• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسرائیلی اور اسرائیلی نواز کمپنیوں اور اس کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ اور اس مسئلہ میں غلو

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,418
ری ایکشن اسکور
2,736
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته!

اسرائیلی اور اسرائیلی نواز کمپنیوں اور اس کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ اور اس مسئلہ میں غلو

اول تو میں اس بات کو بیان کرتا چلوں کہ کسی قوم یا فرد کے بائیکاٹ کے حوالہ سے قرآن و حدیث میں جواز موجود ہے۔ اس امر کے ادلہ بیان کرنے حاجت نہیں۔ محض یہ یاد دہانی کرتا چلوں کہ یہ بائیکاٹ شرعی قواعد و ضوابط کے تحت ہونا لازم ہے، اس بائیکاٹ کے جواز کو بنیاد بنا کر کوئی اپنی ناراضگی یا کسی وجہ سے اپنے رحم کے رشتوں سے بھی بائیکاٹ کر بیٹھے تو یہ قطعی جائز نہ ہوگا۔

دوم کہ قومی او اجتماعی امور میں کسی قوم و ملک کا بائیکاٹ کرنے کا حکم و فیصلہ اصلاً حاکم و حکومت کرے گی، اور عوام پر اس حکم کی اطاعت لازم ہو گی۔

سوم کہ کوئی فرد اپنے لیئے کسی منکر کے سبب کسی شخص یا چیز کا بائیکاٹ کرنا چاہے، تو وہ کر سکتا ہے، یعنی مباح کام میں اسے اختیار ہے، کہ وہ کرے یا نہ کرے۔ بالخصوص تجارتی امور میں، ہر فرد کو اختیار ہے، یہ کیا چیز خریدے، کس کمپنی کی خریدے، اور جس کمپنی کہ نہ خرینا چاہے، نہ خریدے۔

اس بنا پر اسرائیلی اور اسرائیلی نواز کمپنیوں کی چیزیں نہ خریدنا، اور ان کا بائیکاٹ کرنا درست ہے۔

معاملہ جب اس سے آگے بڑھایا جاتا ہے، تو کچھ پیچیدہ ہو جاتا ہے، وہ یہ کہ جب حاکم کسی ملک و قوم کے بائیکاٹ کا اعلان کرے، تو پھر اس بائیکاٹ کی مخالفت جائز نہیں، بلکہ ممنوع و حرام ہے۔ بلکہ یہ تو غداری و بغاوت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

مگر جب مباح امر میں افراد اپنے اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے بائیکاٹ کرتے ہیں، تو انہیں یہ اختیار نہيں، کہ وہ اپنے مختار معاملہ کو دوسروں پر بھی مسلط کریں۔ یعنی کہ اگر ایک فرد یا ایک گروہ نے خود کو کسی چیز کی تجارت سے روکتے ہوئے، بائیکاٹ کیا ہے، تو اس نے اس عمل سے نہ تو وہ چیز حرام ہوتی ہے، اور نہ اس کی تجارت، اور دیگر لوگوں کے لیئے بھی یہی معاملہ باقی رہتا ہے، کہ انہیں اختیار ہے کہ آیا وہ اس چیز کی تجارت کریں، یا نہ کریں۔ اور اگر وہ اس کی تجارت کو اختیار کرتے ہیں، تو انہیں مورد الزام نہیں ٹھہیرایا جا سکتا۔

موجودہ حالات میں اسرائیلی اور اسرائیلی نواز کمپنیوں کے حوالہ سے کسی معتبر عالم سے میں نے یہ نہیں سنا، اور نہ پڑھا کہ انہوں نے ان کمپنیوں کی پراڈکٹ کی تجارت کو ممنوع و حرام قرار دیا ہے۔ اسے ایک پریشر ٹیکنیک کہا جاتا ہے، جسے اختیار کیا جاسکتا ہے۔

مگر معاملہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے، کہ جب اس معاملہ میں غیرت کو شامل کیا جاتا ہے۔ کہ یہ غیرت کا تقاضہ ہے، جیسے اسرائیل اور اسرائیلی نواز کمپنیوں کی پراڈکٹ کی تجارت نہ کرنا دینی غیرت اور ان کی تجارت کرنا بے غیرتی ہے۔

یہ بات سمجھنا چاہیئے کہ غیرت شریعت کا حکم ہے اور بے غیرتی شریعت میں حرام و ممنوع ہے۔ کسی کو بے غیرت کہنا اس پر محض لفظی طعن نہیں، بلکہ یہ اس پر حرام عمل کے مرتکب بلکہ حرام کار ہونے کا قول و حکم بھی رکھتا ہے۔

اور جب امر مباح ہے، تو کسی کو اس عمل کے ارتکاب پرغیرت کا طعنہ دینا درست نہیں۔

یاد رہے کہ ایسا کوئی کام غیرت کا نہیں ہو سکتا، جسے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت نے حرام قرار دیا ہے، اور ایسا کوئی کام بے غیرتی کا نہیں ہو سکتا، جسے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت نے حلال و مباح قرار دیا ہو۔

اور اگر کوئی اس خبط میں مبتلا ہے، تو اسے اپنے اس خبط کا علاج کروانا چاہیئے، کہ یہ خانہ ساز غیرت ہے، کہ وہ خود کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر غیرت مند سمجھ بیٹھا ہے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ التَّبُوذَكِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ وَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنْ اللَّهِ وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ الْمُبَشِّرِينَ وَالْمُنْذِرِينَ وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنْ اللَّهِ وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ سیدنا سعد بن عبادہ ؓ نے کہا: اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے ہمراہ دیکھوں تو سیدھی تلوار سے اسے قتل کردوں۔ رسول اللہ ﷺ کو ان جذبات کی اطلاو ملی تو آپ نے فرمایا: تم سعد کی غیرت پر اظہار تعجب کرتے ہو؟ اور اللہ کی قسم! یقیناً میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے غیرت ہی کی وجہ سے بے حیائی کی ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو حرام قرار دیاہے ۔کسی شخص کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ عذر خواہی محبوب نہیں۔ اس لیے اس نے خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے اپنے رسول بھیجے ہیں نیز کسی کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ مدح وثنا محبوب نہیں۔ اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے (تاکہ لوگ اس کی تعریف کرنے اسے حاصل کریں) ۔ (راوی حدیث) عبید اللہ بن عمرو نے عبدالملک کے حوالے سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں۔” اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی شخص نہیں۔“۔﴿ مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد
‌صحيح البخاري: كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم (بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «لاَ شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ»)
صحیح بخاری: کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جهميہ وغیرہ کی تردید
باب: نبی کریم ﷺ کا ارشاد اللہ سے زیادہ غیرت مند اور کوئی نہیں



لہٰذا، اسرائیلی اور اسرائیلی نواز کمپنیوں کی پراڈکٹ کے معاملہ میں، غیرت کو شامل بحث کرنا درست نہیں، ہاں جب اس تجارت پر حرام کا حکم لگایا جاسکے، تب اس حرام تجارت کے کو بے غیرتی کہا جاسکتا ہے۔
 
Last edited:
Top