• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احناف کے پیچھے نماز۔ اہل سنت کا منہج تعامل

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
دوسری بات :دیوبندی عقیدہ میں ماتریدی ہیں اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صوفیاء کے سلسلوں جیسے نقشبندی ،سہروردی ،قادری اور چشتی کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ۔بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں راجح قول یہ ہے کہ جب کسی کا مسلمان ہونا ثابت ہے اس کے پیچھے نماز بھی درست ہے ۔اور جس کی بدعت کفریہ ہو کہ جس سے وہ کافر قرار پاتا ہو اس کی اقتداء میں نماز درست نہیں ہے ۔

علامہ ابن باز  سے سوال کیا گیا ۔کیا اہل سنت والجماعت کے عقیدے کے مخالف کے پیچھے نماز ادا کرنا جائز ہے جیسے کوئی اشعری ہو؟

آپ نے جواب دیا :'' ہر وہ شخص جسے ہم مسلمان قرار دیتے ہیںاس کے پیچھے نماز ادا کرنا درست ہے اور جس پر ہم اسلام کا حکم نہیں لگاتے اُس کے پیچھے نماز بھی درست نہیں ہے ۔نافرمان (عاصی ) کے پیچھے نماز کے درست نہ ہونے کا قول مرجوح ہے ۔کیونکہ نبیﷺ نے حکام کے پیچھے نماز ادا کرنے کی اجازت دی ہے اور امراء میں کثیر عاصی تھے۔ چنانچہ ابن عمر ،انس اور صحابہ؇ کی ایک جماعت نے حجاج کے پیچھے نماز ادا کی جو کہ لوگوں میں سب سے بڑا ظالم تھا ۔حاصل کلام یہ ہے کہ ایسے بدعتی کے پیچھے نماز ادا کرنا درست ہے کہ جس کی بدعت اسے اسلام کے دائرہ سے نہیں نکالتی۔ اسی طرح ایسے فاسق کی اقتداء میں نماز بھی درست ہے کہ جس کا فسق اسے اسلام سے نہیں نکالتا ۔لیکن سنت والے کوامام بنانا چاہیے ۔اسی طرح جب کوئی گروہ جمع ہو تو اسے اپنے میں سے افضل شخص کو آگے کرنا چاہیے ۔''(فتاوی شیخ ابن باز :426/5)

شیخ ابن عثیمین  سے سوال ہوا کہ بعض اسلامی ممالک میں پائے جانے والی ان مساجد میں نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے کہ جہاں امامت اشعری عقیدے کا حامل امامت کرواتا ہے ؟
آپ نے جواب دیا کہ ان کے پیچھے نماز ادا کرنا جائز ہے ۔

میں نے شیخ سے سوال کیا اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا عقیدہ اشعری ہے ؟

شیخ نے جواب دیا :اس کے پیچھے نماز جائز ہے کیونکہ میں کسی کو نہیں جانتا کہ جس نے اشاعرہ کی تکفیر کی ہو ۔(ثمرات التدوین لدکتور احمد بن عبدالرحمن القاضی )

اللجنۃ الدائمہ فتویٰ کمیٹی سعودی عرب کے علماء کا کہنا ہے :

''بدعتیوں کے پیچھے نماز ادا کرنے کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر تو ان کی بدعت شرکیہ ہو مثلاً غیر اللہ کو پکارنا اور غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز دینا اور ان کا اپنے مشائخ اور بزرگوں کے متعلق وہ اعتقاد رکھنا کہ جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے بارے میں نہیں رکھا جاسکتا جیسے ان کے بارے میں کمال علم اور غیب کے علم کو جاننے کا عقیدہ رکھنا یاان کے کائنات میں متصرف ہونے کا یقین رکھنا تو ان کے پیچھے نماز ادا کرنا صحیح نہیں ۔

اور اگر ان کی بدعت شرکیہ نہیں ،مثلاً نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ذکر کو اجتماعی طور پر اور جھوم جھوم کر کرناتوان کے پیچھے نماز ادا کرنا صحیح ہے ۔لیکن ایک مسلمان کو غیر بدعتی امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔تاکہ اس کے اجر وثواب میں زیادتی ہو اور گناہ میں کمی ہو ۔''(فتاویٰ اللجنۃالدائمہ :353/7)

اس بنیاد پر ہم کہتے ہیں:اگر امام مسجد کا شرکیہ امور میں واقع ہونا ثابت نہ ہو تو اس کی اقتداء میں نماز ادا کرنا درست ہے ،چاہے وہ نماز عصر کو تاخیر سے ہی کیوں نہ پڑہتے ہوں جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے ۔اس سبب سے جماعت کو ترک کرنا جائز نہیں ہے۔ (اسلام سوال جواب،سوال نمبر :150090)
 
Top