ابن قدامہ
مشہور رکن
- شمولیت
- جنوری 25، 2014
- پیغامات
- 1,772
- ری ایکشن اسکور
- 429
- پوائنٹ
- 198
اسلام کے وکلاء کے دلائل اور بددیانتی
آج کے فقہاء ٰinterpretation کے نام پر بہانے بازیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیےآج کے اس فیلڈ کے مشہور ترین سکالرز (ذاکر نائیک وغیرہ) اس حوالے سے "بددیانتی" کے مرتکب ہوئے جب انہوں نے جان بوجھ کر دعویٰ کر دیا کہ قران نے زمین کی ساخت کو شتر مرغ کے انڈے کی ساخت جیسا بیان کر رہا ہے۔ اسکے لیے انہوں نے آیت 79:30 استعمال کیا:
(قرآن 79:30) وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا
ترجمہ (محمد جونا گڑھی) : اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا۔
لفظ "دحاها" کا مطلب 1400 سالوں سے سب فقہاء "پھیلانا یا بچھانا کے کرتے آ رہے ہیں۔
مگر آجکے فقہاء نے اس کا بالکل نیا مطلب بیان کر دیا جو ہے "شتر مرغ کا انڈہ"۔
ذاکر نائیک صاحب لکھتے ہیں:۔
دنیا میں پچھلے 1400 سالوں سے کسی مسلمان فقہیہ یا مفسر نے "دحاھا" کا مطلب انڈہ" بیان نہیں کیا ۔
دنیا کی کسی لغت نے دحاھا کا مطلب اندہ بیان نہیں کیا ہ۔
تو پھر ذاکر نائیکل یہ انڈہ کہاں سے لے کر آ گیا؟
لسان العرب نامی لغت میں یہ ملتا ہے:
چنانچہ جس چیز کو آپ آجکے ماڈرن فقہا کی interpretation کہہ رہے ہیں، وہ میرے نزدیک انکی "بہانے بازیاں" ہیں جوکہ کچھ کیسز میں کھلی "بددیانتی" تک پہنچ چکی ہے۔
آج کے فقہاء ٰinterpretation کے نام پر بہانے بازیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیےآج کے اس فیلڈ کے مشہور ترین سکالرز (ذاکر نائیک وغیرہ) اس حوالے سے "بددیانتی" کے مرتکب ہوئے جب انہوں نے جان بوجھ کر دعویٰ کر دیا کہ قران نے زمین کی ساخت کو شتر مرغ کے انڈے کی ساخت جیسا بیان کر رہا ہے۔ اسکے لیے انہوں نے آیت 79:30 استعمال کیا:
(قرآن 79:30) وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا
ترجمہ (محمد جونا گڑھی) : اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا۔
لفظ "دحاها" کا مطلب 1400 سالوں سے سب فقہاء "پھیلانا یا بچھانا کے کرتے آ رہے ہیں۔
مگر آجکے فقہاء نے اس کا بالکل نیا مطلب بیان کر دیا جو ہے "شتر مرغ کا انڈہ"۔
ذاکر نائیک صاحب لکھتے ہیں:۔
The Qur’an mentions the actual shape of the earth in the following verse:
“And we have made the earth egg shaped”. [Al-Qur’an 79:30]
The Arabic word Dahaha means egg shaped. It also means an expanse. Dahaha is derived from Duhiya which specifically refers to the egg of an ostrich which is geospherical in shape, exactly like the shape of the earth.
Thus the Qur’an and modern established science are in perfect harmony.
Reference: Zakir Naik Q & A
“And we have made the earth egg shaped”. [Al-Qur’an 79:30]
The Arabic word Dahaha means egg shaped. It also means an expanse. Dahaha is derived from Duhiya which specifically refers to the egg of an ostrich which is geospherical in shape, exactly like the shape of the earth.
Thus the Qur’an and modern established science are in perfect harmony.
Reference: Zakir Naik Q & A
دنیا میں پچھلے 1400 سالوں سے کسی مسلمان فقہیہ یا مفسر نے "دحاھا" کا مطلب انڈہ" بیان نہیں کیا ۔
دنیا کی کسی لغت نے دحاھا کا مطلب اندہ بیان نہیں کیا ہ۔
تو پھر ذاکر نائیکل یہ انڈہ کہاں سے لے کر آ گیا؟
لسان العرب نامی لغت میں یہ ملتا ہے:
الأُدْحِيُّ و الإدْحِيُّ و الأُدْحِيَّة و الإدْحِيَّة و الأُدْحُوّة مَبِيض النعام في الرمل , وزنه أُفْعُول من ذلك , لأَن النعامة تَدْحُوه برِجْلها ثم تَبِيض فيه وليس للنعام عُشٌّ . و مَدْحَى النعام : موضع بيضها , و أُدْحِيُّها موضعها الذي تُفَرِّخ فيه .ِ
ترجمہ:
(یہ لفظ ریت کی اس "جگہ" کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جہاں شترمرغ اپنا انڈہ دیتا ہے۔ یہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ شترمرغ انڈہ دینے کے بعد اس جگہ کو اپنے پاؤں سے "پھیلا" کر ہموار کر دیتا ہے۔ شتر مرغ انڈہ دینے کے لیے گھونسلے کا استعمال نہیں کرتا۔
چنانچہ لفظ دحاھا کا مطلب کبھی بھی کسی بھی لغت میں "انڈہ" نہیں تھا، بلکہ وہ "جگہ" تھی جسے "پھیلا" کر ہموار کیا گیا ہو۔ترجمہ:
(یہ لفظ ریت کی اس "جگہ" کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جہاں شترمرغ اپنا انڈہ دیتا ہے۔ یہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ شترمرغ انڈہ دینے کے بعد اس جگہ کو اپنے پاؤں سے "پھیلا" کر ہموار کر دیتا ہے۔ شتر مرغ انڈہ دینے کے لیے گھونسلے کا استعمال نہیں کرتا۔
چنانچہ جس چیز کو آپ آجکے ماڈرن فقہا کی interpretation کہہ رہے ہیں، وہ میرے نزدیک انکی "بہانے بازیاں" ہیں جوکہ کچھ کیسز میں کھلی "بددیانتی" تک پہنچ چکی ہے۔