- شمولیت
- اپریل 14، 2011
- پیغامات
- 1,135
- ری ایکشن اسکور
- 4,484
- پوائنٹ
- 376
ایک بریلوی عالم دین لکھتے ہیں :
یہ مبالغہ ہے بلکہ اصل حقیقت اس کے خلاف ہے احمد رضا بریلوی کی کتب میں جو روایات درج ہیں ان پر کام جاری ہے ایک ہمارے قریبی اہل علم کر رہے ہیں مثلا موضوع ،بے اصل ،اور ضعیف روایات کو الگ کر رہے ہیں جس سے اندازہ ہو گا کہ بریلوی صاحب کی حدیث پر کتنی وسعت تھی ،ان کا کہنا ہے بریلوی صاحب اصل مرجع کنز العمال ھے بس اسی سے نقل کرتے جاتے ہیں اورکنز کا حوالہ بھی نہیں دیتے
اور ہمیں علم ہے کہ آل تقلید کتنے بڑے حدیث کے محدث ہوتے ہیں ۔تفصیل کا موقع نہیں مزید البشارہ سے مطالعہ کرلیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ سے ایک مرتبہ سوال ہوا کہ آپ نے حدیث شریف کی کون کون سی کتابیں درس کی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا :۔
مسند امام اعظم، مؤطا امام محمد، کتاب الآثار، کتاب الخراج ، کتاب الحج، شرح معانی الآثار، مؤطا امام مالک، مسند امام شافعی ، مسند امام احمد، سنن دارمی، بخاری ، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ ، خصائص نسائی، منتہی الجارود، علل متناہیہ ، مشکوۃ، جامع کبیر ، جامع صغیر ، منتقی ابن تیمیہ ، بلوغ المرام، عمل الیوم واللیلہ، الترغیب والترہیب ، خصائص کبری ، الفرج بعد الشدۃ، کتاب الاسماء و الصفات، وغیرہا۔
پچاس سے زائد کتب حدیث میرے درس و تدریس اور مطالعہ میں رہیں ۔
امام احمد رضا نے چند کتب شمار فرما کرپچاس سے زائد کی بات اجمالاً ذکر کر دی ، یعنی آگے شمار کر نے کے لئے میری تصانیف کا مطالعہ کرو واضح ہو جائے گا کہ میں نے علم حدیث میں کن کن کتابوں کو پڑ ھا اور پڑ ھایا ہے ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں جب راقم الحروف نے تلاش و جستجو شروع کی تو اب تک امام احمد رضا کی ساڑ ھے تین سو کتب و رسائل میں تقریباً چار سو کتابوں کے حوالے احادیث مبارکہ کے تعلق سے ملے ۔ ان تمام کتب کی تفصیلی فہرست جامع الا حادیث جلد ششم کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں ۔
حدیث کی یہ کتابیں ابھی ہماری تحقیق و تلاش کے مطابق ہیں ورنہ امام احمد رضا فاضل بریلوی کی تمام تصانیف کی تعداد تو تقریباً ایک ہزار ہے تو ا بھی یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ حدیث کی تمام کتابوں کی تعداد جو انکے مطالعہ میں رہیں کتنی ہیں ۔
ان تمام کتب کے حوالے اس بات کی بھرپور وضاحت کر رہے ہیں کہ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کا علم حدیث میں مطالعہ نہایت وسیع تھا۔ آپ نے جن کتابوں کا بطور حوالہ تذکرہ فرمایا ہے وہ کتابیں بھی کوئی معمولی ضخامت کی حامل نہیں بلکہ بعض کتب دس، پندرہ ، بیس ، اور پچیس جلدوں پر بھی مشتمل ہیں :۔ مثلا
٭السنن الکبری للبیہقی۔ دس جلدیں
٭کنز العمال لعلی المتقی ۱۸ جلدیں
٭ المعجم کبیر للطبرانی ۔ ۲۵ جلدیں
اس عظیم ذخیرۂ حدیث کا استقصاء و احاطہ اور پھر استحضار یہ سب آپ ہی کا حصہ تھا۔ متعدد مقامات پر ایک وقت میں ایک حدیث کے حوالے میں دس، بیس اور پچیس پچیس کتابوں کا تذکرہ اس بات کی غماز ی کر رہا ہے کہ بیک وقت آپ کے پیش نظر وہ تمام کتابیں رہتی تھیں بلکہ گویا ان سب کو حفظ کر لیا گیا تھا کہ جب جس مسئلہ میں ضرورت پیش آئی انکو فی البدیہ اور برجستہ تقریراً یا تحریراً بیان فرما دیتے۔حافظہ اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے ایسا عظیم الشان عطا فرمایا تھا کہ جو کتاب ایک مرتبہ دیکھ لی حفظ ہو گئی ۔
جس موضوع پر آ پ نے قلم اٹھایا احادیث کا وافر ذخیرہ امت مسلمہ کو عطا فرمایا، تحقیق کے دریا بہائے ۔ فتاوی رضویہ اور اسکے علاوہ تصا نیف سے چند نمونے صرف علم حدیث سے متعلق ملاحظہ فر مائیں ۔ ہم اس مقالہ میں علم حدیث سے متعلق چند حیثیات سے نمونے پیش کریں گے(حوالہ فیض رضا )
یہ مبالغہ ہے بلکہ اصل حقیقت اس کے خلاف ہے احمد رضا بریلوی کی کتب میں جو روایات درج ہیں ان پر کام جاری ہے ایک ہمارے قریبی اہل علم کر رہے ہیں مثلا موضوع ،بے اصل ،اور ضعیف روایات کو الگ کر رہے ہیں جس سے اندازہ ہو گا کہ بریلوی صاحب کی حدیث پر کتنی وسعت تھی ،ان کا کہنا ہے بریلوی صاحب اصل مرجع کنز العمال ھے بس اسی سے نقل کرتے جاتے ہیں اورکنز کا حوالہ بھی نہیں دیتے
اور ہمیں علم ہے کہ آل تقلید کتنے بڑے حدیث کے محدث ہوتے ہیں ۔تفصیل کا موقع نہیں مزید البشارہ سے مطالعہ کرلیں ۔