• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام نہیں سکھاتا دہشت کو عام کرنا

شمولیت
جنوری 13، 2013
پیغامات
63
ری ایکشن اسکور
29
پوائنٹ
64
اسلام نہیں سکھاتا دہشت کو عام کرنا
از قلم: الطاف الرحمن ابوالکلام سلفی
الحمد ﷲ الذی قال: اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَم،ھو رب العالمین، وَجَعَلَ نَبِیَّہُ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْن، وَالصَّلاَۃُ وَالسلام علی خیر خِلْقِِہٖ محمدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ أَجْمَعِیْن اما بعد:
نا حق خوف وہراس پھیلانے کے، مذموم عمل کو دہشت گردی کے مروج نام سے جانتے ہیں۔
دین اسلام ایک عالم گیر مذہب ہے ، اﷲ تعالیٰ نے سب کو جس دین کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے، وہ دین : دین اسلام ہی ہے۔﴿اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَم﴾۔ لہذا بدیہی طور پر اسلام کا امن والا ہونا ثابت ہوتا ہے۔
آیئے تَعَصُّبَات سے اٹھ کر چند لمحہ کے لئے اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اسلام جہاں مسلمانوں کو ’’اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِم ‘‘۔کے درس سے آپسی ظلم وتشدد کا خاتمہ کرکے محبت کی ترغیب دیتا ہے، وہیں اپنے ماننے والوں کو کھلے لفظوں میں یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ : ’’ اَلْمُؤْمِنُ یَأْلِفُ وَیُؤْلَفُ وَلاَ خَیْرَ فِیْمَنْ لاَ یَأْلِفُ وَلاَ یُؤْلَفُ ،خَیْرُ ا لنَّاسِ أَنْفَعُھُمْ لِلنَّاس‘‘[روہ الطبرانی وصححہ الألبانی] مومن کا یہ شعار ہے ،کہ وہ محبتی ہوتا ہے، اور لوگ بھی اس سے محبت کرتے ہیں جن کے اندر یہ صفت نہ ہو ان میں بھلائی کا کوئی ذرہ نہیں۔ یاد رکھو! لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو بلا تفریق لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہونچانے ولا ہو۔ ہمیں جہاں ’’ مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السِّلاَحَ فَلَیسَ مِنَّا ‘‘ کے ارشاد سے ،آپس میں ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھانے کو سختی سے منع کرتا ہے، وہیں: ’’ اِنَّ اللّٰہَ یُعَذِّبُ الَّذِیْنَ یُعَذِّبُوْنَ النَّاسَ فِی الدُّنْیَا‘‘ کے فرمان کے ذریعہ، پوری انسانیت پر ظلم کئے جانے کو حرام قرار دیتا ہے، اور ایسا کرنے والوں کو عذاب الہی کی دھمکی سنا ئی جاتی ہے۔کبھی ’’ اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃ‘‘ کہ ظلم بروز قیامت تاریکیاں لائے گا۔ کے ذریعہ ظلم کئے جانے کا خاتمہ کرتاہے ۔ تو کبھی ’’ اِتَّقُوا دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْم فَاِنَّّہُ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجاب‘‘ کی تعلیم سے،ظلم کے سارے راستے کو مَسْدود کردیتا ہے۔ کیونکہ جب مظلوم ،(چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم ،)ظالم کے خلاف بد دعا کرتا ہے تو بلا روک ٹوک اﷲ اس کی بد دعا قبول فرماتا ہے۔
مذہبِ اسلام ایک دوسرے کو ناحق ڈرانے دھمکانے کے جملہ اقسام کو حرام قرار دیتا ہے ، رسول مصطفی کا ارشاد ہوتا ہے:جواپنے بھائی کومزاقا یا غصہ میں ہتھیار سے ڈراتا ہے، اﷲ کے فرشتے اس پر لعنت بھجتے رہتے ہیں،جب تک کہ وہ اس فعل سے باز نہیں آجاتا، اگر چہ اس کی یہ حرکت اپنے سگے بھائی کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ [مسلم]
معزز قارئین!! اسلام کا سایہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ۔ بلکہ دنیاوی معاملات میں اس کے یہاں سب برابر ہیں۔ جب مسلمان کسی مسلمان کو قتل کرتا ہے تو اس کا ٹھکانہ ﴿فَجَزَاءُ ہُ جَھَنَّمُ خَالِداً فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَابَاً اَلِیْماً﴾ہمیشگی کی جہنم قرار پاتا ہے۔ وہیں اگر مسلمان کسی معاہد کافر کو قتل کرتا ہے، تو اس پر جنت کی خوشبو تک حرام کردی جاتی ہے۔رسول اکرم ﷺکا ارشاد ہے: ’’ مَنْ قَتَلَ مُعَاھِداً لَمْ یَرِحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃ‘‘ [بخاری]۔ جس نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔
کیا یہ دین دہشت گردی کا دین ہوسکتا ہے؟ جو ہر ایک کے ساتھ عدل وانصاف کرنے کو واجب قرار دیتاہو ؟۔ چاہئے مسلم ہو یا غیر مسلم سب کے لئے عدل وانصاف کئے جانے کا تنبیہی حکم دیتا ہو؟: ﴿وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنْآنُ قَوْمٍ عَلیٰ اَلاَّ تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا ھُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی﴾ ۔جو ﴿وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ التِّی حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقّ ﴾کے ارشاد کے ذریعہ ،ساری انسانیت کے ناحق خونریزی کو حرام قرار دیتا ہو ، اس کے یہاں دہشت کی بو آسکتی ہے؟ ؟لا وَکَلاَّ نہیں اور ہرگز نہیں۔ یہ تو عدل وانصاف کا مذہب ہے۔ یہاں نہ مذہبی تعصب ہے ،اور نہ ہی اقرابا پروری کا کوئی تصور ۔ رحمۃ للعالمین کا غضبناک ارشاد ہوتا ہے: ’’ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَھَا‘‘ [بخاری] فاطمہ بنت محمد بھی اگر چوری کرے عدل کا دستور ہے ہاتھ کاٹا جائے گا۔
دین اسلام میں فساد فی الار کاکوئی تصور ہی نہیں، انسانی جان کی انتی قیمت ہے ،کہ ایک جان کے ناحق قتل کوپوری انسانیت کے قتل کا جرم قرارپاتا ہے: ارشا د ہوتا ہے: ﴿مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعَا﴾۔
اس کا یہ عدل و انصاف اور امن وامان ،صرف انسانوں ہی تک محدود نہیں،بلکہ ساری مخلوق کے لئے عام ہے۔رب العالمین کا فرمان ہوتا ہے : ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْن﴾ اے محمد !! ﷺ ہم نے تمہیں صرف انسانوں کے لئے نہیں ،بلکہ سارے جہاں کے لئے رحمت بنا کے بھیجاہے ۔آپ جیسا امن کا پیغامبر نہ کوئی گذرا ہے نہ گذرے گا۔ عرصہ تک تکلیفیں دینے والوں پر جب آپ کا غلبہ حاصل ہوتا ہے، تو کیا بد دینوں کی طرح خون کی ہولی کھیلی گئی؟ ، بدلے کی آڑ میں انسایت کو شرمسار کیا گیا؟ دہشت پھیلائی گئی ؟ نہیں نہیں ہر گز نہیں۔ تمام دشمنوں کو خانہ کعبہ کے گرد جمع کرکے آقا کا مشفقانہ ارشاد ہوتا ہے: ’’ اپنے جرم کے بدلے مجھ سے کیا توقع رکھتے ہو؟ مجرم مشرکین کہتے ہیں : آپ تو مہر بان بھائی ہیں مہربان بھائی کے بیٹے ہیں لہذا ہمیں آپ سے مہربانی ہی کی توقع ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ’’ اِذْھَبُوا أَنْتُمُ الطُّلَقَاء ‘‘ جاؤ جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا ، اب تم سب آزاد ہو۔ امن کا یہ پیغام صرف نبیﷺ کی زندگی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ حکم ہوتا ہے: ’’ اِرْحَمُوا مَنْ فِی الْأَرْضِ یَرْحَمُکُمْ مَنْ فِی السَّمَاء‘‘ [ترمذی وحسنہ]
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر کریم مہرباں ہوگا عرش بریں پر
مذہب اسلام بچوں بوڑھوں اور عوتوں میں بھی دہشت پھیلانے کو حرام قرار دیتا ہے ، اس کے امن کا یہ عالم ہے کہ انہیں حالت جنگ بھی قتل کیا جانا جرم عظیم قرار پاتا ہے ۔ پھول جیسے معصوم بچوں کوگولیوں سے بھوننا فرعونی صفت ہے ۔ مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام تو انسانوں سمیت جانوروں میں بھی دہشت پھیلانے کو حرام قرار دیتا ہے، انہیں نا حق مارنے اور ذبح کرنے سے منع کرتا ہے ۔ ذبح کرتے وقت ان کے ساتھ احسان کی تعلیم دیتا ہے۔ارشاد ہوتا ہے: ’’ فَاِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُو الذِّبْحَ‘‘ [مسلم]
پیارے قارئین !! یہ ہے اسلام کا اصلی چہرہ ، جسے مسخ کرکے بیان کیا جاتا ہے ۔بد نام کرنے کی ناپاک کوشش کی جاتی ہے۔ لہذا ہمیں کہنا پڑ رہا ہے کہ دہشت گردی کا الزام لگانے والو!! تمہارا دماغ چل گیا ہے دماغی علاج کی ضرورت ہے۔ یا تو تمہاراعمل، ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘ کے مثل ہے۔
ہم اگر اپنی دفاع کے لئے ہتھیا ر اٹھائیں تو دہشت گرد کہلائیں ، وہ کروڑوں کا خون بہا کر بھی محسن انسانیت کا لیبل لگائیں ،یہ کہاں کا انصاف ہے ۔ ؟؟ ہم جان ومال ،عزت و آبرکی حفاظت کے لئے کھڑے ہوں تو دہشت گرد کہلائیں ،۔وہ ناحق ایٹم بم بر ساکر انسایت کا جنازہ نکالیں، پھر بھی حقوق انسانت کا علم بردار کہلائیں،یہ کہاں کا عدل ہے ۔ ؟؟ ہم غاصبوں اور ظالموں سے حقوق طلب کریں تو دہشت گرد کہلائیں ، وہ ہمارے حقوق غصب کرکے بھی مظلوم کہلائیں یہ کہاں کا قانون ہے؟؟۔ ہم دین و ایمان کی حفاظت کے لئے نعرہ لگائیں تو دہشت گرد کہلائیں ،مکاتب و مدارس قائم کریں تو دہشت گر کہلائیں ۔وہ جگہ جگہ وہشت وبربریت کے اڈے قائم کریں انہیں خیر خواہ کا نام ملے یہ کیسا اندھا دستور ہے؟؟ ۔ ہم پوچھتے ہیں کیا دہشت گردی کا یہی مفہوم ہے؟؟ اگر ہاں توپوری دنیا دہشت گرد ہے ۔ اور تم صف اول میں ہو ،یاجوج ماجو ج ہو،۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر پروپیگنڈہ کیسا ؟؟ الزامات کیوں کر ؟ عرض کروں تو شکایت ہوگی۔
لہذا ہم فخر سے کہتے ہیں:
اسلام نہیں سکھاتا دہشت کو عام کرنا امن و اماں کا ضامن رحمت کا ہے یہ پیکر
اے اﷲ دین اسلام کو ان پروپیگنڈوں سے محفوظ رکھے ۔ جنتا کاٹا جائے تو دوگنا ابھار آمین یا رب العالمین​
 

nabeel aslam

رکن
شمولیت
جنوری 27، 2016
پیغامات
11
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
36
شکریہ
بےشک اسلام امن کا پیغام دیتا ہے۔۔۔
 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ​


ميں اس راۓ سے اتفاق کرتا ہوں کہ مذہب کو دہشت گردی کے ضمن ميں غلط طريقے سے استعمال کيا گيا ہے۔ ليکن ميں اس راۓ سے متفق نہیں ہوں امريکہ يا مغرب نے اسلام کو دہشت گردی سے تعبير کيا ہے۔ آپ شايد يہ بھول رہے ہيں کہ يہ تو القائدہ،داعش، طالبان اور ديگر دہشت گرد تنظيميں ہيں جنھوں نے ہميشہ يہ دعوی کيا ہے کہ وہ اسلامی تعليمات پر عمل پيرا ہيں۔

اس ضمن ميں دہشت گرد تنظيموں کی جانب سے اپنی سوچ کی ترويج کے ليے استعمال کيے جانے والے تشہيری مواد کی تفصيلات پر نظر ڈاليں تو آپ پر واضح ہو جاۓ گا کہ ان تنظيموں کی تمام تر اشتہاری مہم اور جدوجہد کا مرکز امريکہ اور مغرب سے نفرت کو فروغ دے کر مذہب کی آڑ ميں جذبات کو بھڑکانہ ہے۔



11 ستمبر کے واقعے ميں ملوث افراد نہ صرف يہ کہ مسلمان تھے بلکہ انھوں نے اپنے جرم کو قابل قبول بنانے کے ليے مذہب کا سہارا بھی ليا تھا۔ اس کے باوجود امريکی کميونٹی کا ردعمل مسلم اقليتوں کے خلاف اتنا سنگين اور شديد نہيں تھا۔

صدر بش نے گيارہ ستمبر 2001 کے واقعات کے چند دن بعد واشنگٹن ڈی سی ميں ايک اسلامک سينٹر کا دورہ کيا تھا اور عوامی سطح پر يہ مطالبہ کيا تھا کہ امريکہ ميں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کيا جاۓ۔ يہ درست ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کچھ واقعات پيش آۓ تھے ليکن وہ انفرادی نوعيت کے تھے، اس کے پيچھے کوئ باقاعدہ منظم تحريک نہيں تھی۔​

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 
Top