• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اجتہادی ختلاف کی بنا پر تکفیر نہیں کرنی چائیے۔ ۔ اہل سنت کا منہج تعامل

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
اجتہادی ختلاف کی بنا پر تکفیر نہیں کرنی چائیے
اجتہادی مسائل کا اختلاف کتناہی بڑا کیوں نہ ہو کبھی صحابہ نے ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کی ۔دیکھیے عائشہ ،معاویہ اور علی؇ کے مابین اختلاف نے کتنی شدت اختیار کی مگر اس کے باوجود انہوں نے ایک دوسرے کو مسلمان ہی سمجھا ۔ملاحظہ فرمائیں:

((عن رباح بن الحارث قال :انا لبواد ، وان رکبتي لتکاد تمس رکبۃ عماربن یاسر اذ أقبل رجل فقال:کفر واللہ أھل الشام ۔فقال عمار:لا تقل ذلک، فقبلتنا واحدۃ،ونبینا واحد ،ولکنھم قوم مفتونون،فحق علینا قتالھم حتی یرجعوا الی الحق))
رباح بن حارث کہتے ہیں ہم عمار بن یاسر؄ کے ساتھ ایک وادی میں تھے (عمار بن یاسر سیدناعلی؄ کے ساتھی تھے اور آپ کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے یہ خبر دی تھی کہ آپ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔چنانچہ آپ معاویہ؄ کے گروہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔) ایک آدمی آپ کے پاس آیاور کہنے لگا اللہ کی قسم ! اہل شام (معاویہ؄ کے ساتھی )کافر ہوگئے ۔عمار؄ نے کہا:ایسا مت کہو ،ہمارا قبلہ ایک ہے ،نبی ایک ہے ۔صحیح بات یہ ہے کہ وہ فتنہ زدہ لوگ ہیں جن سے قتال کرنا ہم پر واجب ہے یہاں تک کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں ۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا :
(( لا تقولوا :کفر أھل الشام قولوا:فسقوا ،قولو:ظلموا ))(منھاج السنۃ ۵/۲۴۶)
''یہ نہ کہو کہ اہل شام نے کفر کیا ،کہو انہوں نے فسق کیا ،ظلم کیا ''

یاد رہے کہ جنگ جمل و صفین میں گنتی کے چند صحابہ نے شرکت کی تھی ۔اُن کا مقصد بھی جنگ کرنا نہیں تھا بلکہ ان دوگروہوں میں اصلاح کروانا تھا ۔ان جنگوں کو بھڑکانے میں اصل کردار منافقین اور سبائی پارٹی کا تھا ۔

قال عبداللہ بن الامام أحمد :((حدثنا أبي ،حدثنا اسماعیل یعنی ابن علیۃ ، حدثنا أیوب السختیاني ،عن محمد بن سیرین ،قال :ھاجت الفتنۃ وأصحاب رسول اللہ ﷺ عشرۃ آلاف ،فما حضرھا منھم مائۃ ، بل یبلغوا ثلاثین ))(السنۃ للخلال۱/۴۴۶)
''محمد بن سیرین فرماتے ہیں:'' جب مسلمانوں کے مابین قتال ہواتب اصحاب رسولﷺ کی تعداد دس ہزار تھی' لیکن ان جنگوں میں ان میں سے ۱۰۰ افراد بھی شامل نہ ہوئےبلکہ ان کی تعداد ۳۰ کو بھی نہ پہنچتی تھی۔''

امام ابن تیمیہ اس روایت کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں :
((وھذا الاسناد من أصح اسناد علی وجہ الأرض))(منھاج السنۃ ۶/ ۲۳۶)
 
Top