• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی نظام خلافت کو فراموش کرنے کی سزا

شمولیت
جون 25، 2014
پیغامات
61
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
59
پیشکش :۔ابوالبیان رفعت ؔ سلفی بسم اللہ الرحمن الرحیم
آئی آئی سی اندھیری
(اسلامی نظام خلافت کو فراموش کرنے کا انجام)
از افادات علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ(صاحب مرعاۃ)
حضرت امام مالک ، وامام احمد بن حنبل ،اور ائمہ اہل بیت نے جس طرح اپنے دور کے امراء و خلفاء کی قہر مانیت کو برداشت کرتے ہوئے ان کی اطاعت کا حق ادا کیا ، ان کے عہد بیعت کا ایفاء ۔ انہیں اپنے اموال کی زکوۃ پیش کی ، ان کے جھنڈے تلے جہاد وقتال کیا ، اور ان کے منکرات پر کھلا انکار بھی کیا ،جس کی پاداش میں سخت اذیتیں جھیلنی پڑیں لیکن ان کے پائے استقلال میں ذرہ برابر لغزش و لرزش پیدا نہ ہوسکی ۔ اگر ایسا ہی جذبہء طاعت بعد کے ادوار میں بھی باقی رہ جاتا تو نہ آج اس امت کا شیرازہ بکھر تا ۔نہ اعداء اسلام کو ان پر غلبہ حاصل ہوتا اور نہ مسلمان اس طرح یہودو نصاریٰ مشرکین و ملحدین کے ہاتھوں دنیا بھر میں ذلیل و خوار ہوتے ،اور نہ طواغیت و شیاطین کی اطاعت و عبادیت ان کا نصیب بنتی ۔
یقیناً رسول اللہ ﷺ کی نصیحت و وصیت کو اسباب میں بعد کی امت نے یکسر فراموش کردیا ہے ،اور (مسلمانوں کی)
موجودہ صورت حال اسی چیز کی قرار واقعی سزا ہے۔ حجاج نے جب عبداللہ بن زبیرؓ اور ان کے ساتھیوں کی سر کوبی کے لئے مکہ پر حملہ کیا تو اس وقت کسی نے حضرت عبد اللہ بن عمر کو غیرت دلائی کہ آپ حضرت عمر بن خطاب کے بیٹے ہیں پھر بھی حجاج کے ظلم کے خلاف بغاوت نہیں کرتے حالانکہ اللہ پاک کا ارشاد ہے ’’وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ ‘‘(دشمنان اسلام سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارا کا سارا اللہ کا ہوکر رہ جائے ) اس الزام کا جو جواب عبد اللہ بن عمرؓ نے دیا وہ امت کے لئے مشعل راہ ہے ،آپؓ نے فرمایا ’’نحن قاتلناہم حتی ما بقی فتنۃ وکا ن الدین کلہ للہ فلو قاتلنا ہم الیوم لکان فتنۃ ویکون الدین لغیر اللہ ‘‘ہم نے( عہد رسالت وخلافت راشدہ میں )دشمنان اسلام سے قتال کیا یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہا اور دین اللہ کا ہوکر رہ گیا ، اور اگر آج ان سے قتال کے لئے اٹھ کھڑے ہوں جو کافر و مشرک نہیں بلکہ اہل اسلام ہیں گو ظالم و خاطی ہیں تو دین و اطاعت غیر اللہ(طاغوت) کی ہوگی ۔
یہی غلطی خلافت عثمانیہ کے زوال میں عربوں سے سرزد ہوئی جس کا خمیازہ اسرائیلی ریاست کے قیام کی شکل میں اور صلیبیوں و صہیونیوں کے ظلم و استبداد کی صورت میں آج خود عرب دنیا اور پوری دنیائے اسلام بھگت رہی ہے ،اور اس وقت تک بھگتتی رہے گی جب تک مسلمان نظام خلافت کے دوبارہ قیام کی شکل پیدا نہیں کردیتے ۔[اسلام کا اجتماعی نظام ص:۴۸،۴۹۔عبید اللہ رحمانی ؒ ]

 
Last edited by a moderator:
Top