ضدی
رکن
- شمولیت
- اگست 23، 2013
- پیغامات
- 290
- ری ایکشن اسکور
- 275
- پوائنٹ
- 76
سید عا بد رضانوشاد رضوی
گوپالپوری
مقدمہقول و فعل اور تقریر پر مشتمل سنت نبوی ۖ کی حجیت پر تمام مسلمانوں کا اجماع و اتفاق ہے اور انہوں نے اس حجیت کو ضرورت دینی میں شمار کیا ہے یعنی اگر کوئی اس کا انکار کرے تو دائرۂ دین سے خارج ہو جائے گا لہٰذا علمائے اسلام نے شریعت میں قرآن مجید کے بعد دوسری حیثیت کی حامل سنت نبوی یا حدیث شریف کو کافی اہمیت دی ہے۔ جس طرح علمائے اہل تشیع و اہل سنت نے احادیث پر مشتمل ضخیم کتابیں تحریر کی ہیں اسی طرح انہوں نے ان احادیث کی حقیقت کو پرکھنے اور صحیح و غیر صحیح کی تشخیص کے لئے بھی متعدد کتابیں لکھی ہیں تاکہ رجال، متن اور سند کے لحاظ سے ان روایات سے احادیث کی توثیق ہوسکے۔
فریقین کی تاریخ سے یہ بات بھی مسلم الثبوت ہے کہ احادیث و روایات کی اس اہمیت و عظمت کے باوجود رحلت پیغمبر اسلام ۖ کے بعد اہل سنت کے درمیان کتابت حدیث ممنوع قرار دے دی گئی اور یہ ممانعت تقریباً ایک صدی تک برقرار رہی یہاں تک کہ سنہ ١٠١ہجری میں عمر بن عبد العزیز کے حکم سے یہ ممانعت ختم ہوئی۔ ١ اگرچہ بعض علمائے اہل سنت نے اس ممانعت کی مدت کو اور زیادہ طولانی بتایا ہے مثال کے طور پر ذہبی لکھتے ہیں کہ تدوین حدیث و فقہ سنہ ١٤٣ہجری میں آغاز ہوئی۔٢
لیکن اہل تشیع کے درمیان کتابت و تدوین حدیث کبھی ممنوع نہیں رہی اور انہوں نے کسی ممانعت کی پرواہ نہیں کی بلکہ ان کی قلمی کاوشیں مختلف کتب و صحائف کی صورت میں ہر زمانے میں وجود میں آتی رہیں۔ جیساکہ شیخ حر عاملی لکھتے ہیں:''...و امّاما نقلوا منہ و لم یصرّحوا باسمہ فکثیر جداً مذکور فی کتب الرجال یزید علی ستة آلاف و ستمأة کتاب علی ما ضبطناہ۔'' ٣ وہ کتابیں جن سے شیعہ محدثوں نے حدیثیں نقل کی ہیں اور ان کا نام ذکر نہیں ہوا ہے ان کی تعداد چھ ہزار چھ سو (٦٦٠٠) سے زیادہ ہے۔
مزید تفصیل یہاں پر موجود ہے۔