الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
عربی زبان میں فرج کا معنی 'شگاف' ہے یعنی جسے ہم اپنی زبان میں سوراخ کہہ دیتے ہیں۔ پس اسی معنی میں شرم گاہ کو بھی فرج کہا جاتا ہے۔ پس فرج کا واحد معنی شرم گاہ نہیں ہے بلکہ وہ اس کا ایک معنی ہے اور فرض کا اصل معنی شگاف ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
{وَإِذَا السَّمَاء فُرِجَتْ }المرسلات9
اور...
مقصود یہ تھا کہ قرآنی آیات کا تکرار جائز ہے۔ پس شفا کے لیے بھی تکرار کیا جا سکتا ہے جیسا کہ حفظ قرآن کے لیے حفاظ تکرار کرتے ہیں یعنی ایک ہی آیت کو بار بار دہراتے ہیں۔
بہتر اور افضل عمل یہی ہے کہ نماز میں بھی اپنی حاجات کو انہی دعاوں کی صورت میں اللہ کے حضور پیش کیا جائے جو سنت میں موجود ہوں لیکن اگر آپ کوئی ایسی دعا کرنا چاہتے ہیں جو سنت میں موجود نہیں ہے تو وہ دعا بھی عربی میں سجدہ کی حالت میں کی جا سکتی ہے۔ مسند احمد کی ایک روایت کے الفاظ ہیں:
فأما الركوع...
یہ واضح رہے کہ ہر قسم کی وعدہ خلافی کا کفارہ نہیں ہے۔ کفارہ صرف ان وعدوں کے خلاف کرنے کا ہے جو یمین یعنی قسم یا حلف میں داخل ہوں۔ پس اگر کسی وعدے کی نوعیت یمین یا حلف کی سی ہو تو اس میں کفارہ لازم ہے، چاہے اس مسئلے کا علم تھا یا نہیں۔ کفارے کے بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ صالح المنجد...
شرعا اس میں کوئی بے ادبی نہیں ہے لیکن عرفا یہ درست نہیں ہے۔ پس مسلمان معاشروں کے عرف کا لحاظ و خیال رکھتے ہوئے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ شریعت اسلامیہ نے مسلمان معاشروں کے عرف کو بھی اہمیت دی ہے۔حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جس کو مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ اچھا ہے اور جس کو وہ برا...
جی ہاں مانگ سکتے ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ انسان سجدے کی حالت میں اللہ سے بہت زیادہ قریب ہوتا ہے پس سجدے کی حالت میں انسان کو کثرت سے یا اہتمام سے دعا کرنی چاہیے۔
هل يجوز أن أدعو في الصلاة أن أتزوج برجل محدد ؟
الحمد لله
أولا :
ذهب جمهور الفقهاء من المالكية والشافعية وبعض...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس مسئلہ میں اہل الحدیث اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض اہل علم مثلا مولانا عبد المنان نورپوری اور حافظ عبد الستار حماد حفظہما اللہ نے اپنے فتاوی میں اس کو جائز قرار نہیں دیا ہے اور اس کی بنیاد اس کا بنایا ہے کہ یہ عمل سنت سے ثابت نہیں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ...
جی نہیں! یہ سنت سے ثابت نہیں ہے لیکن اگر کر لی جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ایک شیئ کے سنت میں موجود نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ اس کا کرنا بھی ناجائز ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسنون اور خلاف سنت عمل میں بہت فرق ہوتا ہے۔ عام طور پر لوگ ہر غیر مسنون عمل کو خلاف سنت کا درجہ دے...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تا حال میرے علم میں کوئی ایسا فتوی نہیں ہے کہ پاکستان میں اہل الحدیث اہل علم نے ایسے مشرکین کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہو، ہاں یہ بات ضرور درست ہے کہ ان کا شرک، بعض صورتوں میں شرک اکبر ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں شرک اصغر ہوتا ہے۔ پس دونوں صورتوں میں ہمارا...
اس کے دو گناہ ہیں، ایک تو وعدہ توڑنے کا گناہ ہے اور دوسرا اس گناہ کا گناہ ہے اور دونوں کے لیے توبہ استغفار کرے۔
وعدہ کر کے توڑنا نہیں چاہیے اور یہ عام گناہ کی مانند نہیں ہے، اسی لیے شریعت نے قسم توڑنے پر توبہ کے علاوہ کفارہ بھی عائد کیا ہے۔
وعدہ توڑنے سے انسان کا عزم کمزور ہوتا ہے لہذا کوشش...
کوئی حرج نہیں ہے، کیا جا سکتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے قیام میں صبح تک ایک ہی آیت کا تکرار کیا یا کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے سورۃ اخلاص کا رات بھر تکرار کیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو برقرار رکھا۔
روى النسائي (1010) وابن...
آپ سوالات و جوابات کے اس سیکشن میں اس کے قواعد و ضوابط کو ایک نظر دیکھ لیں۔ اس کے مطابق ایک پوسٹ میں ایک سے زائد سوال جمع نہ کریں بلکہ دوسرے سوال کے لیے الگ سے ایک نیا تھریرڈ شروع کریں۔
جزاکم اللہ خیرا
اس بارے اہل الحدیث اہل علم کا اختلاف ہے۔ جمہور اہل الحدیث ڈاڑھی کے چھوڑنے کو واجب قرار دیتے ہیں اور اس میں سے کچھ بھی لینے کو جائز نہیں سمجھتے ہیں جبکہ بعض اہل الحدیث ایک مشت سے زائد یا ہونٹوں کے نیچے یا گالوں کے بال لینے کو جائز سمجھتے ہیں۔ مولانا عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کی یہ رائے تھی کہ...