۔ کسی ایک کو نہیں۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 27، 2018 #12
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس بات کا آپ نے جواب نہیں دیا۔
     
  3. ‏ستمبر 27، 2018 #13
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,096
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    خلافت ِ یزید ؒ پر تمام مسلمانوں کا اتفاق و اجماع تھا سوائے حضرت حسین ؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے، اور یہ ایک نا قابلِ انکار حقیقت ہے لیکن فسقِ یزید ؒ پر محض مبصرین کے دعوے کے ،کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔
     
  4. ‏ستمبر 28، 2018 #14
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم،
    وہ الفاظ خط کشید کر دیتا ہوں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یزید کی بیعت دین کا سودا قرار دیا اور جہاں تک اپ کے مطالبہ کا تعلق ہے کہ یزید کی بیعت فسق وفجور کی وجہ سے نہیں کی گئی تو اس کا حوالہ بھی پیش کر دیتا ہوں

    أَخْبَرَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بَعَثَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ بِمِائَةِ أَلْفٍ. فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُبَايِعَ لِيَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَرَى ذَاكَ أَرَادَ. إِنَّ دِينِي عِنْدِي إِذًا لَرَخِيصٌ.(طبقات ابن سعد 4/ 138 طبقہ الثانیہ من مھاجرین و الانصار ترجمہ 402عبداللہ بن عمر اسنادہ صحیح رجال الشیخین)
    معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ایک لاکھ درھم بھیجا پھر جب یزید کی بیعت کا ان سے کہا تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ کیا اس ارادہ سے بھیجے تھے پر تو میرا دین بہت سستا ہے۔

    معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت اس کے فسق وفجور کی بنا پر توڑی تھی

    قَالَ الْمَدَائِنِيُّ، عَنْ
    عَوَانَةَ، وَأَبِي زَكَرِيَّا الْعَجْلانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ: إِنَّ مُسْلِمًا لَمَّا دَعَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْبَيْعَةِ، يَعْنِي بَعْدَ وَقْعَةِ الْحَرَّةِ، قَالَ: لَيْتَ شِعْرِي مَا فَعَلَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ، وَكَانَ لَهُ مُصَافِيًا، فَخَرَجَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ، فَأَصَابُوهُ فِي قَصْرِ الْعَرَصَةِ، وَيُقَالُ: فِي جَبَلِ أُحُدٍ، فَقَالُوا لَهُ: الأَمِيرُ يُسْأَلُ عَنْكَ فَارْجِعْ إِلَيْهِ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِهِ مِنْكُمْ، إِنَّهُ قَاتِلِي، قَالُوا: كَلا، فَأَقْبَلَ مَعَهُمْ، فَقَالَ لَهُ: مَرْحبًا بِأَبِي مُحَمَّدٍ، أَظُنُّكَ ظَمْآنَ [1] ، وَأَظُنُّ هَؤُلاءِ أَتْعَبُوكَ، قَالَ: أَجَلْ، قَالَ: شَوِّبُوا لَهُ عَسَلا بِثَلْجٍ، فَفَعَلُوا وَسَقَوْهُ، فَقَالَ: سَقَاكَ اللَّهُ أَيُّهَا الأَمِيرُ مِنْ شَرَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، قَالَ: لا جَرَمَ وَاللَّهِ لا تَشْرَبُ بَعْدَهَا حَتَّى تَشْرَبَ مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ، قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ وَالرَّحِمَ، قَالَ: أَلَسْتَ قُلْتَ لِي بِطَبَرِيَّةَ وَأَنْتَ مُنْصَرِفٌ مِنْ عِنْدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَقَدْ أَحْسَنَ جَائِزَتَكَ: سِرْنَا شَهْرًا وَخَسِرْنَا ظَهْرًا، نَرْجِعُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَخْلَعُ الْفَاسِقَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، عَاهَدْتُ اللَّهَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ لا أَلْقَاكَ فِي حَرْبٍ أَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلا قَتَلْتُكَ، وَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ


    ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کرنے کو اپنے دین کا سودا کیوں کہا یہ وجہ پھر اپ واضح کر دیں کیوںکہ اگر کسی صحیح آدمی کی بیعت نہ بھی کی جائے اس کو دین کا سودا کیونکہ کہا جائے اور اس کی مثال ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی منقول ہےکہ جب ان سے علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی مگر کیا اسے دین کا سودا قرار دیا یا یوں کہہ لیں کہ بین ہی وہ الفاظ جو عربی متن میں ہیں کہ "میرا دین تو بہت سستا ہے" تو یزید کی بیعت کو لے کر دین کو سستا کہنے کی وجہ آپ بتا دیں اور جب یزید کی بیعت کی تو یہ بھی فرمایا کہ

    beat per razi.png


    ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ابو بکر ، عمر ، عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنھم کی بیعت کی کسی ایک میں بھی یہ کہا کہ اگر اس میں شر ہے تو ہم صبر کریں گے صرف یزید کے بابت ایسا کیوں فرمایا ان کے جواب اپ عنایت کر دیں۔

    أنَّهُ لَا يُبَايَعُ الْمَفْضُولُ إِلَّا إِذَا خُشِيَ الْفِتْنَةُ وَلِهَذَا بَايَعَ بَعْدَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ ثُمَّ ابْنَهُ يَزِيدَ"(فتح الباری تحت رقم 4108 جلد7 ص404)۔


    فتنہ کے خوف سے بیعت کر لی وہ فتنہ کیا تھا یہ اپ بتا دیں اور خوف کس وجہ سے تھا اگر اس پر بھی اپ کی تسلی نہیں ہوتی تو پھر انشاء اللہ اگلی بار ابن کثیر سے نقل کر دوں گا



    آخر میں جن کو یزید کا فسق وفجور نظر نہیں آتا ان کے لئے یہ روایت پیش ہے پڑھ لیں اس میں ظلم کس حد تک بڑھ گیا تھا کہ لوگ یزید کے پاس اس کے کسی فیصلے کو غلط کہنے کی ہمت نہ رکھتے تھے اور اس کے منہ پر اس کی تعریف کرتے اور پیچھے اس کو لعنت کرتے تھے یہ خیرالقرون کا دور ہے۔

    حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أُنَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى سُلْطَانِنَا، فَنَقُولُ لَهُمْ خِلاَفَ مَا نَتَكَلَّمُ إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمْ، قَالَ: «كُنَّا نَعُدُّهَا نِفَاقًا(صحیح بخاری رقم 7178)


    حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: دَخَلَ نَفَرٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَوَقَعُوا فِي يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَتَنَاوَلُوهُ فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: هَذَا قَوْلُكُمْ لَهُمْ عِنْدِي أَتَقُولُونَ هَذَا فِي وُجُوهِهِمْ؟ قَالُوا: لَا بَلْ نَمْدَحُهُمْ وَنُثْنِي عَلَيْهِمْ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: هَذَا النِّفَاقُ عِنْدَنَا (صفۃ النفاق وذم المنافقین للفریابی رقم 62)


     
  5. ‏ستمبر 28، 2018 #15
    محمد سلفی

    محمد سلفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 28، 2018
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    Ah
     
    Last edited: ‏ستمبر 28، 2018
  6. ‏ستمبر 29، 2018 #16
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    محترم،
    اس کا جواب بھی انہیں میں موجود ہے میں نے عرض کیا تھا کہ فتنہ کے خوف سے ابن عمررضی اللہ عنہ نے بیعت کی تھی خوف سے بیعت کرنے سے دستبرادری ہو جاتی ہے کیا؟ باقی میری پوسٹس منظر عام پر پیش کریں اور ان میں جو میرے سوالات ہیں ان کے جوابات عنایت کریں
     
  7. ‏ستمبر 29، 2018 #17
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    726
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم
    سیدھا سیدھا کہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا اقدام غلط تھا اور انہوں نے یزید کی بیعت نہ کر کے بغاوت کی تھی۔اور یزید کا اقدام صحیح تھا۔ جو عقیدہ ہے وہ کھل کر بیان کریں آپ تو شیعہ نہیں پھر تقیہ کیوں کر رہے ہیں۔
     
  8. ‏ستمبر 29، 2018 #18
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    726
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم
    انہتائی معذرت کے ساتھ
    یہ بھی بتادیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ جنت کی عورتوں کی سرادر ہیں اور ان کے بیٹے نوجوانوں کے سردار ہیں یا یہ احادیث بھی ضعیف ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی بیٹیاں تھیں کسی اور کو یہ اعزاز نہیں ملا۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد واضح کوئی فضیلت نہیں تھی صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذاتی محبت اور قرابت کی وجہ سے یہ کہا ہے؟
    اور جہاں آپ بار بار بات کرتے ہیں کہ یزید پر تمام مسلمانوں کا اتفاق و اجماع تھا تو یہ تو کوئی بھی حکمران بن جائے کیسا بھی ہو عوام کی انتہائی قلیل تعداد اس پر اعتراض کرتی ہے اکثریت خاموش ہی رہتی ہے ۔ اپنے ملک پاکستان کی مثال لے لیں یہاں کیسے بھی حکمران آجائیں لوگ قبول کرلیں گے۔جس کے پاس طاقت ہوتی ہے سکہ اسی کا چلتا ہے یہ ہر دور کا دستور رہا ہے۔
    قران کو مخلوق نہ کہنے والے امام حنبل رحمتہ اللہ علیہ اور ان جیسے قلیل لوگ ہی تھے ، وہ بھی تو عالم تھے جنہوں نے اس دعوی کو قبول کیا۔
     
  9. ‏ستمبر 29، 2018 #19
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    726
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم خضر حیات صاحب
    السلام علیکم
    آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ مکتب اہل حدیث حضرت حسین کے دفاع میں بھی کوئی عالمانہ و تحقیقی کتب لکھی ہیں یا وہ سب اس کے قائل ہیں کے حسین کا اقدام غلط تھا۔
     
  10. ‏ستمبر 29، 2018 #20
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    726
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    م
    محترم اس بات کی بھی وضاحت کر دیجیے گا کہ جن دونوں اصحاب رسول کا آپ نے ذکر کیا ہے ۔ کیا ان کے کسی اقدام پر اعتراض کرنا صحیح ہوگا۔ کیا یہ مشاجرات صحابہ رضی اللہ کے تحت نہیں آتا۔ ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. HUMAIR YOUSUF
    جوابات:
    1
    مناظر:
    2,192
  2. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    3
    مناظر:
    29
  3. اسحاق سلفی
    جوابات:
    2
    مناظر:
    43
  4. عامر عدنان
    جوابات:
    2
    مناظر:
    81
  5. علی عمران
    جوابات:
    1
    مناظر:
    200

اس صفحے کو مشتہر کریں