• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اس شعر کی وضاحت مطلوب ہے

ولید

رکن
شمولیت
جنوری 16، 2014
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
39
پوائنٹ
54
لَا تَنْهَ عَن خُلُقٍ وتأْتيَ مِثْلَهُ
عارٌ عَلَيْك إِذا فَعَلْتَ عَظِيمُ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
لَا تَنْهَ عَن خُلُقٍ وتأْتيَ مِثْلَهُ
عارٌ عَلَيْك إِذا فَعَلْتَ عَظِيمُ
ترجمہ :
تم ایسی خصلت سے مت روکو جو خود تمہارے اندر پائی جاتی ہے
ایسا کرنا بہت بڑے عار اور شرم کی بات ہے،

اس کے اعراب ایک عربی طالب علم نے یوں بتائے ہیں :
لاتنه : لا حرف نهي وجزم مبني على السكون لامحل له من الإعراب
تنه : فعل مضارع مجزوم بلا الناهية وعلامة جزمه حذف حرف العلة
والفاعل ضمير مستتر وجوبا تقديره " أنت " والجملة ابتدائية لامحل لها من الإعراب
عن : حرف جر مبني على السكون لامحل له من الإعراب
خلق : اسم مجرور بحرف الجر وعلامة جره الكسرة الظاهرة على آخره
والجار والمجرور متعلقان بالفعل " تنه "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے اردو کا محاورہ ہے
"اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت "
 

ولید

رکن
شمولیت
جنوری 16، 2014
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
39
پوائنٹ
54
لَا تَنْهَ عَن خُلُقٍ وتأْتيَ مِثْلَهُ
عارٌ عَلَيْك إِذا فَعَلْتَ عَظِيمُ
ترجمہ :
تم ایسی خصلت سے مت روکو جو خود تمہارے اندر پائی جاتی ہے
ایسا کرنا بہت بڑے عار اور شرم کی بات ہے،

اس کے اعراب ایک عربی طالب علم نے یوں بتائے ہیں :
لاتنه : لا حرف نهي وجزم مبني على السكون لامحل له من الإعراب
تنه : فعل مضارع مجزوم بلا الناهية وعلامة جزمه حذف حرف العلة
والفاعل ضمير مستتر وجوبا تقديره " أنت " والجملة ابتدائية لامحل لها من الإعراب
عن : حرف جر مبني على السكون لامحل له من الإعراب
خلق : اسم مجرور بحرف الجر وعلامة جره الكسرة الظاهرة على آخره
والجار والمجرور متعلقان بالفعل " تنه "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے اردو کا محاورہ ہے
"اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت "
جزاک اللہ بھائی۔
اس جملے کا مطلب بھی سمجھا دیں تھوڑا :
"لامحل له من الإعراب"
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
اس جملے کا مطلب بھی سمجھا دیں تھوڑا :
"لامحل له من الإعراب"
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اس سوال کا جواب سمجھنے کیلئے ایک مقدمہ کی ضرورت ہے ،
اور وہ یہ کہ :
فعل اور حرف کے علاوہ کلمہ کی دوسری تقسیم معرب اور مبنی ہونے کے لحاظ سے ہے ،
لہذا عرب کے تمام کلمات دو قسم پر ہیں
(۱) معرب (۲) مبنی
معرب اس کلمے کو کہتے ہیں جس کا آخر عوامل کے آنے سے تبدیل ہوتا رہے ،
جیسے :جَآءنِیْ زَیْدٌ‘ رَأَیْتُ زَیْدًا ‘ مَرَرْتُ بِزِیْدٍ میں لفظ زید
جسکی وجہ سے تبدیلی ہو اس کو عامل کہتے ہیں اور جس کلمے کی حرکت تبدیل ہو اس کو معمول اور معرب کہتے ہیں،
جس حرف کی حرکت تبدیل ہوتی اس کو محل اعراب کہتے ہیں ،
اور حرکت کو اعراب کہتے ہیں لہٰذا مذکورہ بالا مثالوں میں جَآء ‘ رَأَیْتُ اور با عوامل ہیں ، لفظ زید معمول اور معرب ہے اور زید کی دال محل اعراب ہے اور ضمہ ‘ فتحہ اور کسرہ کی حرکات اعراب ہیں۔

مبنی اس کلمہ کو کہتے ہیں جس کا آخر عوامل کے تبدیل ہونے سے نہ بدلے ،
جیسے جَآءنِیْ ھٰؤُلَآء‘ رَأَیْتُ ھٰؤُلَآء‘ مَرَرْتُ بِھٰؤُلَآء مذکورہ مثالوں میں عوامل کے مختلف ہونے سے ھٰؤُلَآء مبنی پر کوئی اثر نہیں پڑا وہ اپنی حالت پر برقرار رہا ۔
ــــــــــــــــــــــ
یہاں ۔۔ لَا تَنْهَ میں " لا " حرف ہے
اورتمام "حروف " عاملہ ہوں یا غیر عاملہ وہ مبنی ہیں اور محل اعراب نہیں ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
Top