الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اس طرح کے شرکیہ کلمات کا آغاز سب سے پہلے عبدللہ بن سبا یہودی منافق نے کیا تھا اور بعد میں یہ کسس طرح پاک -و-ہند مین رواج پا گیا اس ک لئے ایک کتاب ضررور پڑھیے نام ہے "ارمغان-
عجم" مصنف عزیر احمد
السلام علیکم۔
وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ
اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں...
السلام علیکم۔ مسلم صاحب
آپ سے کچھ سوالوں کا جواب درکار ہے
وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ ۖ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا ۖ رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ...
جواب:
ابوداود ، ترمذی ، ابن ماجہ اور مسند احمد میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ۔ رسول اللہﷺنے فرمایا : «لاَ یَقْبَلُ اﷲُ صَلاَۃَ حَائِضٍ إِلاَّ بِخِمَارٍ» ’’اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی ننگے سر نماز کو قبول نہیں کرتا‘‘ یہ حدیث صحیح ہے شیخ البانی حفظہ اللہ نے اس کو صحیح ابن ماجہ اور صحیح...
شیعی آئیڈیالوجی تو یہی ہے کہ وہ (معاذ اللہ) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے کفر و ارتداد اور منافقت کے قائل ہیں لیکن کیا اہل سنت اس نقطہ ٔ نظر کو تسلیم کرتے ہیں ان میں دینی حمیت کا جذبآ
تھا
ہم چندباتیں ے غور کے لیے پیش خدمت ہیں۔
یزید کے موقف کی وضاحت تاریخ میں موجود ہے اور وہ یہ کہ حضرت...
افسوس۔۔۔آپ حقیقت سے باخبر نہیں
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں قیام پذیر تھے اور شاید سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے میدان اب صاف ہےچنانچہ وہ حکومت حاصل کرنے کے لیے کاروائیوں میں مصروف تھے۔ حسب تحریر حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اہل...
ِیزید حمہ اللہ علیہ کو فی الواقع حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے مؤاخذہ کرنا اور انہیں ان کے عہدوں سے برطرف کردینا چاہیے تھا۔ لیکن جس طرح ہر حکمران کی کچھ سیاسی مجبوریاں ہوتی ہیں جن کی بنا پر بعض دفعہ انہیں اپنے ماتحت حکام کی بعض ایسی کاروائیوں سے بھی چشم پوشی کرنی پڑ جاتی ہے جنہیں وہ صریحا...
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یزید کا قتل کرنا یا ان کے قتل کرنے کا حکم دینا یا ان کے قتل پر راضی ہونا، تینوں باتیں درست نہیں اور جب یہ باتیں یزید کے متعلق ثابت ہی نہیں تو پھر یہ بھی جائز نہیں کہ اس کے متعلق اسی بدگمانی رکھی جائے کیونکہ کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے،...