1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ مُسلمانوں مجهے دوباره هندو بننے سے بچاو ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

'ہندو مت' میں موضوعات آغاز کردہ از رانا ابوبکر, ‏مارچ 19، 2012۔

  1. ‏مارچ 19، 2012 #1
    رانا ابوبکر

    رانا ابوبکر ناظم خاص رکن انتظامیہ
    جگہ:
    بورے والہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2011
    پیغامات:
    2,055
    موصول شکریہ جات:
    3,033
    تمغے کے پوائنٹ:
    432

    ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ مُسلمانوں مجهے دوباره هندو بننے سے بچاو ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
    پاکستان میں ہر ماہ دو ماہ بعد کسی نہ کسی کو خدا سے محبت کا ثبوت دینے کے لئے انگاروں پر قبول اسلام کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ تازہ سفر ہندو لڑکی رنکل کماری حالیہ فریال کو طے کرنا پڑرہا ہے۔ اس نے پریس کانفرنس اور میڈیا کے علاوہ ہائی کورٹ میں میں پیش ہو کر بھی یہ کہہ دیا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور ان کے رشتہ دار و خاندان والے ان کے دشمن بن گئے ہیں مگر پھر بھی پاکستان کا سیکولر میڈیا، وکلااور امریکہ تک یہ زور لگا رہے ہیں کہ اس کو اغوا کر کے لازمی اسلام قبول کرایا گیا ہے لہذا انہیں ان کے والدین کےحوالے کردیا جائے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امریکی کانگریس بھی اس معاملے میں سرگرم ہوگئی ہے کہ نو مسلمہ پاکستانی لڑکی کو دوبارہ سے ہندو بنایا جائے۔ فریال جسے، ہائی کورٹ میں بیان دینے کے باوجود امریکہ، ہندو کمیونٹی اور پاکستانی سیکولر میڈیا کے دبائو پر ہائی کورٹ نے اس کےمسلمان شوہر سے چھین کر دارالامان نامی سرکاری ادارے میں بھیج دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے دو ہفتے تک اس کے شوہر یا دیگر مسلمانوں نے نہ ملنے دیا جائے اس دوران فریال سابقہ رنکل کماری کے والدین اور گھر والے اسے دوبارہ ہندو بنانے کی کوشش کریں۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد انور باجوہ نے فریال کو 26 مارچ تک زبردستی اس کے شوہر سے چھین کر شیلٹر ہوم بھجوادیا، خوفزدہ فریال چلاتی رہی کہ اسے اپنے شوہر کے ساتھ جانے دیا جائے مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔ جس وقت پولیس اہلکار فریال کو لے جا رہے تھے اس وقت کسی نے اُس سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی پیغام مسلمانوں کو دینا چاہے گی، اس پر نے حیرت سے دیکھا اور آنسو بھری آنکھوں سے بولی: بھائی جان! مجھے دوبارہ ہندو ہونے بچا لیں اور وہ شکستہ قدموں سے پولیس والوں کے ساتھ روتی ہوئی چلی گئی۔ عدالت کے حکم پر فریال کو چند دن کے لئے دارالامان بھجوایا دیا جائے اور اس کے شوہر کو اس سے دور رکھا جائے تاکہ فریال کے رشتہ دار اسے دوبارہ ہندو بننے پر راضی کرسکیں۔ فریال کا تعلق ضلع گھوٹکی سندھ کے ایک چھوٹے سے علاقے میر پور ماٹھیلو کے ایک ہندو خاندان سے ہے۔ وہ بالغ ہے ۔ پچھلے مہینے یعنی فروری میں فریال کا کیس پہلی مرتبہ میڈیا کے ذریعے اس وقت سامنے آیا جب اس کے والدین نے رپورٹ درج کرائی کہ ان کی بیٹی رنکل کماری گھر سے غائب ہے ۔ رنکل کماری کے والدین اور خاص کر اس کے ماموں راج کمار کا کہنا تھا کہ انہیں نوید شاہ نام کے ایک نوجوان پر شک ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوید شاہ نے ہی اس کی بھانجی رنکل کماری کو اغوا کیا ہے۔ اس درخواست کی خبرمیڈیا تک پہنچی تو گویا اسے پر لگ گئے۔ رنکل کے والدین نے میڈیا کو بیان دیا کہ میرپور ماتھیلو کے ہی ایک نوجوان نوید شاہ نے ان کی بیٹی کو بھڑکایا ، اسے گھر چھوڑنے پرزبردستی مجبور کیا اور جب وہ نا مانی تو اسے اغوا کر لیا۔ یہی نہیں بلکہ نوید نے زبردستی رنکل سے اپناپیدائشی مذہب چھوڑ اکر اس کی مرضی کے خلاف جبراًشادی کرلی ہے ۔ اس دوران فریال منظر عام پر آگئی۔ اس نے میڈیا اور عدالت کے روبرو آکر بیان دیا کہ اس نے کسی کے دباوٴ میں آکر اپنا مذہب نہیں چھوڑا بلکہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نوید سے شادی کی ہے۔ فریال کا یہ بھی کہنا ہے کہ قبول اسلام کے بعد اس نے اپنا نام رنکل کماری سے بدل کر فریال بی بی رکھ لیاہے۔ فریال کا گلہ ہے کہ شادی کے بعد اسے اور اس کے شوہر کو میڈیا، عدالتوں اور معاشرے میں رسوا کیا جا رہا ہے۔ اسے اپنی مرضی سے اپنے شوہر کے ساتھ آزادنہ زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے۔فریال نے وضاحت کی کہ اس نے اپنی مسلمان سہیلیوں کے کہنے کے بعد مذہب اسلام کا باقاعدہ مطالعہ کیا جس کے بعد ہندو مذہب کو چھوڑ کر اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ نو مارچ کو فریال شاہ کو سندھ ہائیکورٹ سکھر میں پیش کیا گیا اس نے ایک مرتبہ پھر عدالت کو یہی بتایا کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور نوید شاہ سے پسند کی شادی کی ہے ۔ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا لیکن اب میری جان کو میرے ماموں سے خطرہ ہے، مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔اسی دوران فریال شاہ کے رشتے داروں نے کراچی میں بھی ایک کیس دائر کردیا ۔اس کی سماعت کے لئے 12مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی۔ عدالت نے ایس ایس پی گھوٹکی پیر محمد شاہ کو احکامات دیئے کہ فریال شاہ اور ان کے شوہر نوید شاہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور 12 مارچ کو انہیں کراچی کی عدالت میں سماعت کیلئے پولیس کی نگرانی میں لے جایا جائے۔اس سے ایک دن قبل یعنی گیارہ مارچ کو فریال نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں فریال نے پھر یہی فریاد کی کہ اسے تحفظ فراہم کیا جائے ۔ اس نے مرضی سے مذہب تبدیل کیا ، اپنی پسند سے نوید سے شادی کی اور اسی کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہتی ہے
    تحریر: برادر محمد شعیب تنولی
    Top of Form
     

اس صفحے کو مشتہر کریں