1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

افطار سے قبل افطار

'سحر وافطار' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏اگست 08، 2011۔

  1. ‏اگست 08، 2011 #1
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​


    [دُروسِ رمضان 2009 - : 02]​

    افطار سے قبل افطار


    حدیثِ شریف :عن أبي امامة الباهلي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بينا انا نائم اذ اتاني رجلان فاخذا بضبعي فاتيا بي جبلا وعرا فقالا اصعد فقلت اني لا اطيقه فقالا انا سنسهله لك فصعدت حتى اذا كنت في سواء الجبل اذا باصوات شديدة قلت ما هذه الأصوات قالوا هذا عواء اهل النار ثم انطلق بي فاذا انا بقوم معلقين بعراقيبهم مشققة اشداقهم تسيل اشداقهم دما قال قلت من هؤلاء قال هؤلاء الذين يفطرون قبل تحلة صومهم....الحديث

    [ صحیح ابن خزیمہ :1986- صحیح ابن حبان :7448 – مستدرک الحاکم :1/420 ]

    ترجمہ : حضرت ابو اُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے سنا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ’’ میں سورہا تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے اور میرے دونوں بازو کو پکڑ کر مجھے ایک دشوار گزار پہاڑ کی طرف لے چلے پھر مجھ سے کہا کہ اس پہاڑ پر چڑھو ، میں نے جواب دیا کہ میں اس پر نہیں چڑھ سکتا ، ان دونوں نے کہا کہ ہم آپ کی مدد کرتے ہیں ، چنانچہ میں چڑھنے لگا اور جب میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو مجھے تیز آوازیں سنائی دیں میں نے پوچھا یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا کہ یہ جہنمیوں کی چیخ و پکار ہے پھر وہ دونوں مجھے آگے لیکرچلے ، تو میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ اُلٹے لٹکائے گئے ہیں ، ان کے جبڑے پھاڑے جارہے ہیں اور جبڑوں سے خون بہہ رہا ہے ، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو افطار کا وقت ہونے سے قبل روزہ افطار کردیتے ہیں ‘‘ [ صحیح ابن خزیمہ ، صحیح ابن حبان ]

    تشریح : رمضان المبارک کا روزہ دین اسلام کا ایک ُرُکن اور اللہ تعالٰی کا مقرر کردہ ایک عظیم فریضہ ہے ، رمضان المبارک کا روزہ دین کا ایک بڑا حصہ اور اس سے محرومی رحمن کے غضب کو دعوت دینا ہے ، اگر کسی نے بغیر عُذرِ شرعی کے ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا تو ساری عمر کا روزہ بھی اس کمی کو پورا نہیں کرسکتا ، اسی لئے علماء نے بغیر عذر رمضان کے روزوں کو چھوڑنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے ، امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے یہاں یہ بات مُسلّم چلی آرہی ہے کہ جو شخص رمضان کا روزہ بیماری اور عذر شرعی کے بغیر چھوڑ دیتا ہے تو وہ زنا کرنے والے ، ظُلماً ٹیکس وصول کرنے والے اور دائمی شراب خور سے بھی زیادہ بُرا ہے بلکہ علماء اس کے اسلام کے بارے میں شک کرتے ہیں اور یہ گمان رکھتے ہیں کہ کہیں یہ شخص زِندیق اور بے دین تو نہیں ہے ۔ [ الکبائر ، کبیرہ ص: 57، رقم :10 ]

    اہلِ علم کہتے ہیں کہ جو شخص روزہ کی فرضیت کا مُنکر ہے یا اس کے بارے میں شک وشبہ میں مبتلا ہے یا اس کے نزدیک روزہ رکھنا اور نہ رکھنا برابر ہے یا روزے کی فرضیت اور روزہ داروں کا مذاق اڑاتا ہے تو وہ کافراور دینِ اسلام سے مُرتد شمار ہے ، اور اس پر مُرتد کے تمام احکام جاری ہوں گے اور اگر دل وزبان سے روزہ کی فرضیت و رُکنیت کا اقرار کرتا ہے ، اسے اسلام کا ایک رُکن اور جُزء سمجھتا ہے لیکن سُستی و کاہلی سے رمضان کا روزہ نہیں رکھتا تو ایسا شخص فاسق ، گناہِ کبیرہ کا مرتکب ، رحمت الٰہی سے محروم اور زیر بحث حدیث میں مذکور وعید کا مُستحق ہے کہ قیامت سے پہلے عالمِ برزخ میں اِسے اُلٹا لٹکادیا جائے گا ، جس طرح کہ بکری کو ذبح کرکے اس کی کھال نکالنے کے لئے الٹا لٹکادیا جاتا ہے اور اس کے جبڑوں کو لوہے کی قینچی سے کاٹا جائے گا جس سے خون بہہ رہا ہوگا کیونکہ اس شخص نے اس مبارک ماہ کی حُرمت کا لحاظ نہیں رکھا ، اللہ کے فریضے پر توجہ نہیں دی ، بھوکا پیاسا رہنے کے دن کو کھانے پینے کا دن بنالیا ہے ، اس لئے اُسے اُلٹا لٹکادیا گیا تا کہ پیٹ کا کھانا آنتوں میں جانے کے بجائے واپس حلق کی طرف آئے اور وہ منہ جس نے اس کھانے کو کھایا ہے اسے پھاڑ کر اب کھانے پینے کے لائق نہ چھوڑا جائے کیونکہ جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔ "تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب وہ ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے ، یقینا اس کی پکڑ بڑی دُکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے - بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانِ عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں" ۔ [سورۃ ھود : 102- 103 ]

    ***خلاصہء درسِ حدیث – بتاریخ : 02 رمضان المبارک 1430ھ، مطابق 23اگست، 2009

    فضیلۃ الشیخ /ا بوکلیم مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

    الغاط، سعودی عرب
     
  2. ‏اگست 08، 2011 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,361
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ عامر بھائی۔۔۔
     
  3. ‏اگست 08، 2011 #3
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    جزاك الله خيرا
    اللہ تعالی ہم سب کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے۔ آمین
    اللهم إني أعوذبك من عذاب القبر وأعوذبك من عذاب جهنم
     
  4. ‏اگست 08، 2011 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا عامر بھائی جان
     
  5. ‏اگست 08، 2011 #5
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    العیاذ باللہ! اللہ تعالیٰ سنت کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور ہمیں قبر اور جہنم سے عذاب سے بچائیں!
    آمین یا رب العٰلمین!
     
  6. ‏اگست 08، 2011 #6
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    جزاك الله خيرا

    یا اللہ ہم سب کی دعاوں کو قبول فرمانا،آمین
     
  7. ‏اگست 08، 2011 #7
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آمین
    آمین
     
  8. ‏اگست 12، 2011 #8
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    جزاک اللہ بھائی
     
  9. ‏اگست 13، 2011 #9
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جزاك الله خيرا
     
  10. ‏جولائی 26، 2012 #10
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,957
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں