سرفراز فیضی
سینئر رکن
- شمولیت
- اکتوبر 22، 2011
- پیغامات
- 1,091
- ری ایکشن اسکور
- 3,807
- پوائنٹ
- 376
ادبی ارتداد
شعبان بیدار صفوی
چچا غالب بھی مزے کے آدمی تھے، دنیا کی خیالی محبوبہ کے وعدے پر ہی مرے جاتے تھے
مگر بڑھاپے میں عقل کیا سوختہ ہوئی جنت کی حوریں بھی ٹھٹھولی کی نذر ہو گئیں ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان چھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
انھیں شاید یقین تھا کہ جنت انھیں ملنے سے رہی اور وہ جنت والا کام کرنے سے رہے۔ پھر کیا تھا لومڑی انگور کو ہی کھٹا کہنے لگی ایسی جنت کا کیا کرے کوئی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
اگر بیچارے چچا میاں کی طبیعت کبھی راغب فردوس ہوئی بھی تو دنیا کے شوق وہاں بھی پورا کرنے کا خواب دیکھنے لگے۔ یہاں کی گندگی وہاں پھیلانے کی ٹھان لیے اور بولے مجھ کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کو بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
چہرہ مہرہ بھی ایسا عاشقانہ تھا کہ تاحیات پری زادوں کی توجہ کو ترستے رہ گئے۔ سوچ ہوئی کہ یہاں نہیں تو وہاں انتقام لے ہی لوں گا۔ پری زادوں نے اپنی عفت سے تو جنت پکی کرلی مگر شیخ غالبؔ کس زعم میں تھے اﷲ بہتر جانے، آخرت کا کوئی مواصلاتی سسٹم ہوتا تو حال احوال دریافت کرتے۔ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہوگئیں
عصر حاضر میں محترم کے بھتیجوں کی کون کمی ہے۔ ایک سے ایک ترقی پسند فکر اور جدیدیت کا شاہکار کہ سنتے بنے
شجر ممنوعہ کی جڑ کھودنا، اس کا سفوف تیار کرنا، پھلوں سے آب حیات کشید کرنا ہمارے شاعروں کا کوئی نیا کھیل نہیں ہے ۔آدم علیہ السلام پر وار کرنے کے بعد مذہب کا گوشت کھانے کا انھیں چسکا ہی لگ گیا۔ موسی کا جلال بھی یاد نہ رہا اور تجلی طور کی پرواہ نہ ہوئی، جنوں میں جب پیمبری کا دعویٰ سوجھا تو یوں گویا ہوئے شجر ممنوعہ نہ تھا جنت میں کھانے کے لیے
تھی فقط ترکیب آدم کو بھگانے کے لیے
دادا جی جنت سے نکلے ان کے پوتے بے حیا
مررہے ہیں پھر اسی جنت میں جانے کے لیے
دیکھئے ذرا اسرار خودی کا کمال! اﷲ کو بھی انگلی دکھانے سے ڈر نہیں۔ ادب برائے ادب میں عمدہ مضمون باندھنے کی یہ ہوس، ہنسی مذاق کی تجارت، دلچسپ اور مزاح نگار کہلانے کا شوق کوئی اردو دنیا کا ہی خاصہ نہیں ہے عربی دنیا میں بھی سفید داغ والی یہ کشیدہ کاری عروج پر ہے ۔ نثری ادب کی بات کریں تو نجیب محفوظ، توفیق الحکیم، انیس منصور، جرحی زیدان، ایسے کتنے نام ہیں کہ ساحر لدھیانوی، فیض احمد فیض نئی زندگی پا کر بھی ان کے مقابلے کا ارتدادی شاہکار پیش نہیں کرسکتے۔نہ کہوں گا رب ارنی، نہ سنوں گا لن ترانی
تو ملے تو مہربانی، نہ ملے تو مہربانی
اصل میں ہوتا یہ ہے کہ بہتیرے شعراء، ادباء یہاں وہاں سے فلسفہ طرازیاں کرتے ہیں پھر دین میں کیڑوں کی تلاش، احکامات میں عیب جوئی ان کا دل پسند مشغلہ بن جاتا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کا وہ طبقہ جو ادبی چھچھورپن سے واقف نہیں ہوتا اور تنقید کی پختہ صلاحیت نہیں ہوتی بڑا متاثر ہوتا ہے۔ فلاں صاحب تو مجلس کو گل و گلزار بنا دیتے ہیں، کلیاں چٹکتی ہیں، پھول کھلتے ہیں، بھنورے گنگناتے ہیں، کیا ہی مصرع ہے!
کیا بات پیدا کی ہے! فکر کی رسائی تو دیکھے ! لہجے کی کاٹ غضب کی ہے! سچ ہے بھائی
حالانکہ یہی وہ شعراء ہیں جو ہر وادی کے نابینا مسافر ہیں اور انھیں کے وہ اندھے پیروکار ہیں جو واہ واہی کے ترانے میں زبان وقلم کا سارا زور صرف کر ڈالتے ہیں۔جہاں نہ پہنچے روی وہاں پہنچے کوی
ابو العلاء معری کا یہ شعر دیکھئے جو اس نے یہی سارے القاب حاصل کرنے کے لیے کیا ہے
ید بخمس مئین عسجد فدیت
مابالھا قطعت فی ربع دینار
تحکم مالنا الا السکوت لہ
وان نعوذ بمولانا من النار
اوہو! ہاتھ کاٹنے پر پانچ سو دینار کا فدیہ
مگر ایک چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کا قانون نافذ؟
اس ظلم وتحکم پر خاموش رہنے کے علاوہ کیا کرسکتے ہیں
بس اﷲ سے جہنم کی پناہ مانگتے رہئے
اس کا جواب علم الدین سخاوی نے یوں دیا مگر ایک چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کا قانون نافذ؟
اس ظلم وتحکم پر خاموش رہنے کے علاوہ کیا کرسکتے ہیں
بس اﷲ سے جہنم کی پناہ مانگتے رہئے
کہ امانت کی عزت و بلندی بڑی قیمتی ہے۔ اور خیانت کی ذلت انتہائی رخیص۔ ذرا تو اﷲ کی حکمت سمجھ!عز الامانۃ اغلاھا وارخصھا
ذل الخیانۃ فافھم حکمۃ الباری
یاقوت حموی نے معجم الادباء میں معری کے شعر پر تعلیق چڑھایا ہے کہ معری بڑا بیوقوف تھا۔ اگر ہاتھ پانچ سو دینار کی چوری پر ہی کاٹا جاتا تو کم مقدار کی چوریاں بکثرت ہونے لگتیں کیونکہ یہ چوریاں حدجاری کرنے کے دائرے میں نہیں آتیں۔
اور اگرربع دینار کے ذریعے ہاتھ کاٹ لینے کا فدیہ درست قرار پاتا ہے تو کسی کا ہاتھ سلامت نہ رہتا۔ کسی سے تھوڑی ان بن ہوئی تو ہاتھ کاٹ لیا اورربع دینار کا فدیہ دے کر چھٹی لے لی
جب جب آدم اور ان کا کارنامہ سامنے آتا ہے اور ماضی کی وہ بات یاد آتی ہے کہ وہ اپنی دو لڑکیوں کی شادی اپنے ہی دو بیٹوں سے کرتے تھے تو مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ پوری مخلوق نسل فاجر ہے اور سب کے سب زنا سے پیدا ہوئے ہیں۔اذاما ذکرنا آدما وفعالہ
وتزویجہ بنتیہ لابنیہ فی الخنا
علمنا بان الخلق من نسل فاجر
وان جمیع الخلق من عنصر الزنا
قاضی ابو محمد الیمین نے اس کا جواب یوں دیا تھا
لعمری اما فیک فالقول صادق
وتکذب فی الباقین من شطا اودنا
کذلک اقرار الفتی لازم لہ
وفی غیرہ لغو کذا جاء شرعنا
قسم ہے یہ بات تمہارے بارے میں تو پکی ہے بقیہ قریب و بعید کے تمام لوگوں کے متعلق تم جھوٹ بول رہے ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ انسان کا کوئی بھی اقرار و اعتراف اسی کے لیے لازم ہے اور دوسروں کے بارے میں اصولی طور پر لغو ہے۔
عربی ادب کے حوالے سے ادبی ارتداد کی یہ ایک مثال ہے اور بس! ورنہ اس طرح کی منفی اور خرافاتی صنعتوں کا وہاں ایک سیلاب ہے جس کا مقابلہ اردو زبان کے ادبی مرتدین بھی نہیں کرسکے ہیں۔ ’’نحن ابناء الفراعنہ‘‘ کے نعرہ کے پس پشت و طنیت اور قومیت کے لیے زبان و ادب کا ناجائز استعمال اور ’’اولاد حارتنا‘‘ جیسا الحادی شاہکار عربی ادب کے گندے کھیتوں کا ہی پودا ہے۔البتہ عربی دنیا کو اردو دنیا کے مقابلے میں ایک امتیاز حاصل ہے کہ وہاں الحادپرست قلم کاروں کی لال جھنڈیاں چھن گئیں، قومیت کا بت تراشنے والوں کی مٹی اٹھوا لی گئی، عربی لہجے میں مغرب کے یہ نقال جہاں سے وار کر رہے تھے اسی زمین پر کھڑے ہو کر اسلام پسند ادباء و شعراء نے ان کا مقابلہ کیا۔ سید قطب، محمد قطب اس قسم کے معتبر نام ہیں۔
جب کہ اردو ادب کا معاملہ ایسا نہیں ہے ۔ جس زبان میں ہمارا سارا کاروبار چلتا ہے ، جو زبان رسید اور روداد کی زبان ہے، جس زبان کے سہارے دین کی چھوٹی بڑی دکانیں ہر صوبے و ضلع میں مل جائیں گی(الامن رحم اﷲ) وہ زبان ادنیٰ ہی سے ہمارے نصاب کے لائق نہیں، مجھے خود ایسا لگنے لگتا ہے کہ معیاری اور ٹکسالی زبان کا سلیقہ مجھ میں نہیں ہے۔ بڑی صاف بات ہے اردو کے ادباء جس سطح سے بات کرتے ہیں اس سطح پر چڑھ کر بات کرنا تودور کی بات ہے ہم نظر اٹھا کے اس مقام کو دیکھنا چاہیں تو ہماری ٹوپیاں گرجائیں۔ یہ احساس کمتری نہیں احساس حقیقت کا اظہار ہے۔ اس وقت معیاری اردو میں دین کی بات رکھنے والے خصوصاً اپنی جماعت میں بہت کم ہیں۔ واضح رہے معیاری زبان سے میری مراد قاموسی زبان قطعی نہیں ہے۔ افسوس ہے کہ اردو ادب کے حوالے سے ایک طرف ہماری تہی دستی قابل رحم ہے اور دوسری طرف زبان و ادب کے نام پر بے فائدہ اور بلاوجہ گندا عربی ادب ہمارے نصاب کا حصہ ہے اور شاذ طلباء کے حوالے سے فوائد جمہ پر گنسؤں کی گفتگو بھی ہماری خصوصیت ہے۔ اور پھر عالم یہ ہے کہ تقویٰ کے نام پر اردو میں ادبی مزاج، شعرو شاعری کا ذوق قطعی دین کے منافی ہے۔ گویا گندی بات عربی زبان میں ہو تو مقدس! جیسے ہمارے جہلاء اردو اخبار کے اس صفحے پر بھی کھانا تک نہیں کھا سکتے جس پر بلے بازوں اور فلمی ایکٹرس کی گندی تصویریں ہوتی ہیں اور انگریزی میں خواہ قرآن پاک کا ترجمہ کیوں نہ ہو کوئی پرواہ نہیں۔
ادب کو دھکا دینے کے لیے ہمارے سلفی صوفیوں نے ایک فقرہ تراش رکھا ہے ’’اردو ناچ گانے کی زبان ہے‘‘ ’’ناچ گانا بریلویوں کا مذہب ہے‘‘۔ کسی خاص حوالے سے جزئی طور پر یہ بات ممکن ہے درست ہو لیکن اِبا کا یہ رویہ ایک دوسری اصطلاح کی ایجاد کا موجب ہے جس کا نام ہے ’’مولویانہ اردو‘‘۔ یہ مولویانہ اردو آپ کو مذہبی اسکولوں، تنظیموں میں وافر مقدار میں ملے گی۔ اکثر اردو رسالے جو ہمارے پاس آتے ہیں اسی مولویانہ اردو کے شاہکار ہوتے ہیں۔ پھر ادبی ارتداد کا مقابلہ کیسے؟ سوال ہے!
(دی فری لانسر، مارچ ٢٠١٢ )