• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آنکھوں دیکھا کانوں سنا۔ مدخلیوں کا حال

عبداللہ کشمیری

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 08، 2012
پیغامات
579
ری ایکشن اسکور
1,658
پوائنٹ
186
آنکھوں دیکھا کانوں سنا۔ مدخلیوں کا حال ایک فکری چشم کشا حقیقت

✍مبشر حسن بنگش


یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں سعودی عرب میں مقیم تھا وہی دور تھا جب امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور پورا عراق فرقہ واریت کی آگ میں جھلسنے لگا خاص طور پر شیعہ ملیشیاؤں نے سنی مسلمانوں کے محلے مساجد اور گھروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ایک خونی طوفان برپا ہو چکا تھا
ان خبروں نے سعودی نوجوانوں کے ایمان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا دل میں غیرت دینی جاگ اٹھی کئی نوجوان یہ سوچنے لگے کہ وہ کسی طرح مظلوم سنیوں کی مدد کو عراق پہنچیں لیکن سعودی حکومت کے لیے یہ جذبہ ایک خطرہ محسوس ہوا وہ نہیں چاہتے تھے کہ عوام کسی عسکری تجربے سے گزر کر کل ان کے اقتدار کے لیے چیلنج بن جائیں

یہی وہ وقت تھا جب مدخلی فکر کے علما اور داعیان حکومت کے اشارے پر متحرک ہوئے یہ وہ طبقہ ہے جو ظاہری طور پر سلفیت کا علم بردار ہے لیکن درحقیقت حکمرانوں کی کاسہ لیسی کو دینی اطاعت کا لبادہ پہنا کر پیش کرتا ہے

مدخلی علما مختلف شہروں میں استراحات یعنی چھوٹے ہالز میں اجتماعات کرتے اور لوگوں کو یہ پیغام دیتے عراق میں جو جماعتیں لڑ رہی ہیں وہ اہل بدعت ہیں ایک سچا سلفی نہ کسی بدعتی کے لیے لڑ سکتا ہے نہ جان دے سکتا ہے سلفی آج امت کے لیے انمول ہیرا ہے اسے بچانا فرض ہے

یہ باتیں بظاہر عقیدہ کی حفاظت کے نام پر کہی جا رہی تھیں مگر اصل میں یہ مظلوموں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف تھیں۔
ایک دن میں ریاض کے علاقے حی الشفاء میں ایک استراحہ میں گیا جہاں ایسا ہی پروگرام جاری تھا وہی باتیں دہرائی جا رہی تھیں جب سوال و جواب کا وقت آیا تو سب نے پرچیوں پر سوالات لکھے لیکن میں نے پرچی کا سہارا نہیں لیا میں کھڑا ہوا اور بلند آواز میں سوال کیا

چلو مان لیا کہ عراق میں قتل کیے جا رہے سنی اہل بدعت ہوں مگر ان کے بچوں کا کیا قصور ہے کیا وہ بھی بدعتی پیدا ہوتے ہیں اگر ان کی نسل ختم کر دی جائے تو کیا یہ ممکن نہیں کہ انہی میں سے کوئی محمد بن عبد الوہاب جیسا مجاہد پیدا ہو جس طرح تمہاری اپنی قوم اہل عرب ایک وقت میں شرک و جہالت میں ڈوبی ہوئی تھی اور اللہ نے انہی مشرکوں میں سے شیخ محمد بن عبد الوہاب کو اٹھایا تو کیا آج کے اہل بدعت میں سے کوئی راہ راست پر نہیں آ سکتا

یہ سوال جیسے فضا پر بجلی بن کر گرا ایک لمحے کے لیے سب ساکت ہو گئے کچھ چہروں پر ناگواری تھی کچھ پر حیرت پھر اچانک ایک ذمہ دار نے کہا

ما شاء اللہ آپ تو ہمارے مواحد بھائی لگتے ہیں آئیے ہم اس موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے آپ ہمارے دفتر آئیے گا

یعنی اصل سوال سے توجہ ہٹا کر بات کو ٹالنے کی کوشش کی گئی

پھر شام کا المیہ اور مدخلی سوچ کا تسلسل

کچھ ہی سالوں بعد شام میں بشار الاسد نے اپنی حکومت بچانے کے لیے سنیوں کا قتل عام شروع کیا لاکھوں افراد کو کیمیائی ہتھیاروں بیرل بموں اور ٹینکوں سے تباہ کر دیا گیا ہزاروں عورتیں بیوہ ہوئیں لاکھوں بچے یتیم ہو گئے

لیکن مدخلی گروہ نے وہاں بھی وہی پالیسی اپنائی شام کے سنی بھی اہل بدعت ہیں ان کی حمایت فتنے کو دعوت دینا ہے۔ جب شام میں بھی سنیوں کا قتل عام ہو رہا تھا تب بھی یہ مدخلی حکومت نواز اٹھ کر یہی کہتے تھے وہاں جو سنی ہیں ان کا تعلق اہل بدعت سے ہے گویا ظلم کی شدت خون کی ندیاں یا بچوں کی لاشیں ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں اگر حکمرانوں کی مرضی کے خلاف بات ہو

مدخلیت ایک خطرناک فکری دھوکہ ہے

مدخلی فکر حقیقت میں قرآن و سنت کی روح نبی ﷺ کی سنت اور سلف صالحین کے منہج سے انحراف ہے

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر
سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ کوئی شخص ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہے

لیکن مدخلیت کہتی ہے

ظالم حکمران کی حمایت کرو مظلوموں کی مدد نہ کرو صرف فقہی مسائل پڑھو سیاسی شعور اور دینی غیرت کو دفن کر دو

نتیجہ بیداری کا وقت ہے:

یہ تحریر میرا ذاتی مشاہدہ اور امت کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہے میں چاہتا ہوں کہ امت مسلمہ کے نوجوان دین کو صرف درس و تدریس کا مجموعہ نہ سمجھیں مظلوموں کی حمایت کو ایمان کا تقاضا جانیں۔۔۔۔

مدخلی فکر جیسے فتنوں کو پہچانیں

اور قرآن و سنت کے اصل پیغام عدل غیرت اور امت کی وحدت کو اپنائیں
 
Top