• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

استغفرالله ! قبر پرستی کے بعد اب باقاعدہ بت پرستی

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,722
پوائنٹ
1,069
ایسٹر کے تہوار کی تقریبات میں شرکت کا حکم

سوال: میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ سڈنی میں منعقد ہونے والی شاہی نمائش برائے ایسٹر تہوار میں شرکت کرنا چاہتا ہوں، اس نمائش کا نام اگرچہ ایسٹر تہوار کی نمائش ہے لیکن اس کا ایسٹر سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں اس نمائش میں اس لیے جانا چاہتا ہوں کہ یہاں کچھ شعبدہ بازی، کھانے پینے کیلئے پھل، اور دیکھنے کیلئے مختلف جانور نظر آتے ہیں، ان تمام چیزوں کا ایسٹر کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

Published Date: 2015-12-26

الحمد للہ:

کفار کے خود ساختہ تہوار اور تقریبات میں کسی بھی مسلمان کیلئے شرکت کرنا جائز نہیں ہے ، چاہے وہ ایسٹر کا تہوار ہو یا کرسمس ؛ کیونکہ شرکت سے کفار کی معاونت ، حاضرین مجلس کی تعداد میں اضافہ کیساتھ ساتھ مشابہت بھی ہوگی؛ اور ایسا کرنا بالکل منع ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}

ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی معاونت کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں پر معاونت مت کرو، اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی سخت عذاب دینے والا ہے۔ [المائدة : 2]

نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:

(جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے)

ابو داود: (4031) البانی نے اسے "إرواء الغليل" (5/109) میں صحیح قرار دیا ہے۔


ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"حقیقی اہل علم کے ہاں مشرکوں کے تہواروں میں مسلمانوں کی جانب سے شمولیت بالکل جائز نہیں ہے، چنانچہ اس بارے میں چاروں فقہی مذاہب کے فقہائے کرام نے اپنی اپنی کتب میں یہ بات بالکل واضح صراحت کیساتھ لکھی ہے۔۔۔ نیز بیہقی نے صحیح سند کیساتھ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ، آپ کہتے ہیں:

"مشرکین کے تہوار کے دن کلیسا میں داخل بھی نہیں ہونا، کیونکہ اس وقت ان پر اللہ کی ناراضی اترتی ہے"

اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ:

"اللہ کے دشمنوں سے ان کے تہواروں میں دور ہی رہو"

اسی طرح بیہقی نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ "جس شخص نے غیر عرب علاقے سے گزرتے ہوئے نوروز اور مہرجان منایا اور مرتے دم تک ان کی مشابہت اختیار کی تو قیامت کے دن انہی کیساتھ اسے اٹھایا جائے گا" انتہی
ماخوذ از: "احکام اہل الذمہ" (1 /723)


اسی طرح دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام سے ارجنٹائن کے قومی اور کلیساؤں میں منعقد کیے جانے والے تہوار مثلاً: جشن آزادی اور ایسٹر تہوار کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:

"یہ تہوار مسلمان منعقد نہیں کر سکتے، اور نہ ہی ان میں عیسائیوں کیساتھ مل کر شرکت کر سکتے ہیں؛ کیونکہ اس طرح شرکت پر گناہ اور برائی کے کام میں ان کی معاونت ہوگی، اور اللہ تعالی نے گناہوں کے کاموں میں کسی کی معاونت سے روکا ہے"

اللہ تعالی عمل کی توفیق دے۔ انتہی

"فتاوى اللجنة الدائمة" (2/76)

خلاصہ یہ ہوا کہ:

کفار کے تہوار منانا ، ان میں شرکت کرنا، چاہے وہ ان تہواروں میں اپنے مذہبی امور سر انجام دیں یا نہ دیں ہر دو صورت میں جائز نہیں ہے؛ کیونکہ ان تہواروں کی اصل بنیاد ہی غلط ہے، اور اگر ان میں مذہبی رسوم بھی شامل ہو جائیں تو حرمت مزید سنگین ہو جائے گی۔

اس لیے ہر مسلمان یہ دن اپنے دیگر ایام کی طرح معمول کے مطابق گزارے، اور اس دن خصوصی طور پر کسی قسم کا کوئی کھانے پکانے کا اہتمام نہ کرے، اور نہ ہی غیر اسلامی تہوارمنانے والوں کی طرح خوشی و مسرت کا اظہار کرے، مثال کے طور پر: سیر گاہوں، پارکوں اور کھیل کود کا اہتمام مت کرے، تا کہ مسلمان ان غیر شرعی تہواروں کو تسلیم کرنے یا شرکت کے گناہ سے بچ سکے۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب

https://islamqa.info/ur/101347
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,722
پوائنٹ
1,069
کفار کے تہوار منانا حرام ہے

الحمد للہ:

"کفار کے تہوار میں کسی بھی مسلمان کیلئے شرکت کرنا جائز نہیں ہے ۔ ان کی تقریبات چاہے مذہبی ہوں یا دنیاوی ان میں شامل ہو کر خوشی اور مسرت کا اظہار ، اور اس دن چھٹی منا کر ان کیساتھ شرکت کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ کفار کیساتھ مشابہت سمیت باطل امور پر ان کی معاونت بھی ہے، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ:

(جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے)

نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}

ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی معاونت کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں پر معاونت مت کرو، اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی سخت عذاب دینے والا ہے۔ [المائدة : 2]

اللہ تعالی عمل کی توفیق دے، اللہ تعالی ہمارے نبی ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود و سلام نازل فرمائے "

واللہ اعلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء ۔ فتوی نمبر: (2540)
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,430
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
بھائی آپ کیا نصیحت کریں گے
بُت شکن اُٹھ گئے ، باقی جو رہے بُت گر ہیں
ایک دور تھا جب سندھ کی سرزمین کو اسلام اور توحید کے منور تھا ، محمد بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ کے جہاد سے اس خطہ کو جہالت و کفر کے اندھیرے سے نجات ملی تھی ،
اور یہاں کے باسی بت پرستی چھوڑ کر بت شکن بن گئے تھے ، لیکن شیطان کو کب گوارا تھا کہ ہندوستان کیلئے باب الاسلام بننے والا یہ خطہ بت پرستی سے پاک ہو ،
مرور زمانہ سے جب یہاں کے مسلمانوں میں جہالت عام ہوئی تو سندھ میں صوفیوں نے اپنی سرگرمیاں شروع کیں ،
اور شریعت کی جگہ خانقاہی نظام نے اپنی جڑیں پھیلائیں ، تو توحید والوں کی جگہ قبر پرستوں نے لے لی،
یعنی : عــــــ
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
تو جب نوبت یہاں تک پہنچی ، تو سب جانتے ہیں کہ قبر پرستی اور بت پرستی میں الفاظ کا فرق تو ہوسکتا ہے
حقیقی فرق کچھ زیادہ نہیں ، توحید چھوڑ کر جب شرک اپنا لیا تو قبر ہو یا بت کیا فرق ؟
عــــ جب میکدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں پاکستان میں تو چونکہ ہندو اقلیت میں ہیں ، اس لئے ایسے واقعات سال میں ایک دو دفعہ رپورٹ ہوتے ہیں ،
لیکن انڈیا میں چونکہ مسلمان اقلیت میں ہیں ، وہاں کے سیاسی ، سماجی شعبوں، اور شوبز سے وابستہ کتنے ہی افراد بت پرستی اور دیگر ہندوانہ رسومات کے موقع ہندو دھرم کا عملاً ساتھ دیتے نظر آتے ہیں ،
جس کے پس پردہ جہالت ، اور کفریہ مداہنت ( ہندووں کو خوش کرنا ) کارفرما ہوتی ہے ،
ویسے بھی موجودہ دور میں سیاست اسی کا نام ہے کہ معاشرے کے ہر طبقہ کو بہرحال خوش رکھا جائے ،
جس کیلئے چرچ میں عیسائیوں کے ساتھ سروس ہو ، یا مندر میں بت پرستی ، یا کسی مزار پر چادر پوشی سب کرتے نظر آتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بدترین صورت حال کی دیگر بہت ساری وجوہات کے علاوہ بنیادی وجہ تو حقیقی دین سے بے خبری ، تعلیم وتربیت کا غیر اسلامی نظام ہے جس نے تمام اسلامی قدروں سے اس طبقہ کو محروم کردیا ہے ،
اور سندھ کے عوام کو قوم پرستوں نے یہ سبق پڑھایا ہے کہ تمہارا ہیرو راجہ داہر ہے اور محمد بن قاسم تو ایک بدو لٹیرا تھا ، اس سے ہندوانہ کلچر اور انکے دھرم کو سیاسی سطح پر سپورٹ اور پروموٹ کیا جانا منطقی نتیجہ ہے ،
پتا نہیں سندھ کے علماء کا اس صورت حال پر کیا ردعمل ہے ، لیکن کوئی زور دار آواز ابھی تک نہیں سنی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
120
پوائنٹ
90
کفار کے تہوار منانا حرام ہے

الحمد للہ:

"کفار کے تہوار میں کسی بھی مسلمان کیلئے شرکت کرنا جائز نہیں ہے ۔ ان کی تقریبات چاہے مذہبی ہوں یا دنیاوی ان میں شامل ہو کر خوشی اور مسرت کا اظہار ، اور اس دن چھٹی منا کر ان کیساتھ شرکت کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ کفار کیساتھ مشابہت سمیت باطل امور پر ان کی معاونت بھی ہے، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ:

(جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے)

نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}

ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی معاونت کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں پر معاونت مت کرو، اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی سخت عذاب دینے والا ہے۔ [المائدة : 2]

اللہ تعالی عمل کی توفیق دے، اللہ تعالی ہمارے نبی ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود و سلام نازل فرمائے "

واللہ اعلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء ۔ فتوی نمبر: (2540)
محترم

کیا ان تہواروں کیلئے مسلم ممالک اشیاء کے اسٹال لگا نے ، مثلاً کپڑے جوتو ں کا اسٹال یا کرسمس عیسائیوں کے ہوٹلوں میں اسپیشل انتظام کر نے وغیر ہ پر بھی کیا شرکت کا فتویٰ لگے گا۔؟
 
Top