• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الحب والبغض في شخص أحمد الشرع

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
الحب والبغض في شخص أحمد الشرع


(احمد الشرع سے محبت و نفرت)

إن من أصول العقيدة في الإسلام: الحب في الله والبغض في الله، وإن من أعمدة هذا الدين: الموالاة في الله والمعاداة في الله.

اسلامی عقیدہ کی بنیادی بنیادوں میں سے ایک "اللہ کے لیے محبت" اور "اللہ کے لیے نفرت" ہے۔ اسی طرح "اللہ کے لیے دوستی" اور "اللہ کے لیے دشمنی" دین کے ستونوں میں سے ہیں۔

أحمد الشرع قد أقرَّ دستورًا علمانيًا في سوريا في مارس 2025، ـ أطلقت على هذا الدستور وقتئذ (دستور جنكيزخان) ـ هذا دستور يُقصي الشريعة الإسلامية ولا يجعلها المصدر الوحيد للتشريع في كافة المناحي الحياتية، مما يجعله ـ بحسب المفهوم الشرعي ـ طاغوتًا، ومَن يناصره أو يُبرر له فهو مثله. قال تعالى في محكم التنزيل: (فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّا غُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيم) البقرة: 256.

احمد الشرع نے مارچ 2025 میں شام میں ایک سیکولر دستور کی منظوری دی جسے میں نے اس وقت 'چنگیز خان کا دستور' قرار دیا تھا۔ یہ ایسا آئین ہے جو اسلامی شریعت کو قانون سازی سے خارج کرتا ہے، اور اسے زندگی کے تمام شعبوں میں واحد ماخذِ قانون تسلیم نہیں کرتا۔ یہی امر اسے شرعی اصطلاح کے مطابق طاغوت بناتا ہے۔ اور جو کوئی اس کی حمایت کرے یا اس کے لیے عذر پیش کرے، وہ بھی اسی کے حکم میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، تو اُس نے ایک مضبوط کڑا تھام لیا جس کا ٹوٹنا نہیں، اور اللہ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔" (البقرۃ: 256)

لقد ظهر من أفعال أحمد الشرع موالاته لأعداء الإسلام، وهذا من نواقض الإيمان، فقد تسبب في سفك دماء معصومة شرعًا، من قتل قادة ومجاهدين صعد على أشلائهم.

احمد الشرع کے اعمال سے یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ وہ اسلام کے دشمنوں سے دوستی و وفاداری رکھتا ہے، اور یہ عمل ایمان کو ختم کر دینے والے اعمال میں سے ہے۔ وہ شرعی طور پر محفوظ اور معصوم جانوں کے خون بہانے کا سبب بنا، مجاہدین اور قائدین کو قتل کیا، اور انہی کی لاشوں پر اپنی سیادت و حکمرانی قائم کی۔

وها هو ذا اليوم يتحالف ـ علنًا وبلا خجل ـ مع القوات الأمريكية في ريف حلب وغيرها، في عمليات إنزال واعتقال، تؤدي إلى قتـ ل أنفس مسلمة معصومة بالإسلام.

اور آج وہ علانیہ اور بغیر کسی شرم و حیا کے، حلب کے مضافاتی علاقوں اور دیگر مقامات پر امریکی افواج کے ساتھ اتحاد کر چکا ہے، ان کے ساتھ مل کر چھاپہ مار کارروائیوں اور گرفتاریوں میں شریک ہے، جن کے نتیجے میں ایسی مسلم جانیں قتل ہو رہی ہیں جو شریعتِ اسلام میں معصوم اور محفوظ ہیں۔

مع التنبيه أن التحالف بين أحمد الشرع وأمريكا كان قائماً قبل التحرير لكن كان سراً!. ولا تزال جمهرة من الناس ممن يتعاطون الغفلة؛ يحسنون الظن بعميل خائن موال ومظاهر لأعداء الإسلام ضد مسلمين معصومي الدم شرعاً.

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ احمد الشرع اور امریکہ کے درمیان یہ اتحاد آزادی سے پہلے بھی قائم تھا، مگر خفیہ طور پر۔ افسوس کہ آج بھی ایک بڑی تعداد ایسی سادہ لوح اور غفلت میں ڈوبی ہوئی ہے، جو ایک ایجنٹ، خائن، اسلام دشمنوں کا وفادار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف صف آراء شخص کے بارے میں حسنِ ظن رکھتی ہے حالانکہ وہ ان مسلمانوں کے خلاف ہے جن کا خون شریعت میں معصوم اور محترم ہے۔

ومن عجائب المقدور! أن أغلب أفراد "قوات الأمن العام" و"الجيش" التابع له هم من أصحاب اللحى وكانوا يُوصفون سابقًا بالثوار والمجا هدين، لكنهم اليوم يشاركون القوات الأمريكية وغيرها في حربها ضد مسلمين يخالفون أحمد الشرع وينتقدون انحرافه الشرعي والعقدي، وهم يعلمون أن موالاة ومظاهرة أعداء الإسلام من نواقض الإيمان!

اور یہ بھی تقدیر کے عجائبات میں سے ہے کہ احمد الشرع کے ماتحت 'پبلک سیکیورٹی فورسز' اور 'فوج' کے اکثر افراد داڑھی والے ہیں، جنہیں ماضی میں 'انقلابی' اور 'مجاہد' کہا جاتا تھا۔ مگر آج وہی لوگ امریکی افواج اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ مل کر اُن مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہیں جو صرف احمد الشرع کی شرعی اور عقیدتی گمراہی پر تنقید کرتے ہیں حالانکہ یہ سب جانتے ہیں کہ کفار کی حمایت اور ان کی پشت پناہی کرنا ایمان کو باطل کر دینے والے اعمال میں سے ہے!

إن كل مَن شارك ولا يزال يشارك في هذا التحالف والحملات ضد المسلمين، فقد ارتد وخرج من الإسلام، ولن تنفعه سابقته في الجهاد! ولن ينفعه موالاته لأحمد الشرع! فقد نقض غزله بيديه! وصار عمله السابق ـ إن كان صحيحاً ـ هباءً منثوراً!! فليت لحاهم كانت "حشيشاً" تعلف للأرانب والدواب!!.

بیشک جو کوئی بھی اس اتحاد اور ان مسلم مخالف کارروائیوں میں شریک رہا ہے یا اب بھی شریک ہے، وہ مرتد ہو چکا ہے اور اسلام کے دائرے سے خارج ہو گیا ہے۔ اس کا سابقہ جہاد اب اس کے کسی کام نہ آئے گا! نہ ہی احمد الشرع سے اس کی وفاداری اسے بچا سکے گی! اُس نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا بُنا ہوا سب کچھ اُجاڑ دیا! اگر اس کا کوئی عمل واقعی درست بھی تھا، تو وہ اب بکھری ہوئی خاک بن چکا ہے!! اے کاش کہ ان کی داڑھیاں صرف گھاس ہوتیں جو خرگوشوں اور چوپایوں کو چارے کے طور پر کھلائی جاتیں!

وللتوضيح أقول: حتى لو كان المسلم مُبتدعًا، فإنه ما دام معه أصل الإسلام، فلا يجوز شرعًا التحالف مع أعداء الإسلام على استباحة د مه، أو اعتقاله، أو تعذيبه.

اور وضاحت کے طور پر میں یہ کہتا ہوں کہ اگرچہ کوئی مسلمان بدعتی ہی کیوں نہ ہو، جب تک وہ اسلام کی اصل پر قائم ہے، تو شرعاً ہرگز جائز نہیں کہ اس کے خلاف اسلام کے دشمنوں سے اتحاد کیا جائے، اس کا خون بہانا، اسے قید کرنا یا اس پر ظلم و ستم کرنا شرعی طور پر قطعی حرام ہے۔

أما "أبو محمد الجولاني" = أحمد الشرع، رئيس سوريا الحالي ـ فقد ثبت، بالاستقراء والتتبع في سيرته منذ ظهوره في حلب وإدلب على مسرح الأحداث الشامية بأنه كان سبباً في تصفية كوكبة من قادة المجاهدين، وبحسب تصريح وزير الخارجية التركي "هاكان فيدان" في مقابلة مع قناة أمريكية قبل عدة أشهر، أنه قدّم معلومات استخباراتية ضد "تنـظيم الـدولة" و"حـراس الدين" التابع لتنظيم القـاعدة، مما تسبب في قتل أنفس معصومة بالإسلام. وهذا في الشريعة يُعد مظاهرة لأعداء الإسلام ضد مسلمين، وهي من صور الكـفر البواح.

رہا 'ابو محمد الجولانی' المعروف احمد الشرع، جو اس وقت شام کا موجودہ حکمران ہے تو استقراء و تحقیق سے اس کی سیرت کا مطالعہ کرنے پر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جب سے وہ حلب و ادلب کے میدان میں نمودار ہوا، وہ مجاہدین کے ایک ممتاز قافلے کے خاتمے کا سبب بنا۔ ترکی کے وزیر خارجہ 'ہاکان فیدان' نے چند ماہ قبل ایک امریکی چینل کو انٹرویو میں اعتراف کیا کہ احمد الشرع نے "الدولۃ" (دولت اسلامیہ) اور القاعدہ سے وابستہ گروہ "حراس الدین" کے خلاف انٹیلیجنس معلومات فراہم کیں، جن کے نتیجے میں ایسی مسلم جانوں کا قتل ہوا جو شریعتِ اسلام میں معصوم تھیں۔ اور شریعت کے مطابق یہ عمل اسلام کے دشمنوں کی نصرت اور ان کے ساتھ صف بندی شمار ہوتا ہے، جو کہ کفر بواح کی ایک واضح صورت ہے۔

فأحمد الشرع طاغوت كسائر الحكام الطواغيت الذين يوالون أعداء الإسلام ضد المسلمين ويحرسون مصالحهم.

پس احمد الشرع بھی ایک طاغوت ہے، اُن تمام طواغیت حکمرانوں کی طرح جو اسلام کے دشمنوں سے دوستی رکھتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرتے ہیں، اور ان کے مفادات کی نگرانی و حفاظت کرتے ہیں۔

لقد نشأ أحمد الشرع تحت رعاية، وأعين الاستخبارات التركية والأمريكية والكيان، وتلقى تدريبًا وتوجيهًا مباشرين منهم.

احمد الشرع ترکی، امریکی، اور صہیونی خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی، سرپرستی اور نظروں کے سامنے پروان چڑھا، اور اسے انہی کی جانب سے براہِ راست تربیت اور رہنمائی حاصل ہوئی۔

وبناء على هذا، فإن أحمد الشرع يُعد طاغوتًا ـ بحسب المعنى الاصطلاحي الشرعي ـ، ومن يواليه أو يدافع عنه أو يُبرر له، فله مثل حكمه. قال تعالى: (وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ) المائدة: 51.

پس اس تمام تفصیل کی روشنی میں، احمد الشرع شریعت کی اصطلاحی تعریف کے مطابق ایک طاغوت شمار ہوتا ہے۔ اور جو کوئی اس سے دوستی رکھے، اس کا دفاع کرے، یا اس کے افعال کی توجیہ پیش کرے، تو اس کا شرعی حکم بھی وہی ہے جو خود اس طاغوت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور تم میں سے جو کوئی اُن سے دوستی رکھے گا، وہ انہی میں سے ہو گا۔ (المائدہ: 51)

فمن أحب شخصًا يحمل هذه الصفات الطاغوتية، أو دافع عنه، أو أنكر على من ينتقد تصرفاته المخالفة للشرع الحنيف؛ فقد صار في غير سبيل المؤمنين.

پس جو کوئی بھی ایسے شخص کو پسند کرے جس میں یہ طاغوتی صفات پائی جاتی ہوں، یا اس کا دفاع کرے، یا ان لوگوں پر اعتراض کرے جو اس کے شریعت کے مخالف اعمال پر تنقید کرتے ہیں، وہ شخص یقیناً مؤمنوں کے راستے سے ہٹ چکا ہے۔

كل مسلم، مهما بلغ من العلم أو الجاه أو السلطة، ومهما كانت سابقته في ذروة سنام الإسلام والدعوة، إذا أقرّ دستورًا علمانيًا، أو والى وظاهر أعداء الإسلام ضد المسلمين، فقد ارتكب ناقضًا من نواقض الإيمان، وخرج من دائرة الإسلام، ويجب على كل مسلم مكلف قادر أن يكفر به، ويُبغضه في الله، ويحذر منه، وهذا أضعف الإيمان.

ہر مسلمان، چاہے علم و فضل میں کتنا ہی بلند مقام رکھتا ہو، یا طاقت و حکومت کا حامل ہو، اور چاہے وہ اسلام اور دعوت کے عروج پر ہو، اگر وہ کسی سیکولر آئین کو تسلیم کرے، یا اسلام کے دشمنوں کا ساتھ دے اور مسلمانوں کے خلاف ان کی حمایت کرے، تو وہ نواقض ایمان کا مرتکب ہے، اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو چکا ہے۔ ہر مسلمان پر جو شرعی طور پر ذمہ دار اور قادر ہو، ایسے شخص کی تکفیر کرنا، اس سے اللہ کی خاطر بغض و نفرت رکھنا واجب ہے، اور اس سے خبردار رہنا لازم ہے، اور یہ کمزور ترین ایمان کی حد ہے۔

قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله:
"ومن حالف شخصًا على أن يوالي من والاه ويعادي من عاداه، كان من جنس التتر المجاهدين في سبيل الشيطان، ومثل هذا ليس من المجاهدين في سبيل الله تعالى، ولا من جند المسلمين، ولا يجوز أن يكون مثل هؤلاء من عسكر المسلمين، بل هؤلاء من عسكر الشيطان"أهـ (مجموع الفتاوى، ج28، ص20).


شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جو کوئی کسی شخص کے ساتھ اس بنیاد پر اتحاد کرے کہ وہ اس کے دوستوں سے دوستی رکھے اور اس کے دشمنوں سے دشمنی، تو ایسا شخص تاتاریوں جیسا ہے جو شیطان کے راستے میں جہاد کرتے تھے۔ ایسا شخص نہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں میں سے ہے، نہ مسلمانوں کے لشکر کا فرد ہے، اور نہ ہی ایسا شخص مسلمانوں کی فوج میں شامل ہو سکتا ہے۔ بلکہ ایسے لوگ درحقیقت شیطان کے لشکر سے ہیں۔" (مجموع الفتاویٰ، جلد 28، صفحہ 20)

صفوة القول

إن أوثق عرى الإيمان؛ الحب في الله، والبغض في الله، ولا تجوز الموالاة إلا في الله، ولا تجوز المعاداة إلا في الله، وما سوى ذلك فهو ضلال مبين.

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ: ایمان کی سب سے مضبوط رسی "اللہ کے لیے محبت" اور "اللہ کے لیے نفرت" ہے۔ دوستی صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے، اور دشمنی بھی صرف اللہ کے لیے۔ اس کے علاوہ جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے، وہ صریح گمراہی ہے۔

فاحذروا من عبادة الطواغـيت ـ أيًّا كانت أسماؤهم ـ، واحذروا من عبادة الأصنام التي كسرها الإسلام، واحذروا من صناعة "الفراعين"! واحذروا من عبادة "أحمد كوهين"!.

پس ہوشیار رہو طاغوتوں کی پرستش سے چاہے ان کے نام کچھ بھی ہوں! بچو ان بتوں کی عبادت سے جنہیں اسلام نے چکناچور کر دیا تھا! ہوشیار رہو نئے فرعونوں کو تراشنے سے! اور خبردار رہو 'احمد کوہین' جیسے طاغوت کی بندگی سے!

 
Top