میرے ناقص مطالعہ کے مطابق مذکورہ حدیث صحیح ہے افسوس کی میرے پاس تفصیل کا وقت نہیں ہے لہٰذا صرف مختصر وضاحت کروں گا۔
تفصیل کے لئے ہماری ویب سائٹ پر مفصل مضمون پڑھیں ، لنک یہ ہے:
دعائے شب قدر «اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» کی تحقیق
الف:
امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
۔۔۔۔۔هذه كلها مراسيل بن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا[سنن الدارقطني: 3/ 233]۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ کے اس قول کا کیا مطلب ہے اس سے قطع نظر یہ صرف امام دارقطی رحمہ اللہ کا قول ہے ان کے علاوہ کسی ناقد امام نے یہ بات نہیں کہی ہے۔
جہاں تک امام بیہقی کی بات ہے تو انہوں نے گرچہ سنن میں کہا:
وهذا مرسل بن بريدة لم يسمع من عائشة رضي الله عنها [السنن الكبرى للبيهقي: 7/ 118]۔
لیکن یہ امام بیہقی رحمہ اللہ کی اپنی تحقیق نہیں ہے بلکہ موصوف نے یہ بات کہنے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ ہی پر اعتماد کیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ خود امام بیہقی رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر وضاحت کردی ہے کہ انہوں نے یہ بات امام دارقطنی رحمہ اللہ سے اخذ کی ہے چنانچہ:
امام بیہقی رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پرکہا:
هَذَا مُنْقَطِعٌ، ابْنُ بُرَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ قَالَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ عَنْهُ[معرفة السنن والآثار للبيهقي: 10/ 48]۔
ایک اورمقام پر کہا:
فهو مرسل؛ ابن بريدة لم يسمع من عائشة، رضي الله عنها، قاله الدارقطني[مختصر خلافيات البيهقي 4/ 122]۔
معلوم ہوا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے امام دارقطنی رحمہ اللہ ہی پر اعتماد کرتے ہوئے مذکورہ بات کہی ہے یہ ان کی اپنی تحقیق نہیں ہے۔
امام دارقطی پر امام بیھقی کے علاہ کسی نے بھی اعتماد نہیں کیا ہے ، بلکہ امام بیھقی سے قبل امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابن بریدہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ کی سند کو صحیح قراردیاہے ، چنانچہ:
امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279) نے کہا:
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ القَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: " قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي ". هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ [سنن الترمذي ت شاكر 5/ 534]۔
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) ایک مقام پر فرماتے ہیں:
وقال:( یعنی الدارقطی ) هذه كلها مراسيل، ابن بريدة لم يسمع من عائشة. قلت: صحح له الترمذي حديثه عن عائشة في القول ليلة القدر، من رواية: جعفر بن سليمان، بهذا الإسناد، ومقتضى ذلك أن يكون سمع منها، ولم أقف على قول أحد وصفه بالتدليس.[إتحاف المهرة لابن حجر: 17/ 5]۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ ہی کے کلام سے ملتی جلتی بات علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے کمایاتی ۔
ب:
بعض محدثین کا یہ موقف ہے کہ دو راویوں کے بیچ اتصال سند کے لئے سماع کا ثبوت لازم ہے جبکہ راجح بات یہی ہے کہ اتصال کے لئے صرف معاصرت اور لقاء کا امکان ہی کافی ہے۔
اس راجح اصول کی روشنی میں ابن بریدہ کی اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت سماع پر محول ہوگی کیونکہ ابن بریدہ کو اماں عائشہ رضی اللہ کی معاصرت حاصل ہے اوران دونوں کے سماع کا امکان بھی ہے۔
بعض حضرات نے معاصرت کو تسلیم کرتے ہوئے امکان لقاء کا انکار کیا لیکن یہ عمارت جس بنیاد پر قائم ہے وہ بنیاد ہی کمزور ہے چنانچہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ ابن بریدہ اوراماں عائشہ رضی اللہ عنہ جب ایک ہی مقام پر مقیم تھے تو اس وقت ابن بریدہ بچے تھے ۔
عرض ہے کہ اولا یہ بات صحیح سند سے ثابت نہیں کہ ابن بریدہ اس وقت بچے تھے نیز بچے کی بھی روایت مطلقا رد نہیں کیا جاتی ہے بلکہ بچہ جب سن تمییز کو پہنچ جائے اوراس کا ضبط صحیح ہو تو اس کی روایت معتبرہوتی ہے۔
نیز ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کی لقاء ان صحابہ سے بھی ثابت مانی جاتی ہے جن کی وفات اماں عائشہ رضی اللہ عنہ سے قبل ہوئی ہے پھر کیسے ممکن ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہ سے ابن بریدہ کا سماع ثابت نہ ہو اوراماں عائشہ رضی اللہ عنہ سے پہلے جو صحابہ فوت ہوئے ان سے ابن بریدہ کا سماع ثابت ہو !!
علامہ البانی رحمہ اللہ اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وقد أعل بما لا يقدح، فقال الدارقطني في "سننه " (٣/٢٣٣) - وتبعه البيهقي (٧/١١٨) - في حديث آخر لعبد الله بن بريدة : "لم يسمع من عائشة شيئاً "! كذا قالا! وقد كنت تبعتهما برهة من الدهر في إعلال الحديث المشار بالانقطاع، في رسالتي "نقد نصوص حديثية" (ص ٤٥) ، والآن؛ فقد رجعت عنه؛ لأني تبينت أن النفي المذكور لا يوجد ما يؤيده، بل هو مخالف لما استقر عليه الأمر في علم المصطلح أن المعاصرة كافية لإثبات الاتصال بشرط السلامة من التدليس، كما حققته مبسطاً في تخريج بعض الأحاديث، وعبد الله بن بريدة لم يرم بشيء من التدليس، وقد صح سماعه من أبيه كما حققته في الحديث المتقدم (٢٩٠٤) وغيره، وتوفي أبوه سنة (٦٣) ، بل ثبت أنه دخل مع أبيه على معاوية في "مسند أحمد" (٥/٣٤٧) ، ومعاوية مات سنة (٦٠) ، وعائشة ماتت سنة (٥٧) ، فقد عاصرها يقيناً، ولذلك أخرج له الشيخان روايته عن بعض الصحابة ممن شاركها في سنة وفاتها أو قاربها، مثل عبد الله بن مغفل، وقريب منه سمرة بن جندب مات سنة (٥٨) . بل وذكروه فيمن روى عن عبد الله بن مسعود المتوفى سنة (٣٢) ، ولم يعلوها بالانقطاع، ولعله- لما ذكرت- لم يعرج الحافظ المزي على ذكر القول المذكور، إشارة إلى توهينه، وكذلك الحافظ الذهبي في "تاريخه "، ونحا نحوهما الحافظ العلائي في "جامع التحصيل " (٢٥٢/٣٣٨) ، فلم يذكره بالإرسال إلا بروايته عن عمر، وهذا ظاهر جدّاً؛ لأنه ولد لثلاث خلون من خلافة عمر. [سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها 7/ 1010]