عمر اثری
سینئر رکن
- شمولیت
- اکتوبر 29، 2015
- پیغامات
- 4,404
- ری ایکشن اسکور
- 1,158
- پوائنٹ
- 412
جزاک اللہ خیر محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب حفظہ اللہ!
اللہ آپ کی ان محنتوں کو شرف قبولیت بخشے
اللہ آپ کی ان محنتوں کو شرف قبولیت بخشے
ایسا نہیں ہے۔ یہ گرتے ہی نہیں رہتے بلکہ سالوں میں ایک دو بار گرتے ہیں۔ اور وہ بھی بہت چھوٹے چھوٹے یعنی اتنے اتنے ہوتے ہیں کہ آسانی سے ہاتھ میں پکڑ کے دور تک پھینکے جا سکتے ہیں۔ لیکن جب یہ آسمان سے زمین پر گرتے ہیں تو اتنے چھوٹے چھوٹے ہونے کے باوجود ایسے گرتے ہیں جیسے کوئی مزائیل گر گیا ہو۔ اور اِن سے بہت تباہی ہوتی ہے۔ اگر کسی آبادی پر گریں تو بہت تباہی پھیلتی ہے۔ اگر جنگلوں میں گریں تو آگ لگ جاتی ہے۔ اِن سے وعید اسی لیے لی گئی ہے کہ یہ بہت تباہی پھیلاتے ہیں۔ ان کو آسمان اِس لیے نہیں کہا جاتا کیوں کہ جب تک یہ آسمان میں ہوتے ہیں آسمان کا حصہ ہوتے ہیں لیکن جب آسمان سے زمین پر گرتے ہیں تو اُس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ جو آسمانی دروازوں کی بات ہے وہ غیبی امور سے ہے اِس پر کوئی تحقیق نہیں کرنی چاہیے۔ واللہ اعلمپہلی بات تو یہ کہ آسمان کے متعلق سائنسدان ابھی تک صرف اندازے لگائے ہوئے ہیں۔
آپ ان سے پوچھیے کہ بھلا کون سا سائنسدان ابھی تک آسمان پر پہنچا ہے؟ ایک اندازہ ہے کہ آسمان گیس سے بنا ہوا ہے۔ ہم ان کا یہ "اندازہ" آخر کیوں مانیں؟
ممکن ہے لیکن مشکل معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ تو گرتے ہی رہتے ہیں۔ پھر ان سے وعید کیوں کی گئی ہے؟ نیز انہیں آسمان کہا بھی نہیں جاتا۔ اور اگر یہ مان لیں تو پھر جن آیات میں آسمان کے دروازوں کا ذکر ہے وہاں اٹک جائیں گے۔
انسان تو چاند پر بھی پہنچ چکا ہےبھلا کون سا سائنسدان ابھی تک آسمان پر پہنچا ہے؟
میرے بھائی آسمان چاند بلکہ ہمارے پورے نظام شمسی سے بہت دور ہے۔ یہ ایک ایسا غلاف ہے جس نے تمام کہکشاؤں کو لپیٹا ہوا ہے۔ چاند پر پہنچنے والے انسان کو آسمان کی کیا خبر!انسان تو چاند پر بھی پہنچ چکا ہے